Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » سانحہ کوئٹہ8 اگست ۔۔۔ غلام نبی ساجد

سانحہ کوئٹہ8 اگست ۔۔۔ غلام نبی ساجد

ایک اور سوگوار مہینہ گزرنے کو ہے ،سینکڑوں گھر اور اُن کے معصوم مکین ماتم بچھائے اپنے عزیزوں اور سرپرستوں سمیت مستقبل کے خوابوں پر بھی نوحہ خواں ہیں۔
جن کے عزیز واقارب فی الحال محفوظ رہے وہ سجدہ شکر بجالائے ،خیرات اور صدقات تقسیم کرنے میں مصروف‘ ہر طرف وہی منافقانہ موہوم سی تسلی کے گھسے پٹے پڑے جملے ۔۔۔وہی نادیدہ جہانوں میں مرتبت کی بلندی کی خوشخبری ۔۔۔وہی پسماندگان واقارب کے لیے وسیلۂ بخشش وغیرہ ۔
مجھ ناچیز کو ان باتوں کا تجربہ اس لیے بھی ہے کہ اپنی عزیز ترین 8سالہ بچی کی حادثاتی اور بے وقت موت پر یہ سب کچھ سُنا تھا۔ اور بے بسی میں صبرہی آخری چارہ گر ہوتی ہے ۔المیہ ہے اس عہد میں زندہ رہنا ۔۔۔المیہ ہے کہ معاشرے اہل دانش سے تہی دامن ہونے کوہیں ۔المیہ یہ نہیں کہ سوسائٹی کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا طبقہ نشانے پر ہے اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اسی معاشرے کا ایک بڑا حصہ اِن قاتلوں سے ہمدردی بھی رکھتاہے ۔اور اُن نرسریوں کی آبیاوی کو رحمان الرحیم رب سے قربت کا وسیلہ بھی سمجھتی ہے ۔المیہ یہ ہے کہ’’ کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا ‘‘۔
ہماری بے حسی اور لاچاری بھی دیدنی ہے کہ ہم اپنے ہنرمندانِ آئین وسیاست اور اہل حکم سے یہ بھی نہیں پوچھ سکتے کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے کہ ہمیں کیڑوں مکوڑوں کی طرح ہلاک کیا جارہا ہے ۔۔۔ اصل میں ہماری نسل کے لوگ ،متواتر عذابوں ، صدموں اور ہلاکتوں کے بوجھ تلے دب کر مکمل طور پر بے حس ہوچکے ہیں ۔
معاشرے اورزندہ معاشرے معمولی سے بھی معمولی اَن ہونی پر ’’کیوں اور کیسے ‘‘ کا جواب تلاش کیے بغیر نہیں رہتے جبکہ ہم خوف کے زیر سایہ پلنے والوں کے ہاں تحقیق اور جستجو کے سوتے سو کھ چکے ہیں۔
زندہ معاشرے ہر تباہی کے سبب کا ادراک کیے بغیر اور مستقبل کے لیے ’تدراک‘ کا ساماں کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھ سکتے ۔
ہم سے تو جنگل کے قوانین ، کہیں بہترمیں کہ جہاں سیلاب آنے پر ایک دوسرے کے ازلی دشمن ،بھیڑیا ،بکری ،سانپ اور گلہری ایک ہی درخت کی شاخوں پر پناہ لیتے ہیں۔۔۔کمال یہ ہے کہ ہم سے بے ساماں اور بے بس عام لوگوں کی طرح بے پناہ ریاستی وسائل پر پلنے والے ادارے ،حِفظ وامان کے ضامن یہ سب کچھ اتنی آسانی سے بھول جاتے ہیں ۔گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔
ہمارے اجتماعی رویے ’کمال درجے کی خود فریبی کا اظہار ہیں کہ ہم اُس مقام پر کھڑے ہیں کہ ہر تباہی کے بعد اپنے قریبی عزیزوں کی خیریت پر شکر بجا لاتے ہیں کہ ’’چُلا ہیریں تہ کلا ہیریں‘‘اور پھر اگلے ہی لمحے کسی میچ کے سنسنی خیز نتائج میں پناہ لے لیتے ہیں۔
سنگت کے معزز سنگتو! ۔۔مجھے کہنے دیجئے کہ اس ترقی یافتہ ریاستی نظام جمہور اور طاقتور دستورِ حیات سے تو میرا قبائلی نظام کہیں بہتر ہے کہ مجھے ہوش سنبھالے نصف صدی سے زیادہ عرصہ بیت چکا اور کم از کم اِس سے دو چند عرصے کا تجربہ اور تاریخ پُرکھوں سے بھی ورثے میں ملا ہے کہ ۔۔ناپسندیدہ ،کرم خوردہ اور دورِوحشت سے قریب ،ہمارے قبائلی معاشروں میں ایک بھی انسانی قتل اغوا اور ظلم کا واقعہ ایسا نہیں ہوا کہ جس کے حقیقی وجوہات ،ذمہ داروں کا تعین اور اُن کامنطقی انجام سب کے سامنے نہ ہوا ہو۔وہاں نہ تو خفیہ ادارے ہیں نہ منظم پولیس ۔۔۔پھر بھی اب کے ہماری شہروں میں زندگی اور اُن لوگوں کی زندگی جن کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں ، لباس میں بلٹ پروف جیکٹ نہیں ، گاڑیوں میں اعلیٰ تیکنکی جیمرز نہیں،اس قدر غیرمحفوظ ہیں ۔
اس سے بھی بڑا دُکھ یہ ہے کہ ہمارے نہایت دانش مند اور ہم دیوانوں کے لیے حقیقی درد رکھنے والے احباب ہمیشہ اس بات پربضد ہیں کہ ہرحالت میں ’احتیاطوں ‘ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے ۔۔ہمیں ہر شریف انسان کی مانند ’’ اپنے اور اپنی بچوں کی عافیت ہی عزیز رکھنی چاہیے ‘‘ ۔ہمارا ردعمل مظلوم کے ساتھ ہمدردی،سوسائٹی کے ہر طبقے کے لیے قابل قبول اور ظالم کے لیے قابل برداشت ہونا چاہیے ۔
لیکن چارہ گرو !اس طعنہ ودشنام کا بھی کوئی علاج ہے جو ہماری نسلیں ہم پر کریں گی ۔کیا جواب دیں گی ہماری روحیں ان آنے والی نسلوں کو کہ ہم نے انہیں کہی معاشرتی قدریں ورثے میں دی ہیں۔کن کن تباہ کن حالات میں مصلحت نے ہمیں خاموش رکھا۔اے کا ش یہ ممکن ہوجائے کہ ہم ریاست اور اصلاح معاشرہ کے ٹھیکیداروں پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنے اپنے علاقوں ،گلیوں ، محلوں اور شہروں کی طبعی اور فکری سرحدوں پر قدیم قبائلی پہرہ داری نظام رائج کریں ۔۔۔تاکہ چارہ گری کے نام پر دیولعیم کو تباہی مچانے سے روکا جاسکے ۔
یاپھر سنت ،صوفی اور جوگی بن کر بن باس کارخ کیا جائے۔
یا عشق کشِ مجنوں بثیں ڈن برؤ جیذاں درکھفتیں ۔ نہیں تو ڈربے میں بند مرغوں کی طرح اپنی باری کا تکلیف دہ انتظار کریں ۔ قلم کار پر ،معاشرے کے اہل علم پر ’’زا نوگروں پر ‘‘ کیا یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ معاشرے کے لیے دیدہءِ بنا بن کر مستقبل کا ادراک کرنے کا عزم نو دیں ۔ تباہیوں سے تدارک کے مکفہ طریقے اور بقائے باہمی کے راستوں کی طرف راہنمائی کریں۔۔۔۔ اگر ہاں ہماری یہ ذمہ داری ہے تواس الاؤ کو کبھی بجھنے نہ دو ۔اس الاؤ کو ابھی روشن رکھو۔یہ سب حقیقتیں اپنی جگہ ایک اور دُکھ بھی تو ہے کہ ہم میں زندگی سے محبت حُسن وعشق سے والہانہ پن اور رومان پروری جیسے اچھے اور قابل تعریف جذبے بھی مانند پڑتے جارہے ہیں۔اور ایک ہوس ہے کہ ہر طرف حکمرانی کرے ہے ۔پرنہیں۔
راجئے غماجے غمیں
تو لڈغے ڈیہہ لڈغیں۔
کنغے سل کنغیں
تئی دیذ ہر ڈکھئے علاج
کانی تئی جئے غما
مہر و انقلاب
بارے جذا یا سنگت انت
پرمادوئیں انت زندگی
پر ما دوئیں زیندھئے مراذ

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *