Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » بلوچ کثیر ا لنسلی ، ہجرت اور قومی تشکیل ۔۔۔ ڈاکٹردین محمد بزدار

بلوچ کثیر ا لنسلی ، ہجرت اور قومی تشکیل ۔۔۔ ڈاکٹردین محمد بزدار

ؒ ٖلفظ بلوچ کی وجہ تسمیہ کئی مور خین نے کچھ اسطرح سے کی۔بر ہان قا طع میں دی گئی تعریف کو قدامت حا صل ہے۔اس میں دو معنی درج ہیں ۔ایک میں اسکی تو جیہ ’’کنواری لڑکی کی پردہ بکارت‘‘ کے معنی میں درج ہے۔یعنی صحرا ؤں اور پہاڑوں میں بسنے والے لوگوں کی طرح جو دنیا کے آلا ئشوں سے پاک ہیں۔دوسرے میں ’’مرغ کے سر کا تاج ‘‘ درج ہے ۔جو شاید بلوچ پگڑی کے طرہ کو بیان کر تا ہو۔یا بلوچ دستہ کے جھنڈے پر یہ نشان ہو تا ہو۔
لغت حلبی میں لفظ بلوچ کسی ذات سے منسوب نہیں۔بلکہ بلحاظ پیشہ اور بودوباش یہ نام دیا گیا۔یعنی ’’جو لوگ صحرا نشین ،اہل مویشی اور خا نہ بدوش رہتے ہوں‘‘۔کئی محققوں نے بلوچ لفظ کو عکادی اور با بلی دیو تا ’’بلوص‘‘ (Bell) یا بل(Bel)سے جوڑا ہے۔بلوچ جسے عربی میں ص سے ’’بلو ص‘‘ لکھا جا تا ہے۔اور آج بھی عرب بلو چوں کو ’’بلوص‘‘ یا ’’بلوش‘‘ کہتے ہیں۔
ایک اور محقق نے سنسکرت کی طرف رجوع کرتے ہو ئے اسے دو الفاظ’’بل ‘‘ اور ’’اوچ ‘‘ کا مر کب گردانا ہے۔بل در اصل قدیم فارسی کا ’’پہل ‘‘ہے اور ’’اوچ ‘‘آوستا میں ’’ از‘‘ (Uz)کے معنوں میں آ تا ہے۔جسکا مطلب اونچا ہے۔یعنی بلوچ ’’ بلندو بالا پہلوان کو کہتے ہیں۔امکان یہی ہے یہ نام جا ٹوں نے بلو چوں کو دیا ۔جو بلو چوں سے بہت پہلے شا ید سا سا نیوں یا اس سے بھی قبل کے دور میں یہاں موجود تھے۔
لفظ بلوچ کے وجہ تسمیہ پر مدرجہ بالا بحث سے ، اور جدید تحقیق سے بھی اب یہ بات طے ہے کہ بلوچ ایک نسلی گروہ نہیں،بلکہ دوسری قو موں کی طرح کئی نسلی گرو ہوں پر مشتمل ہے ۔ابتدا میں ایک نسلی گروہ نیو کلیس (Nucleus )رہا ہوگا۔اور اس کے گرد مختلف ادوار میں دو سرے نسلی گروہ جمع ہو تے گئے ہوں اور قو می تشکیل میں مدد کی ہو ۔
سوال پیدا ہو تا ہے آ ج کے جدید دور میں بلوچ قومی تعریف کس طرح کی جا ئے ۔اگر بلوچ ایک نسل نہیں تو بلوچ کے دا ئرے میں کون آتا ہے ۔میرے خیال میں ’’بلوچ ‘‘ کی تعریف اس طرح ہے :
-1وہ لوگ جو بلو چستان کے جغرا فیا ئی حدود میں آباد ہیں ۔چا ہے جس رنگ،نسل اور مذ ہب سے انکا تعلق ہواور جو بھی زبان بو لتے ہوں۔وہ ایک خطہ زمین ( بلو چستان )کے قدرتی ما لک ہیں۔انکی تا ریخ ،ثقافت رسم و رواج ایک ہیں اور سب سے بڑھ کر انکے مفادات مشترک ہیں۔اس طرح وہ ایک قوم ہیں جسے بلوچ کہتے ہیں۔بلو چستان میں بو لی جا نے والی تمام زبا نیں بلوچی ،برا ہو ئی ، سرائیکی(جدگالی،لاسی ،کھیترانی ) یا کو ئی اور زبان جو بلو چستان میں بو لی جا تی ہو اس کی قو می زبا نیں ہیں۔اور برا بر ترقی اور عزت کے حقدار ہیں۔بلو چی جو زیادہ بولی جا نے والی زبان ہے رابطے کی زبان ہی ہو سکتی ہے
-2وہ لوگ جو مختلف ادوار میں بلو چستان سے نقل مقانی کر گئے،سندھ ،پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہوں یا کسی اور ملک میں آباد ہوں،اور اپنے آپ کو بلوچ کہلا تے ہوں بلوچ ہیں۔اور مجمو عی بلوچ سودو زیاں میں برابر کے شریک ہیں۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *