Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » بڑا آدمی ۔۔۔ حفیظ اللہ ستوری شیرانی

بڑا آدمی ۔۔۔ حفیظ اللہ ستوری شیرانی

بچپن میں سائیں سائیں سنتے تھے مگر کچھ پتا نہیں تھا کہ یہ سائیں کیا ہوتا ہے اور کیسا ہوتا ہے وقت گزرتا رہا کہ ایک دن سائیں کو دیکھا تو حیران رہ گئے یہ سادہ لوح شخص سائیں ہے۔ پھر پوچھا یہ کیوں سائیں ہے۔ بتایا گیا کیوں سائیں کا تو معلوم نہیں اسکا نام کمال خان شیرانی ہے ۔یہ بہت بڑا شخص ہے۔ سن کر حیرت ہوئی کہ زمین پر قالین کے بغیر بیٹھے دھیمی آواز میں بات کرنے والا یہ عاجز طبیعت شخص معمول کے مطابق ژوب کے سیاحتی مقام سلیزی میں صبح سویرے کان سے ریڈیو لگا کرخبرنامہ (بی بی سی اردو) سننے والا شخص بڑا آدمی کیسے ہو سکتا ہے ؟۔ عقل حیران تھی کہ یہ شخص خود نہ تو کوئی آفیسر ہے نہ اس کا سپ±وت کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہے ۔نہ یہ سائیں کبھی وزیر بنا نہ ہی سینیٹر بنایا گیا تو یہ کیسا بڑا آدمی ہوا ؟۔ میں بھی تو اسی معاشرے کا حصہ تھا اور ہوں جو سائیں کو بس نام کا سائیں مانتا تھا ۔گیارھویں جماعت میں تھا کہ دادا جہانِ فانی سے ک±وچ کر گئے لوگ جوق درجوق تعزیت کیلئے آرہے تھے کہ ایک ضعف العمر مگر مظبوط اعصاب شخص فاتحہ خوانی کیلئے پہنچا۔۔۔ پھرمیں نے پوچھا: یہ سائیں ہیں نا؟جواب ملا جی یہ سائیں کمال خان ہے۔ اب کی بار تو پکا یقین ہوگیا کہ یہ تو بلکل بڑا آدمی نہیں ہے بس لوگ ہیں کہ اسکو بڑا سمجھ رہے ہیں۔ وہ بھی پرایوں نے۔ اپنوں نے تو آج تک بڑا نہیں کہا ہے۔ نہ کوئی گاڑی ہے نہ کوئی سیکیورٹی گارڈ نہ کوئی سلوٹ ہے نہ کوئی سوٹ۔ ایک سفید چادر سر پر رکھ کے سب کو سلام کیا دعا کی اور چند ہی منٹ بعد روانہ ہوا ۔کمال ہے بڑے لوگوں کا بھی۔۔۔۔۔۔۔۔اس سوال نے پریشان کر دیا کہ یہ کیوں سائیں ہے۔گھر آکر ماں سے دریافت کیا کہ آپ سائیں کو جانتی ہیں؟ اماں جی نے فوراَ ہاں ہاں کہتے ہوئے کہا ھمارے گاوں شنہ پونگہ کا ۔ہے کئی سالوں سے سلیزی میں آباد ہے تعلیم کرکے سیاست شروع کی مگر کیافائدہ ہمیں کچھ نہیں دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا یاد ہے کہ اس زمانے میں ایک لمبے قد والا بغیر کالر کے کپڑوں اورچادر ا±ڑھے ہوا شخص جیپ گاڑی میں ہمارے گا¶ں کبھی کبھی ان سے ملنے کوئٹہ سے آیا کرتا تھا وہ اچکزئی قبیلے کا تھا اسکا نام بھول رہی ہوں(وہ خان شہید عبدلصمد خان اچکزئی کا ذکر کر رہی تھیں) ۔جیپ سے یاد آیا۔ افغان پرست ملک امان کاسی ایک دن بتا رہے تھے کہ وہ آزادی تحریک کے سرخیل خان عبدالصمد خان اچکزی شہید کو جیپ گاڑی میں شنہ پونگہ لائے تھے انہوں نے بتایا کہ جب ہم سائیں کے گھر پہنچے تو وہ رات کو ایک چراغ کی روشنی میں کتاب پڑھ رہا تھا۔۔۔ بس امی جی اور ملک افغان کاسی کی بات یاد آنے کے بعد پھر تھوڑی تسلی ہوگئی کہ چلو اتنا تو ہے کہ لوگ کوئٹہ سے ملنے آتے تھے۔ بس پھر ہم نے بھی کبھی کبھی ملنے کی زحمت کرکے دل ہی دل میں ملنے کا احسان بھی اس چھوٹے قد والے بڑے شخص پر کیا کرتے تھے ۔ وقت کیا گزرا کہ چند سال بعد کوئٹہ کے ایک مقامی ہوٹل میں ایک انتہائی ثمرخیز ملاقات ہوئی۔ بھلا ہو انکے صاحب زادے پشتون یار کا جس نے سائیں سے ملاقات کا شرف دلا کر میری زندگی کا وہ دن ایک تاریخی دن بنادیا ۔چند گھنٹے سائیں کہ ساتھ گزارا وقت اوران کے نظریات خیالات آج بھی میرے لیے مشعلِ راہ ہیں ۔۔۔ اب جاکے دل نے تسلیم کیا کہ واقعی سائیں بڑی شخصیت کے حامل ہیں۔ کیونکہ اب میں اس قابل ہوا تھا کہ بڑے ہونے کا کیا مطلب ہے وہ کچھ سیکھ چکا تھا جو چند سال قبل مجھے نہیں معلوم تھا ۔یہی وجہ تھی کہ میں سائیں کو صرف کمال خان کے نام سے ہی جانتاتھا اور بس ! مگر اب بہت دیر ہوچکی ہے ۔۔۔ اپنے کمرے میں آیا سوچا کہ کمال خان تو واقعی اپنے خیالات نظریات میں بڑ ے آدمی ہیں مگر یہ سائیں کے لقب سے کیوں مشہور ہے۔ یہی تجسسس مجھے انکے عزیز دوست ،شاگرد اور میرے محترم استاد ڈاکٹر شاہ محمد مری صاحب کے پاس لے گیا جاکہ پوچھا کہ کمال خان لالا کو سائیں کیوں کہا جاتاہے ۔ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے کہاکہ وہ حقیقی سائیں تھے اور یہ سندھی کا لفظ ہے جسکے معنی بڑا، بزرگ،محترم اور عاقل کے ہیں۔۔۔۔ ہم دوست بھی انہیں اسی لئے سائیں کے نام سے پکارتے تھے۔اور پھر سب لوگ انہیں سائیں کے نام سے پکارنے لگے تھے۔ اگر چہ انہیں بڑے ناموں سے پکارنا اچھا نہیں لگتاتھا مگر سائیں سائیں تھے آج سائیں تو خود نہیں رہے مگر اسکی سوچ و فکر ہمیشہ کیلئے زندہ رہ گئی۔۔۔ انہوں نے ہزاروں فکری شاگردوں کوشعور اور اگاہی بخش کر خود کو سائیں ثابت کردیا۔۔۔ افسردہ کن انداز میں کہنے لگے اس نے ہمیں چھوڑ دیا۔۔۔۔ پھر مجھ سے مخاطب ہو کر ڈاکٹر صاحب نے سوالیہ لہجے میں کہا۔۔۔ ہے کوئی جو اسکا خلا پر کرے ؟اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور نہ ہی کسی کے پاس ہوگا۔ بس ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھا سنتا رہا اور دل ہی دل میں روتا رہا۔۔۔ انہی دنوں نواب مری صاحب کا ایک تہنیتی پیغام پڑھا وہ بھی ڈاکٹر صاحب کے ماہنامہ رسالے (سنگت )میں جس میں بلوچیت سے بنا عظیم بلوچ رہنما نواب خیر بخش مری نے سائیں کی بیماری کے دنوں میں لکھا تھا (غالبا کچھ یوں تھا ) (نہیں مرنا سائیں نہیں مرنا تم تو مرنے والے نہیں ہو تم تو بکنے والے نہیں ہو تم تو اسلام آباد جانے والے نہیں ہو تم تو آگے سیٹوں پہ بیٹھنے والے نہیں ہو، نہیں مرنا سائیں نہیں مرنا )۔ اب جاکے سمجھ آیا کہ واقعی ہم مردہ پرست ہیں۔ ہمیں سائیں نہیں صاحب عزیزہوتے ہیں۔ ہمیں استاد نہیں ماسٹر پسند ہے۔ ہمیں قلم نہیں بندوق پسند ہے ۔ہمیں رہنما نہیں راہزن پسند ہے ۔مگر ہاں سائیں اتنا بتاتا چلوں کہ آپ نے جوفکری سوچ کا بیج بویا تھا وہ کابل سے لے کر کوہ سلیمان کے دامن سے ہوتا ہوا مارگلا کے پہاڑوں سمیت امریکہ اور یورپی ممالک کے طول عرض میں سر اٹھا رہا ہے اور پھرسب لوگ دیکھیں گے اور وہ لوگ بھی جوآپ کو تو کمال خان کے نام سے پکارتے تھے مگر یہ کبھی نہ سوچا تھا کہ جس کا نام کمال ہے وہ تو کمال ہی کر دے گا اور آپ نے وہ کرہی دیکھایا ۔آپ نہ تو بکے نہ اسلام آباد گئے، نہ آگے کی سیٹوں پہ بیٹھے،آپ تو جاتے وقت یہ ثابت کرگئے کہ آپ واقعے بڑے ہو۔ سائیں ہو۔ کمال اور کمال خان اولس مل (عوام کا ساتھی )ہو۔ہاں میں بھول رہا ہوں کہ آپ تو گئے مگر اب آپ کے اپنے بھی آپ کو سائیں کمال خان شیرانی کہہ کربڑے آدمی کے نام سے پکارتے ہیں ۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *