Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » رنگ کاگوراپن یا من اُجلا پن؟ ۔۔۔ پناہ بلوچ

رنگ کاگوراپن یا من اُجلا پن؟ ۔۔۔ پناہ بلوچ

قریہ قریہ،بستی بستی،نگر نگر اور شہر شہر ہرگلی، ہرسڑک،ہرنْکڑ اور ہر چوک پر دیوہیکل سائن بورڈ ہوں یا ہر رسالے ،جریدے یا روزنامے کے اہم صفحہ جات ہوں یا نجی یا سرکاری ٹی وی چینلز پرنشر ہونے والے اشتہاریا پھر مادر پدرآزاد کیبل نیٹ ورک یعنی ہرجگہ پر درجنوں اقسام کے غیر معروف اور خصوصاً غیر رجسٹرڈ کمپنیوں کے کریم ودیگر رنگ گورا کرنے والے برانڈز کے اشتہار دیکھ کر یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اب معاشرے کی تمام بدصورتیاں ختم ہوچکی ہیں،اب ہم کو اپنی ظاہری بناوٹ وسجاوٹ کی جانب متوجہ ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ہرجگہ پر یہی اشتہار نعروں کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں ،حتٰی کہ گاؤں اورکچی آبادیوں کی دوکانوں پر بھی غیر معیاری اشیائے خوردونوش کے ساتھ ساتھ انگنت اقسام کے چہرے کی رنگت گورا کرنے والی کریم(جنکی معیار کی ضمانت بھی ناممکن ہے) دکھائی دیتے ہیں۔
عید کے ایام کے دوران ایک کچی آبادی کی گلی کے نْکڑ پر موجود دوکان پر جانے کا اتفاق ہوا جہاں160پر دوکان پرموجود کریم کی تعداد نے مجھے چونکا دیا۔فوری طور پر دوکاندار سے پوچھا کہ اس گلی میں کتنے گھر ہیں،جواب دیا ،بارہ ہیں، لیکن دوکان پر غیر معروف کمپنیوں کی فائزہ بیوٹی کریم، وائیٹ گولڈ، چاندنی، پرل، ڈیْو،اقوا، سکن فریشں، گوری،گلیکسی،گلیکسی پلس، حکمت، گولڈن راز، گولڈن اسٹار، گولڈن پرل، گولڈن لائیف، وائیٹ کیئر، برائیڈو وغیرہ نمایاں تھے۔ اس کے علاوہ لاتعداد ملٹی نیشنل کمپنیوں کے برانڈالگ سے مارکیٹ میں موجود دکھائی دیتے ہیں۔ ہرکریم کے اندر ایک پرچی پر کم وبیشی یہی لکھا ہواپایا۔۔۔۔’’ کریم چہرے پر واضح کیل مہاسے ختم کرتی ہے۔آنکھوں کے حلقے صاف کرتی ہے۔ چہرے کی چھائیاں ختم کرتی ہے، چہرے کو دھوپ، سورج اور میک اپ کے مضراثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر مختصر مدت میں جلد کو شفاف وملائم بناتی ہے۔ اس کے مسلسل استعمال سے جلنے کے نشان یا زخم کے نشان یا کیل مہاسے نکلنے کی صورت میں بننے والے نشانات کوبالکل ختم کیاجاسکتا ہے۔موسم گرما میں دھوپ،مٹی، آلودگی اور پسینے کی کثرت کی وجہ سے رنگ سیاہ پڑجاتا ہے اور ڈسٹ کی تہہ کو صاف کرکے قدرتی نکھار لاتی ہے ،وغیرہ وغیرہ ‘‘۔ہرکوئی مہینوں کی نہیں،ہفتوں کی نہیں بلکہ دنوں میں چہرے کی رنگت گورا کرنے کی ضمانت دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں لگ رہا ہے،تاجر، میڈیا اور مارکیٹ کو ظاہری، اجلے پن کی فکر لاحق ہوئی ہے، اسی ظاہری گورے پن سے معاشرے میں حقیقی نکھار پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔
جی ہاں! اس معاشرے میں جہاں ناانصافی کا دور دورہ ہو،بھوک وافلاس کاراج ہو، کرپشن واقرباپروری کا غلبہ ہو۔ گدھے،کْتے اور مردہ جانوروں کا گوشت کھلے عام بک رہا ہو، اشیائے خوردونوش مہنگی اور انسان کی جان سستی ہو، علاج ومعالجہ منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کرے، تعلیم بہترین بیوپارکا ذریعہ ہو،روزگار اچھی تجارت قرار پائے۔ راست گوبے وقوف اور مکار عزت دار کہلائے، مساجد پر حملے کئے جائیں، درس گاہیں لڑائی کے میدان بنیں، ہر مذہبی تقریب کی جگہ بھکاریوں کی طویل قطاربنے، امیر امارت کی انتہا کو چھوئیں،غریب غربت کی لکیر سے نچلی سطح پر زندگی گزاریں، سرعام خواتین کی بے حرمتی کی جاتی ہو، بچیوں پر کْتے چھوڑے جاتے ہوں، عورت کو زندہ درگورکیا جائے اور اس پر فخر کیا جائے، دن دہاڑے لوگ اغواء کئے جاتے ہوں، حق کی بات کرنے والوں کی زبان پر تالے لگائے جائیں، عدم برداشت کا رواج پنپ جائے، سیاسی کارکن ذاتی مفادات کے گرد گھومنا شروع کرے، نظریات ضروریات کے تابع بن جائیں۔ ذرائع ابلاغ کے ذرائع صرف نمودونمائش کے پھیلاؤ اور ذہنی انتشار کے وسیلے بن جائیں، وہاں پر معاشرہ کوڑ جیسے ناسور کا شکار ہوجاتا ہے، تو چہرے کے کیل مہاسے، چھائیاں، جْھریاں،داغ ،دھبے کو مٹا کرمن کے اندر کے کالک کو کس طرح سے چھپایا جاسکتا ہے۔
ظلم، جبر، بربریت، جھوٹ، مکر، فریب، دھوکہ دہی، بْغض،کینہ، حسد، نفرت، ناانصافی ،عدم مساوات ،سماجی ناہمواریوں، معاشی نابرابریوں اور اجتماعی بدصورتیوں کوکس طرح سے تبدیل کیاجاسکتا ہے۔ جہاں160پر سود کے کاروبار سے ارب پتی بننے والے کو چند روپے خرچ کرنے پر پارساہونے کا سر ٹیفکیٹ مل جاتا ہو، ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ کے ذریعے کروڑوں زندگیوں سے کھلواڑ کرنے والے کو چند افراد کوروٹی کھلانے اور کپڑے بانٹنے کے عوض پاکدامنی کا اعزاز مل جاتا ہو۔زبان، رنگ، نسل،ذات پات اور مذہبی تفریق کے نام پر انسانوں کو باہم دست وگریبان کرکے معاشرے کو بدبودار بنانے والے مہان کا خطاب مل جاتا ہو۔ جہاں پر مکاری، دھوکہ اور فریب کو سیاست کا نام دیاجائے۔ جہاں پر کھیت وکھلیان ،آہوں اور سسکیوں کی پیداوار دینے لگ جائیں۔ جہاں کی آب وہوا میں160لہو کی بومحسوس کی جاتی ہو، جہاں پر محلوں میں طرح طرح کے پکوان بنیں تو غربت کے مارے لوگ کوڑے کے ڈھیر سے اپنے پیٹ کی آگ بجھائیں،جہاں پرکروڑوں روپے کے کپڑوں سے سیاسی پارٹیوں کے بینروجھنڈے بنیں اور کوئی اپنا تن ڈھانپنے کیلئے بدن بیچنے پر مجبور ہو، جہاں پر سیاسی جلسوں اور مذہبی تہواروں کے دوران بلند وبالاعمارتوں کی سج دھج پر اربوں روپے خرچ ہوجائیں اور وہیں پر غریب کی بیٹی جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بوڑھی ہوجائے،جہاں پر سیاسی ہو یا سماجی کارکن معاشرے میں موجود خرابیوں کے خلاف چند بیان داغ دینے یا کسی پریس کلب کے سامنے چند افراد کا مظاہرہ کرکے تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرکے بری الذمہ قرار پائے، خیرات، زکواۃ اور عطیات کے رقوم عیاشیوں اور شہ خرچیوں کی نظر ہوجائیں،قومی دولت سے مراعات یافتہ طبقہ بیرون ملک علاج کرائے، رشوت کو حق اور ایمانداری کو بزدلی کہاجائے تو اس معاشرے کی خوبصورتی کیلئے کونسی کریم چاہیے ہوگی۔
جس معاشرے میں دانشور، ادیب وشاعر ذاتی مراعات کے عوض خوشامدی بن جائیں، جہاں پر سرکاری تعلیمی ادارے غلّوں کے گودام اور گھوڑوں کے اصطبل بن جائیں، جہاں پر چار سو طالب علموں کے سکول میں سات اساتذہ موجود ہوں اور ستر طالب علموں کے سکول میں سو اساتذہ تعینات کئے جائیں، جہاں پر سماجی تبدیلی کی جدوجہد میں مصروف اکثر غیر سرکاری تنظیمیں صرف مراعات یافتہ طبقہ پیدا کرنے کاذریعہ ہوں۔
مذکورہ بالا گھمبیر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم ان کمپنیوں سے گزارش کرتے ہیں کہ ایسی کریم متعارف کرائی جائے جو چہرے کی رنگت کی تبدیلی کی نہیں بلکہ معاشرے کی اجتماعی بدصورتیوں کوختم کرے۔جو من کو اْجلا بنائے،ہرقسم کے تعصبات کا خاتمہ کرے۔ تاکہ بلاتفریق رنگ، زبان، نسل ،ذات پات، مذہب ہرفرد ایک خوشحال زندگی گزارسکے۔جہاں محبت ہر سوپھیل جائے۔ جہاں پیار ہی پیار کی فصل لہرائے۔جومعاشرے کی اجتماعی خوبصورتی کا ذریعہ بن سکے۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *