Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » تو کہیں آس پاس ہے دوست ۔۔۔ ڈاکٹر عطاءاللہ بزنجو

تو کہیں آس پاس ہے دوست ۔۔۔ ڈاکٹر عطاءاللہ بزنجو

محمد رفیق گیتوں کی دنیا کا بادشاہ ایک انمول درخشاں ستارہ، درد بھری آواز، دکھوں کے سمندر کی لہروں کو جلا بخشنے والا، تو عشق ہے تو میں حسن ہوں تو مجھ میں ہے اور میں تم میں، گنگا کی موج اور جمنا کا تارہ، شباب جس کا نشے میںخود ہی چُور چُور تھا، ہوئی شام تو اُن کا خیال آیا ، جو ہمارے لےے گاتا تھا اور ہمیں پکارتا تھا۔ اب ہم اُسے سنتے ہی رہتے ہیں۔ آجا تُجھ کو پکارے میرا پیار ، لیکن اب وہ کہاں ، سنتے سنتے سہانی رات بھی ڈھل چکی، اور لوٹ آئی صدا میری ٹکرا کے ستاروں سے ، لیکن گنگا کی موج اور جمنا کادھارا ستارہ بن گیا، اُس کی روشنی اُس کی مد بھری آواز، مجھے تم یاد کرنا، کیونکہ تم مجھے بھلا نہیں پاﺅ گے، جب بھی میرے سُنو گے سنگ سنگ تم بھی گنگناﺅ گے ۔ جہاں بھی گئے محفل لُوٹ کر آئے…….. بے پناہ خوبیوں کے مالک محمد رفیع کی زندگی کے کئی رنگ ہیں۔ ان فضاﺅں میں، ان ہواﺅں میں محمد رفیع کا رنگ، اُن کا عکس ،اُن کی خوبصورتی ، دلفریب گفتگو اور انداز بیاں کو بیان کرنا میرے لےے انتہائی مشکل کام ہے ۔ اُس کا فن اور اُس کی شخصیت کھلی کتاب کی مانند ہے ۔ اُسے پڑھنا آسان اُس پر لکھنا مشکل ہے۔
امرت سر کوٹلہ سلطا ن سنگھ جہاںمحمد رفیع رہتے تھے۔ اپنے دو دوستوں لڈواورسسُو کے ساتھ نہایت ہی شرارتی مزاج کے تھے ۔ اور گاﺅں میں اس وجہ سے جانے جاتے تھے۔محمد رفیع کے والد کا نام علی محمد تھا۔ بیروزگار تھے، دردرلاہور کی گلیوں میں پھرتے رہے مگر روز گارنہیں ملا۔ یہاں نائی کی دکان کھولی اور روزگار کمانے لگے اس طرح محمد رفیع اپنے دوستوں سے بچھڑ کر نائی کی دکان کی نظر ہوگئے۔ اور محمد رفیع کا پورا خاندان لاہور میں رہنے لگا۔
محمد رفیع نے کلاسیکل سے لے کر قوالی تک ہر قسم کے گانے گائے ہیں۔ محمد رفیع کو گانے کے لےے کسی خاص موسم کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ وہ ہر موسم کو بے ایمان سمجھ کر اپنی آواز کا جادو سماعتوں سے دل کی اتاہ گہرائیوںمیں اُتار دیتے تھے۔ محمد رفیع نیک دل انسان تھے۔ فقیروں جیسی طبیعت رکھتے تھے۔ ان گنت مفت گیت گائے ہیں۔وہ جتنے بڑے گلوکار تھے اُس سے بڑے انسان تھے ۔ خوش مزاج شخص چائے اور میٹھے کے بہت شوقین تھے۔ سُروں کا فنکار کیرم بورڈ اور بیڈمنٹن کھیلتے تھے۔ کرکٹ صرف بیٹنگ کرنے کے لےے کھیلتے تھے۔بچوں کے ساتھ محبت اور میٹھی آواز میں بات کرتے تھے ۔ شعلے فلم اُن کی پسندیدہ فلموں میں شامل تھی۔ دوستو ں کے کہنے پر گاتے تھے۔ جتنے سادہ تھے اُتنے ہی شرمیلے ۔ سُروں کے مالک محمد رفیع گانا گانے کے بعد کبھی کبھاروبھی پڑتے تھے۔ جتنا مضبوط اور اتنا کمزور انسان ہی تو ہوتا ہے ۔ بچپن کا شرارتی محمد رفیع جوانی کی سادگی اور آواز کی دنیا کا بادشاہ اتنا مزاحیہ اور سادہ مزاج،
”میری روح کی حقیقت ہے میر ے آنسوﺅں سے پوچھو
میرا مجلسی تبسم ، میرا ترجمان نہیں“
محمد رفیع نے جگنو فلم کے لےے ( یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے ) گا کر خود کو ایک کامیاب گلوکار کے طور پر منوایا۔ بیجوباورا فلم ” او دنیا کے رکھوالے“ نے محمد رفیع کو اُنچائی پر پہنچایا۔ نوشاد کے دو گیت جو اس فلم کے لےے تھے ۔ واقعی وہ گنگا اور جمنا کا عکس تھا ۔ یہاں سے مینا کماری بھی اداکاراﺅں کی صف میں شامل ہوگئیں۔ نوشاد کی کمپوزیشن ، شکیل بدایونی، ساحر لدحیانوی کی شاعری اور محمد رفیع کی آواز یہ شخص ہندوستان کی پہچان بن بنے۔ اور یہاں سے نوشاد محمد رفیع کے چاہنے والوں میں شامل ہوگئے۔ محمد رفیع اور نوشاد کا ساتھ آخر تک رہا ۔ تبھی تو ممبئی میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے نوشاد کے گھر تک پہنچ گئے ۔ نوشاد کو محمد رفیع بہت پسند تھے۔ اُس سے کئی گانے گوائے ۔ اور اُن سے کہا کہ آپ ایک دن بہت بڑے گلوکار بنیں گے ۔ اور خود نوشاد کا شمار بھی بڑے سنگیت کاروں میں تھا۔ ساحر لدھیانوی ، شکیل بدایونی ، آنند بخشی، کیفی عظمی، سلطا ن جے پوری کی شاعری اور محمد رفیع کی آواز نے ہندوستا ن کی فلمی دنیا کو ایک نئی ڈگر پر ڈال دیا۔ دوسری طرف اوپی نیر بھی ایک بڑے سنگیت کار اُبھر کر سامنے آئے۔ اوپی نیر واحد بڑے سنگیت کار تھے جنہوں نے لتا منگیشکر کو میوزک دےے بغیر نام کمایا۔ اور نوشاد کے سنگیت کو محمد رفیع نے کہاں سے کہاں تک پہنچایا۔ قدم در قدم دونوں آگے بڑھتے گئے۔ اور ہندوستان کے سر کو فخر سے نہ صرف بلند کیا بلکہ انڈین سنگیت اور فلموں کو وہ مقام دیا جنہیں آج بھی سُنا اور دیکھا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں محمد رفیع گانے گاتے نہیں تھے وہ گانا ہوجاتے تھے ، ڈوب جاتے تھے، واقعی وہ چودہویں کے چاند تھے، لا جواب تھے، آفتاب تھے۔
”زلفیں ہیں جیسے کاندھوں پے بادل جھکے ہوئے
آنکھیں ہیں کہ جیسے مئے کے پیالے بھرے ہوئے
مستی ہے پیار کی تو وہ شراب ہو“
محمد رفیع نے درد بھری گلوکاری میں کبھی نشے کا سہارا نہیں لیا۔ محمد رفیع نے زندگی میں کبھی شراب نہیں پی۔ وہ خود ہی نشے میں چُور چُور ہوکر گاتے تھے۔ ریکارڈنگ کے بعد اپنی آواز خود سنتے تھے۔ اور پھر گانے کو ریلیز کرنے کو کہتے تھے۔
نوشاد نے محمد رفیع کے لےے149 گیتوں کی دھنیں بنائی ، اوپی نیر نے 97 ، شنکر جے کشن نے 34۔ مدن موہن سنگیت کار کے ساتھ بھی محمد رفیع نے کام کیا۔ روی جی کے علاوہ ایس ڈی برمن فلم پیاسا سے سامنے آئے، لکشمی کانت اور پیارے لال نے 369 دھنیں تخلیق کیں۔ شکر جے کشن محمد رفیع کے مداہوں میں شامل تھے۔ موہندرکپور کو انڈسٹری میں محمد رفیع لے کر آئے، موہندر کپور محمد رفیع کو اپنا گرو مانتے تھے۔ کشور کمار کے لےے بھی محمد رفیع نے گایا ۔ شمی کپور ایک مرتبہ ریکارڈنگ روم میں گئے اور محمد رفیع سے کہا ایسا کرو کہ لٹکے جھٹکے اداﺅں والی گیت دو۔ اور محمد رفیع نے ایسا ہی کیا ۔ فلم ” تم سا نہیں دیکھا“ کے گیت اور سنگیت شمی کپور کے مزاج کے مطابق ہی کمپوز ہوئے۔ لتا منگیشکر ، کشور کمار،مکیش، مناڈے ، ہیمن کمار، موہندر کپور، آشا بھوسلے، طلعت محمود سب کے ساتھ اچھا اور مخلصانہ رشتہ رہا۔ کندن لال سہگل کے ساتھ جب محمد رفیع نے سلطان پوری کی شاعری کی دو لائنز گائیں تو انہوں نے کہا کہ مجھے سارا جہاں مل گیا۔
” تم جو مل گئے ہو ایسالگتا ہے سارا جہاں مل گیا ہے“
محمد رفیع نے روتے ہوئے ، ہنستے ہوئے ہر رنگ، ہر انگ میں اپنی آواز کا جادو جگایا ہے ۔ ساحر لدھیانوی کا لکھا ہوا گیت ” بابل کی دعائیں لیتی جا “ جو انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کے لےے گایا تھا تو لوگوں کی آنکھیں نم ہوئیں۔ راجندر کمار، جانی واکر، دلیپ کمار، منو ج کمار ، نے کہا ہے محمد رفیع کے گیتوں سے دل سدا مچلا ہے اور مچلتا رہے گا۔ سراج خان کہتے ہیں محمد رفیع نے اپنے گیتوں کا جو ورثہ ہمارے لےے چھوڑا ہے وہ ہمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا۔ ان کی آواز کی باز گشت ساری دنیا میں سنائی دیتی رہے گی۔
” چاہے بنا دو چاہے مٹا دو
مر بھی گئے تو دیںگے دعائیں“
یہ وہ انتہا ہے جو محمد رفیع کے دل کے اندرکی آواز اور دھڑکن تھی۔ اس راز کو آج تک کوئی جان نہ سکا۔ میرے گیت دنیا نے سُنے مگر میرا درد نہ کوئی جان سکا ۔ محمد رفیع کے ساتھ قسمت کا ہاتھ کم اور محنت زیادہ رہی ہے۔ شروع کے دنوں ریکارڈنگ کے بعد وہ ایک مرتبہ اسٹوڈیو کے باہر کھڑے رہے اور باقی سب چلے گئے۔ جب نوشاد وہاں آئے تو پوچھا کیوں اکیلے کھڑے ہو تو پتہ چلا کہ جانے کے لےے محمد رفیع کے پاس کرایا نہیں، پیسے اُسے ریکارڈنگ کے فوراً بعد کہاں ملتے ، یہ سُن کی نوشاد کی آنکھ بھر آئی ۔ یہ خود ار شخص جب زندگی کی بلندیوں کو چھونے لگا تومحفلوں کی جان بن گیا۔ ایک مرتبہ اُسے سٹیج پر بلایا گیا اور فرمائش کی گئی کہ محمد رفیع جو چاہےے ہوا سٹیج پر آکر بتائیں۔ تو محمد رفیع نے صرف اتنا کہا کہ میں میڈیا والوں ، اخبارات، ریڈیو، ٹی وی کے دوستوں سے گزارش کرتا ہوں مجھے اکثریہ رفیع کہہ کر پکارتے ہیں میرا نام محمد رفیع ہے مجھے اسی نام سے پکارا جائے ورنہ وہ اس اسٹیج پر کچھ بھی مانگ سکتے تھے۔ محمد رفیع کے اندر انسانیت کے لےے درد اور احساس تھا۔ وہ اپنے سیکرٹری ظہیر احمد نامی شخص کے ذریعے غریبوں کی مدد کرتے تھے اور کسی کو پتہ لگنے نہیں دیتے۔ وہ الحاج تھے۔ اپنے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے نوشاد کے پاس آئے اور کہا کہ میں امریکہ جا رہا ہوں ایسی کیا چیز لاﺅں جس سے لوگوں کا بھلا ہوسکے ۔ نوشاد نے کہا آپ ڈائیلاسز کی مشین لائیں۔ جس سے لوگوں کا بھلا ہوگا۔ جب امریکہ سے لوٹے تو جدید ڈائیلاسز کی مشین ساتھ لے کر آئے اور ممبئی کے کسی ہسپتال میں دے دی۔    محمد رفیع کو نیشنل ایوارڈ دیا گیا، چھ فلم فیئر ایوارڈز سے بھی نواز ا گیا ، پدما شری ایوارڈ بھی حاصل کیا ۔ آپ ان ایوارڈوں سے بالا تر تھے۔ رنگ و نسل سے بالا تر انسان جس کے اندر گلوکاری کے علاوہ اور بہت ہی اچھائیاں تھیں۔ جسے لوگ ہمیشہ اپنے درمیان دیکھنا چاہتے تھے۔ جے پرکاش کہتے ہیں 30 جولائی تک محمد رفیع ریکارڈنگ کرتے رہے۔ فارغ ہوکر گاڑی میں آکر بیٹھ گئے تھوڑی دیر سوچوں میں گم رہے ۔ پھر خیال آیا چار لائینیں ہیں انہیں بھی ابھی ریکارڈ کروالوں۔ فلم آس پاس کے یہ بول آج بھی ہم جیسے کروڑوں انسانوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ کسے کیا خبر تھی کہ یہ محمد رفیع کی زندگی کے آخری بول ہوں گے۔
” تیرے آنے کی آس ہے دوست
شام پھر کیوں اُداس ہے دوست
مھکی مھکی فضایہ کہتی ہے
تو کہیں آس پاس ہے دوست“
ماہ رمضان کا مہینہ جمعے کا دن31 جولائی1980 کو محمد رفیع انتقال کرگئے۔ اُس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے کہا آج انڈیا کا ایک بازو ٹوٹ گیا ہے۔ کسی نے شمی کپور کو شوٹنگ کے دوران کہا آپ کی آواز چلی گئی۔ بارش ہورہی تھی آسمان آنسو بہا رہا تھا۔ بادل گرج رہے تھے۔ گھٹائیں خاموش ہوگئی تھیں۔ ( گھٹا میں چھپ کے ستائے فنا نہیں ہوتے ) کیا ہندو ، کیا سکھ، کیا مسلمان، کیا عیسائی سبھی باندرہ کی مسجد میں شامل ہونے کے لےے بھاگے جارہے تھے۔ میت کو جنازے کے لےے لے جایا جارہا تھا تب بھی آسمان آنسو بہا رہا تھا۔
” فضا رنگین، ادارنگین، یہ ترسا کے چلے جانا “ محمد رفیع کی طرح ……..” جہاں تو ہے وہاں میں ہوں“ ہوئی شام تو اُن کا خیال آیا…….. تُو تو نہ آئے تیری یاد ستائے…. ساحل پکارتا ہے سمندر چلا گیا ……..دنیا سے موسیقی کا پیمبر چلا گیا …….. لوٹ کر آنا جارہے ہو کہاں…. چل اُڑجا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانا۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *