Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » تاریخ کا کفن ۔۔۔ امرجلیل / ننگرچنا

تاریخ کا کفن ۔۔۔ امرجلیل / ننگرچنا

عید نماز شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے ایک کالا کلوٹا شیدی، جس کے بال خشک، آنکھیں بنجر، بدن نحیف و نزار اور کپڑوں کے نام پر چیتھڑے پہنے ہوئے تھے ؛ وہ نمازیوں کی آخری صف سے اُٹھ کھڑ ا ہوا۔ وہ ادھیڑعمر کا طویل قامت شخص تھا۔ اس کے کندھے صلیب کی طرح سیدھے اور سینہ چوڑا تھا۔ اس کی پُشت زندگی کا بوجھ اُٹھاتے ، برداشت کرتے کمان بن چکی تھی۔اس نے لمبی سانس کھینچ کر ایک اڑتی نگاہ عیدگاہ پر ڈالی۔
پوری عیدگاہ کراچی کے بھانت بھانت کے لوگوں سے اَٹی پڑی تھی۔ قطاریں شمار سے باہر، نمازی بے انداز ! کچھ کے کپڑوں کے جوڑے نئے ،کچھ کے دُھلے ہوئے ،کچھ کے اُجلے ! رنگ اتنے سارے کہ جیسے آسمان سے رنگوں کی دھنک زمین پر اُتر آئی ہو۔عید نماز شروع ہونے میں چند لمحات باقی تھے ۔ مُلّا بے حد عقیدت اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ تاریخِ اسلامی کے اوراق پلٹ رہاتھا۔ وہ کبھی بانہیں اوپر اٹھا کر تو کبھی نیچے کرکے ، آوازکے زیروبم کے ساتھ،کبھی سیدھے سُبھاؤ تو کبھی سُر میں بولتے ہوئے ؛ لوگوں کے جذبہ ایمانی کو بیدار کرنے کی کوشش کررہاتھا۔ لوگ مؤدب بیٹھے ہوئے تھے اور دورانِ وعظ کبھی کبھار اونگھ بھی لیتے تھے ۔ ان کی نگاہیں اپنے اپنے مصلوں کے آگے رکھے جُوتوں پرتھیں۔کچھ جُوتے نئے ،کچھ پُرانے اور پھٹے ہوئے تھے ۔ بُوٹوں، سلیپروں،سینڈلوں اور چپلوں کے تلوے تلووں سے ملے ہوئے تھے اور جائے سجدہ سے انچ بھردور رکھے ہوئے تھے ۔جو نمازی اپنے ساتھ ذوالجناح کی طرح سجے سنورے بچے لے آئے تھے ، ان کی ایک آنکھ جُوتوں میں تو ایک بچوں میں گڑی ہوئی تھی۔ صحت مند مُلّا، صحت مند آوازمیں وعظ کررہاتھا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم کی بجائے اللہ تعالیٰ کے قہر اور عذابِ قبرکی باتیں بتابتا کر ڈرا رہا تھا۔ یوں لگ رہاتھاکہ جوشِ ایمانی میں لاؤڈ سپیکر پھاڑدالے گا۔
” اَبے بیٹھ جا !” کنگال قسم کے ایک دبلے پتلے شخص نے شیدی کا بازو پکڑتے ہوئے کہا،” کھڑے کیوں ہو ؟ بندریا بھاگ گئی ہے کیا ؟”
شیدی نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔وہ جھٹکا دے کر ،بازو چھڑاکر پچھلی صف سے نکل کر اگلی صف میں کھڑا ہوگیا۔
” اَبے ! دور کر یہ اپنے توّے ایسے پاؤں۔” شیدی کو کہنے مارتے ہوئے ایک چڑیاجتنے نوجوان نے کہا، ” آدمی ہو کہ تارکول !”
شیدی نے اسے کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی گردن موڑکراس کی طرف دیکھا۔ وہ اس قطار سے نکل کر اگلی میں کھڑا ہوگیا۔
” اوہو۔۔۔ بڑے احمق ہو تم بھی۔” اُجلے سفید کپڑوں والے ایک شخص نے غصہ میں شیدی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،” شرم نہیں آئی میرے کورے پاجامے کے پائنچے پر پاؤں رکھتے ہوئے ۔”
شیدی کی اداس آنکھوں میں پُراسرار روشنی اٍُبھر آئی تھی۔ اس نے اس بپھرے ہوئے شخص کے جملے کو سُنا اَن سُنا کردیا۔ وہ قدم بڑھاکر اگلی قطار میں جا کھڑا ہوا۔
” خبردار !” فرشتوں ایسے ایک شخص نے شیدی کی ٹانگ کی چٹکی کاٹتے ہوئے کہا،” لاحول ولا ! میرا دبئی کا مصلہ میلا کردیا۔ آدمی ہو کہ ابنِ ابلیس !”
شیدی نے چٹکی کی پروا نہیں کی اور نہ ہی فرشتوں ایسے شخص کے جملہ کی۔اس کی اداس آنکھوں میں پُراسرار روشنی بڑھتی چلی گئی۔ وہ قدم بڑھا کر اگلی قطار میں جاکر کھڑا ہوگیا۔
” ارے او بن مانس !” ایک نوجوان ، جس نے بڑی محنت اور جفاکشی کے بعد اپنی چمکتی پیشانی پر بال سجا رکھے تھے ، نے شیدی کو حقارت آمیز لہجہ میں کہا،” چڑیا گھر سے پنجرہ توڑکر بھاگے ہوکیا ؟”
قریب بیٹھے کچھ ایکٹر چھاپ نوجوانوں نے قہقہہ لگایا۔ ایک بھینگے نوجوان نے اداکاروں ایسے لہجہ میں کہا،” لگتا ہے کہ افریقہ سے ہجرت کر آیا ہے ۔”
ایکٹرچھاپ نوجوانوں کی ٹولی نے قہقہہ لگایا۔
ایک ادھیڑعمرشخص، جو اونگھ رہاتھا، قہقہہ سن کر بیدار ہوگیا۔اس نے گھٹنوں سے سر نکال کر نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، “اے لڑکو ! تیس مارخانی مت دکھاؤ، وعظ سننے دو۔”
” چپ کر ،ابابیل کے بچے !” ایک نوجون نے فی البدیہہ جواب دیا۔ وہ شخص اُترا ہوا چہرہ لے کر بیٹھ گیا۔
اس دوران شیدی وہ قطار چھوڑکر اگلی قطار میں جا کھڑا ہوا۔
” ارے اِدھر آگے کہاں آرہے ہو ؟” چارپانچ آدمیوں نے اسے روک لیا۔ انہوں نے اس کے پھٹے پرانے کپڑوں اور ناتواں بدن کو دیکھ کرکہا،” یہاں شیرینی بٹ رہی ہے کیا؟”
شیدی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کی آنکھیں اگلی قطار پر گڑی ہوئی تھیں ۔
” پیچھے جاؤ، اے تَوے کے بھائی ! پیچھے جاؤ۔”
” دور ہٹو ۔”
” بھاگ جاؤ۔”
” خبردار جو آگے آئے !”
شیدی نے انہیں جواب نہیں دیا نہ ہی گردن موڑ کران کی طرف دیکھا۔پراسرار روشنی واضح طور پر اس کی آنکھوں میں چمک رہی تھی۔وہ آگے بڑھ گیا۔ وہ قدم اٹھاتا،چھلانگیں مارتا، نمازیوں کی دوچار قطاریں پھلانگ گیا۔
لوگوں میں کھلبلی مچ گئی۔ جو اونگھ رہے تھے وہ بیدار ہوکر بیٹھ گئے ۔ جو بیدار تھے اور کانوں سے وعظ سن رہے تھے اور آنکھوں سے اپنے جُوتوں اور بچوں کی نگہداشت کررہے تھے ، وہ شترمرغ کی طرح گردنیں پھیر کر شیدی کی طرف دیکھنے لگے ۔ انہوں نے جب شور سُنا تو جھپٹ کر اپنے اپنے جُوتے اٹھالیے اور بچوں کو کھینچ کر گود میں بٹھالیا۔
کچھ پُرحشمت، بہادروں اور نڈروں نے شیدی کو قابو میں کرلیا۔
” پکڑنا۔”
” مت چھوڑنا۔”
” خوب مرمت کرنا۔”
شوروغل بڑھ گیا۔مُلّا نے وعظ بند کردیا اور منبر کے سب سے اونچے زینہ پر چڑھ کر تماشہ دیکھنے لگا۔ تمام مخلوق کا دھیان شیدی کی طرف ہوگیا۔
کئی انواع کے لوگ، کئی اقسام کے لہجے ، بھانت بھانت کی بولیاں۔۔۔ لیکن مفہوم سب کا ایک جیسا۔۔۔
” چور ہے ۔”
” چور نہیں ہے ، جیب کترا ہے ، بِشنی ہے ۔”
” برابر،برابر۔”
” ضرور کسی مومن کی جیب خالی کرلی ہوگی۔”
” شکل سے ہی چور کا پُتر دکھائی پڑتا ہے ۔”
“جُوتوں کا چور ہے ۔”
” قابو کرنا۔”
” پکڑنا۔”
” بھاگنے مت دینا۔”
” جلدی کرنا۔”
” چور ہے ۔”
” جیب کترا ہے ۔”
” بدمعاش ہے ۔”
” شُہدا ہے ۔”
ایک شخص ہجوم سے راستہ بناتا، ہلہ بولتا، آگے بڑھ آیا۔ اس کے ہونٹ پتلے اور خشک ، آنکھیں مچمچی اور بے رونق اور بال اُجڑے ہوئے تھے ۔ اس نے لوگوں سے بلند آواز کہا، ” میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں۔ یہ چور نہیں نہ ہی جیب کترا اور نہ ہی لفنگا ہے ۔ یہ صرف شیدی ہے ۔”
جس نیک بندے کا ہاتھ شیدی کی گردن میں تھا ، اس نے ایک نگاہ میں نووارد کا جائزہ لیتے ہوئے طنزیہ انداز میں پوچھا،” اور تم کون ہو؟”
اس نے جواب دیا،” میں ماموں خاں موچی ہوں۔”
” بھاگ جا ، موچی ! تو جاکر پھٹے پرانے جُوتوں کی مرمت کر۔” نیک صورت اور نیک سیرت شخص نے کہا،” ہم خود ہی اس کی خبر لیں گے ۔”
ماموں خاں موچی دھکے ٹھڈے کھاکرمنظرسے غائب ہوگیا۔
اور پھر بڑی دیر تک بلند آواز میں جملے ایک دوسرے سے اُلجھتے رہے ۔۔۔
” مارو، مارو۔”
” ٹھکائی اچھی طرح کرو۔”
“پہلے اس کی تلاشی لو۔”
” نماز میں رخنہ مت ڈالو۔”
” درخت سے باندھ دو۔”
” نماز کے بعد منہ کالا کرکے ، گدھے پر بٹھاکر اس کا جلوس نکالا جائے گا۔”
” ٹھیک ہے ، یہ بہت بڑا اور اہم مسئلہ ہے ۔”
” اس کے منہ پر کالک کی بجائے چُونے کی سفیدی پھیریں گے ۔”
” ہرگز نہیں، چور کا منہ ہمیشہ کالا ہوتا ہے ۔”
” اس مسئلہ پر لوگوں سے ووٹ لیا جائے ۔”
” ووٹ لینے کا وقت نہیں ہے ۔”
لوگ آپس میں بحث مباحثہ کرنے لگے ۔ وہ ایک دوسرے سے لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوگئے ۔ شورو غل بڑھ گیا۔ لوگ شیدی کے حشرکے متعلق کسی ایک فیصلہ پر نہیں پہنچ سکے ۔
پہلی قطار میں ملک کی نامی گرامی اور جانی پہچانی شخصیت، ہردل عزیز، مشہور و معروف جناب محمود صاحب موجود تھے ۔ لوگوں کو محمود صاحب کی حفاظت کی فکر لاحق ہوگئی۔ وہ محمود صاحب کے لیے پریشان ہونے لگے ۔ہجوم میں سے کسی نے بلند آواز، چیختے ہوئے کہا،” کالا شیدی پہلی قطار کی طرف بڑھ رہاہے ۔ یہ بدبخت ضرور کسی دشمن ملک کا ایجنٹ ہے ، اور محمود صاحب کو قتل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ۔”
اس نئے انکشاف پرلوگ حواس باختہ ہوگئے ۔
اچانک شیدی نے چھلانگ لگائی۔ وہ چیتے کی طرح چھال مارتا، بڑے بڑے ڈگ بھرتا، لوگوں ، مصلوں، جُوتوں اور چپلوں کی کئی قطاریں پھلانگ گیا۔
پہلی صف میں محمود کے ساتھ شہر کے لائق افسران، صنعت کار،تاجر اور بینکر کندھے سے کندھا ملاکر بیٹھے ہوئے تھے ۔ وہ گردنیں جھکائے اور دوزانو بیٹھے ہوئے تھے اور اخباری فوٹوگرافروں سے تصاویر کھنچوارہے تھے ۔ پہلی صف کے عین عقب میں ، محمودصاحب کی حفاظت کے لیے سادہ کپڑوں میں حفاظتی عملہ کے برجستہ اور طاقت ور ارکان بیٹھے ہوئے تھے ۔وہ بہ ظاہرنماز پڑھنے اور اللہ کی عظمت کے سامنے سر بہ سجود ہونے آئے تھے ،لیکن دراصل وہ محمود صاحب کی حفاظت کے لیے وہاں موجود تھے ، اور نئی صورت حال کے باعث چوکس ہورہے تھے ۔ ان کے نیفوں میں خطرناک اسلحہ چھپاہواتھا، اس لیے وہ بیٹھنے میں دشواری محسوس کررہے تھے ۔
شیدی جب اچھلتا، چھلانگیں مارتا، دوسری صف پھلانگ کرپہلی صف کی طرف بڑھنے لگا،تب اسے حفاظتی عملہ کے عقابوں نے جھپٹ کر قابو کرلیا۔ وہ پلک جھپکنے میں ہی اسے لاتیں، ٹھڈے ، مُکے اور گھونسے مارتے ، عیدگاہ سے باہرلے گئے ۔جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
لاؤڈ سپیکروں سے مُلّا کی آوازگونجنے لگی۔ وہ دونوں ہاتھ عرش کی طرف اٹھا کر ،عاجزی،انکساری کے ساتھ اورمترنم انداز میں اللہ تعالیٰ سے محمود صاحب کی درازء عمر کی دعا مانگنے لگا۔
لوگوں کا خیال بدل گیا۔ وہ شیدی کو بھول کرپہلے محمود صاحب کی طویل عمری کی دعائیں اور پھر وعظ سننے لگے ۔ انہوں نے اپنے نئے پرانے بوٹ اور چپل سجدہ گاہ سے انچ بھرکی دوری پر رکھے تھے ۔
عیدگاہ سے باہر ایک علیحدہ جگہ میں حفاظتی عملہ کے ایک بڑے افسرنے بید کی چھڑی کے پے در پے وار کرتے ہوئے شیدی سے پوچھا، ” بتاؤ، جواب دو۔ تم کس نیّت سے پہلی صف کی طرف بڑھ رہے تھے ؟”
مُکوں، گھونسوں اور تھپڑوں کے سبب شیدی کا پورا چہرہ خونم خون ہوگیا تھا۔ اس کا منہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ وہ کوئی بھی جواب نہ دے سکا۔
” جواب دو۔” پھر لاتیں اور مُکے ، چہرے پر گھونسے اور پنڈلیوں پرلانگ بُوٹوں کی ٹھوکریں لگیں، ” جواب دو، کس کے ایجنٹ ہو؟ کس نیّت آگے بڑھ رہے تھے ؟”
شیدی کی ناک سے خون کے ریلے بہنے لگے ۔ پیٹ اور کوکھ اور پسلیوں پر لاتیں پڑنے کے باعث اس کا جوڑجوڑ اُکھڑگیا۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاگیا۔
” پہلی قطارکی طرف کیوں اور کس نیّت سے بڑھ رہے تھے ؟” عملدار نے اسے پیٹ پر لات اور گردن پر مُکا مارتے ہوئے پوچھا،” جواب دو ، کس ارادے سے پہلی صف کی طرف بڑھ رہے تھے ؟”
شیدی نے خون کی کُلی کرکے ، منہ کو پھٹی قمیض کے بازو سے پونچھ لیا۔اس کے کٹے پھٹے ہونٹ کانپنے لگے ۔ اس نے کمزور آواز میں کہا،” میں پہلی صف میں کھڑاہوکر نماز پڑھوں گا۔”
حفاظتی عملہ کے چاق و چوبند جوان شیدی کا جواب سن کر کچھ کچھ پریشان ہوگئے ۔ پھر، اس کے خراب حال اور سادہ شکل و صورت دیکھ کر ” کڑکڑ” قہقہے لگانے لگے ۔ کسی نے کہا،” ارے ! تم پہلی قطار میں کھڑے ہوکر نماز پڑھوگے ؟”
ان میں سے ایک نے زوردار مُکا شیدی کی پیشانی پر ناک کے قریب جمایا اور کہا،” تم جھوٹ بولتے ہو۔”
پورا ماحول شیدی کی نگاہوں کے سامنے زیروزبر ہونے لگا۔ اس کی سانس سینہ میں دھڑکنے کی بجائے تڑپنے لگی۔ سانس بند ہونے لگی۔ ناک، منہ اور کانوں سے خون رستا ، بہتا رہا۔ اس نے شکستہ لہجہ میں کہا،” میں پہلی قطار میں کھڑا ہوکر نماز پڑھوں گا۔”
حفاظتی عملہ کے ایک تنومند نوجوان نے شیدی کے سینہ پر گھونسہ کا بھرپوروارکیا اور پھر اسے گالی دیتے ہوئے کہا،” ڈرامہ کرتے ہو،سُؤر کے بچے ! ہم تمہیں پہچان گئے ہیں۔ تم غیر ملکی ایجنٹ ہو۔”
شیدی مکا کھاکرپیچھے ہٹ گیا، جاکر دیوار سے لگا۔
” بتاؤ !” پھر لاٹھیاں برسنے لگیں،” بتاؤ، کس کے ایجنٹ ہو ؟”
” میں ایجنٹ نہیں ہوں۔” شیدی بُجھنے لگا،اس نے ٹوٹتے بکھرتے ہوئے کہا، ” میں پہلی صف میں کھڑاہوکرنماز پڑھوں گا۔”
” اَبے لنگور !” ایک موٹے تکڑے اہلکارنے اسے تھپڑ مارتے ہوئے کہا،” زندگی بھر کبھی آئینہ دیکھا ہے ! چلا ہے پُتر پہلی قطار میں نماز پڑھنے !”
شید ی کی سانسوں کا سلسلہ اس کی ناک سے بہتے خون کے سبب ٹوٹنے لگا۔ اس نے کہا،” میں پہلی قطار میں کھڑاہوکر نماز پڑھوں گا۔”
” ابے اونٹ کے بچے !” موٹے تکڑے عملدار نے کہا،” شہر کے معزز لوگ محمود صاحب کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے پہلی صف میں موجود ہیں۔ تم پہلی صف کیسے نماز پڑھوگے ؟”
شیدی نے نحیف آواز میں کہا،” میں بھی پہلی صف میں محمود صاحب کے ساتھ کھڑا ہوکر نماز پڑھوں گا۔”
حفاظتی عملہ کے تنخواہ داروں نے خوب قہقہے لگائے ۔ ایک نے کہا،” اس کا دماغ ٹھکانے نہیں ہے ۔”
” بہروپیا ہے ۔” بڑے افسر نے اپنے عملہ کو حکم دیتے ہوئے کہا، ” اس سے پوچھوکہ یہ کون ہے اور محمود صاحب کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کا ڈھونگ کیوں کررہا ہے ؟”
پھر جو درگت بنانا ان کے حافظہ میں محفوظ تھا، وہ درگت انہوں نے شیدی کی بنائی۔ لاتیں، مکے اور گھونسے مارمار کر اسے اَدھ مُوا کردیا۔ شیدی فرش گزیں ہوگیا۔انہوں نے اسے پھر اٹھاکر کھڑاکردیا۔ اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارکر اسے ہوش میں لے آئے ۔ شیدی نے خون آلود آنکھیں کھول کر حفاظتی عملہ کی طرف دیکھا۔
چاق و چوبند افسر نے اس کے بالوں کو مٹھی میں پکڑتے ہوئے کہا،” بتاؤ، تم کون ہو ؟ محمود صاحب کے ساتھ کھڑے ہوکر نمازکیوں پڑھنا چاہتے ہو ؟”
شیدی بجھنے لگا۔ ایک لمحہ کے لیے اس کی آنکھوں میں پُراسرار روشنی لوٹ آئی۔ اس نے ٹوٹے پھوٹے لہجے میں کہا، ” میں ایاز ہوں۔ میں ایک ہی صف میں کھڑا ہوکر محمود کے ساتھ نماز پڑھوں گا۔”

Check Also

jan-17-front-small-title

کڈک و مشک ۔۔۔۔ گوہر ملک

کڈکا یک روچے وتی دلا گشت اے درستیں زند پہ تنہائی نہ گوزیت،ما س وپتئے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *