Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » کتاب پچار » زیرو پوائنٹ پہ کھڑی عورت ناول ۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نوال السعدوی

زیرو پوائنٹ پہ کھڑی عورت ناول ۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نوال السعدوی

حاصلِ مطالعہ
کتاب: زیرو پوائنٹ پہ کھڑی عورت ناول
مصنفہ: ڈاکٹر نوال السعدوی
ترجمہ: شاہ جہا ن وگڑپال

کبھی کبھی عام سی کہانی منفرد اسلوب کے باعث آپ کو یوں اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے جیسے سانولے نین نقش والی کوئی دوشیزہ نظروں کو یوں بھا جائے کہ نگاہ سیر ہی نہ ہو۔ڈیڑھ سو صفحات کی ضخامت کے اس ناول کا تاثر بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ایک مردانہ اجارہ دار معاشرے میں عورت کے ساتھ ہر سطح پرہونے والا بہیمانہ سلوک اس کا بنیادی خیال ہے۔جو والدین کی جانب سے نظر اندازی اور کم عمری کی بے جوڑشادی سے شروع ہو کر اس کے ایک ویشیا کا روپ اختیار کرنے پرمحیط ہے۔لیکن جس روانی اور مشاکی سے مصنفہ نے اس کی بنت کاری کی ہے، وہ باوجود بعض اختلاف کے ، آپ کو نہ صرف کہانی کو پڑھنے بلکہ اس سے متاثر ہونے پہ مجبور کرتا ہے۔
مجھے کتاب پر نہ تبصرہ مقصود ہے نہ اس کا تنقیدی جائزہ، میں تو محض اس مطالعے میں آپ کو شریک کرنا چاہتا ہوں جو ممکن ہے آپ کو مکمل کتاب کے مطالعے پہ اکسائے۔ چونکہ بنیادی موضوع عورت کی مردوں کے ہاتھوں غلامی اور محکومی ہے، اس لیے ظاہر ہے طاقت ور ترین اور پُر اثر ترین فقرے بازی بھی اسی سے متعلق ہے۔ آئیے ایسے ہی کچھ فقرے دیکھتے ہیں۔
”مردوں کے بنائے ہوئے سماج میں ایک عورت کی حیثیت سے زندگی گزارنا ذلت اور رسوائی کا دوسرا نام ہی ہے۔“(ص،119)
”تمام عورتیں کسی نہ کسی شکل میں کسبی ہی ہیں۔ انتہائی کم قیمت پہ بکنے والی عورت، شادی شدہ عورت ہوا کرتی ہے۔“(ص،122)
مصنفہ ،فیمنسٹو ں کے انتہا پسند گروہ سے تعلق رکھتی ہیں، اس لیے مردوں سے متعلق ان سے ایسے سخت ترین انتہاپسندانہ فقرے بھی سرزد ہوتے ہیں©:
”ایک عورت کبھی مجرم نہیں ہو سکتی، جرم کرنے کے لیے مرد ہونا لازم ہے۔“(ص،136)
گو کہ مجرد شکل میں یہ جملہ غیر حقیقی سا لگتا ہے، لیکن ناول کی معروضی صورت حال میں پڑھتے ہوئے آپ اس سے اتفاق کیے بنا نہیں رہ سکتے۔کہانی کی معروضی صورت حال ہی کے باعث مسلسل مردوں کے ہاتھوں ڈسی ہوئی ایک عام ویشیا کے منہ سے پھر ایسے جملے بھی غیر حقیقی نہیں لگتے:
”زندگی بہت کٹھن ہے اور صرف وہ لوگ ہی زندگی گزارتے ہیں جو زندگی سے بھی بڑھ کر سخت ہوں“۔…………”زندگی خود بھی گویا ایک سانپ ہے۔ اگر کوئی اور سانپ یہ جان لے کہ تم ایک سانپ نہیں ہو تو پھر وہ لازماً تمہیں کاٹ ڈالے گااور اگر زندگی یہ جان لے کہ تمہاری شخصیت کے اندر کوئی زہر بھری تھیلی موجود نہیں تو وہ زندہ سلامت تمہیں ہڑپ کر لے گی۔“(70)
اور یہ جملے بھی ہماری اردگرد کی زندگی پہ کس قدر منطبق نظر آتے ہیں:
”عزت تو پیسوں سے خریدی جاتی ہے۔زیادہ عزت اور زیادہ احترام زیادہ پیسہ اڑانے سے ملتا ہے۔اور اپنی عزت داری کو برقرار رکھنے کے لیے بھی پیسے ہی خرچ کیے جاتے ہیں۔لیکن (اس قدر)پیسے کمانے کے لیے اپنی عزت سے ہاتھ دھو لینا بھی ایک لازمی امر ہے۔“(122)
پھر یہی ویشیا جب مزدور بنتی ہے اور ایک مزدور لیڈر سے محبت میں مبتلا ہونے کے بعد اس کے ہاتھوں فریب کھاتی ہے تو سیاسی و سماجی بصیرت سے بھرا ہواایسا دل دہلا دینے والا تجربہ بھی بتاتی ہے کہ، ”محنت کشوں کا اصل دشمن، لیبر لیڈر ہی ہوا کرتا ہے۔“(ص،110)
اس فقرے پہ واہ، واہ کرنے کے بعد اب جو اگلا اقتباس میں آپ سے شیئر کرنے جا رہاہوں، اس سے ممکن ہے کہ آپ کے منہ کا ذائقہ خراب ہو جائے لیکن ایک مرد کی حیثیت سے اس تلخ حقیقت سے نظریں چرانا ممکن نہ ہوگا۔آئیے ایک دانش مند خاتون کے ہاتھ میں موجود آئینے میں اپنا ،اپنا عکس دیکھیں….ردِعمل میں آپ آزاد ہیں:
یہ دانش ور خاتون ، ایک مزدور لیڈر کے ہاتھوں اپنی عزت، وفا اور خلوص لٹوانے والی طوائف کے منہ سے کہلواتی ہے،کہ ”….انقلابی مرد جو کہ اپنے آپ کو اصولوں کے رکھوالے گردانتے ہیں، دوسرے مردوں سے ہرگز مختلف نہیں ہوا کرتے اور نہ ہی ہو سکتے ہیں۔وہ اپنے علم کے بل بوتے پر،اصولوں کے پروپیگنڈے اور انقلاب سے وہی کام لیتے ہیں جو دوسرے مرد دولت سے لیا کرتے ہیں۔ انقلاب ان کے لیے ایسے ہی ہے، جیسے ہمارے لیے سیکس۔بالکل ایسی ہی کوئی شے جسے آپ برا بھلا بھی کہتے ہیں لیکن اسے بیچ کر کاروبار بھی کرسکتے ہیں۔(ص،117)
کتاب کی ایک اہم خوبی اس کا سہل اور رواں ترجمہ بھی ہے۔ یہ بات زیادہ اہم بن جاتی ہے جب مترجم ایک پشتون ہو۔بلوچ اور پشتون کی اردو سے متعلق جو عمومی طرزِ فکر ہے، اس کے پس منظر میں کسی کتاب کا ایسا رواں، سہل اور بامحاورہ ترجمہ خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔یہ ترجمہ بالکل کسی ہائی وے کی طرح ہے، جہاں کہیں بھی آپ کو نہ تو ٹھوکر پڑتی ہے، نہ کسی اسپیڈ بریکر پہ رکنا پڑتا ہے۔ بلکہ موٹر وے کی طرح آپ رفتار کم کیے بنا ،گیئر تبدیل کیے بنا، بریک لگائے بنا،حتمی منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔ محض ایک بار مجھے ذرا ٹھٹکنا پڑا، جب ایک جگہ ’بھڑک بھڑک کر ہنس پڑنا‘( ص،121) جیسا غیر مانوس محاورہ استعمال ہوا۔لیکن باقی پورا ناول (اور اس کا ترجمہ) اس قدر خوب صورت اور رواں ہے کہ یہ ایک آدھ غلطی اپنا احساس ہی نہیں دلاتی، بلکہ سانولی دوشیزہ کے گال پہ کسی تل جیسی دِکھتی ہے….اُس کے حسن میں مزید اضافہ کرتی ہوئی!!

 

 

Check Also

jan-17-front-small-title

غدار ۔۔۔۔ مبصر : عابدہ رحمان

مصنف: کرشن چندر ’غدار‘ کرشن چندر کا وہ شاہکار ناول ہے جو ہندوستان کی تقسیم ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *