Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » جھوٹ کی شکست سچ کی جیت۔۔۔۔۔۔۔ وحید زہیر

جھوٹ کی شکست سچ کی جیت۔۔۔۔۔۔۔ وحید زہیر

میر تقی میر نے کیا خوب کہا ہے:
زمانے نے رکھا مجھے متصل
پراگندہ روزی پراگندہ دل
میر کو شاید اس کا جائز مقام ملنے میں وقت لگا ہو مگر اب تو ماﺅس کے ایک کلک پر کہانی کے انجام تک پہنچ سکتے ہیں۔ میر گل خان نصیر کے ایک ایپی سوڈ پر میں نے ماﺅس کلک کی ہے ۔ آپ بھی سن لیجئے۔ جب انسان کا دل پتھر کا ہوجائے ۔ آنکھیں ربڑ کی ہوجائیں ۔ دماغ پر چمڑ اچڑھ جائے۔ خون میں شربتی زہر حلول کر جائے۔ گردوں پر سفید سفوف کی بارش ہو ہاتھوں پر دستانے چڑھ جائیں۔ پاﺅں کے ٹاپوں سے فرش بجتے رہیں ۔ ایسی صورت میں بھلا انسان انسان رہ جاتا ہے؟۔ یقیناً آپ کا جواب نفی میں ہوگا۔ ہاں اگر دماغ حرمت لفظ کی ڈکشنری کہلائے۔ خون محبت کی نہروں کی جسم میں بہتا ہو۔ گردوں پر سرخ سفوف کی پھوار ہو۔ ہاتھ ہر کسی کی سلامتی پر مامور ہوں۔ آنکھیں ہمہ وقت رنگوں سے گفتگو میں مصروف ہوں۔ تب انسان انسان کہلانے کا مستحق ہوگا۔ اس مقام پر انسانون کو پانے کے لےے شفاف ماحول، منور تعلق ، بے خوف خواب ، رنگوں سے آزادانہ ماحول میں گفتگو کا میسر آنا ہی اس کی نیک بختی ہے ۔ اِسی نیک بختی کو پانے کے لےے گل خان نصیر جیسے نیک بخت روشنی کو اندھیروں کے چنگل سے آزاد کرنے کی لڑائی میں کود پڑتے ہیں۔ اور ز مانے کی سرد گرم ہوا سے گزرنے کا ترانہ عام کرتے ہیں۔ لیکن منفی قوتوں کا انسانی اقدار کے برعکس رد عمل ظاہر کرنا قدرتی امر ہے۔جب کال کوٹھڑیوں سے موسم کا گزر نہ ہو۔ جب رنگوں کا آنکھوں سے سامنا نہ ہو۔جب زندگی اپنوں میں بسر کرنے کی خواہش جرم بن جائے۔ جب غریب کی جھونپڑی بادشاہ ِ وقت کو خانقاہ نہ لگے۔ جب جاہلوںکو عالموں کے درجہ پر فائز کیا جائے اور حقیقی عالم علم نوا نہ لگے پھر تو گل خان نصیر کا رد عمل ظاہر ہونا بھی فطری امر ہے۔ گل خان نصیر غاصبوں ، جاہلوں، ظالموں کے خلاف اپنے ضمیر کے مطابق اٹھ کھڑا ہوا ، فیض احمد فیض کی ہمنوائی میں سیرت و بصیرت کی بات کی۔ لیکن ہماری سائیکی دیکھیں کہ جس شدت سے گل خان نصیر، فیض احمد فیض اور جالب کی حق پر مبنی شاعری پر سیخ پا ہوتے ہیں اسی شدت کے ساتھ وینا ملک کی بے برکت حرکات و سکنات پر یکساں بھڑک اٹھتے ہیں۔ غدار وطن اور کافر کا لقب بیچنے والوں کی دکانیں میک ڈونلڈ اور کراچی بریانی کی طرح چلتی ہیں اب تو ایک فون کال پر یہ پارسل ہوکر دیر کےے بغیر آپ کے گھر تک گرم گرم پہنچائے جاتے ہیں۔
انسانی گوشت کو مرغوب سمجھ کر کھانے والے گدھوں، کتوں اور چوہوں کا قیمہ ، مردہ مرغی کھلانے والے ، دونمبر ادویات فروخت کرنے والے زیادتی کرنے والے ، علی الاعلان رشوت اور کمیشن لینے والے، طالبات پر علم کے دروازے بند کرنے والے ، ادب اور شاعری پڑھنے والوں سے ناراض رہنے والے کس شان سے حب الوطنی کے سند تقسیم کرنے والوں کے بیچ میں سر اٹھا کر پھرتے ہیں۔
کیا انسانی اقدار اور فطرت کے خلاف زندگی گزارنے والے غدار وطن نہیں کہلاتے ۔لیکن جب مثبت حرکات کی کیمسٹری بدل جائے اور محبت کی ڈکشنری میں لفظ نفرت کی بھرمار ہو علم کی ذمہ داری مکاتب فکر سے چھین کر ان پڑھ رہنماﺅں اور غیر ذمہ دار ارباب اختیار کے کاندھوں پر ڈالی جائے تو ایسا ہی ہوگا ۔ گل خان نصیر کا قصور کیا تھا جو وہ غدار وطن کہلائے ۔ذرا ان کے چند تاریخی جملے سنیں۔
*    جس شخص کو اپنی غلطی کا احساس ہو وہ سالک راہ ہے اس کی پیروی کرنی چاہےے۔
*    جس نے پہل کی اس نے ہی الزام دوسروں پر لگایا۔
*    اپنا حق مانگنا کوئی جرم نہیں۔
*    جھوٹی تسلی گناہ ہے۔
*    وطن سے محبت کا جذبہ بالکل ایسا ہی غیر ارادی اور فطری ہوتا ہے جیسے کہ اولاد کو اپنی ماں سے لگاﺅ ہوتا ہے۔
*    ہماری غفلت کی وجہ سے غیر ملکی ہمارے سروں پر سوار ہیں۔
*    کوئی شخص مقابلہ کےے بغیر اپنے گدھے کو بھی لٹیروں کے حوالے نہیں کرتا۔
*    دو دن کی خدائی پر متکبر رہنے والا یہ انسان رو سیاہ ہوکر ہی جائے گا جیسے شِمر اور شداد چلے گئے۔
*    جھوٹ اور ظلم کی بنیاد پر تعمیر کیا ہوا محل آخر ڈھ جائے گا۔
گل خان نصیر کی سچائی اور سچی گفتگو پر مبنی ایسے بے شمار جملے ہیں جنہیں اقوال زریں کا مقام حاصل ہے ۔ ہماری نظروں میں گل خان نصیر کا گناہ کیا ہے ۔ انہوں نے آنے والی نسل کے لےے اپنا وجود تلاشنے اور تاریخ و تحقیق کاکام کیا۔
انہوں نے بلوچی اور براہوئی زبان و ادب کو تخلیقات و تراجم سے مزین کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے علم کی فضیلت سے استفادہ کرنے لے لےے نوجوانوں کو بیدار کیا انہوں نے سماجی اقدارکو مستحکم کرنے کی جدوجہد کی۔ انہوںنے سیاست کے ذریعے اپنے جائز حقوق کی بات کی۔ وہ جمہوریت کے چیمپئن تھے کیونکہ ان کی آواز تعصب، تنگ نظری ظلم ، ناانصافی کی عالمی انداز میں رَد کرنے کی تقلید تھی۔ جبھی تو وہ فیض احمد فیض ، جالب، شیخ ایاز اور قلندر مومند کے سنگت تھے۔ وہ قومی اور جمہوری سیاست کے داعی تھے۔ وہ جن محاوروں پر لڑرہے تھے ۔ دنیا میں ایسے کم ہی لوگ ہونگے جن کے پاس ایسا بلند حوصلہ ہو۔ انہیں قبائلی نظام کا سامنا تھا۔ ان کی جہالت سے ہمہ وقت مڈبھیڑ تھی۔ ان میں سامراجی سوچ کو ختم کرنے کا جذبہ تھا۔ اور وہ اس میں اس قدر آگے نکل گئے کہ جہالت کے بارودی سرنگوںسے ٹکرائے ۔ غدار تو بے گانہ ہوتے ہیں کوئی گل خان نصیر کی اس خطے میں بیگانگی ثابت کرکے دکھائے ۔ گل خان نصیر اور اس کے ساتھیوں کی بات اگر اُس وقت مانی جاتی تو آج ہم اپنی صلاحیتیں اس طرح ، وینا ملک، شیخ رشید، ذکا اشرف، مشرف، حج اسکنڈل ، عمران خان کا نیا پاکستان ، نرمندر مودی کی آمد پر صرف نہ کرتے ۔ اور نہ ہی عطا شاد کی شاعری پڑھنا جرم ٹھہرتا۔ نہ ہی علاقہ اقبال فراموش ہوتے اور نہ ہی قائداعظم کے بعد بابائے قوم کا خطاب الطاف حسین چھین لیتا اور نہ ہی مادر پدر آزادمہنگائی ماﺅں کی چھاتیاں خشک کرنے کا سبب بنتی نہ سیاسی پارٹیو ں میں قاف، لام، میم، فے ، عین کا رواج پڑھتا ، نہ ہی کفر کے فتوے بانٹنے والوں کے تھڑے سجتے نہ ماضی کے ہوٹل بند ہوتے ان کی جگہ اسلحہ فروخت کرنے کی دکانیں کھلتیں۔
نہ ہی بے اعتباری کواس قدر فروغ ملتا کہ گلی گلی آہنی دروازے لگتے اور نہ ہی خفیہ کیمرے مجبوری بنتے ۔ نہ ہی محافظوں میں ڈاکو لٹیرے پیدا ہوتے اور نہ ہی کتابوں کی دکانوں کی حرمت پر حرف آتا اور نہ ہی گلی گلی منی سینما گھر کھلتے ۔ گل خان نصیر، میر غوث بخش بزنجو، میر یوسف عزیز مگسی، بابو عبدالرحمن کرد، نادر قمبرانی، صمد خان اچکزئی ، فیض احمد فیض اور بہت سارے جنہوںنے صعوبتیں کاٹیں۔قوم کو اپنا قیمتی وقت دیا۔ اپنے سر بے شمار الزامات لےے محض اس لےے کہ وہ یہاں ترقی چاہتے تھے ۔ خوشحالی چاہتے تھے ۔ وہ جیو اور جینے کا حق دو کے قومی پیروکار تھے۔ لیکن انہیں چوروں، ڈاکوﺅں، لٹیروں سے بھی بد تر خیال کیا جاتا ہے ۔ اگر آج واقعی جمہوری اداروں کو یاآمرانہ سوچ کے حامل افراد کو اس بات کا احساس ہو چلا ہے کہ ماضی میں کےے گئے فیصلے غلط تھے ۔ اور جو سچ پر ثابت قدم تھے ۔ وہی قوموں کا سر مایہ ہیں تو پھر یہ فیض احمد فیض اور گل خان نصیر کی جیت ہے۔ وگرنہ جھوٹ کا راستہ دلدل کو جاتا ہے اوردلدل میں گرنے والی اقوام زندگی بھر ہی موت سے آدھے دھڑکے ساتھ سڑتی ہوئی زندگی کی بازی ہار ہی جاتی ہیں۔
جاتے جاتے انور شعور کا یہ شعر بھی سن لیں:
خود کو سدھارنے کا عزمِ صمیم ہو تو
کیسے نجات ممکن عادات سے نہیں ہے

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *