Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » حاشیے میں لکھی ہوئی کہانی ۔۔۔ لیو ٹالسٹائی/ الطاف منیر بلوچ

حاشیے میں لکھی ہوئی کہانی ۔۔۔ لیو ٹالسٹائی/ الطاف منیر بلوچ

جیسے ہی شام گہری ہوتی ہے، بیس منٹ سے آنے والی آوازیں اونچی ہونے لگتی ہیں۔ڈھن ڈھن ڈھڑن۔۔ ۔ڈھن ڈھن ڈھڑن۔۔۔۔ ڈھن ڈھن ڈھڑن۔۔۔
ان آوازوں میں موسیقی کم، شور زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تند و تیز، خود سر وحشت کا شور۔ ایک سرکش بے بسی ، یا بے بس سرکشی کا باغیانہ لحن۔غصے کاکریلا غم کی تلخ نیم پر پھیلتا جاتا ہے۔
’’وہ پھرڈرم بجانے لگا ہے‘‘۔ اس کی ماں فکرمندی سے اس کے باپ کی طرف دیکھتی ہے۔
باپ بے فکری سے شانے اچکاتا ہے اور اس کی ماں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ فکر کی کوئی بات نہیں، خود ہی آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گا۔پھر وہ اندر اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے اور ٹی وی دیکھنے میں منہمک ہو جاتاہے یا کم از کم منہمک نظر آتا ہے۔
ماں بھی بستر پر لیٹ جاتی ہے اور کتاب اٹھا لیتی ہے۔ وہ پڑھنے میں مشغول ہونے کی شدت سے کوشش کرتی ہے۔ کئی کئی منٹ کے بعد وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہو جاتی ہے اور چند ایک جملے پڑھ کر دل ہی دل میں انھیں دہرانے اور سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔دو ایک بار کی مشقت سے اس کا دل الجھنے لگتا ہے۔ وہ کتاب بند کر دیتی ہے۔
’’اب چیزیں آسانی سے میری سمجھ میں نہیںآتیں۔ میں بوڑھی ہو گئی ہوں۔‘‘ وہ خود سے شکایت کرتی ہے۔ اور کتاب بند کر کے ٹی وی کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔
ؔ ؔ ’’پھر Hunger Games؟ آخر کیوں دیکھتے ہیں یہ خونخوار فلمیں آپ؟ کیا مزا ملتا ہے آپ لوگوں کو؟ کیسی فطرت ہوتی ہے آپ مردوں کی؟ ‘‘ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی ہے اور دبی آواز میں احتجاج کرتی ہے۔باپ کوئی توجہ نہیں دیتا۔ اس کی طرف دیکھتا تک نہیں، نہ اس کی کسی بات کا جواب دیتا ہے۔
ماں دوبارہ کتاب اٹھا لیتی ہے اور پڑھنے کی کوشش کرتی ہے۔پھر کتاب بند کر کے سائڈ ٹیبل پر پٹخ دیتی ہے اور کوئی اور کتاب اٹھا کر کھول لیتی ہے۔توجہ قائم نہیں ہوتی۔ اس کے اندر جیسے چھری کی نوک سی چبھ رہی ہے۔
وہ کتاب بند کر کے دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔
سکرین پر ایک قتل ہوتا ہے۔ تیر کسی انجانی سمت سے آتا ہے اور کسی انجان کے کلیجے کے پار ہو جاتا ہے۔ ایک سترہ اٹھارہ سال کے نوخیز کلیجے کے پار۔ دور کہیں، کچھ اور لوگ ، خفیہ کیمروں کی مدد سے یہ سارا منظر دیکھتے اور خوشی سے چلاتے ہیں۔ ان کے کھیل میں جان پڑ چکی ہے۔ سکرین پر دو منظر ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ ایک طرف تیر کھانے والا نوجوان اپنی محبوبہ کی باہوں میں دم توڑنے کو ہے، اس کی محبوبہ کے چہرے پر وہی بے بس سرکشی یا سرکش بے بسی ہے، جس کی آواز بیس منٹ سے آرہی ہے،
ڈھن ڈھن ڈھڑن۔۔۔۔ ڈھن ڈھن ڈھڑن۔۔۔۔ ڈھن ڈھن ڈھڑن۔۔۔۔۔
دوسری طرف ایک پر آسائش کمرے میں کچھ لوگ ایک بہت بڑی سکرین پر خفیہ کیمروں کی مدد سے فلمایا جانے والا جنگل کا یہ منظر دیکھ رہے ہیں اورخوش ہو رہے ہیں کہ ان کا شو بہت کامیاب جا رہا ہے۔
ماں ایک دو منٹ تک صبر سے یہ کھیل دیکھتی رہتی ہے اور پھراپنے شوہر پر برسنے اور چیخنے لگتی ہے:
’’آپ کو کسی اور کا بھی احساس ہے یا نہیں؟ کیا یہ کمرہ صرف آپ کا ہے؟ آپ یہاں اکیلے بیٹھے ہیں؟ آپ کو نہیں معلوم ، کہ مجھے یہ مار دھاڑ، یہ قتل و غارت کے سین زہر لگتے ہیں۔آپ کے سینے میں دل ہے یا نہیں؟ آپ کیسے یہ تشدد بھری فلمیں دیکھتے ہیں؟ آپ کیسے یہ کھیل برداشت کرتے ہیں؟ آپ کیسے انسان ہیں؟ آپ ۔۔ آپ۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اندر سے اتنے بے حس ہیں۔ ‘‘
’’کیا ہو گیا بھئی، یہ سب کچھ تو محض ایک فلم ہے، حقیقت تھوڑا ہی ہے۔‘‘ اس کا شوہر سکون سے ٹی وی کی سکرین پر نظریں جمائے جمائے بولتا ہے۔
اس کے لہجے کا سکون ماں کو اور بھی بر افروختہ کر دیتا ہے۔
’’یہ فلم ہے؟ جی نہیں، یہ حقیقت ہے، یہ حقیقت کا ایک امکان ہے۔ اس امکان کو ہمیں کیوں دکھا یا جارہا ہے؟ کیا اس لیے کہ ہم اس امکان کو اپنی حقیقت بنا لیں؟ ہمیں تشدد پر آمادہ کرنے کے لیے؟ یہ سازش ہے۔ یہ ظلم ہے۔ یہ سراسر ناانصافی ہے۔ اور آپ اس ظلم میں شریک ہوتے ہیں۔ اس کا حصہ بنتے ہیں؟ آپ ان فلموں کو پسند کرتے ہیں۔ آپ ۔۔۔‘‘ وہ ہسٹیریائی انداز میں چلاتی ہے تو اس کا شوہر غصے سے ٹی وی بند کر دیتا ہے اور ریموٹ اس کے سامنے پھینک دیتا ہے۔ پھر بغیر کوئی لفظ بولے، کروٹ بدل کر لیٹ جاتا ہے۔
اس کے کروٹ بدلتے ہی ماں کے اندر وحشت کا ایک سمندر بپھرنے لگتا ہے۔ ٹی وی کی آواز ختم ہوتے ہی بیس منٹ سے ڈرم کی آواز سنائی دینے لگتی ہے:
ڈھن ڈھن ڈھڑن۔۔۔۔ ڈھن ڈھن ڈھڑن۔۔۔۔ ڈھن ڈھن ڈھڑن
اس کا جی چاہتا ہے دیوار سے سر ٹکرائے، الٹی کھڑی ہو جائے، کچھ ایسا کرے کہ زمین آسمان کی گردش رک جائے۔
شوہر کے ممنہ موڑ لینے سے وہ اندر سے کمزور پڑ جاتی ہے۔ ڈرم کی آواز اس کے ارد گرد پھیل جاتی ہے، اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، اس کے کانوں پر ہتھوڑے بن کر برستی ہے۔
’’سنیں۔۔ سنیں ذرا۔۔۔ وہ کیسے ڈرم بجا رہا ہے۔۔۔‘‘ وہ اپنے شوہر کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر اسے زور زور سے ہلاتی اور جھنجھوڑتی ہے۔
’’تمہی نے لے کر دیا ہے یہ ڈرم اسے۔۔۔ میں نے منع بھی کیا تھا۔‘‘
شوہر کے اس طعنے پر اس کا خون کھول اٹھتا ہے۔
’’اسی لیے لے کر دیا تھا کہ وہ اپنا غصہ نکال لے۔ ڈرم بجا کر نکال لے۔بندوق نہ اٹھائے، چھریاں نہ چلائے۔‘‘
ہاں تو پھر ٹھیک ہے، بجانے دو اسے۔ اب کیوں اعتراض ہے؟
’’اعتراض؟ اعتراض؟ میں اعتراض کر رہی ہوں؟‘‘ ماں پھر بپھرنے لگتی ہے۔
’’آپ سمجھتے کیوں نہیں؟ مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔ وہ غصے میں ہے۔ وہ خود کو بے بس محسوس کر رہا ہے۔ وہ اپنی بے بسی پر کڑھ رہا ہے۔ اس کے اندر وحشت جمع ہو رہی ہے۔ یہ موسیقی نہیں ہے، یہ احتجاج ہے۔ وہ نعرے لگا رہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں سٹک نہیں،ڈنڈے ہیں۔ ‘‘
’’تمہی پر گیا ہے وہ! یہ وحشت تمہی سے لی ہے اس نے!‘‘باپ منہ پھیرے پھیرے کہتا ہے۔
ماں کی قوتِ برداشت ختم ہو جاتی ہے۔
وہ تیزی سے بستر سے اٹھ کر باہر نکل جاتی ہے اور سیڑھیاں اترنے لگتی ہے۔ ڈرم کی آواز تیز ہونے لگتی ہے۔ شور سے اس کے کان پھٹنے لگتے ہیں۔ وہ بیس منٹ کے دروازے کو ہلکا سا دھکیلتی ہے ۔ دروازہ اندر سے بند ہے۔وہ دروازے پر آہستہ سے دستک دیتی ہے۔ کوئی جواب نہیں آتا۔وہ پھر دستک دیتی ہے۔ پھر کوئی جواب نہیں آتا۔
ماں کی آنکھوں سے آنسو ڈھلکنے لگتے ہیں۔
وہ ایک دو منٹ وہیں کھڑے کھڑے آنسو بہاتی ہے۔پھر آنسو اچھی طرح پونچھ لیتی ہے اور زور سے دستک دیتی ہے۔ دروازہ کھل جاتا ہے۔
وہ دروازہ کھول کر، ماں پر نظر ڈالے بغیر، دوبارہ ڈرم بجانے لگتا ہے۔ ماں اس کے قریب پڑے پلنگ پر بیٹھ جاتی ہے اور اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگتی ہے۔
آخر وہ ڈرم بجانا بند کر دیتا ہے اور سوالیہ نظروں سے ماں کی طرف دیکھتا ہے۔ ماں کچھ نہیں بولتی۔ پھر وہ کہتا ہے۔
’’جی؟؟؟؟‘‘ ۔
ماں کو سارے لفظ بھول جاتے ہیں۔ اس کے چہرے پر ایک شدید تناؤ پیدا ہو جاتا ہے جسے بیٹا سختی پر محمول کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ماں اسے شور مچانے پر ڈانٹنے آئی ہے۔
’’اگر شور سے اتنا ہی گھبراتے ہیں تو کمرے کو ساؤنڈ پروف کروادیں۔۔۔ اپنے کمرے سے نکل کر بیس منٹ میں تو شفٹ ہو گیا ہوں اب اور کیا کروں؟‘‘ بیٹا تند اورسرد لہجے میں بولتا ہے۔
’’بیٹا، میں شور سے گھبرا کر نہیں آئی۔۔۔‘‘ ماں اسے بتانا چاہتی ہے کہ وہ اس کی تکلیف کم کرنے کے لیے آئی ہے، لیکن بتا نہیں پاتی۔ اسے ڈر لگتا ہے کہ اس کا بیٹا اس کی باتوں پر یقین نہیں کرے گا۔
’’تو اور کس لیے آئی ہیں؟ یہی مسئلہ ہو گا نا کہ بابا کو سونا ہے، رات کا وقت ہے، آواز دور تک جائے گی۔ پڑوسی ڈسٹرب ہوں گے۔۔۔‘‘ اس کا بیٹا تلخ لہجے میں اس کی نقل اتارتا ہے۔ وہ اندر سے دکھ جاتی ہے۔ اس کا دل ٹوٹنے لگتا ہے، لیکن وہ ہمت نہیں ہارتی۔
’’نہیں بیٹا، میں تو یہ کہنے آئی ہوں کہ اس طرح ڈرم بجانے سے کیا ہوگا؟ بھول جاؤ اب اس بات کو، جو ہونا تھا ہو گیا؟ یہ کون سا ایسی بڑی بات ہے۔ابھی۔۔۔۔‘‘
’’کیا بھول جاؤں؟ کیوں بھول جاؤں؟ آخر میرا قصور کیا تھا؟ انھوں نے میری بات ہی نہیں سنی، وہ مجھ سے مل تو لیتے، میری بات تو سن لیتے، مجھے دیکھ تو لیتے۔‘‘
وہ اس کی بات کاٹ دیتا ہے۔
’’انھوں نے تو مجھے بلایا تک نہیں، میرے کاغذات دیکھ کر ہی انکار بھیج دیا۔ اگر وہ مجھے انٹرویو کے لیے بلاتے تو میں انھیں قائل کر سکتا تھا کہ میں ہمیشہ کے لیے نہیں جا نا چاہتا۔ صرف گھومنے کے لیے جانا چاہتا ہوں، مجھے دنیا دیکھنے کا شوق ہے۔‘‘
اس کی آواز بھرا جاتی ہے۔ ماں کے اندر کٹار سی اترتی ہے۔ وہ سوچتی ہے، دوبارہ ویزے کے لیے اپلائی کر دے۔پھر خیال آتا ہے، کہ دوبارہ انکار ہو گیا تو امکانات بالکل ہی معدوم ہو جائیں گے۔ یہی سوچ کر وہ کافی عرصے سے اپنے بیٹے کو ٹالتی آرہی تھی۔
’’ میں نے تو تمھیں بتایا تھا بیٹا، کتنا سمجھایا تھا کہ اس عمر کے نوجوانوں کو ویزا ملنا آسان نہیں ہے۔ مت اپلائی کرو، ایک بار انکار ہو جائے تو ہمیشہ کے لیے اس انکار کا حوالہ دینا پڑتا ہے۔ ‘‘
’’مگر کیوں؟ انکار کیوں ہو جائے؟ آخر کیوں؟ میں نے کیا کیا ہے؟ میں کوئی دہشت گرد ہوں؟‘‘
’’تم دہشت گرد نہیں ہو، مگر یہ بات انھیں تو معلوم نہیں ہے ناں!‘‘ماں نے اذیت ناک لہجے میں کہا۔
’’کیوں معلوم نہیں ہے؟ کیا ہم میں سے ہر ایک کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ دہشت گرد نہیں ہے؟‘‘
اس کی باتیں ماں کے دل کو کاٹ رہی ہیں۔
’’مجھ میں اور ان میں کیافرق ہے آخر؟‘‘ وہ آئینے کے سامنے جا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
’’آخر ویزے کی ضرورت ہی کیو ں ہوتی ہے؟ میں بغیر ویزے کے کہیں نہیں جا سکتا؟ میں اس دنیا میں اپنی مرضی سے نہیں گھوم سکتا؟‘‘
’’نہیں، بالکل نہیں، یہ عالمی قانون ہے، ہمیں ہر حال میں اس کا حترام کرنا ہوگا۔‘‘
ماں سختی سے اسے ٹوکتی ہے۔ اسے وہم ہونے لگتا ہے کہ کہیں وہ کوئی غیر قانونی راستااختیار نہ کر لے۔ اسے اپنے شوہر کی باتیں یاد آتی ہیں جو اپنے بیٹے کی اس خواہش کو شروع ہی سے کچل ڈالنا چاہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے دل میں دنیا دیکھنے اور گھومنے پھرنے کی خواہش پیدا ہو۔وہ چاہتا تھا کہ وہ صرف پڑھائی پر توجہ دے۔ صبح سویرے سکول کالج جائے، شام کو سیدھا واپس گھر آئے اور اپنی کتابیں کھول کر بیٹھ جائے۔ بالکل ویسے ہی جیسے اس کے والد اس سے چاہتے تھے۔
یہ ماں ہی تھی جس نے اپنے بیٹے کے دل میں زندگی اور دنیا کی وسعتیں سمیٹ لینے کی خواہش پیدا کی تھی۔ کبھی کہانیوں سے، کبھی کتابوں سے، کبھی نظموں سے ، کبھی باتوں باتوں میں۔ اسے ان خطّوں کے قصے سنائے تھے جو کرۂ ارض کے دوسرے کنارے پر تھے۔ ان لوگوں کی باتیں، جو برف کے گھروں میں رہتے ہیں، صحراؤں میں خانہ بدوش پھرتے ہیں یا پھر بڑے بڑے شہروں کے اونچے اونچے سکائی سکریپرز میں رہتے ہیں۔ ان کہانیوں نے اس کے اندر کی آگ میں چنگاریاں ڈال دی تھیں اور وہ بھڑک اٹھی تھی۔اب وہ بے تاب تھا۔ زندگی کی نیرنگیوں کو اپنے اندر سمو لینے کے لیے، قوموں، نسلوں، زمینوں کے سب رنگ دیکھنے کے لیے۔ کب سے وہ ماں کے کانوں میں سرگوشیاں کر رہاتھا۔
’’میں وہاں رہنا نہیں چاہتا۔ میں واپس آ جاؤں گا۔ میں تو بس دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس ساری دنیا کو۔ ‘‘
وہ اسے سمجھاتا رہتا۔ وہ سن کر سوچ میں پڑ جاتی۔
حالات اب ویسے نہیں رہے تھے جیسے خود اس کے بچپن میں تھے۔دنیا کس تیزی سے بدل چکی تھی۔ اب دنیا کے رنگوں کو دیکھنے کے لیے آزادانہ گھومنا پھرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ سو سو طرح کے مرحلے تھے۔ روپے پیسے کے علاوہ بھی کئی طرح کے قصے تھے، کئی طرح کی آزمائشیں تھیں۔
باپ تو پہلے ہی اس خیال کا مخالف تھا۔ وہ ماں سے اکثر ناراض ہو جاتا کہ اس نے کیوں اکلوتے بیٹے کے دل میں ایسی آرزو پیدا کی تھی جسے پورا کرنا ان کے بس میں نہ تھا۔ ماں خود کو اور بھی مجرم سمجھنے لگتی اور خود سے لڑتی۔
آخر ایک دن اس نے ہتھیار ڈال دیے۔ وہ اپنے بیٹے کی نگاہوں کی بے تابی پہچان گئی اور اس نے باپ سے چوری چوری اس کے سفر کے انتظامات شروع کر دیے۔
پیسے جمع کر لیے گئے تھے، آخری مرحلہ ویزے کا تھا۔ اس کا بیٹا بہت پر امید تھا۔ اسے یقین تھا کہ ویزا مل جائے گا۔ نہ ملنے کی کوئی وجہ ہی نہیں تھی۔ اس کی جیب میں رقم موجود تھی۔ وہ ایک ایسے سکول کا تعلیم یافتہ تھا جس کی ڈگری بین الاقوامی طور پر تسلیم کی جاتی تھی۔ وہ اس ملک کے پر امن باسی تھے۔ اس کے اور اس کے والدین کے خلاف کسی طرح کی کوئی بات ثابت نہیں کی جا سکتی تھی۔
یہ ٹھیک ہے کہ اس کے ملک میں دہشت گردی کا فتنہ تیزی سے پھیل رہا تھا لیکن وہ تو خود اس کا شکار ہو رہے تھے۔اسے امید تھی کہ ویزا افسر اس کی بین الاقوامیت کو فروغ دینے کی خواہش کی تحسین کرے گا۔ وہ یہ جان کر خوش ہو گا کہ اس ملک کا ایک نوجوان انتہا پسندی کو شکست دینے کے لیے دنیا کے سفر پر روانہ ہونے والا ہے۔
اس کے دل میں ایسی ہی امیدوں کے باغ کھلے ہوئے تھے۔
لیکن یہ امیدیں پوری نہ ہو سکیں۔ اس کی توقع کے بالکل خلاف، ویزا افسر کے سامنے پیش ہونے اور اپنی بین الاقوامیت کا اظہار کرنے کا موقع ہی نہ آسکا۔ عرضی ڈالنے کے کچھ ہی دن بعد اس کا جواب آگیا۔ اس کی عرضی رد ہو گئی تھی۔
اس دن سے وہ اپنے کمرے میں بند تھا۔ ماں اور باپ ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔گھر پر سناٹا تھا۔ کبھی کبھی بیس منٹ سے ڈرم بجانے کی آواز آجاتی تھی۔
ماں بھی دن مین دو تین بار اس کے کمرے میں چکر لگا آتی، حالاں کہ وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتاتھا ۔ ماں چاہتی تھی وہ اپنے دل کا غبار نکال لے۔ لیکن جب وہ بولنے لگتا تو ماں کا دل بیٹھنے لگتا۔
اس کے دل میں نفرت بھر گئی تھی۔ اس کا لہجہ سرد ہو گیا تھا۔
اس کی باتوں میں یکا یک فہم و شعور کی جھلک دکھائی دینے لگی تھی۔ اسے نظر آ رہا تھا کہ دنیا کی وسعتوں کو چھو کر دیکھنے کی اس کی خواہش بکھر چکی ہے۔ آئندہ کئی برسوں تک دنیا اس قابل نہیں ہو سکے گی کہ اس کے خطے کے باشندے بلا خوف و خطر دوسرے خطے کے رنگوں میں نہا سکیں ۔شکوک و شبہات کے سیاہ بادلوں نے بینائی سلب کر لی تھی۔اس کے بڑھتے قدم روک دیے گئے تھے۔ وہ بار بار خود سے الجھتا تھا۔ ماں سے پوچھتا تھا، اپنی جلد کا رنگ دیکھتا تھا، اپنے پاسپورٹ کو گھورتا تھا۔
ماں کا دل ہول کھانے لگاتھا۔
وہ دیر تک چپ چاپ اس کے پاس بیٹھی رہی اور اس کی باتیں سنتی رہی۔
وہ سوال جن کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
پھر وہ بوجھل قدموں سے اٹھی اور اپنے کمرے میں آگئی۔
اس کا شوہر اسی طرح کروٹ بدلے لیٹا ہوا تھا۔
وہ بھی پلنگ کے دوسری طرف جا کر لیٹ گئی اورسونے کی کوشش کرنے لگی۔
نیند اس کے قریب نہیں پھٹکی تو اس نے تکیے کے نیچے سے ریموٹ نکالا اور ٹی وی چلا دیا۔
Hunger Gamesاپنے کلائمکس پرتھی۔
وہ محوہو کر فلم دیکھنے لگی۔

Check Also

March-17 sangat front small title

یہ دنیا والے ۔۔۔ بابوعبدالرحمن کرد

(معلم۔ فروری 1951) مہ ناز ایک غریب بلوچ کی لڑکی تھی۔ وہ اکثر سنا کرتی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *