Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » تابوت ساز ۔۔۔ عابد میر

تابوت ساز ۔۔۔ عابد میر

دکان کا مرکزی دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔ ہاتھ میں پکڑا ہو ا اخبار اس نے دروازے کی دائیں جانب استقبالیہ کی میز پہ رکھا۔ اس میز کے نچلے کونے میں پڑا ہوا ایک کپڑا اٹھایا۔منہ میں کچھ آیات بڑبڑاتا ہوا ،اسی کپڑے سے تابوتوں کی گرد جھاڑنے لگا۔درجن بھر تابوں پہ کپڑا لگا چکا تو ایک بوتل میں پانی لے کر دکان کے مرکزی دروازے کے شیشے پہ چھڑکا اور رگڑ رگڑ کر اسے چمکاتا رہا۔یہاں سے مطمئن ہو گیاتو پھر میز کی دراز سے اگر بتی کا ایک پیکٹ نکالا اور اس میں سے چار چھ اگربتیاں سلگا کر کچھ اپنی میزکے عین اوپر فریم میں لگی ہوئی آیت الکرسی کے ایک کونے میں لگائیں اور باقی چند ایک پاس والے تابوت کے ایک کونے میں ٹکا دیں۔ یہاں سے فارغ ہو کر اس نے میز کے ایک کونے میں رکھے واٹر کولر سے پانی کا گلاس بھر کے پیا۔ پھر استقبالیہ کے پیچھے لگی نشست پہ آکر براجمان ہوا ۔جیب سے سگریٹ نکال کر سلگائی اور استقبالیہ کی میز پہ رکھا اخبار اٹھاکر پڑھنے لگا۔
تابوت سازی و تابوت فروشی کا کام اسے ورثے میں ملا تھا۔ اس کا باپ شہر کا مشہور تابوت ساز تھا۔ اس زمانے میں شہر میں تابوت کی واحد دکان اس کے باپ کی ہوا کرتی تھی۔ شہر کے عین وسط میں واقع اس کی چھوٹی سی دکان نے دیکھتے ہی دیکھتے وسعت اختیارکی۔ اُس زمانے میں ابھی شہر میں مردوں کو تابوت میں دفنانے کا رواج نہیں پڑا تھا۔ بہت کم لوگ ہی اپنے مردوں کو تابوت میں دفناتے تھے۔ اسے امرا کی عیاشی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ایک عرصے تک اسے محض فیشن سمجھا جاتا رہا۔ اسے رواج دینے میں خود اس کے باپ کو خاصی محنت کرنا پڑی۔ اسے یاد تھا کہ کالج کے امتحانات سے فارغ ہوتے ہی جب باپ نے اسے اپنے ساتھ کام پہ لگا لیا تو جامع مسجد کے خطیب اکثر ان کی دکان پہ آیا کرتے تھے۔ اول اول تو خطیب صاحب ان کے کام سے خاص خوش نہ تھے،لیکن رفتہ رفتہ اس کے با پ نے انہیں اس بات پہ قائل کر لیا کہ مردے کو تابوت میں دفنانا کس قدر مستحسن ہے۔ ساتھ ہی اس کے باپ نے زکوٰة اور فطرانے کی رقم کا ایک خطیر حصہ خطیب صاحب کی نذر کرنا شروع کر دیا۔ جامعہ مسجدکے خطیب ان کے حسنِ ظن سے خاصے متاثر ہوئے۔ رفتہ رفتہ انھوں نے اپنے خطبے میں مردوں کو تابوت میں دفنانے کی اہمیت بیان کرنا شروع کر دی۔ اس کا خاطر خواہ اثر ہوا۔
تابوت ساز کی دکان نے دیکھتے ہی دیکھتے وسعت پانا شروع کر دی۔ پہلے پہل وہ گھر پہ ہی تابوت بناتے اور تیار کر کے دکان پہ لے آتے۔بعدازاں انھوں نے ایک گودام بھی کرائے پہ حاصل کر لیا۔ تعلیم ادھوری چھوڑ کر وہ بھی باپ کے ساتھ کام میں جت گیا۔
….اور ایک روز اس کا باپ سارا کام اسے سونپ کر راہی عدم ہوا۔ خطیب صاحب بھی کچھ عرصے کے بعد وفات پا گئے، تو ان کے جوان صاحبزادے کو جامع مسجد کا پیش امام مقرر کر دیا گیا۔ گذشتہ پندرہ برس سے پیش امام کے ساتھ اس کے اسی نوعیت کے خوش گوار تعلقات استوار تھے، جیسے کہ اس کے باپ اور خطیب کے درمیان تھے۔
اس کی اخبار بینی کے دوران ہی دکان کے ملازم آنا شروع ہو گئے۔ گودام پہ بھی کام شروع ہو گیا۔ باپ کے زمانے سے اس کا معمول تھا کہ چار ملازمین کے ہوتے ہوئے بھی وہ صبح سویرے دکان اپنے ہاتھ سے کھولتا اور رات گئے تالا بھی اپنے ہاتھوں سے لگا کر جاتا۔ البتہ ایک عرصے سے تابوت بنانا چھوڑ دیا تھا۔ اب وہ محض مالی امور پہ معمور تھا۔ شہر کے علاوہ گرد و نواح میں جاتا اور وہاں سے بھی تابوت کے آرڈر خود لے کے آتا۔ شہر میں تابوت فرش بڑھ جانے کے باعث اسے دگنی محنت کرنا پڑتی تھی۔
”السلام و علیکم!“ جامع مسجد کے پیش امام نے دکان میں داخل ہوتے ہوئے سلام بھیجا۔
”وعلیکم السلام امام صاحب!“ تابوت ساز نے چہرے پہ مسکراہٹ سجاتے ہوئے اخبار ایک طرف رکھا اور گرم جوش استقبال کیا۔ ”آئیے، آئیے امام صاحب، بڑے دنوں بعد آنا ہوا۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے استقبالیہ کے قریب ہی ان کے لیے نشست خالی کی۔ امام صاحب نشست پہ براجمان ہوتے ہی گویا ہوئے؛”کیا کریں بھائی،آپ تو جانتے ہیں محرم کے دنوں میں مصروفیات ہی کچھ ایسی ہوتی ہیں کہ باہر نکلنا بہت کم ہوتا ہے۔ پھر شہر کے حالات سے بھی آپ بخوبی واقف ہیں۔“
”جی ہاں، یہ تو آپ نے درست فرمایا۔ خیریہ تو چلتا رہتا ہے، آپ اپنی کہیے، مزاجِ گرامی بخیر رہے؟“
”اللہ کا بڑا کرم ہے، آپ سنائیے کاروبار کی کیا صورت ہے؟“
”بس بیٹھے اللہ اللہ کر رہے ہیں صاحب۔ آپ تو جانتے ہیں کہ اپنا کاروبار ہی ایسا ہے کہ اس کے لیے کسی سے دعا بھی نہیں لے سکتے۔“
”ارے نہیں بھائی، رزق کا معاملہ تو اُس پروردگار کے ہاتھ میں ہے، وہ سب کے حصے کا رزق نکال لیتا ہے۔“
”جی درست فرمایا۔ لیکن سچ پوچھیے تو ان دنوں اپنا کچھ وہ عالم ہے کہ، کھولی دکاں کفن کی تو لوگوں نے مرنا چھوڑ دیا۔“
”ارے بھائی، مایوسی کفر ہے، اللہ بڑا کارساز ہے، اس نے پیدا کیا ہے تو رزق کا ذریعہ بھی پیدا کر ہی لے گا۔ “
”آمین……..یہ فرمائیے گا کیا لیں گے، چائے یا ٹھنڈا؟“
”ارے نہیں بھائی، آج تو یونہی یہاں سے گذرا تو سوچا آپ کی مزاج پرسی کر لی جائے۔“
”ارے صاحب ایسا بھی کیا تکلف۔ ابھی دو منٹ میں حاضر ہو جائے گا۔“
”بھئی آپ سے کیا تکلف۔ ابھی اجازت دیجیے، پھر کسی وقت سہی۔“
یہ کہہ کر امام صاحب کھڑے ہو گئے، تو اس نے بھی زیادہ حجت کرنا مناسب نہ سمجھا اور انھیں رخصت کرنے دروازے تک چل کر آیا۔
محرم کے ایام تھے۔ اسی ہفتے دسویں محرم کا دن تھا۔ جلوس کے باعث شہر بند تھا۔ شام گئے برآمد ہونے والا مرکزی جلوس شہر کے مرکزی چوراہے پہ پہنچا تو کسی نے ہجوم پہ فائرنگ کر دی ۔ ہڑبونگ مچ گئی۔ ہر طرف سے گولیاں برسنا شروع ہو گئیں۔ قیامتِ صغریٰ کا منظر برپا ہو گیا۔ کچھ پتہ نہ چلتا تھا کون کس پہ گولی چلا رہا ہے۔ کوئی پون گھنٹہ یہ منظر جاری رہا۔ درجنوں ہلاکتیں ہوئیں۔ سیکڑوں زخمی تھے۔ ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے۔ لاشے اٹھانے کو اسٹریچر کم پڑ گئے۔ ہر سو ماتم تھا۔
اگلے روز کے اخبارات نے بتایا کہ چالیس سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ درجن بھر زخمی اب بھی تشویش ناک حالت میں تھے۔ تابوت ساز کی دکان بند تھی لیکن اس کے سبھی تابوت بذریعہ فون بک چکے تھے۔ گودام خالی ہو چکا تھا۔ کچھ تابوت تو اسے ہنگامی بنیادوں پہ بیرونِ شہر سے منگوانا پڑے۔
شہر سوگ میں تھا لیکن تابوت ساز کا دل بلیوں اچھل رہا تھا۔ کہاں تو سال بھر میں چالیس تابوت بمشکل بکتے تھے اور کہاں ایک ہی دن میں چالیس تابوت….درجن بھر مزید متوقع۔ بظاہر تو وہ محفل میں زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعاگو رہتا لیکن ہر شام اپنے بندے ہسپتال بھیج کر وہ یہ ضرور معلوم کرواتا کہ ان میں سے کتنے قریب المرگ ہیں۔
سانحہ تو آیا اور گزر گیا لیکن تابوت فروش کے دل سے نہ اترا۔ وہ کئی ہفتے رہ رہ کر اس سانحے کو یاد کرتا رہا۔
ابھی چند ماہ نہ گزرے تھے کہ شہر میں فرقہ ورانہ فسادات کی ایک اور لہر اٹھی۔ اب کے محرم کے جلوس میں مارے جانے والوں نے انتقام لیا۔ بیس کے قریب لوگ مارے گئے۔تابوت ساز کی پھر سے چاندی ہو گئی۔
تابوت ساز کا ان دنوں پیش امام صاحب کے ہاں آنا جانا بڑھ گیا۔ دونوں شہر میں بڑھتی فرقہ واریت کے موضوع پہ جماعت کے سامنے گھنٹوں باتیں کرتے۔ ایک فرقے کو برحق، دوسرے کو غلط قرار دیتے اور آخر میں دونوں کے شیر و شکر ہونے کی دعا مانگتے رخصت ہوجاتے۔
چند ہی ماہ خیر سے گزرے تھے کہ ایک بار پھر مخالف فرقے پہ بیک وقت دو حملے ہوئے۔ اب کی بار سو سے زائد لوگ مارے گئے۔ بیک وقت مردوں کی اتنی تعداد تو تابوت ساز نے تصور میں بھی نہ سوچی تھی۔ شہر سکتے میں تھا۔ تابوت کم پڑ گئے۔ لوگ لاشے لے کر ٹھٹھراتی سردی میں حصولِ انصاف کے لیے دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ تابوت ساز کو کچھ موقع ملا۔ دن رات ایک کر کے تابوت بنائے….کچے پکے، کمزور، سبھی تابوت بک گئے۔ حتیٰ کہ تابوت ساز اپنا گودام خریدنے کے قابل ہو گیا۔
گو کہ سو ہلاکتوں کے باعث ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں مقامی حکومت کو رخصت ہونا پڑا، لیکن تابوت ساز کی چاندی ہو گئی۔
مزید کچھ عرصہ یہ لہر برقرار رہی۔ اب تابوت ساز کو حالات کا اندازہ ہو چکا تھا۔ اس نے گودام خرید کر تابوتوں سے بھر دیا۔ یہاں واقعہ ہوتا، وہاں وہ تابوت پیش کر دیتا۔ اس کی دکان نے نہایت تیزی سے وسعت اختیار کر لی۔ خود وہ موٹر سائیکل سے اچھی سی گاڑی پہ آ گیا۔ طرزِ زندگی بدل کر رہ گیا۔ شہر دم توڑ رہا تھا، ایک تابوت ساز پھل پھول رہا تھا۔
نئی حکومت آئی تو معاملات رفتہ رفتہ بدلنے لگے۔ فرقہ ورانہ تنظیموں سے بات چیت کا آغاز ہوا۔ محض چند ماہ میں حکومت نے انھیں شیر و شکر کر دیا۔ ایک دم حالات کا رخ پلٹ گیا۔ تابوت ساز کے گودام میں پڑے تابوت دیمک کی نذر ہونے لگے۔ تابوت ساز،حکومتِ وقت کا شدید نقاد بن گیا۔ وہ اسے ایک کافر حکومت قرار دیتا۔، جس نے مومنین اور کفار کو ایک ہی صف میں لاکھڑا کیا تھا۔ نئی حکومت کے چھ ماہ کے دوران اس کے ہاں سے بمشکل چھ تابوت بکے ہوں گے۔ اسے لگا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ اب شہر کے ڈاکٹر بھی ’نااہل‘ ہو گئے ہیں۔ بیماروں اور بوڑھوں کو دیکھ کر وہ تلملا کر رہ جاتا کہ آخر یہ لوگ مرتے کیوں نہیں؟کب تک زمین کا بوجھ بنے رہیں گے؟
تابوت ساز کو اپنا کاروبار ڈوبتا نظر آنے لگا۔
ایک روزوہ رات کے وقت گھر پہ ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ ایک خبر نے اسے روک لیا۔ ملک کے ایک چھوٹے سے قصبے میں غیر مسلم کمیونٹی کے ایک فرد پر توہینِ رسالت کے شک پہ وہاں کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔مشتعل افراد نے غیرمسلم کمیونٹی کی کالونی میں آگ لگا دی، درجنوں گھر جل ک راکھ ہو گئے۔ بر وقت نقل مکانی کے باعث علاقہ انسانی جانوں کے ضیاع سے محفوظ رہا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حالات پہ بروقت قابو پا لیا۔
اِس خبر نے اُس کے اندر بے چینی سی پیدا کر دی۔ اس کا ذہن تیزی سے اس کے مختلف پہلوو¿ں پہ سوچنے لگا۔ بالآخر رات دیر گئے وہ ایک نتیجے پہ پہنچا۔ اس روز، کئی دنوں بعد اس نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا، اور اطمینان کی نیند سویا۔
اگلے روز دوپہر کے وقت وہ جامع مسجد کے پیش امام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پہلے تنہائی میں معاملہ ان کے گوش گذار کیا۔ پھر امام صاحب کی ہدایت پر ہی کئی نمازیوں کے بیچ اس نے سارا واقعہ سنایا۔اُس نے دُہائی دی کہ مخالف فرقے کے لوگوں نے اپنے لوگوں کے قتل پر طیش میں آکر قرآن پاک کے بعض حصے شہید کر دیے۔ اس نے قسم اٹھا کر کہا کہ یہ منظر اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اور پھر نم آنکھوں سے اس نے لحاف میں لپٹے قرآن مجید کے اوراق سب کو کھول کے دکھائے، جو جگہ جگہ سے شہید کیے ہوئے تھے۔
نمازیوں کا خون کھول اٹھا۔ انھوں نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے، اور انتقام کا ارادہ باندھا۔ پیش امام صاحب نے انہیں صبر کی تلقین کی اور یقین دلایا کہ انتقام ضرور ہو گا لیکن منظم طور پر ہوگا۔ وہ اٹھے اور لاو¿ڈ اسپیکر پہ ساری کہانی اپنے پر اثر زورِ بیاں سے بیان کرنا شروع کر دی۔ آن کی آن میں مسجد اہلِ ایماں سے بھر گئی۔ لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ ہجوم بڑھتے بڑھتے جم غفیر میں بدل گیا۔ کچھ لوگ مسلح بھی نظر آ رہے تھے۔ بعض کے ہاتھوں میں ڈنڈ ے تھے۔ امام صاحب نے مجمعے سے ایک زوردار خطاب کیا۔اپنا خطاب مکمل کرکے ہاتھ میں تسبیح پھیرتے ہوئے انھوں نے مظاہرے کی قیادت سنبھال لی۔ تابوت ساز نے پچھلی صفوں سے ہو کر کھسکنا چاہا لیکن امام صاحب نے ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے لیا۔
اُدھر فریقِ مخالف تک اطلاع پہنچ چکی تھی۔وہاں بھی لوگ اپنے دفاع کے لیے مسلح ہونا شروع ہو گئے۔
اِدھر مظاہرین ابھی شہر کے وسط میں پہنچے تھے کہ ان پر کہیں سے فائرنگ شروع ہو گئی۔ اور پھر طرفین سے فائرنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گھمسان کا رن پڑا۔ کسی کو کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ قانون نافذکرنے والے ادارے تصادم کو رکوانے آئے تو ان پہ بھی فائرنگ ہوگئی۔ نتیجتاً انھوں نے بھی فائر کھول دیا۔ اب تو شہر خون میں نہلا گیا۔ گھنٹوں یہ عالم رہا۔ جب تک کہ اسلحہ ختم نہ ہوا، یہ سلسلہ جاری رہا۔
مشتعل مظاہرین نے شہر کو آگ لگا دی۔ دکانیں جلا دی گئیں، دکانیں نذرِ آتش ہوئیں۔
شام تک شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔
رات بھر لاشیں ڈھوئی جاتی رہیں۔
اگلی صبح پتہ چلا کہ شہر میں لگائی گئی آگ میںتابوت ساز کی دکان بھی جل گئی۔ گودام کو بھی آگ لگا دی گئی۔ سارے تابوت جل کر راکھ ہو گئے۔ شہر میں کوئی تابوت نہ رہا۔ لاشیں سیکڑوں کی تعداد میں تھیں، جن میں سے بعض جل کر مسخ ہو چکی تھیں۔ اس لیے سرکاری سطح پرانھیں اجتماعی طور پہ دفن کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔
انھی میں جامع مسجد کے پیش امام اور تابوت ساز کی لاشیں بھی تھیں، حکومتی فیصلے کے مطابق جنھیں بغیر تابوت کے اجتماعی قبروں میں دفنا دیا گیا!!

Check Also

March-17 sangat front small title

یہ دنیا والے ۔۔۔ بابوعبدالرحمن کرد

(معلم۔ فروری 1951) مہ ناز ایک غریب بلوچ کی لڑکی تھی۔ وہ اکثر سنا کرتی ...

One comment

  1. Abid Mars story taboot was really imoressing

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *