Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » تماشائے اہلِ قلم ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر انور نسیم

تماشائے اہلِ قلم ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر انور نسیم

بہت سال پہلے اور یوںلگتا ہے کہ یہ باتیں بہت پرانی ہوگئی ہےں کہ ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی کے موضوع پر خوب گفتار ہوا کرتی تھی۔ ایک عام قاری کی حیثیت سے آپ بس یونہی تمام تر بدلتے ہوئے رحجا نات میں دلچسپی لیتے ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق اور انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور ایک ہی عمارت میں باقاعدگی سے اپنے اپنے اجلاس منعقد کیا کرتے تھے۔ یوں لگتا ہے کہ اب ان پرانی تحریکوں کی جگہ نئے رجحانات ، نئے مقاصد اور نئے طریقوں نے لے لی ہے۔ اپنے ادیب اور شاعر دوستوں سے مل کر احساس ہوتاہے کہ فیشن کی طرح اب ادبی ماحول بھی بہت بدل گیا ہے ۔ چند دن پہلے کی بات ہے ایک شاعر دوست بے حد پریشان اپنی تازہ ترین مشکلات و مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بتارہے تھے کہ ” عجیب لوگ ہیں جو برطانیہ میں مشاعرے کا اہتمام کررہے ہےں۔ ہوائی جہاز کا ٹکٹ بھجوایا تو یک طرفہ، اب برطانوی سفارت خانے والے ویزا نہیں دے رہے ، تاخیر ہوتی جارہی ہے ۔ مشاعرے میں شرکت کیسے کروں گا ۔ مجھے اچانک احساس ہوا کہ ان کی شکایت اور پریشانی دونوں بالکل بیجا ہیں۔ اس لےے کہ اپنی آئندہ کتاب کے فلیپ پر جب اپنی سوانح حیات شائع کروائیں گے تو اس میں ایک ” سفر“ کا کالم بھی شریک رہے گا یعنی اس مصنف نے تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنے اور کتابیں لکھنے کے علاوہ دنیا کے کون سے ممالک کا سفر کیا ہے۔ یا یوں کہیے کہ ان کے تعلقات عامہ کے پیش نظر کہاں کہاں ان کے مدح یا قریبی دوست موجود ہیں جو ادبی محافل میں شرکت کے لےے انہیں دعوت دیتے رہتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ جب تک آپ کی پی آر مضبوط نہ ہوگی ، شہرت خاک ہوگی؟ میں نے بہت ہی توجہ اور دلچسپی سے اس نئے رجحان کا تجزیہ کرنے کا ارادہ کیا کہ یہ بات شاید کچھ ایسی نئی بھی نہ ہو، ظاہر ہے کہ ہر اہل قلم کو شہرت کی خواہش تو ضرور ہوتی ہے لیکن اس انہماک اور جذبے کے ساتھ اس کا ” اہتمام “ شاید آج کے دور کا خاصہ ہے ۔ غالب، میر اور عہدِ گذشتہ کے دوسرے معروف شعر ا کی شہرت میں پی آر کا کہاں تک دخل تھا، ایک باقاعدہ ریسرچ کا موضوع ہے۔ میر صاحب تو سفر میں اپنے ہم سفروں سے اس خدشے کی وجہ سے بات بھی نہیں کرتے تھے کہ کہیں ان کی زبان خراب نہ ہوجائے ۔ تو وجہ شہرت ؟ اس زمانے میں تو سفر کی ایسی سہولتیں نہ تھیں کہ شمالی امریکہ اور یورپ میں مشاعرے منعقد ہوں ۔ اب کی بات ہی دوسری ہے ۔ ہمارے ایک بزرگ نے اوٹا وہ میں ایک مشہور شاعر سے بڑی سادگی سے پوچھا کہ آپ کا اگلا شو(Show) اب کس شہر میں ہے ؟۔
دور جدید اور نئے ادب کے اس دور میں سمجھیںکچھ بدل گیا ہے ۔ اب تو صاحب وی سی آر سی کا زمانہ ہے ۔ سامعین تک پہنچنے کا اگر کوئی دوسرا موثر طریقہ سمجھ میں نہ آئے تو کوشش کرکے یار لوگ اپنا ایک آدھ ویڈیو ہی بنواسکتے ہیں۔ کسی ایسے شخص کو ڈھونڈنکالےے جو کمپیئرنگ میں ماہر ہو۔ بس ذرا تعارف میں ہلکی پھلکی موسیقی ہو۔ آپ کی بھرپور تعریف ہو اور سامعین میں چند باذوق اور سوشل احباب جو صحیح وقت پر خوب داد دیتے رہیں تو بہت اچھاImpactہوگا۔ بنیادی اور اہم بات یہ ہے کہ بقول شخصے آپ کو آج کے زمانے میں ایک کامیاب شاعر یا ادیب بننے کے لے Agressive ہونا بہت ضروری ہے ۔ کتاب لکھنے سے بہت پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ اس کا پبلشر کون ہوگا جو Marketing Strategies کا ماہر ہو۔ اور یہ کبھی مت بھولےے کہ بہت ہی کم لوگوں کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ آپ کی کتاب پڑھیں۔ اصل مرحلہ تو ’ رسم اجرائ‘ میں شرکت کا ہے۔ اشاعت سے کئی ماہ پہلے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کیجئے ۔ اپنی پوری پبلک ریلیشنز کی مشینری کو مکمل طور پر سرگرم عمل ہونے کی ہدایت دیجئے اور پتہ لگائیے کہ موجودہ حکومت ( مرکزی ہو تو بہت بہتر ورنہ صوبائی سے کام چل جائے گا) کے اہم ترین وزراءمیں سے کون کس دن فارغ ہے۔ دو یا تین نہیں بلکہ پورے ” پانچ ستاروں “والے ہوٹل کا سب سے بڑا ہال قبل از قبل بُک۔
باقی تفصیلات تو خیر سبھی کو معلوم ہیں۔ صدارت کے لےے مرکزی وزیر اور مقالے پڑھنے والے لوگ ایسے ہوں جو ان سب طریقوں سے خوب واقف ہوں اور مصروف اتنے کہ بمشکل کتاب کا ٹائٹل دیکھ لیں اور چند سطریں دیباچے کی پڑھ لیں۔ باقی سب کچھ آپ ان ماہرین فن پر چھو ڑ دیجئے ۔ وہ مقالے لکھنے کا فن خوب جانتے ہیں۔ اخبارات، رسائل ، ٹی وی ، ریڈیو جہاں تک بھی رسائی ممکن ہو سب کو مدعو کیجئے ۔ عام طور پر تھوڑی بہت محنت کرکے ایک معتبر مہمانوں کی فہرست تیار کرلیں یا کہیں نہ کہیں سے ایسی فہرست حاصل کرلیں۔
رسم اجراءاگر کامیاب ہوئی اور Press Coverage کا بندوبست ہوگیا تو بس آپ کی کتاب ہِٹ ۔ جس حد تک ممکن ہوسکے یہ رسم نہ صرف ملک کے مختلف شہروں میں منعقد ہونی چاہےے بلکہ جہاں جہاں تک آپ کی رسائی ہے دوسرے ممالک میں بھی تقریب کا بندوبست کرنے کے لےے ہر ممکن کوشش لازم ہے۔
آج کی دنیاکے تقاضے ، اس دور کی اقدار، انسای رشتے سب کچھ بڑی تیزی سے بدل رہا ہے۔ مجھ جیسے قدامت پسند اور پرانی وضع کے لوگ یہ سب کچھ دیکھتے او رمحوِ حیرت ہوں…….. کی تصویر بنے ہوئے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک بڑا ہی دلچسپ تماشہ دیکھنے کا بھی موقع ملتا ہے ۔ تماشائے اہلِ قلم دیکھتے ہیں اور اس دور میں فقیروں کا بھیس بدلنے کی ضرورت نہیں۔ خوب سوٹ پہن کر ادبی محافل میں شرکت کیجئے۔
مجھے یہ علم نہیں کہ کسی نقاد نے نہایت سنجیدگی سے شاعرانہ عظمت اور شہرت کے اس Component یعنی پی آر کا باقاعدہ تجزیہ کیا ہے یا نہیں لیکن میری ذاتی دلچسپی یہ ہے کہ اساتذہ کی زندگی اور شاعری کا بغور مطالعہ کرکے یہ دیکھیں کہ اس زمانے میں کیا صورت تھی؟ یہ موضوع آئندہ کے لےے اٹھا رکھتے ہیں۔
آج کل تو کچھ ایسے ہی لگتا ہے جیسے بہت سال پہلے اپنے بیٹوں سے کہتے تھے کہ میرا بیٹا جوان ہو کر ڈاکٹر بنے گا ، خدمت ِ خلق کرے گا اور بیمار لوگوں کا علاج کرے گا اور اس خدمت کے عوض تھوڑی بہت فیس بھی چلتی رہے گی اور اگر آج والد بزرگوار کو شہرت کی بھی خواہش ہو تو کرکٹ کے کھلاڑی ، ٹی وی کے فنکار کے علاوہ ادیب یا شاعر ہوجانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں لیکن واضح رہے کہ پی آر کے بغیر کچھ حاصل نہ ہو گا۔ وہ ” معجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود“ والے دن گئے۔
کئی سالوں بعد میں سہی اب ادب برائے ادب ، اور ادب برائے زندگی کے علاوہ ایک تیسرا مکتبِ فکر تو سامنے آیا ،” ادب برائے شہرت “۔
قارئین کرام سے مود بانہ التماس ہے کہ اس نئی تحریک اور طرز کا ر کو ہر ممکن طریقے سے فروغ دیں اور حسب توفیق و استطاعت اس رحجان کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی دینے کی ممکنہ کوشش کریں۔
اس وقت شدت سے ضرورت اس بات کی ہے کہ پی آر کی اس مہم کو کامیاب اور موثر بنانے کے لےے ایک مکمل ا ور جامع گائیڈ اور خلاصہ تیار کیا جائے۔ ایک چھوٹی سی مثال یوں ہے کہ اکثر بڑے شہروں کے مشاعرے میں بعض شعراءاپنے ہمراہ چند ایسے نوجوان احباب کو بھی لاتے ہیں۔ ( جن میں سے اکثر ان کے بھانجے اور بھانجیاں ہوتی ہیں)۔ جو مشاعرے میں وقفے کے دوران بڑے جوش و خروش سے ان کے پیچھے بھاگ بھاگ کر ان کے آٹو گراف حاصل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ آپ ہی بتائیے مقبولیت کا اس سے زیادہ بین ثبوت اور کس طریقے سے دیا جاسکتا ہے ۔ یہ تو بس ایک ہی مثال ہے ۔ گائیڈ کی تیاری کا پراجیکٹ شروع ہوجائے تو کئی اور طریقے سامنے آئیںگے ۔ مثلاً موجودہ دور میں مشاعروں کا ماحول بھی تو بہت بدل چکا ہے ۔ شمع محفل کی جگہ ایک مائیکروفون نے لے لی ہے اور پھر پوری کاروائی کو فلمایا بھی جارہا ہے ۔ ویڈیو کیسٹ کی تیاری پورے انہماک اور اہتمام سے کی جارہی ہے ۔ لہٰذا مناسب لباس کا انتخاب ضروری ہے ۔ اگر آپ کا شمار شہر کے چوٹی کے شاعروںمیں ہے تو یقیناناظم مشاعرہ اور صدر گرامی دونوں ہی آپ کے قریبی دوست ہوں گے“۔ شاعری میں انکساری کیسی۔ آخر آپ نے اتنی محنت سے لکھا ہے۔ نیو یارک میں میرے ایک دوست ان مشہور شعراءکی انا کی شکایت کررہے تھے کہ صاحب دیکھےے ان حضرات کو خوش کرنا بھی نا ممکن ہے۔ ایک صاحب کو صدر کی دائیں طرف بٹھایا اور دوسرے کو صدر کی بائیں طرف مگر پھر بھی نا خوش تھے ۔ میں نے بڑی سادگی سے پوچھا کہ صدر کون تھا ۔ بولے جی خیرصدارت تو میں نے خود کی خیر…….. مشاعرہ میں کلام سنانے کا بھی ایک خاص انداز ہونا چاہےے اور اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو آواز بھی اچھی عطا کی ہے تو پھر تو سونے پہ سہاگہ والا قصہ ہے۔
مصرعوں کے وزن سے خارج یا وزن میں داخل ہونے کی پرواہ کےے بغیر بس ترنم سے پڑھتے رہےے ۔ بحور کی چھوٹی موٹی اونچ نیچ آپ کی خوش الحانی میں دب کر رہ جائے گی اور غنائیت کے اس سحر سے مسحور سامعین مسلسل داد دیتے رہیں گے۔
یہ مشاعرہ تو محض ایک چھوٹی سی مثال تھی۔ تھوڑی سی کوشش سے ہر تقریب کے لےے ایک باقاعدہProtocol پہلے سے طے کیا جاسکتا ہے ۔ کتاب کی رسم اجراءکسی معروف شاعر کا جشن اور پھر جو کسی مرحوم ادیب کی یاد میں تقریب منعقد ہو تو لازم ہے کہ آپ کی اپنی تقریر میں بار ہا مرحوم سے آپ کی گہری دوستی اور مراسم کا ذکر ہو۔ ایک معروف شاعر کی بیگم نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ” وفات کے بعد ہم لوگوں نے مرحوم کے لا تعداد دیرینہ دوستوںکو دریافت کیا جس سے ان کی زندگی میں بھی کبھی ملاقات نہ ہوئی تھی“۔
مجید امجد مرحوم مجھے بے حد پسند ہیں۔ بہت ساری خوبصورت نظموں کے خالق ۔ اپنی مشہور نظم ” آٹو گراف“ کے آخری بند میں لکھتے ہیں:
میں اجنبی، میں بے نشاں
میں پابہ گِل
نہ رفعتِ مقام ہے، نہ شہرتِ دوام ہے
ایسے بہت سے شاعر اور ادیب ہوں گے جنہیں وہ مقام نہ مل سکا جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے یا آج بھی موجود ہیں ۔ سنجیدگی سے سوچا جائے تو واقعی ان کی حق تلفی ہوئی ہے مگرا س کوتاہی کا کیا مداوا کہ ایسے سادہ دل بند ے پی آر کے بھی آداب سے ناواقف ہیں۔ نوجوان نسل کے شعراءاور ادیبوں کو ایسے لوگوں کے ’ حشر‘ سے سبق سیکھنا چاہےے اور ان ماہرین حصول شہرت کی تقلید کرنی چاہےے جو مجسم تشہیر کی علامت ہیں اور دن دگنی اور رات آٹھ گنی ترقی کررہے ہیں۔

Check Also

jan-17-front-small-title

شاہ لطیف،صوفی نہیں، یوٹوپیائی فلاسفر ۔۔۔ شاہ محمد مری

اچھے لوگ انہیں سمجھاتے رہے کہ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ کسی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *