Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » رحمان باباؒ ۔۔۔ بطاش ولید

رحمان باباؒ ۔۔۔ بطاش ولید

اگر ہم پشتو شاعری کی ابتدا پر ایک سرسری نظر ڈالیں تو سب سے پہلے امیر کروڑ جہان پہلوان کا ذکر کرنا اس لیے ضروری ہے کہ وہ پشتو کے پہلے شاعر ہیں جس کا ذکر پٹہ خزانہ کے شعری تذکرے میں موجود ہے۔ اس تذکرے میں ان کا ایک حماسی شعر شائع بھی ہوا ہے۔ جو پشتو زبان و ادب کے لیے ایک قیمتی سرمائے سے کم نہیں ہے۔ اس طرح پشتو شاعری کی قدامت ایک ہزار سال تک پہنچتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ اور قدیم شعراء بھی اس تذکرے میں ہیں۔ ان کے بعد روشانی تحریک کے چند شعراء جو رحمان بابا کے زمانے سے پہلے اپنا تشخص رکھتے ہیں ان میں دولت لوانی، مرزا خان انصاری اور ملا ارزانی کے نام آتے ہیں لیکن جن شعراء نے پشتو شاعری کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی۔ ان میں خوشحال خان خٹک، رحمان بابا، حمید بابا اور کاظم خان شیدا کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہ پشتو زبان و ادب کے چار مینار ہیں۔ جس پر پشتو زبان و ادب کی عمارت کھڑی ہے۔ مذکورہ شعراء میں خوشحال خان خٹک پشتو کے انقلابی شاعر، رحمان بابا پشتو کے صوفی شاعر اور حمید بابا پشتو کے شاعر عشق کے نام اپنا اپنا الگ الگ تشخص اور پہچان رکھتے ہیں۔
رحمان بابا ملنگ عبدالرحمان کے نام سے بھی اپنی شہرت رکھتے ہیں۔ رحمان بابا کا دیوان اتنا مشہور ہے کہ ہر پشتون گھرانے میں تبرک کے طور پر رکھا جاتا ہے۔ رحمان بابا اپنے منفرداسلوب کی وجہ سے بہت مشہور و معروف ہیں۔ سادہ الفاظ میں انہوں نے اتنی اچھی شاعری کی ہے کہ پٹھان مردوں اور عورتوں کو بھی رحمان بابا کے بہت اشعار یاد ہیں اگر یہ کہا جائے کہ ان کے اکثر اشعار پشتونوں کے لیے ضرب الامثال کا درجہ رکھتے ہیں تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ رحمان بابا کا دیوان کچھ مختلف لوگوں نے حفظ بھی کیا ہے۔ رحمان بابا ایک ملنگ طبع اور سادہ انسان تھے۔ رحمان بابا ایک سچے مسلمان ایک معتبر عالم، ایک باخبر صوفی اور ایک خود دار شخصیت تھے۔ پشتو زبان اور پشتون قوم سے بہت محبت رکھتے تھے۔ ان کی شاعری میں سادگی، سلاست اور روانی ان کے منفرد اسلوب کی گواہی دیتی ہے۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے۔ کہ انہوں نے فارسی اور عربی ادب کاگہرا مطالعہ کیا ہوگا اس لیے ان کا مقام ایک مرشد اور پیر کامل کا تھا۔ اخلاقیات اور معاشرت کے موضوعات پر بھی انہوں نے طبع آزمائی کی ہے خاص طور پر انہوں نے اپنی زیادہ تر شاعری میں اپنی قوم کو شریعت، طریقت اور انسانیت کا درس دیا ہے۔ یہاں مثال کے طور پر اس فقیدالمثال شاعر کے چند اشعار ر کا ترجمہ قارئین کی نظر کرتا ہوں۔

ایسا نہیں کہ اس کی واحدی اس کے عجز کے سبب ہے
میرا رب تو واحد وجود رکھتے ہوئے بھی بسیار ہے

خدا مجھے ریا کا لباس نہ پہنائے
رحمان نے قلندر کا دستار سر پر باندھ رکھا ہے

اگر روشنی ہے تو محمدؐ کی پیروی میں ہے
گویا جہان میں دوسری روشنی ہے ہی نہیں

عشق کوئی ایسا علم نہیں ہے
جو ایک مکتب سے حاصل ہوجائے

ساری عمر تیرے ہی طلب میں گم ہوں
ہر شہر اور بیاباں پر تیری ہی تلاش ہے

میں نے عشق کے درس میں اور کچھ نہیں پڑھا
سوائے زلفوں، خط اور تل کے

اب تو بتا تیری تعریف کس رنگ میں کروں
میں تو تیری محبت میں شعور سے عاری ہوگیا ہوں

رحمان کے آنسو اس رنگ میں ہیں
جو آخری تمام جہاں میں رسوا ہوجائے گا

یہ دستور ہے کہ درد کی آہوں سے دھواں نکلتا ہے
نہیں تو رحمان اور شاعری کا کیا رشتہ ہے؟

بیاض پر رحمان کا شعر ایسا زیب ہوتا ہے
جیسے خوبرووں کے رخسار پر زلفیں

اگر یہ کہا جائے تو اس صداقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ رحمان بابا کا ہر شعر انتخاب ہے۔ وہ بلا شبہ پشتو کے بڑے شاعر ہیں۔ ان کی بلند فکری، شعری تخیل اور شاعرانہ ہنر و کمال کا تجزیہ چند صفحات میں کرنا نا ممکن ہے بڑے شاعر ہونے کا دعوی انہوں نے اپنے کئی اشعا ر میں کیا ہے۔ مثال کے طور پر دو شعر ترجمے کے ساتھ بطور مثال پیش کرتا ہوں

خوشحال خان خٹک اور دولت لوانی میرے غلام ہیں
میں رحمان ہی پشتو زبان میں عالمگیر ہوں

رحمان کے جلے ہوئے شعروں پر حیرت ہے
کہ اس کے دیوان کو آگ کیسے نہیں لگی

مختصر یہ کہ رحمان بابا ایک عظیم شاعر، پشتو زبان و ادب کے ایک تاریخ ساز شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پکے مسلمان، ایک خودار انسان، ایک معتبر صوفی، ایک مستند عالمِ دین اور عاشقِ رسول بھی تھے۔ اگر فارسی زبان و ادب میں سعدی و حافظ ہیں تو پشتو میں بھی رحمان بابا اور حمید بابا جیسے بڑے شاعرموجود ہیں۔ ہم اتنا فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ رحمان بابا پشتو شاعری کا ایک اہم اور معتبر حوالہ ہے۔ رحمان بابا کا اصل نام عبدالرحمان اور والد کا نام عبدالستار تھا۔ پشتو زبان کی اس عظیم شخصیت نے پشاور کے قریب بہادر کلی میں ۱۰۶۲ یا ۱۰۶۳ ہجری میں آنکھ کھولی۔ رحمان بابا سڑبن میں غوریہ خیل اور غوریا خیل میں مومند قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ تاریخی شواہد کے حوالے سے رحمان بابا تقریباً ساٹھ سال کی عمر تک زندہ رہے۔ ان کے چند اشعار سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ ان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا ۔پیدا ہونے کے بعد وہ ہزار خانی میں آباد ہوگئے۔ رحمان بابانے ۱۱۲۸ ہجری میں وفات پائی۔

Check Also

jan-17-front-small-title

شاہ لطیف،صوفی نہیں، یوٹوپیائی فلاسفر ۔۔۔ شاہ محمد مری

اچھے لوگ انہیں سمجھاتے رہے کہ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ کسی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *