Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » دوا۔۔۔ لوہسون / شان گل

دوا۔۔۔ لوہسون / شان گل

خزاں کی رات تھی ۔ چاند ڈوب چکا تھا مگر سورج نکلنے میں ابھی دیر تھی ۔ آسمان پر ایک نیلگوں سی روشنی پھیل رہی تھی ۔ چند چمگاڈروں کے سوا بقیہ رات خوابیدہ تھی ۔ بوڑھا چوآن بستر سے اٹھ بیٹھا ۔ اس نے بتی جلائی تو چائے خانے کے دو کمروں میں ہلکی سی روشنی پھیل گئی ۔ بوڑھی عورت جو شاید پہلے سے جاگ رہی تھی کھانستے ہوئے بولی :
’’جانے کی تیاری کررہے ہو ؟‘‘۔ جواب آیا ، ’’ہاں‘‘ ۔
بوڑھے چوآن نے لباس درست کرتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر کہا ’’لاؤ پیسے دے دو ‘‘۔
بیوی نے تکیے کے نیچے ٹٹولتے ہوئے چاندی کے سکوں کی تھیلی اس کے حوالے کر دی ۔ بوڑھے چوآن نے تھیلی جیب میں رکھی ، دو دفعہ جیب تھپتھپا کرتسلی کر لی ۔اس نے کاغذ کی شمع جلائی ، تیل والا لیمپ بجھادیا اور اندر کے کمرے میں چلا گیا ۔ چیزوں کے ٹٹولنے اور کھانسنے کی آوازیں آئیں ۔ جب دوبارہ خامشی چھا گئی تو بوڑھے چوآن نے دھیرے سے آواز دی :’’بیٹا ،تم بستر سے نہ اٹھنا ۔۔۔تمہاری ماں دکان سنبھال لے گی ۔۔۔۔‘‘۔
کوئی جو اب نہ پا کر بوڑھا چوآن سمجھ گیا کہ بیٹا دوبارہ گہری نیند سو گیا ہے ۔ چنانچہ وہ باہر گلی میں نکل آیا ۔ اندھیرے میں سڑک کی لکیر کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ۔ لالٹین کی روشنی اس کے بڑھتے پیروں پر پڑتی تھی ۔ چوآن کا جذبہ بلند تھا جیسے وہ اچانک پھر سے جوان ہو گیا ہو، اور جیسے اس کے پاس زندگی بچانے کی کوئی قوت آ گئی ہو ۔ اس کے ڈگ لمبے ہوتے گئے ۔ سڑک واضح نظر آنے لگی اور آسمان روشن تر ہوتا گیا ۔
وہ چلتارہا ۔ اچانک سامنے چوک آ گیا تو وہ چونک گیا ۔رک کر چند قدم پیچھے ہٹااور ایک بند دکان کے چھجے کے نیچے کھڑا ہو گیا ۔اسے سردی محسوس ہونے لگی ۔
’’ارے بوڑھا آدمی ‘‘
’’ہمت والا لگتا ہے ۔۔۔۔‘‘
بوڑھا چوآن پھر روانہ ہوا ۔ اسے کئی راہگیر نظر آئے ۔ ان میں سے ایک نے تو مڑ کر اس کی طرف دیکھا بھی ، اوراگرچہ وہ اسے واضح طور پر نہ دیکھ سکا مگر اس کی آنکھیں اس طرح روشن ہو گئیں جیسے کہ ایک فاقہ زدہ کی آنکھیں خوراک دیکھ کر چمک اٹھتی ہوں ۔ بوڑھے نے دیکھا کہ اُس کی لالٹین بجھ چکی تھی ۔ اس نے اپنی جیب تھپتھپائی ، سخت تھیلی ابھی تک وہیں تھی ۔ اس نے آس پاس دیکھا ۔اسے عجیب لوگ نظرآئے ۔وہ دو دو تین تین کی ٹولیوں میں ایسے پھر رہے تھے جیسے بھٹکی ہوئی روحیں ہوں ۔ اُسے چند سپاہی بھی نظر آئے ۔ جن کی وردیوں کے سامنے اور پشت پر بنے بڑے سفید دائرے واضح تھے اور جب وہ قریب آئے تو اسے ان کی وردی پہ موجود سرخ دھاری بھی نمایاں طورپر دکھائی دینے لگی ۔پھر قدم بڑھاتا ہوا ایک ہجوم اُس کے پاس سے گزرا۔ پہلے پہنچنے والے چھوٹے گروہ بھی اکٹھے ہو گئے اور آگے بڑھنے لگے ۔ چوک سے ذرا پہلے پہنچ کر وہ یک دم رکے اور ایک نیم دائرہ بناکر کھڑے ہو گئے۔
ان لوگوں کی پشت چوآن کی جانب تھی ۔وہ سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کی گردنیں مرغابیوں جیسی لگتی تھیں ۔ لگتا تھا جیسے کسی نظر نہ آنے والے ہاتھ نے کئی مرغابیاں پکڑ رکھی ہوں ۔ لمحہ بھرخاموشی رہی ، پھر ایک آواز سنائی دی اور پھر تماشائیوں میں کھلبلی مچ گئی ۔ وہ سب پیچھے ہٹنے لگے اور بوڑھا چوآن ان کے ریلے کے زور سے گرتے گرتے بچا ۔
’’ لاؤ ، پیسے دے دو اور اپنا مال لے لو ‘‘۔ سیاہ لباس میں ملبوس ایک شخص اس کے سامنے کھڑا تھا ۔ اُس کی آنکھیں شعلہ فشاں تھیں اور بوڑھا چوآن خوف کے مارے سکڑ کر رہ گیا ۔ اس شخص نے اپنا ایک لحیم شحیم ہاتھ اس کی طرف بڑھایا جبکہ اس نے دوسرے ہاتھ میں بھاپ اڑاتی ایک روٹی پکڑ رکھی تھی جس سے سرخ سرخ قطرے ٹپک رہے تھے ۔
بوڑھے چوآن نے جلدی جلدی ہاتھ جیب کی طرف بڑھایا اور کانپتے ہوئے اسے پیسے دینے لگا۔ لیکن اسے وہ چیز وصول کرنے کی جرات نہیں ہو رہی تھی ۔ وہ شخص بے صبری سے چیخا: ’’ کس چیز سے خوف کھا رہے ہو ؟ کیوں لیتے نہیں؟‘‘۔بوڑھا چوآن ابھی تک ہچکچا رہا تھا۔ سیاہ پوش شخص نے اس کی لالٹین چھین لی اور اس کی کاغذ کی چمنی پھاڑ دی اور اس میں روٹی لپیٹ دی ۔پیکٹ بنا کے اس نے وہ بوڑھے چوآن کے ہاتھ میں تھما دی۔ اسی لمحے اس نے پیسے جھپٹ لئے ۔ اور یہ کہتا ہوا مڑ گیا ۔۔۔’’ بیوقوف بڈھا ۔۔۔۔‘‘
’’یہ کس بیماری کیلئے ہے ؟‘‘۔ بوڑھے چوآن نے کسی کو پوچھتے ہوئے سنا ۔ مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ اس کی ساری توجہ اس پیکٹ کی طرف تھی جسے اس نے اتنی احتیاط سے اٹھایا ہوا تھا جیسے وہ کسی قدیم مکان سے ملا ہوا کوئی خزانہ ہو ۔ اب گویا کسی اور چیز کی اہمیت رہ ہی نہیں گئی تھی ۔ وہ اِس نئی زندگی کو خود اپنے گھر میں پیوند کرنے والا تھا اور پھرمسرتوں کی فصل حاصل کرنے والا تھا ۔
سورج نکل چکا تھا۔ اس کے سامنے سڑک روشن ہو چکی تھی جو سیدھی اس کے گھرجاتی تھی ۔
2
جب بوڑھا چوآن گھر پہنچا تو اس وقت تک دکان کی صفائی ہو چکی تھی ، اور چائے کی اجلی میزیں قطار میں چمک رہی تھیں ، مگر ابھی تک کوئی گاہک نہ آیا تھا ۔ صرف اس کا بیٹا دیوار کے قریب بیٹھا کھانس رہا تھا ۔ اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے تھے ۔ اس کی دھاری دار جیکٹ اس کے لاغر جسم کے ساتھ چپکی ہوئی تھی ۔اور وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ لگ رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر بوڑھے چوآن کے ماتھے پر فکر سے بل پڑ گئے ۔ اس کی بیوی باورچی خانے سے اپنی پر امید نظروں اور کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ تیز چلتے ہوئے اس کے پاس آئی :
’’ملی؟‘‘
’’ہاں‘‘۔
وہ دونوں باورچی خانے گئے اور کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔ پھر بڑھیا باہر نکلی اور کنول کاایک سوکھا پتا لیے واپس آئی۔ ا س پتے کو اس نے میز پر بچھا دیا ۔ بوڑھے چوآن نے لالٹین کے کاغذ میں سے روٹی نکالی اور اسے کنول کے پتے پر رکھ دیا ۔ بیٹا کھانا ختم کر چکا تھامگر ماں نے جلدی جلدی اس سے کہا :
’’ابھی وہیں بیٹھے رہو، یہاں نہ آنا ‘‘۔
انگیٹھی میں آگ جلا کر بوڑھے چوآن نے سبزپیکٹ اور لالٹین والا کاغذ دونوں اس میں جھونک دیئے ۔ ایک سرخی مائل شعلہ لپکا اور دکان میں ایک عجیب بو پھیل گئی ۔
’’کتنی اچھی خوشبو ہے ۔ تم لوگ کیا کھا رہے ہو ؟‘‘۔ ان کا کبڑا گاہک پہنچ گیا تھا ۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جوکہ سارا سارا دن چائے خانوں میں گزارتے تھے ۔وہ صبح سویرے سب سے پہلے آجاتااور رات گئے سب سے آخر میں نکل جاتا ۔آج وہ ایک میز پر گلی کی طر ف رخ کر کے بیٹھ گیا ۔ کسی نے اس کے سوال کا جواب نہ دیا ۔
’’ابلے ہوئے چاول کھا رہے ہو ؟‘‘۔
اب بھی کسی نے جواب نہ دیا ۔ بوڑھا چوآن اس کیلئے چائے بنانے فوراً باہر آ گیا ۔
’’یہاں آؤ بیٹے ‘‘ ۔ماں نے بیٹے کو اندر بلا لیا ۔اس نے کمرے کے درمیان میں ایک سٹول رکھ دیا اور بچے کو اس پر بٹھا دیا ۔ پھر وہ اس کیلئے پلیٹ میں ایک سیاہ گول شئے لائی اور کہنے لگی :
’’اسے کھا لو ۔۔۔ اس سے تم صحت یاب ہو جاؤگے‘‘۔
بچے نے کالی چیز اٹھا لی اور اسے دیکھنے لگا ۔ اسے ایک عجیب سا احساس ہونے لگا ۔ گویا اس نے اپنی زندگی اپنے ہاتھوں میں تھامی ہوئی ہو ۔ اس نے اسے کھولا ۔ اس کے اندر سے سفید رنگ کے بخارات بھری بھاپ نکلی ۔ ذائقے کو نظر انداز کرتے ہوئے بچے نے ساری کی ساری روٹی کھا لی ۔ بس سامنے خالی پلیٹ رہ گئی تھی ۔ اس کے ماں باپ دونوں ا س کے پاس کھڑے تھے ۔ اس کی آنکھیں جیسے بہ یک وقت کچھ انڈیل رہی ہوں اور کچھ نکال باہر کر رہی ہوں ۔ اس کا چھوٹا سا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر رکھے اوروہ دوبارہ کھانسنے لگا ۔
ماں نے کہا: ’’بیٹے ذرا ساسو جاؤ ، ٹھیک ہو جاؤگے‘‘۔
بیٹے نے اطاعت کی اور کھانستے کھانستے سو گیا ۔ ماں اس وقت تک وہیں کھڑی رہی جب تک کہ بچے کی سانسیں معمول کے مطابق ہو گئیں۔ تب اس نے اس پہ ایک پیوند لگی رضائی ڈال دی ۔

3
دکان میں بھیڑ تھی ۔ اور بوڑھا چوآن بڑی سی کیتلی میں ایک کے بعد دوسرے گاہک کو چائے دینے میں مصروف تھا ۔ اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑچکے تھے ۔
’’تم ٹھیک تو ہو ، بوڑھے چوآن؟۔۔۔۔کیا پریشانی ہے ؟‘‘۔ایک سفید ریش نے پوچھا ۔
’’کچھ نہیں ‘‘۔
’’کچھ نہیں ؟۔۔۔نہیں نہیں ، مجھے تمہاری مسکراہٹ سے اندازہ ہو رہا ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے‘‘ ۔
’’بات صرف یہ ہے کہ بوڑھا چوآن مصروف ہے ‘‘ ۔کبڑے گاہک نے کہا۔’’اگر اس کا بیٹا……. ‘‘ مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کر لیتا ایک موٹا بے ڈھنگاشخص دھڑام سے اندرداخل ہوا ۔ اس نے گہرے بھورے رنگ کی قمیص پہن رکھی تھی۔ بٹن کھلے ہوئے تھے ۔ داخل ہوتے ہی وہ بوڑھے چوآن پر چیخا ۔
’’بچے نے وہ کھالی ؟۔ کچھ افاقہ ہوا ؟۔تمہاری قسمت بہت اچھی ہے بوڑھے چوآن!‘‘۔’’تم خوش قسمت ہو کہ میں نے تمہارا کام جلدی کروادیا ‘‘۔
بوڑھا چوآن ایک ہاتھ میں کیتلی تھامے ہوئے تھا ۔ وہ دوسرے ہاتھ سے اس کی تکریم میں کورنش بجا لایا ۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔ باقی لوگ بھی احترام سے اس کی باتیں سن رہے تھے ۔ بوڑھی عورت چائے کاخالی پیالہ لئے باہر آئی ۔اس نے اس پیالے میں زیتون کا ایک پتہ ڈالا اور بوڑھے چوآن نے اس کے اندر کھولتا ہوا پانی ڈال دیا ۔ بڑھیا کی آنکھوں کے گرد بھی سیاہ حلقے پڑے ہوئے تھے ۔
وہ موٹا بھدا شخص بولا :’’یہ شرطیہ علاج ہے ، عام دوا نہیں ہے یہ ۔ بس اسے گرم گرم کھا نا شرط ہے!‘‘۔
’’ہاں ، بلا شک ، کانگ چچاہم آپ کی مدد کے بغیر اسے حاصل نہ کر سکتے تھے ‘‘۔ بڑھیا نے گرمجوشی سے اس کا شکریہ ادا کیا ۔
’’شرطیہ علاج ہے ، بس گرم گرم کھاؤ ، انسانی خون میں ڈبوئی ہوئی روٹی ٹی بی کا شرطیہ علاج ہوتی ہے ‘‘۔
’’ٹی بی‘‘ کے نام سے بڑھیا کی طبیعت کچھ مکدر ہوئی ، وہ ذرا سی پیلی پڑ گئی ۔ مگر پھر جبراً خود پر مسکراہٹ طاری کر دی ۔ اور کسی بہانے وہاں سے چلی گئی ۔ اس دوران وہ موٹا شخص بلند ترین آواز میں بولتا ہی چلا گیا حتیٰ کہ اندر کے کمرے میں بچہ جاگ گیا اور کھانسنے لگ گیا ۔
’’ بھئی تم بہت خوش قسمت ہو، تمہیں بچے کے لئے دوا مل گئی ۔ وہ یقینی طور پر پوری طرح تندرست ہو جائے گا ‘‘۔
بوڑھا چوآن مسکرا رہا تھا ۔
اس دوران سفید ریش آدمی موٹے بھدے باتونی شخص کے پاس آیا اور دھیمی آواز سے پوچھا :
’’مسٹر کانگ!، میں نے سنا ہے کہ آج سزائے موت پانے والا ’’سیا ‘‘ خاندان سے تعلق رکھتا تھا ۔ وہ کون تھا ؟ اور اسے سزائے موت کیوں ہوئی ؟‘‘۔
’’وہ بیوہ ’سیا‘ کا بیٹا تھا ، بد معاش!‘‘۔
جب اس نے دیکھا کہ سارے لوگ بہت توجہ سے اس کی بات سن رہے ہیں تو وہ اور پھول گیا اور مزے لے لے کر اپنی بلند ترین آواز میں کہتا رہا :
’’وہ غنڈہ تو زندہ رہنا ہی نہیں چاہتا تھا ۔ اس بار اس کی موت سے مجھے کچھ بھی ہاتھ نہ آیا ۔ حتیٰ کہ اس کے کپڑے بھی سرخ آنکھوں والا جیلر لے گیا ۔ ہمارا بوڑھا چوآن سب سے زیادہ خوش قسمت نکلا ۔ انعام کی ساری رقم یعنی 25 چاندی کے سکے اس کی جیب میں گئے ۔ اسے تو بیٹے کے علا ج کیلئے جیب سے ایک دھیلا بھی خرچ نہیں کرنا پڑا ‘‘۔
بچہ کھانستا ہوا آہستہ آہستہ باہر آ گیا ۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے سینے کو پکڑ رکھا تھا ۔ وہ باورچی خانے میں چلا گیا ، ٹھنڈے چاول کا ایک پیالہ بھرا اور اس پر گرم پانی ڈال دیا اور بیٹھ کر کھانے لگا ۔ اس کی ماں اس پر جھکی ہوئی تھی ۔ اس نے پوچھا :
’’بیٹا ، کچھ افاقہ محسوس کرتے ہو ، یا ابھی بھی ہمیشہ کی طرح بھوکے ہو ؟‘‘
’’شرطیہ علاج ! ‘‘ کانگ نے بچے کی طرف دیکھا اور پھر بیٹھے ہوئے لوگوں کو متوجہ کیا ۔
’’بوڑھا چوآن واقعی چالاک شخص ہے ۔ اگر وہ مخبری نہ کرتا توخود اس کا اپناخاندان سزائے موت پاتا اوراس کی جائیداد بھی ضبط ہو جاتی ۔ اب دیکھو ، الٹاانعام میں چاندی حاصل کی ۔ وہ بدمعاش تو واقعی کمینہ تھا ۔ اس نے تو جیلر کو بھی بغاوت کرنے پر اکسانے کی کوشش کی ‘‘۔
بچے نے چاول ختم کیے ۔ وہ بری طرح ہانپ رہا تھا ۔ اس پہ کھانسی کا دورہ پڑ گیا ۔ کانگ اس کے پاس گیا ، اس کے کندھے تھپتھپائے ،اور کہا :
’’شرطیہ علاج ۔ اس طرح نہ کھانسو بچے ۔ شرطیہ علاج‘‘۔

4
فصیل کے مغربی گیٹ سے باہر کی زمین مشترکہ تھی ۔ اس میں سے شارٹ کٹ کی تلاش میں پیدل آنے جانے والے لوگوں کے پیروں سے بنا راستہ ایک طرح سے ایک قدرتی سرحد بن گیا تھا ۔ اس راستہ کے بائیں جانب سزائے موت پانے والے مجرم دفن تھے یا وہ لوگ جوکہ جیل میں نظر اندازی کی وجہ سے مر چکے تھے ۔ راستے کی دائیں جانب عام غریبوں کی قبریں تھیں ۔
اس سال جشنِ چنگ منگ کے موقع پر غیر معمولی سردی تھی ۔ درختوں کی شاخیں ابھی ابھی پھوٹ رہی تھیں ۔ دن نکلتے ہی بوڑھے چوآن کی بیوی چار ڈشیں اور چاول کا ایک پیالہ دائیں طرف ایک نئی قبر کے پا س لائی ۔ اور اس پر ماتم کرنے لگی ۔ جب اس نے کاغذی رقم جلالی تو وہیں زمین پر بیٹھ گئی ، جیسے کسی چیز کاانتظارکر رہی ہو ۔ مگر کس چیز کے لئے ؟ یہ تو اسے خود بھی معلوم نہ تھا ۔ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا اور اس کے چھوٹے بال بکھیر کے رکھ دیئے جو کہ پچھلے سال کی بہ نسبت زیادہ سفیدہو چکے تھے ۔
ایک اور عورت بھی راستہ چلتے آتی نظر آئی ۔ اس کے بال سفید تھے اور اس کالباس بہت خستہ تھا ۔ اس نے ایک پرانی ، گول سرخ رنگ کی ٹوکری اٹھا رکھی تھی جس پر کاغذی رقم لٹکی ہوئی تھی ۔ وہ رک رک کر چل رہی تھی ۔ جب اس نے دیکھا کہ بوڑھے چوآن کی بیوی زمین پر بیٹھی اُسے دیکھ رہی ہے تو وہ جھجکی ،اور اس کے پیلے چہرے پر شرم کی سرخی دوڑی۔ لیکن اس نے جرات سے کام لیااور بائیں جانب کے قبرستان کی ایک قبر کے پاس گئی ۔ وہ قبر بوڑھے چوآن کے بچے کی قبر کے بالکل مقابل تھی ، صرف راستہ درمیان میں تھا ۔ بوڑھے چوآن کی بیوی نے جب دیکھا کہ اس عورت نے خوراک کی چار ڈشیں اور چاول کا پیالہ رکھا ، پھر ماتم کرنے کھڑی ہو گئی ، تو اس نے سوچا:’’اس قبر میں اس کا بھی بیٹا ہو گا ‘‘۔بوڑھی عورت بلا مقصدایک دوقدم چلی اور پھر اچانک کپکپانے لگی ۔وہ سرچکرانے کی طرح ڈگمگانے لگی ۔ بوڑھے چوآن کی بیوی ڈر گئی کہ کہیں غم سے وہ پاگل ہی نہ ہو جائے ۔ وہ اٹھی ، راستہ پار کیا اور اس کے پاس جا کر بولی: ’’ بس کرو ، چپ ہو جاؤ ، چلو گھر چلتے ہیں ‘‘۔
دوسری نے اثبات میں سر ہلا یا مگر وہ ابھی تک ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی ۔ وہ بڑبڑائی:’’دیکھو، وہ کیا ہے ؟‘‘۔
بوڑھے چوآن کی بیوی نے اس طرف دیکھا تو اُسے نظر آیا کہ اس کے سامنے کی قبر پہ ابھی تک گھاس بھی نہ اگی تھی ۔مگر جب اس نے غور سے دیکھاتو نظر آیا کہ قبر کے اوپر سرخ و سفید پھولوں کا ہار رکھا ہوا تھا ۔
دونوں کی نظر کمزور تھی پھر بھی وہ سفید و سرخ پھولوں کے ہار کو واضح طور پر دیکھ رہی تھیں ۔ وہ پھول تعد اد میں زیادہ تو نہ تھے مگر وہ ایک دائرے میں رکھے گئے تھے ،اور گوکہ زیادہ تازہ نہ تھے مگر سلیقے سے رکھے گئے تھے ۔ بوڑھے چوآن کی بیوی نے مڑ کر اپنے بیٹے کی قبر دیکھی تو اس پردوسری قبروں کی طرح چند پیلے پھول ہوا میں لرزتے ہوئے نظر آئے ۔ کہیں کسی قبرپر بھی پھولوں کی کوئی چادرنہ تھی۔ اچانک اسے سب کچھ فضول لگا اور اسے پھولوں کی چادر پرتعجب نہ ہوا ۔
اسی دوران بوڑھی عورت ان پھولوں کے ہار کو قریب سے دیکھنے چلی گئی ۔ ’’ان کی جڑیں نہیں ہیں‘‘ ۔ اس نے اپنے آپ سے کہا ۔’’ وہ اگے ہوئے نہیں ہیں ۔ تو پھر انھیںیہاں کون لایا تھا ؟ ۔بچے یہاں پر کھیلنے آتے نہیں ۔ ہمارے رشتہ داروں میں کبھی کوئی ادھر نہیں آتا ۔ تو ؟‘‘ ۔وہ اس پر پریشان ہوئی ۔ اور پھر اچانک اس کے آنسو رواں ہو گئے اور وہ زور سے چیخنے لگی :
’’ بیٹے ان سب نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے ، تمھیں غلط سمجھا ہے ۔اور تم یہ کبھی نہ بھولنا۔ کیا تمہارا صدمہ ابھی تک اتنابڑا ہے کہ تم نے آج مجھے بتانے کے لئے یہ حیران کن کام کیا ؟‘‘۔
اس نے ہر طرف نگاہ دوڑائی مگر اسے صرف ایک کوّا نظر آیا جو بے برگ شاخ پر بیٹھا تھا ۔
’’ میں جانتی ہوں ‘‘ وہ بولتی گئی ۔ ’’ انہوں نے تمہیں بے گناہ قتل کر دیا ۔ مگر حساب کتاب کا ایک دن آئے گا ۔آسمان خود فیصلہ کرے گا ۔ سکون سے اپنی آنکھیں بند کر لو ۔۔۔ اگر تم واقعی یہاں ہو اور میری آواز سن سکتے ہو تواپنی بے گنا ہی کی نشانی کے بطور اس کوّے کو اس قبر ستان سے اڑا دو ‘‘۔
ہوا بہت پہلے تھم چکی تھی اور سوکھی گھاس سیدھی کھڑی تھی ۔ ایک ہلکی مرتعش آواز فضا میں ابھری ، پھر مدھم ہوتی ہوئی ختم ہو گئی ۔ سارا علاقہ موت کی طرح خاموش تھا ۔ وہ دونوں سوکھی گھاس میں کھڑے کوّے کو دیکھتی رہیں ، اور کوّا درخت کی سخت شاخ پہ سر چھپائے فولاد کی طرح بلا حرکت بیٹھا تھا ۔
وقت گزرتاگیا ۔ اور لوگ، پیر و جواں اپنے عزیزوں کی قبروں پہ آنے جانے لگے ۔ کوّ اجب نہ اڑا توبوڑھی چوآن کی بیوی کویوں لگا جیسے اس کے دل سے ایک بوجھ اتر گیا ہو ۔ اسے جانے کی خواہش ہوئی ، دوسری سے کہنے لگی :
’’آؤ چلیں ‘‘۔
بوڑھی عورت نے آہ بھری ۔ اور بغیر کسی تاثر کے برتن اٹھا لیے۔ ایک لمحے کی جھجک کے بعد وہ آہستہ آہستہ روانہ ہو گئی ۔ وہ ابھی تک خود سے بڑ بڑا رہی تھی:
’’ اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘
وہ تیس قدم جا چکی ہوں گی کہ انہیں اپنی پشت پر کائیں کائیں کی اونچی آواز سنائی دی ۔ انہوں نے دیکھا تو کوے نے اپنے پر پھیلا دیئے ، اڑنے کے لئے جھٹکا کھایا اور پھر ایک تیر کی طرح دور افق کی طرف اڑ گیا ۔

Check Also

March-17 sangat front small title

یہ دنیا والے ۔۔۔ بابوعبدالرحمن کرد

(معلم۔ فروری 1951) مہ ناز ایک غریب بلوچ کی لڑکی تھی۔ وہ اکثر سنا کرتی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *