Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » کتاب پچار » جلا وطن کی شاعری ۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر عبداللہ جان عابد

جلا وطن کی شاعری ۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر عبداللہ جان عابد

اجمل خٹک کی اردو شاعری کا پہلا اور ہنوز آخری مجموعہ جلا وطن کی شاعری کے نام سے چھپا ہے۔ لمحہ¿ موجود تک اس کے دو ایڈیشن منظر عام پر آ چکے ہیں۔ مئی 1990ءمیں اس کا پہلا ایڈیشن چھپا ۔ ستمبر 1997ءمیں اس کا دوسرا ایڈیشن یونیورسٹی بک ایجنسی نے پشاور میں طبع کروایا، جو 171 صفحات کو محیط ہے۔ اس ایڈیشن میں 42 نظمیں، ایک غزل، قطعہ اور چند فردیات شامل ہیں۔ یہ اصل میں ان کی اس زمانے کی شاعری ہے، جب وہ افغانستان میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک شاعر جنھوں نے قیام پاکستان سے قبل پشتو میں شعر کہنے کا آغاز کیا اور مدتوں وہ پشتو شعر و ادب سے متعلق رہے۔ یکایک وہ اس زمانے میں اردو شاعری کی طرف مائل ہوئے، جب وہ افغانستان میں مقیم تھے۔
جلا وطن کی شاعری اس مجموعے کا عجیب سا عنوان ہے، لیکن جہاں شاعر نے اپنی نظموں میں براہِ راست لہجے اور طرزِ کلام کو اہمیت دی ہے، وہاں اس میں اس مجموعے کا نام بھی شاعرانہ رکھنے کے بجائے اپنی واردات کو بیان کر دیا ہے۔ اس مجموعے کو پڑھتے ہوئے فوراً ان کی زندگی کا وہ دورانیہ جو انھوں نے جلا وطنی میں افغانستان میں گزارا ہے، ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ اس مجموعے کا ٹائٹل بھی شاعر کے اس فکری رویے کو سمجھنے میں بھی بہت معاون ہے۔ پہاڑوں اور ریت کے ٹیلوں پر جہاں پر پانی اور سبزے کا نام و نشان نہیں ہے، وہاں پہاڑی پر ایک پھول دکھایا گیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ شاعر اپنے معاشرے اور ملک کے روشن اور تابناک سویروں سے مایوس نہیں۔ ان کی فکر نہایت مثبت رویوں کی حامل ہے۔ کیوں کہ ان کے انقلابی اور مزاحمتی رویوں میں منفی عناصر کی کارفرمائی دکھائی نہیں دیتی۔ وہ ترقی پسندانہ لب و لہجے اور فکر و اظہار کے جملہ زوایہ ہائے نظر سے اخذو استفادہ کرتے ہیں، لیکن پشتون معاشرے کی مثبت، مذہبی اور تہذیبی اقدار سے باہر نہیں جاتے۔ شاعر کی فکر پر مثبت رویے غالب ہیں اور انھی رویوں کی بدولت ان کی شاعرانہ اپروچ ان کی قوم کے افراد کے لیے مشعل راہ بن جاتی ہے۔
جلا وطن کی شاعری کی نظموں میں بنیادی طور پر وہی خیالات اور رویے در آئے ہیں، جو ان کی پشتو نظموں کا لازمہ ہیں۔ سوائے اس کے کہ ان نظموں کی زبان اردو ہے اور کوئی ایسی نمایاں تبدیلی ان نظموں میں محسوس نہیں ہوتی۔ اجمل خٹک نے اپنے اس مجموعے میں کوئی ایسا واضح اشارہ نہیں دیا ہے کہ اس فکری رویے کو سمجھنے میں مدد مل سکے کہ انھوں نے یہ نظمیں پشتو کے بجائے اردو میں کیوں کہیں؟ دوسری بات یہ کہ یہی مضامین، موضوعات اور فکر بہتر طور پر وہ پشتو میں برسوں سے بیان کرتے چلے آ رہے تھے۔ یہاں انھیں ان مضامین، موضوعات اور فکر کو اردو میں بیان کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ یہ سوالات ان کی اس نظمیہ شاعری کو پڑھنے کے لیے اور کسی حد تک ان کی فکری بازیافت کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ جب ہم ان سوالات پر غور کرتے ہیں اور انھیں اجمل خٹک کی شاعری کے پس منظر میں رکھ کر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اجمل خٹک بنیادی طور پر پشتون معاشرے سے باہر نکل کر دیگر ہم وطنوں کے ساتھ اپنے جذبات اور احساسات کو شریک کرنا چاہتے ہیں۔
اجمل خٹک کی اردو نظمیں شاید فنی اعتبار سے کچھ زیادہ اہمیت کی حامل نہ ہوں، لیکن فکری اعتبار سے ان میں جو ترقی پسندانہ رویہ موجود ہے، اس میں پاکستانی معاشرے کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق افراد کے لیے ایک ایسا پیغام ہے، جو انھیں اپنی زندگی کے سیاسی اور سماجی حالات اور ماحول میں بہتر رویہ اختیار کرنے کا درس دیتا ہے۔
اجمل خٹک کی شاعری میں جو حر کی رویے موجود ہیں، انھوں نے اس شاعر کو پشتون معاشرے کے دیگر شعرا سے بوجوہ زیادہ اہمیت کا حامل بنا دیا ہے۔ علامہ اقبال کی طرح اجمل خٹک بھی اپنے فکری رویوں میں جن نظریات اور افکار کے پرچارک ہیں۔ انھوں نے ان رویوں کو جامد صورتوں میں پیش کرنے کے بجائے ایک نہایت متحرک اور Dynamic صورت میں آشکار کیا ہے۔ ان کے لفظوں اور لفظوں کے پس منظر میں موجود امیجز، تراکیب اور تراکیب کے پس منظر میں موجود پیکر، تشبیہات اور استعارات یا علامتوں کا جو نظام ان کی اس کتاب میں دکھائی دیتا ہے، اس کے لفظ لفظ سے ان کے حرکی اور عملی نظام کی رنگینی کا احساس ہوتا ہے۔
اجمل خٹک بنیادی طور پر ایک سماجی اور سیاسی مفکر ہیں۔ سماجیات اور سیاست کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ دونوں رویے ان کی شاعری کے بنیادی اصول و ضوابط وضع کرتے ہیں۔ ترقی پسندانہ طرز فکر نے ان کی شاعری کو جو موضوعات عطا کیے ہیں، وہ ان کی پشتو شاعری کا طرہ¿ امتیاز ہیں اور وہی رویے ان کی اردو شاعر ی میں بھی پیش کیے گئے ہیں۔ دَ غیرت چغہ (صدائے غیرت) کی ایک مقبول نظم ”جنت“ جو تمثیلی انداز میں ان کے فکری رویے کا بہترین نمونہ ہے۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ ان کی اردو شاعری کا یہ مجموعہ فکری اعتبار سے ان کے نظریہ¿ حیات کا خوبصورت اظہار یہ ہے، مگر اجمل خٹک کی فکر کے اس خوبصورت اظہاریے کی علمی اور ادبی دنیا میں وہ اہمیت سامنے نہیں آئی جو پشتو شاعری میں انھیں میسر ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اولاً یہ کہ: جب ہم یہ مجموعہ اردو کے ترقی پسند شعرا: فیض، ندیم، ظہیر کاشمیری، مجاز، علی سردار جعفری، ساحر لدھیانوی اور اسی فکر و نظر کے دیگر شعرا کی شاعری کے مقابلے میں رکھ کر دیکھتے ہیں تو یہ مجموعہ کچھ زیادہ قدر و قیمت کا حامل نہیں ٹھہرتا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ اردو مجموعہ اس وقت چھپا، جب ترقی پسندانہ فکر سے وابستہ شعرا اپنی شاعرانہ حیثیت اردو شعر و ادب میں مستحکم کر چکے تھے اور ویسے بھی فیض، ندیم، ظہیر کاشمیری، مجاز، علی سردار جعفری وغیرہم کے نام اتنے بڑے کلیشے ہیں کہ اب انھیں اپنی جگہ سے ہٹا کر یہاں کسی اور نام کو شامل کرنا ایک بہت مشکل کام ہے۔ ثانیاً یہ کہ : انھوں نے جتنی توانائی اور آب و تاب کے ساتھ اپنے خیالات اور نظریات کا اظہار پشتو شعر و ادب میں کیا ہے، اتنی توانائی کے ساتھ وہ اپنے خیالات کو اردو زبان میں بیان نہیں کر پائے۔
ثالثاً یہ کہ: اردو کے ترقی پسند شعرا اور اجمل خٹک کا فکری حوالہ تو مشترک ہے، مگر فنی حوالے سے اردو کے ترقی پسند شعرا ان سے بہت آگے ہیں۔ چوتھی بات یہ کہ: یہ مجموعہ کسی حد تک یا شاید کلی طور پر توجہ سے محروم رہا اور اس کا اس طرح سے نوٹس نہیں لیا گیا، جیسے ان کے افکار کے حوالے سے لیا جانا چاہیے تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کی توجہ سے محرومی کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس مجموعے کی نظمیں فنی اعتبار سے زیادہ توانا نہیں ہیں۔ البتہ اردو کے ترقی پسند شعرا کے مقابلے میں اجمل خٹک ایک خاص امتیاز ضرور رکھتے ہیں کہ یہ مذکورہ شعرا تو محض نظری، فکری اور اپنے علمی رویوں کے اعتبار سے ترقی پسند تحریک کے ساتھ وابستہ ہیں، مگر اجمل خٹک وہ شاعر ہیں، جو نہ صرف نظری اور فکری حوالے سے اس تحریک کے حامی اور پرچارک ہیں، بلکہ ان کی تمام تر زندگی ترقی پسندانہ افکار کی ترویج اور اشاعت میں گزری ہے۔ انھوں نے اس کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انھوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ زندگی کے مختلف رویوں میں آسائشوں کو ترک کیا۔ مال و دولت کی پروا نہیں کی۔ ترقی پسند ادبی تحریک مساوات، انسان دوستی، ترقی پسندانہ رویوں اور زندگی میں مثبت تبدیلیوں کا جو عَلَم لے کر اٹھی تھی وہ دیگر شعرا کے لیے تو شاید ”قال“ ہو گا، لیکن اجمل خٹک کے لیے یہ رویے، مینی فیسٹو اور پیغام ”حال“ کا درجہ رکھتا ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں ان رویوں کے عملی اظہارات کی متنوع صورتیں پیش کیں اور شاید ہی کوئی دوسرا شاعر عملاً اس کی مثال پیش کر سکے۔ عملی اعتبار سے اپنی زند گی اور اپنی زندگی کے رویوں، اپنے معاشرے اور اپنے معاشرے کے رویوں اور اپنی قوم کے فکری رویوں کو راہ راست پر لانے اور ان کے اندر ایک انقلابی سوچ پیدا کرنے اور عملی اعتبار سے اس کے اظہار کا جو رویہ، قرینہ اور سلیقہ اجمل خٹک کو میسر تھا، رہا ہے اور ہے، وہ کسی دوسرے شاعر کو میسر نہیں ہے۔ اس لیے وہ اپنے ترقی پسندانہ، انقلابی اور مزاحمتی رویوں کے اعتبار سے نہایت ہی اہمیت کے حامل شاعر ہیں۔
اگر اجمل خٹک نے یہ نظمیں قیام پاکستان سے قبل کہی ہوتیں تو امکان تھا کہ اردو شاعری کی روایت میں وہ ترقی پسندانہ خیالات اور افکار کے اعتبار سے ترقی پسند شعرا کی صف میں اپنا نام درج کرانے میں کامگار ہو جاتے، لیکن یہ نظمیں ایک ایسے زمانے میں سامنے آئیں جب ترقی پسند تحریک اردو شعر و ادب سے رخصت ہوچکی تھی۔ اس وقت اس نوعیت کی شاعری اور ان تجربات کی وہ اہمیت نہیں ہو سکتی تھی جو پچاس سال پہلے ممکن تھی۔ دوسری بات یہ کہ اجمل خٹک نے ان منظومات کو آزاد نظمیں کہہ کر متعارف کرایا ہے، لیکن جب ہم ان نظموں کا فنی اعتبار سے مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے مجموعی فنی نظام میں آزاد نظمیں نہیں، بلکہ نثری نظمیں ہیں۔ ان کی بعض لائنیں یا مصرعے کہیں کہیں آزاد بھی ہو جاتے ہیں لیکن مجموعی طور پر ہم ان نظموں کو آزاد نظمیں نہیں کہہ سکتے۔یہ صنف اپنے موضوعات، مضامین، مسائل، سوالات، ڈکشن، امیجری، استعارے، تشبیہ اور لفظی نظام ساتھ لے کر آئی تھی۔ اب اس کے ہیئتی نظام میں ردو بدل کی گنجائش نہیں تھی۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جب ایک زمانے میں آزاد نظم اردو شاعری میں متعارف ہوئی، تو اس وقت پابند نظم کہنے والوں کے جو موضوعات تھے، ان سے کلی طور پر انحراف کرتے ہوئے آزاد نظم کہنے والوں نے کچھ ایسے مسائل اور سوالات اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ: پابند نظم ہمارے ان مسائل اور سوالات کے آہنگ کو سمونے سے قاصر ہے۔ لہٰذا ہم اس تنگنائے سے باہر نکل کر ایک ایسے میڈیم کو دریافت کرنا چاہتے ہیں، جس کے دامن میں ہمارے سوالات، مسائل اور افکار اتر کر اپنی معنویت کو اجاگر کر سکیں۔ لہٰذا انھوں نے پابند نظم کے موضوعات اور مضامین سے باہر نکل کر اس زمانے کے فرد اور معاشرے کو جن مسائل کا سامنا تھا، آزاد نظم کے دامن میں ان کو جگہ دی۔ اسی طرح جس وقت نثری نظم کا آغاز ہوا، تو وہ مسائل جو ترقی پسند تحریک اور اس کے شعرا سے متعلق تھے، وہ بہت پیچھے رہ گئے۔ اب فرد اور معاشرے کو نئے موضوعات اور مسائل کا سامنا تھا۔ لہٰذا جب نثری نظم نئے سوالات لے کر نئے فنی ڈھانچے اور پیکر کے ساتھ نمودار ہوئی، تو اب اس میں ان رویوں کو سمونے کی گنجائش نہیں تھی، جو ان سے بہتر صورت میں آزاد نظم، نظم معریٰ اور غزل کے قالب میں بیان ہو رہے تھے یا ہو چکے تھے۔ لہٰذا اس زمانے میں اجمل خٹک کی نظموں کے موضوعات کے لئے نثری نظم کا قالب موزوں معلوم نہیں ہوتا۔
اجمل خٹک کی ان اردو نظموں میں وہی انقلابی اور اشتراکی نوعیت کے خیالات ہمیں ملتے ہیں، جو اردو اور دیگر پاکستانی زبانوں کے معروف ترقی پسند شعرا کے ہاں دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ ایک معاملے میں اجمل خٹک دیگر ترقی پسند لکھنے والوں سے یوں مختلف ہیں کہ انھوں نے اپنی نظموں کا میڈیم تو اردو رکھا، لیکن لفظ سے لے کر اس کے استعمال تک اس کا فکری ماحول یا جس پیرایے میں انھوں نے اس فکر کو منضبط کرنے کی کوشش ہے، وہ سارے کا سارا مقامی اور اُس معاشرہ سے متعلق ہے، جو ان کے فکر کا مرجع اور مخزن ہے اور یہی اجمل خٹک کی اردو شاعری کا ایک خاص پہلو ہے کہ انھوں نے اپنی فکر اور اس کی ترجمانی میں لوکل کلچر کو جس خوبصورت انداز سے سمویا گیا ہے، وہ اردو شعرا کے مابین ایک انفرادیت کی مثال ہے۔
جب ہم اردو زبان کے ترقی پسند شعرا کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی فکر میں ترقی پسندانہ حقیقت نگاری کے رویے، حقیقی زندگی میں عدم مساوات اور زندگی کے معاملات کی حقیقی تصویریں تو موجود ہوتی ہیں، لیکن وہاں پر جو کلچر دکھائی دیتا ہے، وہ کسی مخصوص قوم یا تہذیب کا کلچر نہیں ہے۔ اس میں سرمایہ درانہ اور جاگیردار معاشرے اور اس کے نمائندوں کے خلاف ایک للکار تو ملتی ہے، لیکن ہم اس للکار کی تناظر میں اس معاشرت اور معاشرے کے ان استحصالی قوتوں کو عکس انداز کرنے میں ناکام رہتے ہیں کہ ہمارا شاعر کس معاشرے، ماحول اور قبیلے سے ہم کلام ہے۔ مثلاً بڑے ترقی پسند شاعروں میں ہم فیض، ظہیر کاشمیری اور ساحر لدھیانوی کا نام لیتے ہیں کہ وہ اردو کے شاعر ہیں لیکن وہ پنجاب کے کلچر سے متعلق ہیں۔ پنجاب میں استحصالی کلچر کے نمائندے ملک، سردار اور چوہدری کی صورت میں موجود ہیں، لیکن ہمارے ان تینوں شاعروں کے ہاں تو طبقاتی نظام، طبقاتی کشمکش، ترقی پسندانہ رویے، زندگی کی تلخ حقیقت نگاری، باغیانہ خیالات اور انقلابی زاویہ ہائے نظر پورے آب و تاب کے ساتھ ملتے ہیں، لیکن وہ اس شخص یا استحصالی قوت کو نشان زد نہیں کرتے۔ محض عمومی طور پر ان سے ہم کلام ہوتے ہیں یا ان کی للکار ایک عمومی تاثر پیدا کرتی ہے، جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اجمل خٹک کی اردو شاعری میں، جو فنی اعتبار سے ان شعرا کے مدِ مقابل نہیں ہے، لیکن اپنے کچھ خوبصورت رویوں کی وجہ سے ان سے منفرد ضرور ہے۔ مثلاً وہ جس لہجے میں گفتگو کرتے ہیں یا ان کے لہجے کے اندر جو للکار پوشیدہ ہوتی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر کس معاشرے اور قوم میں رہ کر اورکن لوگوں اور قوتوں سے ہم کلام ہے۔ ان کی للکار عمومی اور معروضی رویوں سے ہم کلام نہیں ہوتی، بلکہ وہ ان موضوعی قوتوں کو نشان زد کرتے ہوئے، انسانی معاشرے کے سامنے لے آتے ہیں۔ وہ براہ راست ”خان“ سے مخاطب ہوتے ہیں جو پشتون معاشرے کی استحصالی قوت ہے:
اور
دھرتی کے محروم انسان
میر ے اپنے قصبے کے غریب
موچی، نائی، جُلاہا، دھوبی اور ترکھان، لوہار
یہ بچارے کسان
جن کی پوری نسلیں،
زندگی اور گھرانے،
خدمت، خواری اور مصیبت
خان کے استحصال کے سنگیں پنجے میں
سینہ لاکھوں زخم، درد، پکار
پر زبان خاموش
اس طرح کی کئی مثالیں جلا وطن کی شاعر ی میں موجود ہیں۔ اس کی وجہ سے پہلی بار ایک مخصوص ڈکشن اپنی مخصوص معنویت اور مفاہیم کے ساتھ اردو میں در آئی ہے، جس کی بدولت اردو کا فنی اور فکری کینوس وسیع ہوا ہے۔ جب ہم اجمل خٹک کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کے معاصر اردو کے دوسرے ترقی پسند شعرا کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ پرانے ڈکشن کو نیا موڈ، مزاج اور معنوی ماحول دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ا س لوکل کلچر سے ان رویوں کے نمائندوں کا تذکرہ نہیں کرتے جن کی وجہ سے اردو اس مخصوص لوکل کلچر سے محروم رہتی ہے، لیکن اجمل خٹک کی شاعری کی وساطت سے اردو کی ادبی دنیا پہلی بار پشتون کلچر اور اس کے ماحول سے آگاہ ہوئی ہے۔ لہٰذا یہ رویہ اور شاعرانہ پہلو اجمل خٹک کی شاعری کا ایک منفرد ذائقہ اور رنگ متعین کرتا ہے:
مارو اس گندے لڑکے کو
خان کے باغ کے پھل کا چور
نہیں نہیں
چچا!
ماموں!
یہ تو میں نے توڑا ہے
اس گھنے درخت سے
جس کو میرے باپ دادا نے برسوں خوں سے سینچا ہے
نہیں نہیں
ماموں!
چچا!
ہاں یہ تو میں لایا تھا
اس خوبصورت باغ سے
جس کو ان چھوٹے ہاتھوں سے میں نے پانی دیا ہے
……..
چپ رہو بکواسی لڑکے
تو بھی تیرا باپ بھی چور
باغ کا مالک، پھل کا مالک، تیرا مالک خان
تیرا باپ دہقان
اجمل کی شاعری کا سب سے متاثر کن پہلو ان کے لہجے کی براہِ راست اپیل ہے۔ وہ اپنے دلی جذبات اور احساسات کو جس خوبصورت پیرایے میں بیان کرتے ہیں، وہ ان کی شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ اور انداز عطا کرتا ہے۔ وہ اپنی بات کو شوگر کوٹ (Sugar Coat) کر کے بیان کرنے کے بجائے براہ راست بیان کرنے پر زور دیتا ہے۔ وہ جہاں دلی جذبات کو براہ راست اظہارئیے میں پابند کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہاں یقینا ان کا لہجہ تلخ ہو جاتا ہے، لیکن اس تلخی کے پس منظر میں موجود ان کے غصے کی اس کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کیوں اس قدر درشت اور کھردرے لب و لہجے کے ساتھ، کس سے اور کیوں ہم کلام ہو رہے ہیں؟ مثلاً ان کی نظم میرے خون کا پہلا قطرہ میں جب وہ انگریزی تہذیب اور حکومت کے نمائندوں سے براہ راست مخاطب ہوتے ہیں اور انھیں کہتے ہیںکہ: میرے وطن سے باہر نکل جاﺅ! تو ان کے لہجے کے اندر جو دکھ کی کیفیت ہے، وہ ایک ایسی تلخی بھر دیتی ہے کہ وہ اپنی گفتگو میں کسی تہذیبی رویے کو در نہیں آنے دیتے اور براہ راست ان کے مظالم اور استحصالی رویوں کو دیکھتے ہوئے جس طرح ان کے دل میں آتی ہے، وہ اس بات اور رویے کو اپنی زبان پر لے آتا ہے۔
جب استحصالی قوتیں اجمل خٹک کے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں اور پشتون معاشرے کے لیے زندگی تلخ ہو جاتی ہے، تو وہ تہذیب اور اس کی زبان اور رویوں کا پاس نہیں کرتا بلکہ جو ان کے دل پر گزرتی ہے، وہ اپنی زبان پر لے آتا ہے۔ وہ انگریز کو ”کتے“ کہہ کر مخاطب کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا:
اس طرف سے نعرہ تھا ”انگریز نکل جاﺅ“
اس طرف سے لاٹھی، گولی، جیل
اس طرف سے آزادی کے دل جلے پروانے
خالی ہاتھ
اس طرف سے گوروں، کالوں، زردوں کی افواج،
سنگینیں، بندوقیں، آرمرڈ کار
ہم،
جنگِ آزادی کے متوالے لڑکوں کا اک چھوٹا سا دستہ
گوپی، بترا، اندر سنگھ
شانتی اور لیلا
آگے آگے میں
پشتو کی سرمستی سے دیوانہ
آزادی کے جذبے سے سرشار
خدائی خدمت گار
گورا چیخے
ہالٹ!
ہم پکاریں
”کُتو نِکل جاﺅ“
گھوڑے پر سوار گورا کچھ زور سے بڑبڑایا
وہ کچھ کالے دوڑے
لاٹھیاں لہرائیں
ہم پر ایسے لپکے جیسے بھوکے جنگلی بھیڑئیے
یا ہمارے خان بابا کے تازی شکاری کتے“
جب ان کے اپنے گھر میں امن نہیں ہوتا، جب ان کے اپنوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہوتی ہے، جب ان کے اپنوں کے جنازے اٹھائے جا رہے ہوتے ہیں، تو پھر ان کے من میں جو کچھ ہوتا ہے وہ ان کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے۔ ان کی زبان ان کے دلی جذبات، احساسات اور کیفیات کی غماز ہے۔ وہ سیدھا سادہ انسان ہے اور لگی لپٹی رکھنے کا بھی قائل نہیں۔ جو ان پر گزرتی ہے، جو رویے ان کا تجربہ بنتے ہیں وہ ان کو اپنی شاعری میں بیان کر دیتے ہیں۔ لہٰذا جتنی سچائی اور صداقتِ احساس کا اظہار ہمیں اجمل خٹک کی شاعری میں ملتا ہے وہ ان کے معاصرین کی شاعری میں ذرا کم دکھائی دیتا ہے۔ بعض اوقات اس حق گوئی اور صداقتِ احساس کی ترجمانی میں ان کے فن پر بھی ضد پڑتی ہے، لیکن وہ فن کی قربانی دے دیتا ہے کیوںکہ ان کے مقابلے میں اپنے جذبات اور احساسات کی عکسی گری کی قربانی انھیں منظور نہیں ہوتی۔
جلا وطن کی شاعری میں ایک نظم ہے میرا فن :
میرے نقاد
میں جذباتی ہوں
میرے اشعار میں للکار ہے
میری نظموں میں
قصیدوں کا کہیں رنگ نہیں
میری غزلیں!
نہ غزالاں کی ادا ہے
نہ حسینوں کا سخن
رگِ گل سے پرِ بلبل نہ کبھی باندھ سکا
میرے اشعار سے بو آتی ہے
خونِ مزدور کی بو
خونِ مظلوم کی بو
اور سرمایہ کے قصاب کی منڈی میں پڑی
زندہ لاشوں کی بو
میرے نقاد!
میرا فن میرا ہے
میرا فن تیرا نہیں، تیرا نہیں
میرا فن میرا ہے
میرے ماحول، مری زیست، مرے دور کا فن
مرے انسان کا فن
اس نظم میں شاعر نے اپنے فن اور فکر کے بعض رویوں کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ وہ نقاد سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے نقاد! میں جذباتی رویوں کا انسان ہوں، جذبات کی کار فرمائی میری زندگی میں روح کی طرح سے ہے۔ میری شعر میرے دلی جذبات سے پھوٹتے ہیں۔ میرے احساسات کی سر زمین میں پھلتے پھولتے ہیں۔ میرے اشعار میں میری للکار اور انقلابی آدرش، میرے نظریات کی عکاس ہے، میری نظمیں قصیدہ نہیں ہیں، میں قصیدہ گو نہیں ہوں، بلکہ میں تو زندگی اور زندگی کے رویوں کا ترجمان ہوں۔ میری غزلیں خوبصورت لوگوں کی اداوﺅں کا اظہاریہ نہیں ہیں، بلکہ میری غزلیں اور اشعار انسان اور انسانی زندگی کے دکھوں کے ترجمان ہیں۔ میرے شعروں سے خونِ مظلوم کی بو آتی ہے۔ میرے اشعار قصاب کی منڈی میں زندہ لاشوں کی مہک سے معطر ہیں۔ وہ ظلم کے خلاف مظلوم کی وہ آواز ہیں، جو زندگی اور اس کے متنوع رویوں کی ترجمانی کا حق ادا کر رہے ہی، کیوںکہ اس نظم میں شاعر نے نہ صرف اپنے فنی رجحانات کی عکس گری کی ہے، بلکہ انھوںنے اپنے فکری رویوں کی جمالیات کو جس انداز سے بیان کیا ہے، یہ بھی ان کی نظموں اور ان کے فکری پس منظر کو سمجھنے کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ جلا وطن کی شاعری میں 42 نظمیں، 3 فردیات، ایک قطعہ اور ایک غزل شامل ہیں۔ غزل پانچ اشعار پر مشتمل ہے اور اپنے خوبصورت ڈکشن، طرزِ احساس اور لفظوں کی دروبست کی بنا پر نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ شاعر نے یہاں بھی اپنے تصورات کو غزل کی زبان میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔اس غزل کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر نے اگرچہ اپنے جذبات، احساسات، نظریات، افکار اور اپنی فکری آدرش کے اظہار کے لئے نظم کی میڈیم کو برتا ہے اگر وہ غزل کے میڈیم کو اختیار کرتے تو وہ اس میں بھی اپنی بات کو بہتر طور پر بیان کرنے پر قادر تھے، لیکن انھوں نے اپنی بات کو جلد بیان کرنے اور اپنے نظریات کو دور تک پہنچانے اور ان کی ترویج و اشاعت کی وجہ سے غزل کا میڈیم استعمال نہیں کیا۔ اگر وہ اردو غزل گوئی میں طبع آزمائی جاری رکھتے تو یقینا وہ غزل کے اچھے شاعر کے روپ میں سامنے آ سکتے تھے۔ اس طرح ان کی شاعری فنی اعتبار سے بھی اہمیت کی حامل ہو جاتی۔ چونکہ غزل اپنے رموز و علائم کی ایک زبان رکھتی ہے اور اس میں خیالات، احساسات اور افکار ڈھل کر ایک خاص قسم کی Codic Language میں پابند ہو جاتے ہیں اور شاعر کے تمام رویوں، احساسات، جذبات، تجربات، جسچر (Gesture)وغیرہ کا ابلاغ قارئین پر منکشف نہیں ہوتا، لیکن جس طرح اجمل خٹک نے اس غزل میں اپنے جسچر (Gesture) کو بیان کیا ہے، شاید غزل ان جسچر کے بیان کرنے میں نا کام رہتی۔ اب چونکہ ان کے غصے اور تلخ رویے میں منہ اور اس کے چہرے پر بنتے بگڑتے رویے ان کی نظموں سے آشکار ہیں۔ شاید جب وہ اپنے تلخ رویوں، مشاہدات اور تجربات کا اظہار غزل کی صورت میں کرتے تو غزل اپنی تہذیب سے ان رویوں کو ملائمت سے مملو کر کے بیان کرتی۔ اس طرح ان کا فکر وفن تو شاید بہتر قرینے میں پابند ہو جاتا، لیکن غزل ان کے لہجے کی کھنک اور ان کے چہرے کے بنتے بگڑتے آثار کو سمیٹنے میں ناکام رہ جاتی۔ ان کی غزل میں ایسے شعر تو موجود ہیں کہ:
چاند سے، نور سے، شبنم سے، صبا سے، گل سے
اپنی امید کے چہروں سے محبت کی ہے
بزمِ جاناں کا تصور بھی سرِ دار رہا
ہم دِوانوں نے اشاروں سے محبت کی ہے
غنچہ¿ زخمِ،جگر، شبنمِ چشمِ نرگِس
عمر بھر ہم نے بہاروں سے محبت کی ہے
زندگی زہر سہی، اہلِ سفر چور سہی
یار لوگوں نے سہاروں سے محبت کی ہے
ان اشعارمیں ان کے خیالات اور نظریات پوری آب و تاب اور توانائی کے ساتھ موجود ہیں، لیکن غزل اجمل خٹک کے چہرے پر بنتے بگڑتے نقوش سمونے سے قاصر رہی ہے۔

Check Also

March-17 sangat front small title

سنگت کے بکھرے موتی ۔۔۔ عابدہ رحمان

فروری 2016 ویمن مارچ آن واشنگٹن کے ٹائٹل کے ساتھ ماہتاک سنگت کھولا تو اداریہ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *