Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » حال حوال » جامعہ زکریا ملتان میں منعقدہ ایک روزہ کانفرنس ۔۔۔ رپورٹ: محمد خاور نوازش

جامعہ زکریا ملتان میں منعقدہ ایک روزہ کانفرنس ۔۔۔ رپورٹ: محمد خاور نوازش

’’ترقی پسند فکر اور عصری تناظر‘‘

شعبہ اُردو بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان ملکی و بین الاقوامی سطح پر اپنے اساتذہ اور طالب علموں کی وجہ سے منفرد پہچان رکھتا ہے۔اس کی یہ منفرد پہچان ترقی پسند اور روشن خیال فکر کی ترویج ہے۔پروفیسر افتخار حسین شاہ ، ڈاکٹر اے بی اشرف، ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر عبد الرؤف شیخ اور ڈاکٹر نجیب جمال نے برسوں تک اس شعبے کے طالب علموں میں علم اور ادب سے وابستگی کے ساتھ ساتھ تاریخی شعور اور تجزیاتی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں اپنا گراں قدر حصہ ڈالا۔ آج کل شعبہ اُردو کے اساتذہ ڈاکٹر روبینہ ترین،ڈاکٹر عقیلہ جاوید، ڈاکٹر قاضی عابد ،ڈاکٹر محمد آصف اورجناب حماد رسول اسی مشعل کو تھامے اپنے طالب علموں میں ادبی ذوق اور روشن خیال فکر کی ترویج کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ان علم اور ادب دوست اساتذہ کی ترقی پسند فکر کے ساتھ لگن اور ڈاکٹر انوار احمد ایسے فکر ی راہنما کی تحریک پر گذشتہ دنوں شعبہ اُردو بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس کا موضوع ’ترقی پسند فکر اور عصری تناظر ‘ تھا اور اس میں پورے ملک سے نامور ادیبوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ تین علمی نشستوں پر مشتمل اس ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد20اگست 2015 کو بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے آئی ایم ایس ہال میں کیا گیا۔
افتتاحی سیشن کا آغاز صبح10 بجے ہوا جس کی صدارت وائس چانسلر بہاء الدین زکریا یونیورسٹی جناب ڈاکٹر خواجہ علقمہ نے کی۔ اس سیشن کے مہمانانِ اعزازمیں ہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب کے چیئر مین اور معروف ماہرِ تعلیم و سماجی امور ڈاکٹر نظام دین کے علاوہ جناب اصغر ندیم سید، جناب ڈاکٹر نجیب جمال اور جناب شاہ محمد مری شامل تھے۔ سرائیکی ایریا اسٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر قاضی عابد نے اس سیشن کی نظامت کی۔ اُنھوں نے آغاز میں ہی حاضرین کو بتایا کہ اس سیشن میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کے لیے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جناب ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے ہماری دعوت قبول کی تھی لیکن اچانک کچھ سرکاری مصروفیات کی وجہ سے نہیں آ سکے تاہم ایک مکتوب میں انھو ں نے اس کانفرنس کے حوالے سے یہ لکھا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان کی مجھ سے بہتر نمائندگی یہاں ہو رہی ہے، اُن کا اشارہ یقیناًڈاکٹر شاہ محمد مری کی طرف تھا جو اس کانفرنس میں شرکت کے لیے کوئٹہ سے تشریف لائے تھے۔ پہلی نشست کے آغاز پر اسلام آباد سے آئے ہوئے معروف پنجابی شاعر ، دانشور اور ترقی پسند ادیب جناب احمد سلیم نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے1936 سے اب تک کے سفر پر ملٹی میڈیا پروجیکٹر کے ذریعے پریزنٹیشن دی۔ انھوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے طویل سفر کی سرگرمیوں اور اس پر آنے والے نشیب و فراز پر اس طرح روشنی ڈالی گویا اس کی تاریخ کے تمام اوراق حاضرین پر واضح ہو گئے۔اُن کے بعد ڈین فیکلٹی آف لینگوئجز اینڈ اسلامک اسٹڈیز ڈاکٹر روبینہ ترین کو مدعو کیا گیا جنھوں نے استقبالیہ پیش کیا۔ کانفرنس کے شرکا ء کو باقاعدہ خوش آمدید کہنے کے بعد انھوں نے شعبہ اُردو بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور یہاں کے اُن نامور اساتذہ اور طلبا کا ذکر کیا جو پوری اُردو دنیا میں شعبے کی پہچان ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور بالخصوص پنجاب کی تمام بڑی یونیورسٹیوں میں ہمارے طالب علم تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ عملی زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی اُن کی موجودگی ہمارے لیے خوشی کا باعث ہے۔ ڈاکٹر روبینہ ترین کا کہنا تھا کہ ہمارے شعبے کے تین سینئر اساتذہ کو صدارتی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے جبکہ ہمارے کچھ اساتذہ اور شاگرد پوسٹ ڈاکٹریٹ بھی کر چکے ہیں ۔ یہ سب دراصل شعبہ اُردو کے وہ اعزازت ہیں جن پر ہمیں ناز ہے۔ ڈاکٹر روبینہ ترین نے کانفرنس کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عصری تناظر میں ترقی پسند فکر سے راہنمائی ضرور حاصل ہو سکتی ہے بشرطیکہ اسے نئی چیلنجز کے مطابق ڈھالا جائے۔ انھو ں نے کانفرنس کے انعقاد کے لیے جناب وائس چانسلر کی معاونت اور شعبہ اُردو کے اساتذہ اور طلبہ کی کوششوں اور محنت کو بھی سراہا۔
ڈاکٹر روبینہ ترین کے بعد پاکستان اسٹڈی سنٹر کراچی کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹرسید جعفر احمد کوکلیدی مقالہ پیش کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد نے ترقی پسند فکر اور عصری تناظر کے موضوع پر ایک نہایت عمدہ اور علمی مقالہ پیش کیا جس میں پاکستان ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی عصری تناظرمیں ترقی پسند اور روشن خیال قوتوں کی ذمہ داری کاازسرِ نو تعین کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔اُنھوں نے سرمایہ دارانہ نظام کی موجود شکل اور تیسری دنیا پر اُس کے اثرات واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بطور ادیب ان کے نتائج سے لوگوں کو آگہی دینا ہوگی اور ایک ایسے شعور کو پروان چڑھانا ہے جو سامراج کے بدلتے ہوئے چہرے سے نقاب کشائی کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اپنی بقا کی جنگ لڑنے کو تیار ہو سکے۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد کے مقالے کی کانفرنس کے شرکا ء نے سب سے زیادہ تعریف کی۔
اُن کے بعد معروف ڈرامہ نگار اور دانشور جناب اصغر ندیم سید کو دعوتِ خطاب دی گئی۔انھو ں نے کہا کہ آج سامراج اور سرمایہ دارانہ قوتوں نے میڈیا کو اپنا ہتھیار بنا لیا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انھو ں نے کہا کہ ہمیں تو اتنے بڑے میڈیا کی ضرورت نہیں تھی جو ہمارے یہاں لانچ کر دیا گیا ہے اور اس میڈیا کے بڑے سپانسرز میں حکومتیں پیش پیش ہیں۔آج کے ترقی پسند ادیب کو سرمایہ داری کی جڑیں مضبوط کرنے والے اس نئے اور نسبتاً زیادہ کارگر ہتھیار پر اپنی نظریں جمانا ہوں گی تاکہ وہ سامراج کے اگلے وار سے بچنے کے لیے مقامی ذہن کو تیار کر سکے۔اُن کے بعد جناب ڈاکٹر نظام دین کو اظہارِ خیال کے لیے مدعو کیا گیا جنھوں نے اپنی گفتگو کا آغاز آرٹس مضامین کی اہمیت اُجاگر کرنے سے کیا اور کہا کہ سوشل سائنسز ،�آرٹس اور لٹریچر ہی ایسے ڈسلپنز ہیں جہاں سے دنیوی امور چلانے والے بڑے منتظم اور روشن فکر اذہان جنم لیتے ہیں۔ان مضامین کی اہمیت خالص سائنسی مضامین سے کم نہیں بلکہ کہیں زیادہ ہے۔ ہمارے موجودہ سماج کو رُجعت پسندی سے مقابلے کے لیے فکر ی راہنمائی سماجی علوم اور ادب سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ انھو ں نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب کے زیرِ غور منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کالج ایجوکیشن میں اصلاحات پر کام کیا جا رہا ہے جن میں سب سے اہم میٹرک کے بعد فسٹ ایئر سے فورتھ ایئر تک چار سالہ تعلیم کسی ایک ہی ڈسپلن میں دینے کی تجویز اور کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے لیے سول سروسز اکیڈمی کی طرز پر ٹیچرز اکیڈمی بنانے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ ڈاکٹر نظام دین کے بعد جامعہ زکریا کے وائس چانسلر جناب ڈاکٹر سید خواجہ علقمہ کو اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی۔ انھو ں نے کانفرنس کے موضوع کی تعریف کرتے ہوئے اس کے انعقاد پر شعبہ اُردو بہاء الدین زکریایو نیورسٹی کے اساتذہ اور طالب علموں کو مبارک بعد پیش کی اور کہا کہ ایسے موضوعات پر گفتگو اور مذاکروں کے محرک ہمیشہ سے ڈاکٹر انوار احمد رہے ہیں۔انھوں نے جناب ڈاکٹر انوار احمد کے ساتھ جامعہ زکریا میں گزرے ہوئے وقت کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اُنھیں اپنا فکری راہنما قرار دیا ۔ڈاکٹر خواجہ علقمہ نے کہا کہ ہمارے سیاستدان شاید سوشل سائنسز اور لٹریچر کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ نہیں حالانکہ پوری دنیا میں ان مضامین پرقوموں کی فکری ترقی کی راہیں استوار ہوئی ہیں۔ انھو ں نے سوشل سائنسز کے اُستاد کی حیثیت سے شرکاء کے سامنے اُن نئے سماجی اور معاشی نظریات پر بھی روشنی ڈالی جو فرسٹ ورلڈ کو متاثر کرنے کے بعد اب ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔خواجہ علقمہ صاحب نے کانفرنس میں شرکت کے لیے تشریف لانے والے تمام مہمانوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اس سیشن کے اختتام پرمہمانوں کو چائے پیش کی گئی۔
دوسرے سیشن کا آغاز12 بجے آئی ایم ایس ہال ہی میں ہوا۔ اس سیشن کی صدارت محرکِ کانفرنس جناب ڈاکٹر انوار احمد نے کی جبکہ مہمانا نِ اعزاز میں اسلامیہ یونیورسٹی بہا ول پور سے جناب ڈاکٹر نجیب جمال اور پنجاب یونیورسٹی لاہورسے جناب ڈاکٹر ناصر عباس نیئر تھے۔ نظامت شعبہ اُردو بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان کی چیئرپرسن ڈاکٹر عقیلہ جاوید نے کی اور اپنی گفتگو میں ترقی پسند فکر کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا ۔اُن کا کہنا تھا کہ اب ہمیں اپنے طالب علموں کو آزادی دینی چاہیے کہ ترقی پسند تحریک کے پورے سفر کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور جو کچھ اُنھیں پڑھایا یا بتایا گیا اور جو کچھ اُنھوں نے خود ترقی پسند ادیبوں کی تحریروں سے سمجھا اور سیکھا اُس کی روشنی میں ترقی پسندی کے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نئے زاویے تلاش کریں۔ اس سیشن کا آغاز غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان سے ڈین فیکلٹی آف لینگوئجز ڈاکٹر راشدہ قاضی کے مقالے سے ہوا جنھو ں نے ترقی پسند تحریک کے آغاز اور ارتقا پر روشنی ڈالی۔ اُن کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے شعبہ اُردو کے اُستاد ڈاکٹر لیاقت علی نے اپنے مقالے کی تلخیص پیش کی جس کا بنیادی نکتہ تخلیقی سرگرمیوں میں ترقی پسند فکر کے اظہار کی ضرورت تھا۔ اُن کے بعد انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اُردو کی اُستاد ڈاکٹر حمیرا اشفاق کو اپنا مقالہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی ۔ انھوں نے ترقی پسند تحریک کی بنیادرکھنے والوں میں ایک اہم نام ڈاکٹر رشید جہاں کی تحریروں کی روشنی میں عورت کی زندگی کی مشکلات اورترقی پسند سوچ کے حامل طبقات کی طرف سے اس کی پیش کش کا احاطہ کیا۔اُن کے بعد سرگودھا یونیورسٹی کے شعبہ اُردو کے اُستاد جناب شاہد نواز نے ترقی پسند فکر کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا اورعصری تناظر میں جامعات کے اساتذہ پر یہ ذمہ داری عائد کی کہ وہ روشن خیال اور ترقی پسند فکر کی ترویج میں اپنا کردار ادا کریں۔ اُن کے بعد راقم نے اپنا مقالے کی تلخیص پیش کی اور ترقی پسند نظریے اور کمیونزم کی بلند آہنگی کا ذکر کرتے ہوئے کم و بیش سو برس پرانی اس فکر کو عصری تناظر میں نئی بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت اُجاگر کی۔اُس کے بعد ڈاکٹر ناصر عباس نیئر کو اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی ۔ انھو ں نے مابعد جدیدت اور ترقی پسندی کے افتراقات ڈوھونڈ کر شرکا کے سامنے رکھے اور ان دونوں فکری دھاروں کا موازنہ پیش کرتے ہوئے عالمانہ گفتگو کی جسے جدید تنقید میں دلچسپی رکھنے والے طا لب علموں نے بہت پسند کیا۔اُن کے بعد ڈاکٹر نجیب جمال نے حاضرین سے گفتگو کی اور کہا کہ آج بھی معاشرے میں قدامت پسندی کے وہی رنگ غالب آتے جا رہے ہیں جو ترقی پسند تحریک کے آغاز پر متحدہ ہندوستان کے سماج میں غالب تھے اور ہماری ادبی تاریخ گواہ ہے کہ ترقی پسند فکرنے سماج کی منجمدفضا میں ہلچل پیدا کرنے میں اُس وقت کیا کردار ادا کیا تھا۔ ضرورت یہ سوچنے کی ہے کہ عصری تناظر میں ترقی پسندنظریے میں ایسے کن عناصر کی شمولیت ضروری ہے کہ یہ فکر ایک دفعہ پھر بھرپور انداز میں معاشرتی تبدیلیوں کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہو سکے۔اس سیشن کے اختتام پر ڈاکٹر انوار احمد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کانفرنس کے انعقاد کے بنیادی مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشرتی حالات پر بڑی تفصیلی گفتگو کی اور عصری تناظر میں جامعات کے کردار کی اہمیت اُجاگر کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ روشن خیال تحریکیں ہمیشہ ایک اجتماعی احساس سے جنم لیتی ہیں، ہمارا عصری تناظر کسی روشن خیال تحریک کا تقاضا تو کر رہا ہے لیکن اُس کے لیے جس اجتماعی احساس کی ضرورت ہے اس کے پیدا کرنے میں جامعات کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ ڈاکٹر انوار احمد کی گفتگو کے بعد یہ سیشن اپنے اختتام کو پہنچا اور اس کے فوراً بعد کانفرنس کے تیسرے سیشن کا آغاز ہوگیا۔
تیسرے سیشن کا موضوع ’پاکستان کی دیگر زبانیں اور ترقی پسند فکر‘ تھا جس کی نظامت جناب سجاد نعیم نے کی ۔ اس سیشن کی صدارت جناب احمد سلیم کر رہے تھے جبکہ مہمانانِ اعزاز میں جناب شاہ محمد مری، جناب سلیم مظہر ، جناب حفیظ خان اورجناب عبد اللہ جان عابد شامل تھے۔ اس سیشن کے آغاز پر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ پنجابی کے اُستاد جناب ڈاکٹر نوید شہزاد نے گفتگو کی اور کہا کہ جدید پنجابی شاعری کا اُس طرح سے مطالعہ نہیں کیا گیا جس طرح پنجابی کے کلاسیکل شعراء کا کیا گیا ہے حالانکہ جدید پنجابی نظم روشن خیال اور ترقی پسند فکر کی بہترین ترجمان ہے ۔کسی نظریے کی بہترین نمائندگی مادری زبان میں ہی ممکن ہے ، پنجابی شاعری نے معاشرے کے محروم طبقات کی عمدہ نمائندگی کی ہے ، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ جدید پنجابی شعراء کے کلام کو صحیح معنوں میں سمجھنے کی تحریک پیدا ہو۔اُن کے بعد جناب عبد اللہ جان عابد کو گفتگو کی دعوت دی گئی جنھوں نے پشتو کے کلاسیکی اور جدید شعراء کے کلام سے مختلف حوالے دے کر ترقی پسند نظریۂ فکر کی وضاحت کی ۔اُن کے بعد ڈاکٹر سلیم مظہر نے گفتگو کی اور فارسی ادب بالخصوص کلاسیکی حوالوں کو روشن خیال فکر کا منبع قرار دیا ۔ ڈاکٹر سلیم مظہر کے بعد جناب حفیظ خان کو سرائیکی شعر و ادب میں ترقی پسند فکر کی ترجمانی پر گفتگو کی دعوت دی گئی لیکن انھو ں نے اس موضوع سے ذرا ہٹ کر عالمی منظرنامے کا جائزہ پیش کیا اور کہا کہ اس وقت جب فرسٹ ورلڈ نے اپنی سرزمین کو وار فری زون بنانے کی ٹھان رکھی ہے تو تمام سماجی ، سیاسی ، معاشی نظریات یہاں تک کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی نئی ایجادات کی تجربہ گاہ تیسری دنیا کو سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ وہ حقیقی عصری تناظر ہے جس کو سامنے رکھتے ہوئے ترقی پسند فکر کے مراکز کو اپنی نئی سمت کا تعین کرنا ہوگا۔
اس سیشن کے اختتام پر ڈاکٹر شاہ محمد مری کو دعوتِ خطاب دی گئی جنھوں نے اپنے مخصوص شگفتہ انداز میں کہا کہ میرے ذہن میں دراصل اس سے پہلے کے سیشن میں کرنے کے لیے گفتگو کا ایک خاکہ موجود تھا ، مجھے علم نہیں تھا کہ بلوچی ادب کے حوالے سے مجھے بات کرنا ہوگی بہرکیف میں انتہائی اختصار کے ساتھ اپنی گفتگو مکمل کروں گا ۔ڈاکٹر شاہ محمد مری نے بلوچی ادب میں ترقی پسند فکر کی کارفرمائی پر تو گفتگو نہیں کی تاہم اُن کا ایک جملہ جو پوری گفتگو میں انتہائی اہم تھا وہ یہ تھا کہ’ ’اس کانفرنس میں ترقی پسند فکر کی جس عصری تناظر میں اہمیت پر بہت باتیں کی گئی ہیں، ہمارے لیے بھی عصری تناظر کا مطلب وہی لیکن بلوچستان کی سرحدوں سے باہر‘‘ ۔گویا اُن کا اشارہ کئی برسوں سے بلوچستان کو درپیش اُن حالات کی طرف تھا جن پر پاکستان کے باقی صوبوں کے ادیب، دانشور اور عام باشندوں بہت کم گفتگو کرتے ہیں جبکہ اُن حالات سے آنکھیں بند کرکے بلوچستان کا کوئی ادیب یا دانشور کوئی گفتگو نہیں کر سکتا۔ڈاکٹر شاہ محمد مری کی گفتگو کے اختتام کے ساتھ ہی یہ سیشن بھی ختم ہوا۔
کانفرنس کا چوتھا سیشن بہت مختصر تھا اس لیے تیسرے سیشن کے اختتام کے ساتھ ہی اُس کا آغاز ہو گیا۔ اس سیشن کی نظامت ایک دفعہ پھر ڈاکٹر قاضی عابد نے کی جبکہ صدارت ڈاکٹر روبینہ ترین نے کی ۔اس سیشن میں ڈاکٹرانوار احمد، پروفیسر خالد سعید، ڈاکٹر لیاقت علی ، شاکر حسین شاکر، رضی الدین رضی ، قمر رضا شہزاد اورحماد رسول کا مرتب کردہ اعلامیہ اور سفارشات پیش کی گئیں ۔ انھیں جناب رضی الدین رضی نے پیش کیا۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ شعبہ اُردو بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان کے ز یرِ اہتمام منعقدہ اس کانفرنس کے مقالہ نگار، ادیب، دانشور، ماہرینِ تعلیم ، طالب علم اور دیگر شرکا ء پاکستان کے موجودہ حالات اور بالخصوص دہشت گردی، انتہاپسندی اور معاشی بدحالی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اورعصری تناظر میں خرد افروز، روشن خیال اور ترقی پسند فکری تحریک کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جو رُجعت پسندی کے خاتمے اور پاکستان کے محروم طبقات کی آواز بن سکے۔پاکستان کے امن کو درپیش چیلنجز یقیناًسنگین ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی سطح کی کوششوں کے ساتھ ساتھ مثبت فکری رُجحانات کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اعلامیہ کے بعد مقالہ نگاروں اور منتظمین میں شیلڈز تقسیم کی گئیں ۔ صدرِ محفل ڈاکٹر روبینہ ترین نے تمام مہمانوں کی آمد پر اُن کا شکریہ ادا کیا اورکانفرنس کے منتظمین کو اس کامیاب اور بھرپور علمی اجتماع کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔ آخر میں مہمانوں کو پُر تکلف کھانا پیش کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی یہ ایک روزہ کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی۔

Check Also

jan-17-front-small-title

یونیورسٹی آف بلوچستان

بلوچی ڈیپارٹمنٹ جامعہ بلوچستانا شعبہ بلوچی ہر سالا ادیباں لائف اچیومنٹ ایوارڈ دات ۔ اے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *