Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » جاگیرداروں کے اوطاق ۔۔۔ صلاح الدین شہبازی

جاگیرداروں کے اوطاق ۔۔۔ صلاح الدین شہبازی

قیام پاکستان کے ساتھ انگریزی استعمارسے تو نجات مل گئی مگر باوجود دو مرتبہ کی آئینی و قانونی کوششوں کے، فیوڈل سامراج یعنی سرداروں، جاگیرداروں اور بڑے زمیندار وڈیروں کے استبدادی پنجے سے آزادی نہیں مل سکی۔ سوال یہ ہے کہ اڑسٹھ سال کا کئی مہیب سانحوں اور کئی شدید مصائب و آلام سے بھرا طویل زمانہ گزر جانے کے بعد بھی مجبور عوام اور مظلوم و لاچار ستر فیصد دیہی آبادی کو حقیقی آزادی اور آزادی کے حقوق عملی طور پر کیوں نہیں مل سکے؟ ۔اس لمبے عرصے میں حق و انصاف کے لئے طرح طرح کی جدوجہد اور بڑے بڑے لانگ مارچ بھی ہوتے رہے مگر (جس طرف بھی) خواہ عدالتیں ہوں یا محکمے، سب، جس طرف بھی نظر جاتی ہے وہیں وہیں رات ہے آج تک!
ذیل میں عوام دوستی اور عوام کے ساتھ سچے رومانس کے ایک مثالی ذکر سے عوام دشمنی اور عوام دوستی میں اُمید ہے فرق واضح ہو جائے گا۔ڈاکٹر علی شریعتی اپنے وطن ایران کی اسیر نسل پر قربان ہوتے ہوئے کہتے ہیں: ’’اس بات کا تمہیں علم ہے کہ میں نے ہرگز اپنے بارے میں نہیں سوچا ہے ۔ میں نے کبھی اپنے فائدے کے لئے قدم نہیں اٹھایا ہے، تم جانتے ہو اور سبھی جانتے ہیں کہ میری زندگی اور میری آرزو اور ساری چاہتیں تمہارے لئے اور تمہاری آزادی اور تمہاری ترقی کے لئے وقف رہی ہیں۔ تم جانتے ہو کہ میں نے خود کو تم پر فدا کیا ہے اور فدا کر رہا ہوں اس لئے کہ میرا ایمان تم ہو، میرا عشق تم ہو، میری اُمید تم ہو اور میرا معن ئحیات تم ہو‘‘۔ اب پاکستان کے مظلوم عوام کا حزنیہ اور المیہ ملاحظہ ہو۔ ’’طاقت کا سرچشمہ عوام‘‘ اور پاکستان بنانے والے عوام کے اوپر قائد اعظم ؒ کی مسلم لیگ کے اندر اکثریتی اور حکمران ٹولہ یہ جاگیردار طبقہ ہی تھا اور آج بھی اسی باجبروت مستکبرین طبقہ ہی کی اکثریت اسمبلیوں میں براجمان ہے۔ حکومتیں فوجی ہوں یا سول یہ ہرجائی طبقہ ہمیشہ ہی سے شریکِ اقتدار چلا آ رہا ہے۔ علاوہ مکر و فریب کے اس استکباری طبقہ کی دو فرعونی خصلتیں قابلِ توجہ ہیں۔ ان وڈیروں کی سماجی اور سیاسی تاریخ اور ان کے تمام رویّوں کے پیشِ نظر یہ کہنا قطعاً کوئی ایسی بے جا بات نہیں کہ یہ طبقہ قانون کی حکمرانی کو اپنے آمرانہ مزاج کے خلاف سمجھتا ہے اور قانون کی ماتحتی میں آنے کو اپنی ہتک سمجھتا ہے۔ بطورِ شہادت اس چھوٹے سے مکالمہ پر ایک نظر غور کی ڈال لیں تو نہ صرف ملکی قانون کو خاطر میں نہ لانے کی اس طبقہ کی ادائے خاص سامنے آ جائے گی۔ بلکہ اس کی جاگیردارانہ جبریت کے شکنجے کی شدّادی گرفت سے آپ کا دل بھی تلملا اٹھے گا۔ سردار فیروز کا بیٹا تیمور قتل کر دیتا ہے تو سردار اپنے کمّی غلامے مصلّی کو ڈیرے پر بلاتا ہے۔ ’’غلامے
جی سائیں
تُو نے کچھ سنا؟ جی سنا تو ہے
اقرار اور گرفتاری دینی ہے
جو حکم سائیں کا!‘‘ یہ جبر و بربریت ہے یا عوام دوستی؟
قانون کی حکمرانی کو اپنے لئے زہر جاننے کے ساتھ یہ مساواتِ انسانی کا بھی ازلی بَیری ہے۔ عوام کی سربلندی سے اس طبقہ کو تکلیف ہوتی ہے۔ وڈیروں کی طبقاتی سرشت میں ہے کہ مساوات کے ایک عالمی مسلمہ امر کو قطعاً قبول نہیں کرنا۔ مساوات کا دل سے حامی تو کجا یہ جباری طبقہ اس کا جبلی اور طبقاتی دشمن ہے۔ اس کی عوام دشمنی کی بنیادی علّت اور اصل وجہ اس کی یہی طبقاتی سرشت ہے۔ پیر، سردار، وڈیرے جو کروڑوں اربوں کی لوٹ مار کرتے ہیں تو یہ بھی عوام دشمنی ہی کا ایک بیّن ثبوت ہے۔
اس طرح کے مظالم اور جاگیردارانہ نظام کی طویل عوام دشمنی کو محسوس کرنے کی بناء پر موقر روزنامہ جنگ میں اپنے منعقدہ ایک فکری و علمی اکنامک سیشن میں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور چیف اکانومسٹ نے ان خیالات کا اظہار کیا تھا کہ ’’مسائل کا واحد حل معاشی انصاف کی فراہمی اور زرعی اصلاحات لانے میں ہے اس سے کئی مسائل خودبخود حل ہو جائیں گے‘‘۔
دوسرا عوام دشمن طبقہ ہے ملاّمولوی حضرات۔۔۔ عوام سے جڑے ہونے کے باوجود مساجد اور مدارس نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع میں وڈیروں، سرداروں کے ڈیروں کے میکانکی شکنجوں کو آج تک نہیں توڑا اور نہ ہی مظلوموں ، لاچاروں ، مزدوروں، کسانوں کو اس آہنی شکنجے سے آزادی دلائی۔ حالانکہ سرکار رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تحریکِ مؤاخات یعنی اموال میں اشتراک و تقسیم کے یمانہ نظام کی بنیاد پر ایک اعلیٰ و اولیٰ معاشرہ قائم فرمایا تھا جس میں معاشی انصاف بھی تھا اور سماجی مساوات بھی۔ معاشی انصاف کے بغیر مساوات کا نعرہ جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ وہاں سب آزاد اور سب سربلند تھے۔ قانون کی نظروں میں مسلم و غیر مسلم سب برابر تھے۔ یہ سوال ہمیں نہ جھنجھوڑتا اور نہ ہی دعوتِ غور و فکر دیتا ہے کہ آج کیا چین، جاپان، یورپ اور امریکہ میں بھی ہماری طرح سرداروں، جاگیرداروں اور بڑے زمیندار وڈیروں کے اوطاقوں، خوانین کے حجروں اور ڈیروں کے فولادی شکنجے موجود ہیں؟ چونکہ مغرب میں بھی ہماری طرح ملّا پیر یعنی پوپ پادری جاگیرداری کے شکنجے کو توڑنے کی بجائے ان کے محافظ تھے۔ اس لئے عوام نے کلیسا اور جاگیرداری کو پہلے پسپا کیا اور پھر عقل ، سائنس، صنعتی ترقی اور سچی جمہوریت کی معراجیں حاصل کیں۔
ذہنی پسماندگی کی وجہ سے یہ شعور عام نہیں ہے کہ یہ صنعتی ترقی اور صنعتی و مالیاتی جنگوں کا زمانہ ہے۔ ہم پس ماندہ اور خوار و زبوں اس لئے ہیں کہ ہم صنعتی ترقی میں دنیا کے ہم قدم نہیں۔ کیونکہ جاگیری کلچر کے شکنجے میں صنعتی ترقی رُکی رہتی ہے، اسی لیے نہ ملیں فیکٹریاں پھیلتی اور نہ روزگار عام ہوتاہے۔ مطلب یہ کہ عزت کی روٹی نہیں ملتی۔ زائد زمینیں تقسیم ہوں، جاگیرداری ختم ہو تو صنعتی ترقی کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ زرعی اصلاحات نافذ ہوں تو معاشی مواخات یعنی معاشی انصاف کا دور دورہ ہوتا ہے۔ ملک ترقی کرتا اور عوام خوش حال ہو جاتے ہیں۔ یہاں تحصیلی و ضلعی کچہریوں سے لے کر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے مظلوموں اور بے کسوں کو انصاف اس لئے نہیں ملتا کیونکہ یہاں سماجی انصاف نہیں ہے۔ سماجی انصاف کا مطلب ہے سب برابر اور سب سربلند ہیں۔ یہاں سماجی انصاف کیوں نہیں ہے؟ کیوں کہ پاکستان جاگیرداری اور زمینداری نظام کے شکنجے میں بند جکڑا پڑا ہے۔ جب زرعی اصلاحات نافذ کی جائیں گی یعنی جب سرداریاں اور بڑے زمیندارے ختم ہوں گے ، حق داروں کو زمینیں ملیں گی تو معاشی انصاف پھیلے گا۔ معاشی انصاف ماں ہے اسی سے سماجی انصاف (یا سماجی مساوات) پیدا ہوتا اور فروغ پاتا ہے۔ جب سماجی انصاف غالب، عام اور زور آور ہو تو تب عدالتوں سے انصاف ملتا ہے۔ سماجی انصاف کے بغیر عدالتی انصاف نہیں ملتا۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ صدیوں کے مظلوموں کی نوید اس اعلامیہ کا پرچم اٹھاتے ہوئے اب کراچی تا خیبر سب زبانوں سے یہی ایک انقلابی بیانیہ بلند ہو کہ ’’زرعی اصلاحات نافذ کی جائیں مسائل خود حل ہو جائیں گے‘‘۔

Check Also

jan-17-front-small-title

شاہ لطیف،صوفی نہیں، یوٹوپیائی فلاسفر ۔۔۔ شاہ محمد مری

اچھے لوگ انہیں سمجھاتے رہے کہ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ کسی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *