Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » تین غنڈے ۔۔۔۔۔ کرشن چندر

تین غنڈے ۔۔۔۔۔ کرشن چندر

اس کا نام عبدالصمد تھا۔ وہ بھنڈی بازار میں رہتا تھا محض اسی لےے بہت سے لوگ اُسے غنڈہ کہتے تھے۔ ہوگا عبدالصمد بھی غنڈہ ، گو اس بے چارے کو زندگی بھر یہ پتہ نہ چلا کہ وہ ایک غنڈہ ہے ۔ بالعموم لوگوں کو اپنی زندگی میں اپنے بارے میں تھوڑا بہت معلوم رہتا ہے۔ مثلاً یہ کہ لوگ انہیں اچھا سمجھتے ہیں یا بُرا۔ وہ شریف ہیں یا بدمعاش ، عورتوں کو اپنی ماں بہن سمجھتے ہیں یا اپنی ہونے والی محبوبہ ، وہ دیانت دار سمجھے جاتے ہیں یا جھوٹے ۔ دروغ گو، فاسدیا امن پسند ، انہیں کچھ نہ کچھ پتہ چلتا رہتا ہے، اسے گولی کیسے لگی یہ تو میں آپ کو بعد میں بتاﺅں گا۔ اس وقت میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ عبدالصمد ایک غنڈہ تھا جو فائن آرٹ اینڈ پرنٹنگ ورکس میں کام کرتا تھا جو وزیر رستوراں کے قریب ایک سرخ اینٹوں والی دو منزلہ عمارت میں واقع ہے اور جس کے سامنے ٹرام کا اڈہ ہے اور جو آج کل جل کر کوئلہ ہوچکا ہے ہندوستانی اور انگریزوں کی دیرینہ رقابت کی وجہ سے ۔ اس لڑائی میں ہندوستانیوں کی ہزارو ں جانوں کا نقصان تو ہوا ہی لیکن بے چارے انگریزوں کے کئی ہزارکارتوس مفت میں پھنک گئے ۔

عبدالصمد اسی فائن آرٹ پریس میں ملازم تھا۔لتھو کے بھاری پتھر اٹھا کے مشین پر جماتا تھا۔ یہ اس کا کام تھا۔ دوسرے مزدور تو مشکل سے ایک پتھر ایک وقت میں اٹھاسکتے تھے لیکن عبدالصمد کے کام کرنے کا اندازیہ تھا کہ پان کی پیک زور سے سامنے نالی میں پھینک کر ایک موٹی سی گالی دے کر وہ بہ یک وقت دو پتھر اٹھالیتا اور انہیں جانِ عزیز کی طرح سینے سے لگائے ہوئے منیجر کی میز کے پاس گزر کر مسکر ا کر ایک آنکھ میچ کر دل ہی دل میں منیجر کو ایک موٹی سی گالی دے کر وہ دونوں پتھر مشینوں پر جمانے کے لےے جاتا ۔ اور ہنس کر مشین مین سے کہتا، لوبیٹا بھیکے اب فلفی جماﺅ۔ مشین چلانے کو وہ فلفی جمانا کہتا تھا۔ دراصل اس کی اپنی زبان تھی جس میں وہ زندگی کے اہم موضوعات پر گفتگو کیا کرتا۔ جب مالک پریس میں آتا تو چپکے چپکے مزدوروں سے کہتا شیر آیاشیر آیادوڑنا۔ جب مالک نہ ہوتا اور منیجر زور سے چلاّنے لگتا ۔ تو کہتا کام کرو۔ کرو کام سُور کی اولاد۔ دیکھتے نہیں ہو گیدڑ کی بیوی رورہی ہے ۔جب تنخواہ کا دن آتا تو کہتا۔ آج بیچارے کا چٹم بجتا ہوگیا۔ یہ چٹم بجتا کس زبان کا لفظ تھا ۔ کہاں سے آیا تھا اس نے کہاں سے سیکھا تھا۔ اس امر کو کوئی نہیں جانتا ۔ یہ عبدالصمد کی زبان تھی وہ اس کا مالک تھا اور اسے جس طرح چاہے استعمال کرتا۔ اسے کون روک سکتا تھا۔ زبان کے سلسلے میں اسے سب سے زیادہ عبور گالیوں پر تھا۔ میں نے ایسا آدمی آج تک نہیں دیکھا کہ جو عبدالصمد سے بہتر گالی دے سکتاہو۔ تیری ماں کے دودھ میں حکم کا یکّا۔ ایسی گالی کوئی شاعر ہی دے سکتا ہے اور گالیوں کے سلسلے میں عبدالصمد ایک شاعر تھا۔ حسن کار تھا۔ فصاحت و بلاغت کا بادشاہ تھا۔ جو گالی دیتا تو اس کے انداز میں ایک ایسی خطابت ہوتی اور زبان و بیان میں وہ روانی ہوتی کہ مجھے ہندوستان کے بہترین سیاست دان یا د آجاتے جو اکثر باتیں زیادہ کرتے ہیں اور کام کم کرتے ہیں۔ لیکن عبدالصمد میں یہ ایک خاص بات تھی کہ وہ باتیں بہت کرتا تھا تو کام بھی بہت اچھا کرتا تھا۔ پریس کے منیجر کو وہ اپنی بدزبانی کی وجہ سے نا پسند تھا۔ لیکن کام اتنا اچھا کرتا تھا کہ وہ اسے پریس سے نکالنا نہ چاہتا تھا ۔ یہ عجیب بات ہے اور ممکن ہے آپ نے بھی اس کا مشاہدہ کیا ہو کہ جتنے غنڈے ہوتے ہیں ۔کام کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ سب سے اچھے مزدور بھی غنڈے ہوتے ہیں۔کس قدر عجیب بات ہے نا!

عبدالصمد ایک اچھا مزدور تھا ۔ اور اگر اس میںبات بنانے،گالی بکنے اور بلا وجہ لوگوں پر ہنسنے کی عادت نہ ہوتی تو وہ ایک اچھا آدمی بھی ہوتا۔ ہاں وہ ہر قت پان کھاتا تھا جس سے اس کے بڑے بڑے دانت اور بھی کریہہ معلوم ہوتے تھے۔ گالی بکنے میں اسے وہ کمال حاصل تھاکہ بڑے بڑے ادیبوں کو عمر بھر کی محنت کے بعد بھی وہ طرز انشاءنصیب نہیں ہوسکتا اور ہنسی، اس کی ہنسی سب سے بڑی تھی۔ پاٹ دار، گونجدار بلند و بالا ہنسی جو پریس کی تاریک عمارت اور خاص کر جس کمرے میں وہ کام کرتا تھا۔ اس کے لےے قطعی طور پر ناموزوں تھی۔ یہ ہنسی یاد دلاتی تھی پہاڑوں کی جہاں صنوبروں کے جنگل کھڑے ہیں۔ وسیع میدانوں کی جہاں میلوں تک گیہوں کے کھیت کھڑے ہیں، تاروں بھری رات کی جب سب سو جاتے ہیں اور رات کی رانی اِس افق سے اُس اُفق تک زلفیں پھیلائے سورج کی کرنوں کا انتظار کرتی ہے ۔ یہ ہنسی جو گویا سمندر کا سینہ چیر کے نکلی تھی اور ساری دھرتی پر پھیلتی جارہی تھی۔ انسان کی ہنسی نہیں کسی دیو کی ہنسی معلوم ہوتی تھی ۔کرخت ، بُری ، گندی ، ابھری ہوئی ، بڑھتی ہوئی ۔یہ پریس کی محدود تاریک چار دیواری کے لےے قطعی نا موزوں تھی۔ اس پر بھی عبدالصمد اکثر ہنستا رہتا تھا۔ گالی بکتا رہتا تھا ۔ اور منیجر کے سامنے لیتھو کے پتھر اٹھائے اکڑتا چلا جاتا تھا۔……..غنڈا!۔

میں نے پہلی بار اسے فائن آرٹ پریس میں دیکھا تو ایک سخت کراہیت اور نفرت کا احساس میرے دل میں پیدا ہوا۔ جے جے ہسپتال کے سٹاف کے لوگ اک ” محفل رقص و سرود“ منعقد کرنا چاہتے تھے۔ اور میں اس کنسرٹ کا پروگرام شائع کرانے کے لےے پریس آیا تھا۔ یہاں میں نے عبدالصمد کو پہلی بار دیکھا۔ آپ بڑے ٹھسّے سے کمر پر ہاتھ رکھے فرما رہے تھے ” وہ لیتھو کا پتھر مجھ سے ٹوٹ گیا۔ منیجر صاحب“۔

” کیسے ٹوٹ گیا“۔

” یہ کیسے بتاﺅں بس ہاتھ سے چھوٹ گیا اور دو ٹکڑے ہوگیا ۔ دیکھےے اس مادر چود پتھر کو آج ہی ٹوٹنا تھا۔ دو سال ہوگئے مجھے اس حرامی پریس میں کام کرتے ہوئے، دیکھےے کبھی ایسی واردات نہیں ہوئی“ یہ کہہ کر آپ نے سرکھجایا اور سرے سے ایک جُوں نکال کر اُسے اپنے ناخنوں کی چکّی میں پیستے ہوئے بولے ” ہت تیری جُوں کے منہ میں سُور کے کباب!“۔

منیجر بولا ۔” سیدھی طرح بات کرو“۔

” سیدھی طرح تو کہہ رہا ہوں۔ جناب منے جر صاحب لیتھو کا پتھر ہم سے ٹوٹ گیا۔معافی چاہےے“۔ یہ کہہ کر ہنسنے لگا ۔ گویا معافی مانگنا اُسے عجیب سا لگ رہا تھا ۔ اس کے دانت اور اس کے مسوڑھے بلکہ اس کا حلق اور تالو تک مجھے نظر آرہا تھا۔ میں ذرا پرے ہٹ گیا کیونکہ اس کے جسم سے ایک عجیب قسم کی بو آتی تھی۔ ہر غنڈے کے جسم سے بو آتی ہے زمین کی بُو، پسینے کی بو اور پیاز کی بو۔ دس تاریخ کو جب اُسے تنخوا ہ ملتی اور وہ منیجر صاحب کی طرف تشکر آمیز نگاہوں سے دیکھتا ایسی نگاہیں جن سے تشکر کے علاوہ حیرت ہوتی اور ایک ایسا جذبہ جیسے وہ نگاہ کہہ رہی ہے ۔ تو منیجر نہیں ہے تو میرا بھائی ہے ہم دونوں انسان ہیں۔ اس جذبے میںبھی کوئی بدبو نہ تھی اس کی مسکراہٹ، غلیظ مسکراہٹ جس میں پریس کا پینٹ اور مشینوں کا آئل گُھلا ہوا تھا اس میں بھی کوئی بدبو نہ تھی لیکن اس کا جسم بدبودار تھا۔ اس کے مسوڑھے غلیظ تھے اس کی باہوں کے مسل پُھولے ہوئے تھے۔ اور وہ گالی بکتا تھا ۔ اور ہر وقت لڑائی کے لےے آمادہ رہتا تھا۔ وہ غنڈا تھا غنڈا ۔ اور جب منیجر نے اسے اس طرح ہنستے ہوئے معافی مانگتے ہوئے دیکھا اور وہ بھی ایک غیر آدمی کے سامنے، تو اس کے دل میں غیظ و غضب کا ایک طوفان امڈ آیا اور اس نے ہاتھ میں لکڑی کا رول لے کر میز پر زور سے مارا۔ عبدالصمد کو بلند آواز میں گالی دے کر کہا : کہ وہ کبھی اس کاقصور معاف نہیں کرے گا لیتھو کا پتھر بہت مہنگا ہے ۔ تمہیں معلوم نہیں ہے۔ بویریا سے آتا ہے جو جرمنی میں واقع ہے تمہیں معلوم نہیں ہے اور آج کل بڑی مشکل سے دستیاب ہوتا ہے کیونکہ جرمنی کو اتحادیوں نے شکست دے دی ہے تمہیں معلوم نہیں ہے آج کل پتھر بڑی مشکل سے ملتے ہیں۔

عبدالصمد نے جواب دیا۔” مجھے سب معلوم ہے پتھر تو ہندوستان میں ہی آتے ہیں کہ ایک پوری فوج پتھر مار مار کے ہندوستان سے باہر نکالی جاسکتی ہے ۔ پتھر تو ملتا ہے منی جر صاحب لیکن روٹی نہیں ملتی۔ گالی کے بغیر بے عزتی کے بغیر، منی جر صاحب اور یہ تو آپ جانتے ہیں کہ گالی دینے میں آپ میرا مقابلہ نہیں کرسکتے اور یہ کہہ کر عبدالصمد نے جو منیجر کی ماں کے دودھ میں حکم کا یکا پھیرنا شروع کیاتو سارے پریس والے اس کے گرد جمع ہوگئے۔منیجر نے بڑی مشکل سے گلو خاصی کرائی عبدالصمد نے کہا ۔” گھر رکھّواپنے پتھر عبدالصمد عبدالصمد ہے اس کا چٹم بشتا نہیں ہوسکتا ۔ پتھر ٹوٹ گیا تو ہم کیا کریں اپنے چٹم چوتڑکاٹ کے رکھ دیں پریس میں ، واہ منی جر صاحب اور اوپر سے گالی دیتے ہو۔ ہم کام نہیں کریں گے کبھی کام نہیں کریں گے اس سالے پریس میں ۔ہم ابھی چلے جاتے ہیں ۔ فوراً اسی وقت چلے جاتے ہیں۔ ” عبدالصمد دیر تک اسی طرح بکتا جھکتا رہا لیکن پریس چھوڑ کے گیا نہیں۔ اس معاملے میں اس کی سیاست انگرےزوں سے ملتی جلتی ہے جو ہمیشہ ہندوستان کو چھوڑ کر جانے کی دھمکی دیتے رہتے ہیں ۔لیکن کم بخت جاتے نہیں۔ خیر وہ خود نہیں گیا ، تو دوسرے روز منیجر نے پریس کے مالک سے کہہ سُن کے عبدالصمد کو وہاں سے نکلوادیا۔ یہ فساد سے دو دن پہلے کا واقعہ ہے۔ میں نے اگلے روز عبدالصمد کو دیکھا کہ سڑکوں پر اور بھنڈی بازار کے مختلف راستوں پر اور دوسرے غنڈوں کے ساتھ مل کر شور و اویلا کرتا تھا اور ہڑتال کرارہا تھا ایک جگہ مسٹر چندر یگر جو مسلمانوں کے بہت بڑے لیڈر ہیں تقریر کررہے تھے ۔ ہمیں اس ہڑتال میں، اس فساد، اس جھگڑے میں کوئی حصہ نہیں لینا چاہےے۔ یہ سب کانگرس کی شرارت ہے۔ تو اس وقت بھی عبدالصمد اور اس کے ساتھی غنڈوں نے شور مچا کر اس امن پسند لیڈر کی ایک نہ چلنے دی اور ” جے ہند“ اور ” ہندوستانی جہازی ہڑتال زندہ باد “کے نعرے لگا لگا کے اسے جلسے سے باہر کردیا اور پھر میںنے سنا کہ ان لوگوں نے ہڑتال کی اور ٹرا میں اور ٹرام کے شیڈ جلا دےے اور ان تما م کاموں میں عبدالصمد بھی شامل تھا ۔ لیکن ان باتوں کا مجھے بعد میں پتہ چلا ۔ چندر یگر کی میٹنگ کے بعد میں نے عبدالصمد کو جے جے ہسپتال میں دیکھا۔گولی اس کی پیٹھ میں کمرکے پاس لگی تھی اور پیٹ پھاڑ کے باہر ہوگئی تھی۔ کمر کے پاس ایک چھوٹا سا سوراخ تھا ۔ جہاں گولی اندر داخل ہوئی تھی ۔ اور دوسری طرف پیٹ میں ایک بہت بڑا زخم تھا جو ہزاروں چھّروں سے پیدا ہوا تھا ۔ یہ کارتوس ڈم ڈم والی گولی والا کارتوس نہ تھا جو گذشتہ غدر میں استعمال کیا گیا تھا۔ یہ ایک نیا کارتوس تھا۔ نیا اور خوفناک جو جسم کے اندر جاکے پھیل جاتا ہے۔اور سینکڑوں چھوٹے چھوٹے زخم پیدا کرسکتا ہے ۔ مارنے کو تو انسا ن کو یوں بھی ایک معمولی سے کارتوس سے مارا جاسکتا ہے لیکن غنڈوں کے لےے اس قسم کا کارتوس ذرا اچھا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ کارتوس سور کے شکار کے لےے استعمال ہوتے ہیں خیر غنڈے تو سﺅر سے بدتر ہوتے ہیں ۔ اچھا ہوا عبدالصمد مر گیا۔

عبدالصمد مر گیا اور اس کی لاش میرے سامنے پڑی تھی۔ عمر چوبیس سال ذات راجپوت۔مذہب مسلمان ،غیر شادی شدہ ،آنکھوں کی چمک مردہ، لبوں کی ہنسی مردہ زندگی بخش گالی مردہ ہر چیز کا گلا گھونٹ دیا گیا تھا اور وہ میرے سامنے ہاتھ پھیلائے ، منہ کھولے مردہ پڑا تھا۔ ایک طعنہ، ایک تاریک مستقبل ایک خاموش گالی اور اس کی ماں اپنی چھاتی دو ہّتڑکوٹ رہی تھی اور بین کررہی تھی اور ہسپتال کے باہر خیمے میں بیٹھے ہوئے سپاہیوںکی طرف اشارہ کرکے کہہ رہی تھی۔ ”میرے بیٹے نے ان ظالموں کا کیا بگاڑا تھا۔ میرا بیٹا کیوں مر گیا کیوں گولی اسے لگی ۔ اس نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔ وہ تو گلی میں بھاگتی ہوئی ایک چھوٹی سی اینگلو انڈین لڑکی کو بچانے کے لےے باہر نکلا تھا اور کسی نے اس کی پیٹھ میں گولی مار دی ۔لڑکی بچ گئی لیکن میرا جوان ۔ ہونہار بیٹا ۔ڈاکٹر!میرا بیٹا اس جہاں میں نہیں ہے وہ کیوں مارا گیا ۔ ڈاکٹر خدا کے لےے مجھے بتاﺅ وہ کیوں مارا گیا؟“۔

” اس لےے کہ وہ ایک غنڈہ تھا میں نے آہستہ سے کہا اور اس کا منہ کپڑے سے ڈھک دیا اور دوسری لاش کی طرف متوجہ ہوگیا“۔

دوسرے غنڈے سے میری ملاقات ایک بنےے کے گھر پر ہوئی۔ سینڈھر سٹ روڈ جسے گنڈا س روڈ کہتے ہیں، بڑے بڑے بنیوں کا مسکن ہے۔ یہیں پدم سی سیٹھ بھی رہتے ہیں۔ پدم سی سیٹھ جے جے ہسپتال کے ڈاکٹروں میں بہت مقبول ہیں کیونکہ آپ سو روپے پر ایک سو بیس روپے سودلیتے ہیں۔ اور سارا معاملہ نہایت خاموشی سے طے کرتے ہیں۔ پدم سی سیٹھ کا چہرہ بچوں کی طرح بھولا نظر آتا ہے مسکراہٹ گھی میں چپڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اور لب و لہجہ میں راشن کے باوجود اتنی شکر گھلی ہوئی ہے کہ چور بازار کا شبہ ہوتا ہے پدم سی سیٹھ میرے بہت اچھے دوستوں میں سے ہیں۔ اس لےے مجھے قرض کی اکثرحاجت رہتی ہے اور جو دوست مجھے روپیہ قرض نہ دے میں ذرا اسے دوست کم بناتا ہوں اور پھر پدم سی سیٹھ کوئی زیادہ سود نہیں لگاتے۔ سو روپے پر صرف ایک سو بیس روپے ۔ اور پھر وہ بھی بغیر ضمانت کے۔ اب بتائیے اس سے اچھا سودا ہندوستا ن سے باہر کہاں ہوسکتا ہے۔ آج بھی جب میں غنڈوں سے بچتا بچاتا سینڈھر سٹ روڈ پر پدم سی سیٹھ کے مکان پر پہنچا تو انہوں نے میری بڑی آﺅ بھگت کی۔ وہ مجھے کبھی نہیں ٹالتے ہمیشہ روپیہ دے دیتے ہیں ۔یہ تو انہیں معلوم ہے کہ میں جے جے ہسپتال میںڈاکٹر ہوں اور مجھے روپیہ کی ضرورت رہتی ہے اور روپیہ مع سودا ادا بھی کردوں گا۔ انہیں میرے عشق کا پورا حال معلوم ہے وہ اس نرس کو بھی جانتے ہیں جو اس قدر خوبصورت اور مہنگی ہے کہ اس کے لےے ایک کنوارے نوجوان ڈاکٹر کو ایک سو بیس روپے سیکڑہ سود دینا پڑتا ہے۔ ہندوستان میں ایک تو عشق بہت مہنگا ہے اور پھر خلاف ِ قانون بھی ہے۔ سماج نے اور سیاست اور حکومت نے محبت کو خلافِ قانون قرار دے رکھا ہے۔ آپ کسی انسان کو قتل کرسکتے ہیں مگر اس سے عشق نہیں کرسکتے ۔اگر آپ کسی لڑکی سے کہنا چاہیں۔ مجھے تم سے عشق ہے تو وہ فوراً جواب دیتی ہے کیوں کیا تیرے گھر میں ماں بہن نہیں ہے ۔گویا اس ملک میں عشق صرف ماں بہن تک محدود ہے ۔اس کے بعد بھی اگر آدمی عشق کرنے کی جرات کرلے تو جوتی کھاتا ہے پٹتا ہے یا گولی کا شکار ہوتا ہے۔ اس لےے کہ ہندوستان محبت کرنے کی نہیں نفرت کرنے کی جگہ ہے ۔یہاں انسان انسان سے محبت نہیں کرتا ہے نفرت کرتا ہے لوگ حکومت سے، حکومت لوگوںسے ،ماں باپ بیٹوں سے ،بیٹے ماں باپ سے نفرت کرتے ہیں ۔گھروں میں بازار میں کارخانوں میں دفتروں میں نفرت کا راج ہے۔ کانگریسی لیگی سوشلسٹ ایک دوسرے کو کاٹنے کو دوڑتے ہیں ۔انہیں جتنی نفرت ایک دوسرے سے ہے اتنی اجنبی حکومت سے نہیں جس کے یہ سب غلام ہیں۔ ہندوستان ایک صحرائے نفرت ہے جس میں کہیں کہیں محبت کے نخلستان نظر آتے ہیں اور یہ نخلستان، نرسوں، دیہاتی لڑکیوں اور فلم سٹاروں اور عدم تشدد کے حامیوں نے اُگائے ہیں۔ چاروں طرف نفرت کی ریت ہے ۔معلوم نہیں کیا وجہ ہے شاید اس ملک کی آب و ہوا یہی ہے ۔بیچارے پدم سی سیٹھ بھی اسی آب و ہوا میں رہتے ہیں۔ اس لےے ہر ایک آدمی سے نفرت کرتے ہیں۔ اگر اس نفرت میں کوئی شامل نہیں ہے تو وہ ان کی چھوٹی بیٹی ۔ شانتا ایک پتلی دوبل نو سال کی گجراتی لڑکی ہے جس کو خدا نے نہ خوبصورتی دی ہے نہ وٹامن، پتلی پتلی ٹانگیں، میلے فراک سے باہر نکلتی ہوئی پتلی پتلی باہیں ، سوکھا سوکھا سامنہ جیسے پیاس کبھی بجھی ہی نہیں، ہر وقت چلاتی رہتی ہے اور منہ میں مٹھائی ٹھونستی رہتی ہے۔ اس قدر پھوہڑ، بد مذاق، بدصورت لڑکی ہے کہ معاذ اللہ۔ دیکھ کے متلی ہوتی ہے۔ مجھے تو ایک تو بچوں سے یونہی نفرت ہے۔ کمبخت جب دیکھو یوں ہی بلا سوچے سمجھے چلاتے رہتے ہیں۔ کبھی کرسی پکڑ کر ہلا رہے ہےں تو کبھی آپ کا کوٹ کھینچ رہے ہیں ۔کبھی تھرمامیٹر پر ہاتھ مارتے ہیں تو کبھی دیوار پھاندنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ایسی بچی جسے ایک پل قرار نہ ہو جس کی آواز بھی تیز اور کرخت ہو۔ اور جس کے لبوں سے ہر وقت جلیبی کی رال بہتی ہو۔ اورجس کا باپ مجھ سے ایک بیس روپے سود لیتا ہو۔ آپ اس لڑکی سے میری محبت اور شفقت کا اندازہ کرسکتے ہیں ۔ خیر تو اس روز جب میں وہاں پہنچا ہوں تو شانتا کمرے میں موجود تھی اور ادھر سے اُدھر اور اس کمرے سے اس کمرے میں اچھل رہی تھی اور چلا رہی تھی اور جلیبیاں کھارہی تھی ۔پدم سی سیٹھ نے اسے ڈانٹا اور کہا ” دوسرے کمرے میں بیٹھ جا۔دیکھتی نہیں ہے ڈاکٹر صاحب تشریف لائے ہیں ، ”تو شانتا بسورتی ہوتی اور دل ہی دل میں مجھے گالیاں دیتی ہوئی اور شکایتی نگاہوں سے مجھے گھورتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔ باپ نے اسے جاتے دیکھ کر پھر کہا۔” اور ہاں دیکھ باہر نہ جانا بیٹا باہر دنگا ہے “ پھر انہوںنے بہی کھولی اور ریشم کی طرح ملائم آواز میں بولے ”آپ کو کتنے روپے چاہئیں ڈاکٹر صاحب “ میں نے کہا ۔” آج تو میں اپنی آخری قسط ادا کرنے آیا ہوں ۔ فی الحال مجھے روپے نہیں چاہئیں۔ کیونکہ نرس سے میری لڑائی ہوگئی ہے اس لےے میرا عشق ختم سمجھےے “ وہ ہنسے ” تو رسید کاٹ دوں“ میں نے کہا ۔” ہاں لائیے میں بھی دستخط کےے دیتا ہوں“ چنانچہ رسید کاٹ دی گئی اور دستخط ہوگئے اور اشٹام واپس مل گیا اور پھر میں سگریٹ اور وہ بیڑی پینے لگے اور ہونے لگیں جہاں بھر کی باتیں ۔ روئی کا بھاﺅ مندا ہے اور سونے چاندی کا دھندا ہے اور سٹاک ایکسچینج گندا ہے اور گلے میں انگریزوں کا پھندا ہے اور ” ہم تو ڈاکٹرصاحب رام آپ کا بھلا کرے بہت بری طرح پھنسے ہیں۔ یہ سٹرلنگ بیلنس ۔ میںنے کہا جی ” ہاں سٹرلنگ بیلنس ہی تک معاملہ رہتا تو غنیمت تھا لیکن سیٹھ صاحب سٹرلنگ بیلنس کی انہوں نے ایک اور شق نکالی ہے اسے Carotid Artery کہتے ہیں “۔” کیراٹڈ آرٹری کیا ہے ؟“۔

”کیراٹڈآرٹری کے ساتھ اینٹی فی بین ہائی پوکا کائی جرمنی سائیڈل لگا کے ساتھ میں اس کو Anti septic بھی کردیا ہے سیٹھ صاحب۔ ” باپ رے“ سیٹھ صاحب چونکے ” تب تو معاملہ بہت ٹیڑھا ہے “ میں نے کہا ۔” جی ہاں انگریزی اخبار میں سب آیا ہے ، آپ نے پڑھا نہیں“۔

سیٹھ صاحب بولے ۔” جی نہیں میں تو جنم بھومی پڑھتا ہوں ۔ یہ تو اچھا ہو آپ نے بتادیا ۔ ایک تو یہ فساد شروع ہے جہازیوں نے ہڑتال کررکھی ہے غنڈہ گردی ہورہی ہے اور اُدھر سے یہ اینٹی سپٹک آپ نے بتادیا ۔میں تو صاحب چور بازارمیں جتنا روپیہ لگارکھا ہے اب نکلواتا ہوں “۔ اتنا کہہ کے سیٹھ صاحب نے کروٹ بدلی تو نیچے گلی میں کارتوس دغنے کی بار بار آواز آئی ۔ بولے دیکھا آپ نے ؟ہڑتال کرنے سے یہ ہوتا ہے۔ یہ غنڈے بدمعاش امیر لوگوں کو لوٹنا چاہتے ہیں کارخانے جلانا چاہتے ہیں ۔ شہر کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ڈاکٹر جی کلجگ آگیا ہے کلجگ دھرم کا بیج نہیں۔ اس دھرتی پر۔

میں نے کہا ۔” آپ بالکل سچ کہتے ہیں“۔

اتنے میں پھر گولی چلنے کی آواز آئی اور گلی میں آہ پکا کی صدا بلند ہوئی اور بچوں کی چیخیں سنائی دیں۔ ہم بھاگے بھاگے کھڑکی کی طرف گئے اور نیچے جھانک کردیکھا تو یکایک سیٹھ نے چیخ ماری اور پھر دھڑا دھڑسیڑھیاں اترنے لگے۔ میں ان کے پیچھے آرہا تھا کوئی خاص بات نہ ہوئی تھی ۔ ہوا یہ تھا کہ گلی کے بچے پولس والوں سے آنکھ مچولی کھےلتے تھے یہ لوگ چھپ کے گلی کے دوسرے کونے میں چلے جاتے اور وہاں سے پولس والوں پر ” جے ہند“ کے نعرے کستے اور ان پر کنکر پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پھینکتے اور جب وہ پولس والے ان کو ڈراتے اور ان کا تعاقب کرتے تو بچے بھاگ کے ہنستے کھیلتے خوشی سے تالیاں بجاتے ہوئے گلی کے دوسرے نکڑ پر جا کھڑے ہوتے اور وہاں بھی اسی طرح پولس والوں سے کھیل کھیلتے۔ بڑا دلچسپ مشغلہ تھا اور یہ بچے دن بھر اسی طرح مشغول رہتے تھے کوئی دوسرا ملک ہوتا تو ان بچوں کی یہ شرارت کھیل سے تعبیر کی جاتی۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ پولس کا سپاہی کسی شریر بچے کے کان کھینچ دیتا۔دیکھ بیٹا آئندہ سے ایسا مت کی جو اور معاملہ وہیں ختم ہوجاتا لیکن یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالہ ہے۔ اس ملک میں محبت نہیں نفرت کا راج ہے ۔ اس لےے پولس والوں نے ملٹری کو مدد کے لےے بلالیا۔ اور سینڈھرسٹ روڈ پر آنکھ مچولی کا وہ دلچسپ کھیل شروع ہوا جو تاریخ میں ہمیشہ یاد گار ہے گا ۔ بچے جب حسبِ معمول چیختے چلاتے کنکر پھینکتے گلی کے نکڑ پر پہنچے تو یہاں گولیوں سے ان کا استقبال کیا گیا۔ اور وہ پھر جب یہاں سے ہٹ کے دوسرے نکڑ پر پہنچے تو وہاں بھی گولیوں سے ان کی آﺅ بھگت کی گئی ۔ شکر کی گولیوں سے نہیں۔ کارتوس کی گولیوں سے۔ جب بچے زخمی اور جاں بلب ہوکے وہاں سے بھاگے اور گلی کے تیسرے ناکے کی طرف چلے تو وہاں بھی آنکھ مچولی کھیلنے والے سپاہی بیٹھے تھے ۔ دھڑا دھڑ گولیاں چلیں اور پھر اس کے بعد یکلخت سناّٹا ہوگیا۔ چاروں طرف خاموشی۔ کھیل ختم ہوگیا تھا ۔ اب جے ہند کہنے والا کوئی نہ تھا۔ سپاہی چلے گئے پھر یکایک لوگ گلی میں گھس آئے اور اپنے زخمی اور مردہ بچوں کو اٹھانے لگے اور مائیں اور بہنیں ، بھائی اور باپ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ پدم سی سیٹھ نے اپنی زخمی شانتا کو اٹھالیا اور ہم دونوں مل کے اسے اوپر کمرے میں لے آئے۔ پدم سی دھاڑیں مار کر رو رہا تھا۔ شانتا ! میں نے تجھ سے کہا تھا باہر نہ جانا، باہر نہ جانا، کبھی نہ جانا۔ وہ طوطے کی طرح رٹ رہا تھا اور ہاتھ ملتا جارہا تھا اور وہ بدصورت گجراتی بچی ” جے ہند“ کہتے ہوئے مر رہی تھی اور اس کے منہ سے لہوا ُبل رہا تھا۔ اس کے منہ سے اس کی بانہوں سے، اس کے سینے سے لہونکل رہا تھا۔ اس کا جسم اپنے لہو کے رنگ میں رنگا گیا۔ سرخ رنگ لال اوڑھنی ماتھے کا سیندور ، وہ نو سال کی بچی آج بیاہی جارہی تھی ۔ ننھی معصوم دلہن ، اس رنگ نے گویا اس کی بدصورتی غائب کردی۔ اس کا چہرہ خوبصورت تھا اس کی باہیں گول اور گداز اور چھاتی ماں کے دودھ سے بھاری، اے بن بیاہی دلہن آج تیری مانگ میں شہیدوں کا لہو ہے تیری بڑی بڑی آنکھوں میں اُجڑے وطن کا سہاگ ہے۔ تیرے ترسے ہو ئے لبوں پر جے ہند کا نغمہ ہے ۔ آج تو نے ملک کو اپنی زندگی کی آخری قسط ادا کردی اور اپنے خون سے رسید لکھ کر دے دی ہے ۔ اے ننھی غنڈہ لڑکی تیری موت آج ہم سب پر بھاری ہے اور میں نہیں جانتا کہ کیا کروں کس طرح دیکھوں کس کو بلاﺅں کس کو یاد کروں کیوں کہ زمین پاﺅں تلے سے نکلی جارہی ہے اور تیرے وطن کے بڑے آدمیوں نے تجھ سے غداری کی ہے اور تیرا لہو انتقام کے لےے پکا ررہا ہے۔

گجراتی لڑکی مر گئی۔ ایک دو سسکیاں ۔ جے ہند کا مدھم ہوتا ہوا نغمہ اور پھر اس کا خون پگھلے ہوئے یاقوت کی طرح فرش پر بکھر گیا۔ مجھے فضا کی خاموشی یاد ہے جیسے ساری کائنات رو رہی ہو۔ مجھے وہ نگا ہ یاد ہے جیسے ہزاروں برچھیاں ایک ساتھ دل میں کبھی جارہی ہوں۔ گجراتی لڑکی مرگئی اور اس کے ساتھ اس کا ہونے ولا شوہر مرگیا۔ اور اس کے خوبصورت بچے مر گئے۔ اور زندگی اور اس کی تخلیق اور اس کی ساری کی ساری خوبصورتی مرگئی۔

کیا ہونا چاہےے کیا کرنا چاہےے۔ یہ سب کچھ میں نہیں جانتا ۔اتنا جانتا ہوں کہ وہ نغمہ اور وہ پکا ر اور وہ آہنگ جس میں اس بچی کا خون گھلا ہوا ہے کبھی نہیں مرسکتا ۔ اتنا جانتا ہوں کہ جب کوئی گیت ،کوئی چیخ، کوئی تبسم یوں کسی کے خون سے رچ جائے تو پھر وہ کبھی نہیں مرتا۔ وہ گلے میں پھندا بن کے رہتا ہے۔ دل میں ناسور بن کے چبھتا ہے اور رُوح میں کانٹا بن کر کھٹکتا ہے اسے غنڈہ کہنا آسان ہے ،ا سے بھول جانا ممکن نہیں ہے۔

تیسرا غنڈہ جو مجھے ملا ، وہ سکھ تھا ۔ وہ اپنی زندگی میں نہیں اپنی موت کے بعد مجھ سے ملا ۔ اس نے ایک شلوار پہن رکھی تھی اور ایک پتلی دھاری دار قمیص اور اس کے چہرے پرگولی کے نشان کے سوا اور کوئی نشان نہ تھا۔ اس کا گندمی چہرہ خاموش تھا ۔ خاموش اور ظفر یاب۔ اور اس کی چھوٹی بھوری داڑھی میں ریشم کی ملائمت تھی۔ اس کے خدوخال حسین تھے اور زمین کی طمانیت لےے ہوئے ۔اس کے چہرے سے مجھے جاٹوں کے وہ گاﺅں یاد آگئے جس میں دھرتی سونا اگلتی ہے جہاں سونے کی مورتیں اپنی سیاہ غزالی آنکھوں میں وحشی محبت کا خمار لےے ہوئے پنگھٹ پر کھڑے ہو کر پردیسیوں کو پانی پلاتی ہیں۔ جہاں نہر کے کنارے لا نبی لا نبی دریائی گھاس ہوتی ہے ۔ اور نہر کے پرے گیہوں کے خوشے سر سراتے ہیں اور خوشو ں سے اُوپر نیلا آسمان ہنستا ہو ا آسمان۔ اور اوپر اور بلند ہوتا جاتا ہے ایک بُھولا ہوا خواب ایک پُراسرار حقیقت، اچانک مسّرت ، یہ سب کچھ اس نوجوان سکھ کے چہرے پر نظر آرہا تھا ۔ اس کی قمیص کی جیب میں ایک نا مکمل خط تھا یہ خط اس نے شاید صبح لکھنا شروع کیا تھا ۔ پھر وہ اسے مکمل نہ کرسکا کیونکہ صبح ہوگئی اور پھر اس کی زندگی کی شام آگئی ۔ اور اس کی آنکھوں کی بینائی اور اس کے ہونٹوں کی گویائی اور اس کے ہاتھوں کی طاقت اس سے چھن گئی ۔غنڈہ مرگیا۔ اس کا مجھے افسوس نہ ہوا۔ افسوس اس خط کے نامکمل ہونے کا ہے یہ خط گورمکھی میں تھا اس کا ترجمہ تو میں نہیں کرسکتا کوئی کسی کی روح کا ترجمہ کیسے کرسکتا ہے۔ اس لہجے کا۔ اس زبان کا ۔ اس طرزِ ادا کا ۔ جو شخصیت ہے ۔ پھر بھی جیسا بُرا بھلا مجھ سے ہوسکا۔ یہاں درج کرتا ہوں۔

” میری ماں جی۔ ست سری اکال۔ واہگورو کی کرپا سے میں یہاں خیریت سے ہوں اور خیریت آپ کی واہگو رو مہاراج کی کرپا سے لکھنا مجھ کو بہت جلدی، اپنے کوا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں ملا ہے اور کوئی کام کاج بھی ہے نہیں۔ شہر بمبئی کے بیچ میں دنگا ہے اور ہندو مسلمان ایک ہے واہگورو کی کرپا سے فکر نہ کرنا۔ تیرا بیٹا جرور نوکری حاصل کرے گا۔ تجھ کو روپے بھیجے گا ۔ اپنی اچھری بہن کی شادی کرے گا ۔ اس بان چودسور کے بچے بنےے کا سود بھی دے گا۔ میری ماں جی بدکلامی پر ہم کو ماپھ کرنا۔

بلال چند بنئے کا نام لیتے ہی تیرے بیٹے کو گُسّہ آجاتا ہے ادھرابھی میں کر پال سنگھ ڈرائیور کی لاری میں سوتا ہوں اور روز صبح اس کی لاری دھوتا ہوں جگجیت سنگھ کو بولنا کہ وہ بہن بنتو کا بیاہ اس بھین یاو ے منوہر سنگھ سے نہ کرے۔ نہیں تو اس کی جان ماردوں گا ۔ جب مجھ کو نوکری ملتی ہے تو ایک دم آکے خود بنتو کو بھگا کے لے جاﺅں گا ۔ میری ماں جی وہ تمہاری بہو۔ اچھی بہو بن کے خدمت کرے گی۔ اور …….. “ اس کے آگے خط کچھ نہیں کہتا ہاں جو لوگ اس سکھ نوجوان کی لاش کو ہسپتال میں لائے تھے وہ کہتے تھے کہ اس نو جوان نے بیری کیڈ پر اپنی جان دی ہے۔ وہ گرانٹ روڈ جلوس کے آگے آگے پگڑی سنبھال جٹا والا گیت گا رہا تھا اور بے فکری سے آگے بڑھ رہا تھا اور جب اسے گولی لگی جب بھی گیت گا رہا تھا ۔ اس کے ہاتھ میں کانگرس اور لیگ دونوں جماعتوں کے جھنڈے تھے ۔ دائیں بائیں انہیں لہراتا ہوا وہ آگے بڑھتا گیا۔ گولیوں کی بارش ہورہی تھی اور وہ اس خون کی بارش میں بڑھا ہوا آگے جارہا تھا ۔ اور جب وہ گولیوں سے چھلنی ہوکر گر گیا تو اس نے کہا یہ میری قمیص اور شلوار کسی حاجت مند کو دے دینا اور مجھ سکھ دھرم انو سار جلا دینا۔ اتنا کہہ کے اس نے جان دے دی۔ اور وہ وہیں ٹرام لائن پر مر گیا۔ اور دونوں جھنڈے اس کے خون سے سُرخ ہوگئے لیگ کا جھنڈا اور کانگرس کا سبز سفید زعفرانی جھنڈا دونوں اس کے خون سے ایسے سُرخ ہوگئے تھے کہ کوئی نہ کہہ سکتا تھا کہ کون سا جھنڈا کس کا ہے اور وہ جو نہ ہندو تھا نہ مسلمان اس نے اپنا لہو دے کر دونوں جھنڈوں کو ایک کردیا تھا۔ وہ جو ایک کسان تھا۔ اجڈ اور اَن پڑھ تھا ۔ غنڈہ!

میں نے اس کی شلواراور قمیص اپنے ہسپتال کے ہریجن دھوبی کو دے دی۔ دھوبی نے وہ شلوار پہن رکھی ہے نیلی قمیص اس کی بیوی پہننا چاہتی ہے اس نے اسے پھر سیا ہے ۔ جوڑاہے دوسرے کپڑے کے ٹکڑے لگائے ہیں اور اب یہ قمیص دھوبی کے گھر کے باہر جنگلے کی سلاخ پر پڑی جھول رہی ہے…….. وہ عجیب قمیص ہے جو پنجاب سے آئی ہے جسے کسی کسان بچے کی ماں نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے سیاہے ، شاعر اور لوگ بڑے بڑے لوگوں کو بڑے بڑے لیڈروں کو سلام کرتے ہیں۔ میں تجھے سلام کہتا ہوں اے غریب مفلوک الحال قمیص، بھولی ہوئی بسری ہوئی گالیاں کھاتی ہوئی قمیص ، میں تجھے ہزار بار سلام کہتا ہوں ۔تو نے اک بھولے جاٹ کے مضبوط سینے پر گولی کھائی ہے تو نے اس سے پیار کیا ہے ۔ اس کا ساتھ دیا ہے ، زندگی میں اور موت میں اور اس وقت جب اس ملک کے بڑے بڑے چاہنے والے اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ تجھ پر ہزاروں سلام ۔ اے میرے وطن کی وسیع غریبی کی طرح پھٹی پرانی قمیص ، تو نے اپنی آغوش میں ایک معصوم کا شتکار کے دل کی دھڑکنیں چھپائی ہیں اور اب تُو ایک ہریجن ماں کے دودھ کی عزت اور اس کے ننھے بیٹے کی جان کی حفاظت کرے گی۔ انہیں بھی اپنی زندگی کی سادہ روی بخش۔ انہیں بھی اپنی دھرتی کا پیاردے ، اپنی روح کا وہ صادق جذبہ کہ جس سے ہم کنار ہوکے ہم سب بیری کیڈ پر آکے مل جائیں ۔اسی طرح ہوا میں لہراتی رہ ۔تو حسن اور سچائی اور نیکی کی تصویر ہے ۔تو اس آنے والے طوفان کی تنویر ہے جب زنجیر یں ٹوٹ جاتی ہیں اور آدمی محبت کرنے لگتے ہیں۔

اس طرح یہ تینوں غنڈے مر گئے لیکن یہ سب کچھ فسادکے دنوںمیںہوا ۔ لیکن اب وہ ہنگامہ ختم ہوچکا ہے، اب چاروں طرف سکون ہے۔ امن و امان ہے غنڈے مر چکے ہیں یا گرفتار کرکے جیلوںمیں ڈال دےے گئے ہیں اور اب شہر میں کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے ۔ہسپتال کے وارڈ زخمیوں اور لاشوں سے پٹے ہوئے ہیں ۔ اب چین ہی چین ہے اب کالی رات ہے خاموشی ہے۔ میں ہسپتال سے تھکا ماندہ آرہا ہوں اور نہادھو کے کھانا کھا کے بستر کے قریب لیمپ روشن کےے دیوان پر بیٹھا ہوں اور اخبار پڑھ رہا ہوں۔ اخبار میں لکھا ہے مسٹر اور مسز پھنسی اور مسٹر بندری گر، اور مسٹر ستاوان اور دوسرے معزز شہری ایک انگریزی بحری جہاز پر مدعو کےے گئے ہیں جو ساحل پر اس لےے لنگر انداز ہوا ہے تاکہ جہازی ہڑتالیوں کی بغاوت کا سدِ باب کرسکے ۔ مسٹر بندری گر برات کے دولہا معلوم ہوتے ہیں۔ مسٹر پھنسی نے ایک ہلکے رنگ کی نیلی قمیص پہن رکھی ہے اور مسز پھنسی کی ساڑھی کا رنگ پگھلے ہوئے یا قوت کی طرح ہے ۔یہاں امن، قانون، ترقی اور دستوری انقلاب کے جام پئے جارہے ہےں ۔ اور میں اخبا ر پھینک دیتا ہوں اور پھر ریک سے ایک کتاب نکال کے پڑھتا ہوں ۔ انسان کی تاریخ از ایچ ۔ جی ۔ ویلز اور میری آنکھوں کے سامنے بیر کیڈنا چنے لگتے ہیں۔ آدمی نے ہزاروں سال پہلے بھی یہ بیری کیڈ بنائے تھے۔ ظلم اور جہالت اور گناہ کو مغلوب کرنے کے لےے بیری کیڈ میری نگاہوں کے آگے ناچ رہے ہےں ۔ بدھ، محمد، مسیح…….. پھر روشنی کی مشعل کا زاویہ تبدیل ہوجاتا ہے چارلس اول کا سر نظر آتا ہے دار پر لٹکتا ہوا ” پیرس میں گلوٹین …….. کمیون …….. آکتوبر میڈرڈ…….. آج بھی بیری کیڈ کھڑے ہورہے ہےں۔

مراکو میں…….. الجیریا میں …….. مصر میں…….. ہندوستان میں…….. انڈوچائنا میں…….. انڈونیشیا میں…….. یہ طوفان ہے طوفان ،اسے کون روکے گا ……..یہ انقلاب ہے انقلاب، اسے کون چھیڑے گا۔ یہ قمیص ہے قمیص…….. آدمی کی قمیص ۔ ہوا میں لہرائی ہوئی ۔ اسے گولیوں سے چھلنی کردو۔ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردو۔ اسے بموں اور ٹینکوں سے اڑادو یہ پھربھی ثابت و سالم ہوجائے گی۔ یہ قمیص مر نہیں سکتی یہ آدمی کی روح ہے!

Check Also

jan-17-front-small-title

کڈک و مشک ۔۔۔۔ گوہر ملک

کڈکا یک روچے وتی دلا گشت اے درستیں زند پہ تنہائی نہ گوزیت،ما س وپتئے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *