Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » سرمایہ اور جاگیردارانہ جمہوریت ۔۔۔۔ طالب حسین بٹالوی

سرمایہ اور جاگیردارانہ جمہوریت ۔۔۔۔ طالب حسین بٹالوی

کروں نہ جب تلک کوئی بھی دھندا ہو نہیں سکتا

میرا بینکوں میں اِتنا پیسہ اکٹھا ہو نہیں سکتا

مجھے رشوت کرپشن سے بنانا مال آتا ہے

میں لیڈر ہوں میرا یہ شوق مٹھا ہونہیں سکتا

یہاں محنت کشوں کی کوئی پونجی ہے نہ کُلی ہے

مگر زردار کا نہ ہو پلازہ ہو نہیں سکتا

میں یورپ کے منظم غاصبوں کا اتحادی ہوں

میں ساتھی ظالموں کا ہوں تمہارا ہو نہیں سکتا

وہ جب چاہیں کسی کی سرحدیںپا مال کر ڈالیں

کبھی ان ظالموں سے کام اچھا ہو نہیں سکتا

نہ اِس جمہوریت میں ہے کوئی جمہوریت باقی

اسمبلی میں بھی کوئی اپنا بندہ ہونہیں سکتا

جہاں طبقات لازم ہوں وہاں جمہوریت کیسی

کبھی اس سے بڑا دنیا میں دھوکہ ہو نہیں سکتا

فریبی چالبازوں کو جہاں باقی مبارک ہو

فریبوں سے میرا یہ دل تو ٹھنڈا ہو نہیں سکتا

یہاں انسانیت کو تلخیاں دیکر زمانے کی

کبھی فرعونیت کا بول بالا ہو نہیں سکتا

بچا سکتے ہو مل کر سب بچا لو سرزمیں اپنی

وگرنہ بعدمیں اقدام ایسا ہو نہیں سکتا

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *