Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » تیسری دنیا ۔۔۔ قمرشہباز/ ننگرچنّا

تیسری دنیا ۔۔۔ قمرشہباز/ ننگرچنّا

(۔۔۔تمھارا غم اور میرا غم ایک جیسا ہے ، تم میرے بغیر مکمل ہو نہ ہی میں تمھارے بغیر ۔۔۔)
میں تیسری دنیا میں اپنے کرائے کے تیسرے درجے والے مکان کے نہایت ہی تنگ اور واہیات آنگن میں بیٹھا ہوا تھا، اور تیسری دنیا کے ایک تیسرے درجے کے فلمی اور فیشنی جریدے میں دیاگیا ایک معمہ حل کرنے کی کوشش کررہاتھا۔معمہ مشکل تھا، اور مشکل کشاکی مدد کے بغیرحل ہونے والا نہیں تھا ۔ میں معمہ حل کرکے ایک لاکھ روپے ہاتھ کرنے کے چکر میں تقریباً خبطی ہوچکاتھا۔میں ا سی پاگل پن کے سبب تیسری دنیا کے سیاسی،سماجی،فلمی اور فیشنی جرائد کو غصہ کے مارے بھنبھوڑ رہاتھا۔میں نے تیسرے درجے والے کرائے کے مکان کے اکیلے کمرے سے اپنی بیوی کی آواز سُنی۔اُس نے زوردار آواز میں کہا،” سُنتے ہو۔”
وہ صبح کاپہرتھا،جمعہ کا دن تھا، اور ایک پڑوسی ریڈیو پر (آنگنوں اور عجیبوں پیاروں) کا گیت سن رہا تھا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا،” آنگنوں اور عجیبوں،پیاروں سے زیادہ عجیب یہ معمہ ہے ، جسے میں حل کرنے کی کوشش میں تیسری دنیا سے چوتھی دنیا کی طرف سفر کرنے کی تیاریاں کررہاہوں۔”
اُس نے نہایت ہی ناگوار لہجے میں کہا،” معمہ حل کرتے کرتے کہیں پاگل تو نہیں ہوگئے ۔”
” کچھ یقین کے ساتھ کہہ نہیں سکتا کہ پاگل ہوگیا ہوں کہ سالم دماغ ہوں۔” میں نے کہا،” لیکن یاد رکھنا، بختور! یہ معمہ حل ہونے کے بعد ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے ۔”
” میں کہتی ہوں فوراً اندر آؤ۔” اُس نے کھڑکی سے چہرہ نکال کر سخت لہجے میں کہا،” دودا کے گلے میں کچھ پھنس گیا ہے ۔ وہ بول نہیں سکتا۔”
مجھے اُس چیز پر سخت غصہ آیا، جو اس بے گاہ وقت میں دودا کے حلق میں پھنس گئی تھی۔دودا میرا بیٹا ہے ۔ وہ پانچ برس کا ہے ۔
میں نے کہا،” بختور!میں تیسری دنیا کے ایک جریدے کے ایک معمے کو حل کررہاہوں،یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔”
” تمھارے بیٹے نے بولنا چھوڑدیا ہے ۔” میری بیوی، جو مجھ سے موٹی ہے ، نے گُلوگیر آواز میں کہا،” آ کر اسے دیکھ تو سہی۔ دودا بولتا کیوں نہیں۔”
” تم نے ضرور اسے اچار کھلا کر اس کا ٹرانسمیٹرخراب کردیا ہے ۔” میں نے معمہ پر توجہ دیتے ہوئے کہا،” فی الحال، دودا ایک ہفتے تک بول نہیں پائے گا۔ ہفتہ بھر کے بعداُس کا ٹرانسمیٹرٹھیک ہوگاتو انشاء اللہ تعالیٰ پھر بولنا شروع کردے گا اور ابراہیم دودھ والا کو بے نقط سُنائے گا۔”
” خبردار جو تم نے میرے باپ کا نام لیا۔” میری بیوی ایکدم جذباتی ہوگئی۔ ابراہیم اس کے باپ کا نام ہے ، اور اس کا والد صاحب بھینسوں کا باڑہ چلاتا ہے ، اُس نے کہا،” دودا بے نقط سُنائے گا موٹی محمودہ کو، بابا بچارے کو کیوں سُنائے گا !”
میں محمودہ کا نام سُن کر چونک اُٹھا۔میں تیسری دنیا کا سیاسی، سماجی،فلمی اور فیشنی جریدہ( عجیبوں پیاروں کے بغیر)آنگن میں رکھ کرتیسری دنیا میں کرائے پر لیے گئے تیسرے درجے کے مکان کے تنہا کمرے میں داخل ہوا،جو ہمارے لیے ڈرائنگ روم،ڈائننگ روم،بیڈروم،کچن اور باتھ روم کا بھی کام دیتا ہے ۔
میں نے کمرے میں داخل ہوتے ہی کہا، ”میں نے تمھیں لاکھ مرتبہ کہا ہے کہ دودا کو مرغی مت کھلایا کر،ضرور اس کے گلے میں مرغی کی ہڈی پھنسی ہوگی۔ ایلزبیتھ ٹیلرکو بھی گلے میں مرغی کی ہڈی اٹک گئی تھی۔”
” کیا یہ رانڈ تمھارے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی!” اُس نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا،” یہ محمودہ سے پہلے تھی یا بعد میں ؟”
دودا قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا۔
میں نے حواس باختہ ہوکردودا کی طرف دیکھااور بختور سے کہا،” یہ تو ہنس رہا ہے !”
” ہاں، یہ ہنس رہا ہے ،” بختورنے کہا،” لیکن بول نہیں سکتا۔”
میں نے دودا سے پوچھا،”یار دودا ! تمھارے گلے میں مرغی کی ہڈی تو نہیں پھنس گئی ؟”
بختور نے کہا، ” گذرے بپچیس دنوں سے گھر میں دال پکی ہے ۔مرغی کی ہڈی کہاں سے پھنسے گی !”
دودا پھر ہنسنے لگا،لیکن کچھ عجیب ڈھنگ سے ۔
بختور رونے لگی۔
” تمھارے گلے میں کیا پھنسا ہے ؟ دودا !” میں نے دودا سے پوچھا، ” یار! بولتے کیوں نہیں !”
دودا بڑے عجیب ڈھنگ سے ہنسنے لگا۔
میں نے بختور سے کہا،” میں سمجھتا ہوں کہ دودا کے گلے میں ہاتھی پھنس چکاہے ۔”
” ہاتھی!” بختور کی چیخ نکل گئی۔اُس نے کہا، ” تیسری دنیاکا معمہ حل کرتے کرتے کہیں پاگل تو نہیں ہو گئے !”
” ارے سچ مچ کا ہاتھی نہیں ۔” میں نے کہا،” میں نے دودا کو کل پلاسٹک کا ہاتھی لاکر دیا تھا۔”
بختورنے نیچے جھک کر ہاتھ بڑھایا اور چارپائی کے نیچے سے پلاسٹک کا ہاتھی نکال باہر کیا۔ اُس نے کہا،” یہ لے ، اپنا پلاسٹک کا ہاتھی۔”
معاملہ کی نزاکت اچانک اونچی سطح پر آگئی۔ میں نے دودا سے کہا،” یار دودا ! تم بولتے کیوں نہیں ! صرف ہنستے کیوں ہوں ! اور ہنستے بھی کچھ اس طرح سے ہوکہ جیسے ہماری پھبتی کس رہے ہو !”
بختور نے کہا،” دودا کو فوراً کسی ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ۔”
” آج جمعہ کا دن ہے ۔” میں نے کہا،” جمعہ بازار میں سب کچھ ملتا ہے ، لیکن ڈاکٹر اور قسمت کا حال بتانے والے پروفیسر نہیں ملتے ۔”
بختور نے کہا،”جمعہ کے دن ڈاکٹر خادم حسین دوپہر تک مفت میں مریض دیکھتا ہے اور دوائی بھی دیا کرتا ہے ۔”
” وہ نہ مریضوں کو مفت دیکھتا ہے اور نہ ہی مفت دوائی دیتا ہے ۔” میں نے کہا،” ڈاکٹر خادم حسین بڑا ہی پلستر قسم کا آدمی ہے ، وہ لوگوں سے رقم کے بدلے وعدے لیاکرتا ہے ۔”
” کس قسم کے وعدے ؟”
” کہ جب انتخابات ہوں گے تب ہم اپنا ووٹ خادم حسین کو دیں گے ۔ اور میں اس قسم کا کوئی بھی وعدہ کرنے کو تیار نہیں۔”
” کیوں ؟” بختور نے آنکھیں دکھاتے ہوئے پوچھا،” تم اپنا ووٹ موٹی محمودہ کو دو گے !”
” کون محمودہ ؟ کہاں کی محمودہ ؟” میں نے سر کھجاتے ہوئے کہا،” میں کسی بھی محمودہ کو نہیں جانتا۔”
” اب چھوڑو بھی! اتنے سادہ نہ بنو۔” بختور نے کہا،” وہی موٹی محمودہ جو تمھارے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھا کرتی تھی، اور تم جس کے ساتھ۔۔۔۔”
اِس سے پہلے کہ بختور اپنا جملہ پورا کرتی، دودا قہقہہ مارکر ہنسنے لگا۔
” بچے کے سامنے تو ایسی باتیں مت کر۔” میں نے کہا،” محمودہ انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔ وہ شادی کرنے کے بعدملک کی آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافہ کررہی ہے ، اور اب تک خدا کے فضل سے پندرہ بچے پیدا کرچکی ہے ۔”
” وہ رانڈ انتخابات میں حصہ لے یا نہ لے ، تم تو اپنا ووٹ اس موٹی محمودہ کو ہی دو گے ۔” بختور نے کہا، ” لے جا دودا کو ڈاکٹر خادم حسین کے پاس۔ وہ دل میں قوم کا درد رکھتا ہے ۔”
دودا پھر ہنسنے لگا، لیکن بالکل ایک نئے انداز میں۔میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ۔ میں نے بختور سے کہا،”میں دودا کو ڈاکٹر خادم حسین کے پاس لے جاتا ہوں۔ دودا کی حالت کچھ ٹھیک نظر نہیں آتی۔معاملہ سیریس لگتا ہے ۔”
میں دودا کو گود میں اُٹھا کر ڈاکٹر خادم حسین کے کلینک پہنچا۔ کلینک کے باہر اور اندر مریضوں کا ہجوم تھا۔ ہر مریض زندہ رہنے کی آرزو میں طرح طرح کے وعدے کررہا تھا۔
ڈاکٹر خادم حسین نے مجھے پہچان لیا اور ہاتھ کے اشارے سے ایک کرسی میں بیٹھنے کا کہا۔ میں کرسی میں بیٹھ گیا۔
ڈاکٹر خادم حسین نے پوچھا۔” تمھاری انجمن کا کیا حال ہے ؟”
” انجمن کی شادی ہوگئی ہے ، ڈاکٹر صاحب ! اور وہ اب دو بچوں کی ماں ہے ۔” میں نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا۔” میں نے بھی شادی کرلی ہے ۔۔ابراہیم دودھ والاکی بیٹی سے ۔ یہ میرا بیٹا دودا ہے ۔ اس کے حلق میں کچھ پھنس چکا ہے ، بول نہیں سکتا۔”
ڈاکٹر خادم حسین نے چہرے پر دل آویز مسکراہٹ لاکر کہا،” بھائی ! میں تمھاری دال روٹی زندہ باد انجمن کے متعلق پوچھ رہا ہوں۔”
دودا ہنسنے لگا۔
مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ میں فوراً کہا،”وہ انجمن غیرملکی دالوں کے نرخ معلوم کرنے کے بعد ایکدم کالعدم ہوگئی ہے ۔”
دودا پھر ہنسنے لگا۔
ڈاکٹرخادم حسین نے کہا،” تمھارا بیٹا تو بہت ہنس مکھ ہے ۔”
” ہاں ، بہت ہنسوڑ ہے ،” میں نے کہا، ” لیکن آج کل اس کی بولتی بند ہے ۔”
دودا پھر ہنسنے لگا۔
” یہ بالکل مجھ پر گیا ہے ۔” میں نے کہا،” میں بھی جب پانچ برس کا ہوتاتھا ، تب بہت ہنسا کرتا تھا۔ اب میں ہنستا ہوں تو لوگ روتے ہیں، اور جب روتا ہوں تو لوگ ہنستے ہیں۔”
ڈاکٹر خادم حسین نے میرے بیٹے کا معائنہ کیا۔فولادی چمٹا دودا کے گلے میں اُتارنے کے بعد، اُس نے ٹارچ جلا کر دودا کے گلے کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا۔ کافی دیر کے بعد ڈاکٹر خادم حسین نے کہا،” تمھارے بیٹے کے گلے میں کچھ بھی پھنسا ہوا نہیں ہے ۔”
دودا بلندآواز ہنس پڑا۔ڈاکٹر خادم حسین کو دودا کا ہنسنا پسند نہیں آیا، اُس نے مجھ سے پوچھا،” کیا تمھارا بیٹا میرا مذاق اُڑا رہا ہے !”
میں نے کہا،” میں سمجھتا ہوں، دودا تاریخ کا مذاق اُڑا رہا ہے ۔”
” تم اپنے بیٹے کو لے جاؤ۔” ڈاکٹر خادم حسین نے کہا،”تمھارا بیٹا بالکل ٹھیک ٹھاک ہے ۔”
” میں نے کہا،” میرا بیٹا فقط ٹھاک ہے ! ٹھیک نہیں ہے ۔”
” نیکسٹ!” ڈاکٹر خادم حسین نے اشارے سے دوسرے مریض کو بلایا۔
میں مایوس ہوکر ڈاکٹر خادم حسین کے کلینک سے ،دودا کو گود میں اُٹھا کرباہر نکلا۔ کلینک کے باہرولیداد عرف ولُومل گیا۔ اُس نے مجھ سے حال احوال لیا۔اُس سے کوئی مانگے یا نہ مانگے ، ولیداد عرف ولُو مشورے بہت دیا کرتا ہے ۔اُس نے کہا،”تم اپنے بیٹے کو کسی ماہرِنفسیات کے پاس لے جاؤ۔ مجھے تو تمھارا بیٹا نفسیاتی مریض لگتا ہے ۔”
دودا نے ہاتھ بڑھا کر ولیداد عرف ولُو کی ٹنڈ پر ٹھونگ مارلی۔
” تمھارا بیٹا بدتمیزقسم کا نفسیاتی مریض ہے ۔” ولیداد عرف ولُو نے کہا،”اسے فوراً ماہرِ نفسیات کے پاس لے جاؤ۔”
میں نے کہا،” ماہرِ نفسیات کو دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں۔ نہ دمڑی نہ چمڑی۔”
”کوئی بڑی بات نہیں ہے ،” ولیدا دعرف ولُو نے کہا،” تم اپنے بدتمیز بیٹے کو ماہرِدماغی امراض ڈکٹرعبدالجبار کے پاس لے جاؤ۔ وہ حال ہی میں امریکہ سے ڈاکٹری کر آیا ہے ۔دماغی اور نفسیاتی مریضوں کا انتظار کرتے کرتے بچارہ خود بھی نفسیاتی مریض بن گیا ہے ۔”
میں نے کہا،”لیکن فی تو وصول کرتا ہوگا نا !”
” یہی تو کمال ہے کہ فیس بھی نہیں لیتا۔” ولیداد عرف ولُو نے کہا،” وہ اپناعلم آزمانے کے لیے مریضوں کا منتظر رہتا ہے۔اور فیس لینے کے بجائے مریض کے جاتے وقت اُسے کچھ رُپے جیب خرچہ بھی دے دیتا ہے ۔”
میں دماغی اورنفسیاتی امراض کے ڈاکٹر، ڈاکٹر عبدالجبارکا پتہ لے کردودا کو گود میں اُٹھائے سیدھا ڈاکٹرعبدالجبار کے کلینک پہنچا۔ وہ دیکھنے میں تو بہت خُوبرو قسم کا جوان نظر آرہا تھا، لیکن اُس کے پیٹ نے کام خراب کردیا تھا۔اُس کی توند باہر نکلی ہوئی تھی اور اس کے بال بھی بڑی حد تک جھڑ چکے تھے ۔ میں نے نہایت تفصیل کے ساتھ عبدالجبار کو دودا کے متعلق بتایا ، کہ کس طرح وہ باتیں کرتا،مذاق اُڑاتا ہے ۔بوڑھی کھوسٹ عورتوں کی نقالی کرتاہے۔اپنے نانا ابراہیم دودہ والے کے ساتھ تو اس کی بالکل نہیں بنتی تھی۔ اُس کا ناک میں دم کردیتا تھا ۔لیکن آج صبح سے خاموش ہوگیا ہے ۔اُس کی بولتی بند ہوگئی ہے ، بس سارا زور ہنسنے پر ہے ۔”
دودا ،ڈاکٹر عبدالجبارکے حد سے بڑھے پیٹ کو دیکھ کر ہنسنے لگا۔
عبدالجبارنے کمال مہربانی سے دودا سے پوچھا،” جانی ! کیسے ہو؟”
دودا نے منہ کھول کر انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا۔
عبدالجبارنے مجھ سے پوچھا،” کیا دودا کو بچپن میں کوئی سخت قسم کا ذہنی صدمہ پہنچا تھا۔”
” کس قسم کا صدمہ !” میں نے عبدالجبار سے پوچھا۔
ڈاکٹرعبدالجبارنے کہا،” کوئی ایسا صدمہ، جو دودا کے تحت الشعورسے ہوتا ہوا اُس کے لاشعور میں شامل ہوگیا ہے ۔”
” میں دودا کے تحت الشعور اور لاشعور سے بالکل بے خبر ہوں۔” میں نے کہا،”مجھے فقط اتنا پتہ ہے کہ میرا بیٹا بڑا باشعور ہے ۔”
دودا زور زور سے ہنسنے لگا اور سر کو اثبات میں ہلانے لگا۔
ڈاکٹر عبدالجبار نے پوچھا،”تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ تمھارا بیٹا باشعور ہے ؟”
میں نے کہا،” میرا بیٹا ٹیلی وژن پر سگریٹ کے اشتہارمیں سیٹسفیکشن سے نظرآنے والی لڑکی پر عاشق ہوگیا ہے ۔”
دودا اثبات میں سر ہلانے لگا۔
ڈاکٹرنے پوچھا، ” کیا تمھارا بیٹا اس لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کا خواہش مند ہے ؟”
میں نے کہا،” شاید ہاں۔”
ڈاکٹرنے پوچھا،” ایک سخت اور جابر باپ کی طرح کیا تم اس شادی کے حق میں نہیں ہو!”
” میرے حق میں ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ نہیں ہے ۔” میں نے کہا،” یہ شادی نہیں ہو سکے گی۔”
” کیوں نہیں ہو سکے گی !” ڈاکٹر نے مجھے ڈانٹتے ہوئے پوچھا۔
میں نے دودا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ” دودا اب پانچ برسوں کا ہے ۔ دودا جب شادی کے لائق ہوجائے گا، تب سیٹسفیکشن والی لڑکی بوڑھی کھوسٹ ہوچکی ہوگی، اور جوڑوں کے درد میں مبتلا ہوگی۔۔یا اُس وقت تک مالکِ حقیقی سے مل چکی ہوگی۔”
” اوہ! آئی سی !” ڈاکٹرجبار کچھ کے لیے سوچ میں پڑ گیا۔ کچھ دیر کے بعد اُس نے پوچھا،” یہ جب چھوٹا تھا، تب اس کی سوتیلی کا سلوک اس کے کس قسم کا تھا ؟”
” یہ تو آج بھی چھوٹا ہے ۔فقط پانچ برس کا ہے ۔” میں نے کہا،” اس کی ماں ابراہیم دودھ والے کی بیٹی ہے ۔ ابراہیم دودھ والے کی بیٹی کے مرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دودا کے لیے سوتیلی ماں کہاں سے آئے گی !”
دودا بڑے زور سے ہنسنے لگا اور ہنس ہنس کر دہرا ہوگیا۔
عبدالجبارکی پیشانی پر بل پڑگئے ۔اُس نے غور سے دودا کی طرف دیکھتے ہوئے مجھ سے پوچھا،” یہ کہیں کوئی بونا بوڑھا تو نہیں ، جو ناکام محّبت کے صدمات سہتے سہتے ،تحت الشعور اور لاشعور کی کشمکش میں مبتلا ہوگیاہے ۔”
میں نے جھپٹ کر دودا کو اُٹھا لیا۔ اس سے پہلے کہ میں ڈاکٹرعبدالجبارکے کلینک سے نکل جاؤں، ڈاکٹرعبدالجبار نے میری جیب میں دس روپے کا نوٹ ڈال دیا۔
میں دودا کو گود میں اُٹھائے مایوسی کے عالم میں اِدھراُدھر بھٹکتا رہا۔اور پھراِدھراُدھربھٹکتے ہوئے بے شمار دن گذرگئے ، اور بے اندازراتیں گذرگئیں۔ دودا کے گلے میں بدستورکوئی پراسرارچیز اٹکی رہی اور اُس کا بولنا بند رہا۔اُسے بہ ظاہر کوئی تکلیف نہیں تھی۔ بس اُس نے بولنا بند کردیا تھا۔ دودا کی خاموشی کے باعث میں پریشان رہنے لگا۔
ایک دن میرے پہلوان سسر ابراہیم دودھ والا نے کہا،”ارے بھولے ! کیوں بیمار ہوگئے ہو! کون سی بڑی بات ہے کہ تیرے بیٹے نے بولنا چھوڑدیا ہے ۔”
” بہت بڑی بات ہے ، سائیں بابا !” میں نے کہا،” بولے گا نہیں تو پھر راگ درباری کا بڑا گائک کیسے بنے گا!”
” ارے بھولے !دودا کو مراثی بناؤگے کیا!” میرے سسر نے مجھ پر دھاوا بولتے ہوئے کہا،”بیٹے کو گانے بجانے میں لگاؤگے کیا؟”
” گانا بجانا نہیں ، سائیں بابا !” میں نے کہا،”میں دودا کو فقط راگ درباری میں تربیت دلاؤں گا۔”
میرے سسر کو میری بات سمجھ میں نہیں آئی۔اُس نے کہا،” اے بھولا ! تیرا دماغ تو ٹھکانے پر ہے نا!”
” میرا دماغ ٹھکانے پر ہی ہے ، سائیں بابا!”میں نے کہا،”دودا راگ درباری کے بغیر دنیا میں ترقی نہیں کرسکے گا۔”
” بڑا ہوکرکیا تیر مارے گا؟” میرے سسر نے پوچھا۔
” دودا جب تک بڑا ہوگا تب تک ملک میں شکار کے لیے کچھ نہ بچے گا،” میں نے کہا،” تب دودا خود شکار بننے کے لائق ہوجائے گا،اور شکاری سے جان بچانے کے لیے اُسے راگ درباری گانا پڑے گا۔”
میرا سسر، ابراہیم دودھ والا، دودھ کی گڑوی اُٹھا کر مجھے بدشد بولتا ہوا چلا گیا۔
میں نے دودا کو پیار کرتے ہوئے کہا،” پیارے بیٹے دودا !تیسری دنیا میں زندہ رہنے کے لیے تمھیں راگ درباری کا فنکار ہونا پڑے گا۔یہ لازمی ہے ۔آج کل راگ درباری کے بغیر ہم ایسے انسانوں کا زندہ رہنا ممکن نہیں ہے ۔”
دودا ہنسنے لگا۔
اور پھر دودا کی خاموشی کی خبر اڑوس پڑوس میں پھیل گئی۔ کچھ پھونس بڈھیوں نے ، جن کے منہ میں دانت نہیں تھے ، فتویٰ دیتے ہوئے کہا کہ دودا پر جنّات نے قبضہ کرلیا ہے ۔ اور جنّات نے اُس کے گلے میں کوئی پراسرارچیز پھنسا کراس کا بولنا بند کردیا ہے ۔”
میں محلے کی پھونس بوڑھیوں کے مشورے پردودا کو ایک بنگالی پروفیسر کے پاس لے گیا، جس کا جنّات کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ، ہر دو طرح کا تعلق تھا۔بنگالی پروفیسر دبلاپتلا تھا ، اور اُس کی شکل ایک خشک چھوارے جیسا نظر آرہاتھا۔اُس نے مجھ سے دودا کے متعلق مکمل حال دریافت کرنے کے بعد دودا کو ایک میز پر لٹا دیا، اور سمجھ سے باہر جملے منہ سے نکالنے لگا۔ وہ اچانک کبھی بازو آسمان کی طرف اُٹھا کراور کبھی دودا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کراپنے منہ سے بے معنی جملے نکالنے لگا۔
بنگالی پروفیسر کی حرکات دیکھ کر دودا قہقہے لگانے لگا۔
بنگالی پروفیسرنے جنترمنتر پڑھنے کے بعدکہا،” تمھارے بیٹے پر کوہ کاف کی ایک پری عاشق ہوگئی ہے ۔اُس نے اپنی مٹھی تمھارے بیٹے کے گلے میں ڈال دی ہے ۔”
” بڑی ہی بے وقوف ہے یہ کوہ کاف کی پری!”میں نے کہا،” مجھے چھوڑ کر میرے بیٹے پر عاشق ہوگئی ہے !”
” یہ کوئی مذاق ایسی بات نہیں ،” بنگالی پروفیسر نے کہا،”دراصل کچھ پریاں جنّات سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔”
میں نے کہا،” لیکن دنیا کی کوئی بھی پری ابراہیم دودھ والا کی بیٹی سے زیادہ خطرناک نہیں ہوگی۔”
بنگالی پروفیسر نے پوچھا،” ابراہیم دودھ والا کی بیٹی کون ہے ، اور تمھارا اُس سے کیا تعلق ہے ؟”
” ابراہیم دودھ والا کی بیٹی میری بیوی ہے ۔” میں نے کہا،” وہ میرے بیٹے دودا کی ماں ہے ۔ پروفیسر صاحب ! دنیا کی کوئی بھی پری ابراہیم دودھ والا کی بیٹی کے بیٹے پر قبضہ نہیں کرسکے گی۔”
میں نے بنگالی پروفیسر کے ساتھ مزید مغزماری کرنا بے کار سمجھا۔ دودا کوگود میں اُٹھا کراُس کے دفتر سے نکل گیا۔
پھر کسی نے بتایا کہ شہر میں کوئی درویش آیا ہے ، دلوں کے بھید بتاتا ہے ، اور جو ماضی، حال اور مستقبل پر دسترس رکھنے والا ہے ۔ پہنچا ہوا، اور اللہ لوک آدمی ہے ۔میں دودا کو اُس درویش کے پاس لے گیا۔
درویش کی آنکھیں بند تھیں۔ وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ معتقد اور سوالی سر جھکائے خاموش بیٹھے تھے ۔
کچھ دیر بعددرویش نے آنکھیں کھولیں اور اپنی نگاہیں دودا کے چہرے پر ٹکادیں۔اُ س نے دودا کے چہرے سے نگاہیں ہٹاتے ہوئے اور میری طرف دیکھتے ہوئے درویش نے کہا،” تمھارا بیٹا عمر بھر ایک عورت کی چاہت میں تڑپتا رہے گا، لیکن اُس عورت کے ساتھ اپنی بے پناہ محّبت کا اظہار نہیں کر سکے گا۔”
میں حیرت کے مارے پہلے دودا کی طرف اور پھر درویش کی طرف دیکھا۔
” تمھارا بیٹا کل یُگ میں عشق کا امام ہوگا۔”درویش نے کہا،”وہ تمام عمرفرہاد کی طرح خواباں کے پہاڑ کاٹے گالیکن تعبیروں میں اپنی شیریں کو حاصل نہ کرسکے گا۔”
میں نے دیکھا، دودا بڑے غور کے ساتھ درویش کی باتیں سُن رہا تھا۔
درویش نے کہا،” سات سُر مل کر تمھارے بیٹے کے وجود میں سنگیت کی کائنات کو جنم دیں گے ، لیکن پیار کے گیت اُس کے ہونٹوں پر آنے سے پہلے ہی خاموش ہو جائیں گے ۔”
مجھے بہت دکھ ہوا۔ میں دودا کو گود میں اُٹھا کر پیار کیا
میں نے درویش سے پوچھا،”لیکن اس نے بولنا کیوں بند کردیا ہے ؟”
درویش نے اپنا سر گھٹنوں میں دے دیا۔ کچھ دیر کے بعد جب اُس نے اپنا سر اُٹھایا اور کہا،”تمھارا بیٹا جب جوان ہوگا، تب دنیا کا رنگ ڈھنگ نرالا ہوگا۔ وہ معاشرے کی روش کے مطابق جھوٹ کے قلعے تعمیر نہیں کرسکے گا۔ وہ جھوٹ کو سچ،اندھیرے کوروشنی، اور ظلم کو انصاف نہیں کہہ سکے گا۔”
میں نے حواس باختہ ہو کر دوداکی طرف دیکھا۔
درویش نے بازو بڑھا کردودا کو میری گود سے لے لیا۔اُس نے دودا کو پیار کیا۔دودا خاموشی کے ساتھ درویش کو تکتا رہا۔
درویش نے دودا کو میری گود میں لوٹاتے ہوئے کہا،”تمھارے بیٹے نے پیار کے پیالے سے خاموشی اور صبر کے زہرکا گھونٹ بھر لیا ہے ۔ وہ پوری عمرصبر کی علامت بن کر جیے گا اور خاموش رہے گا۔”

Check Also

jan-17-front-small-title

کڈک و مشک ۔۔۔۔ گوہر ملک

کڈکا یک روچے وتی دلا گشت اے درستیں زند پہ تنہائی نہ گوزیت،ما س وپتئے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *