Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شونگال » بلوچ عورت کی تحریک

بلوچ عورت کی تحریک

یوں توماہنامہ سنگت کا ہر شمارہ عورت ایڈیشن ہی ہوتا ہے مگرمارچ کا شمارہ تو بالخصوص( کبھی اعلانیہ اور کبھی عام سے شمارے میں) عورتوں، اُن سے وابستہ زندگانی اور اُن کی تحریک و جدوجہد کے بارے میں ہوتا ہے۔
ایک روایتی معاشرہ بھی عجیب ہوتا ہے ۔ اپنے رواجوں روایتوں میں سب اچھائیاںتلاش کرتا رہتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انسانی معاشرے میں پیداواری رشتے اور اُن سے وابستہ رسوم و روایات، دوائیوں کی طرح ایک خاص مدت کے بعد ایکسپائر ہوجاتے ہیں۔ اور اُن کی جگہ بلند تر، پیچیدہ تر اور اعلیٰ تر اقدار مروج ہوجاتے ہیں ۔مگر،بہت سارے روشن فکر احباب بھی اُن تبدیلیوں کا ادراک نہیں کرپاتے اور بجائے اُن تبدیلیوں کی راہ صاف کرنے کے وہ اُن کے سامنے رکاوٹیں ڈالتے ہیں، انہیںdelayکرنے میں حصہ ڈالتے جاتے ہیں۔بھئی، اچھائیاں بھی وقت کے ساتھ فرسودہ ہوجاتی ہیں۔
روایتی معاشرے کا دوسرا بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اکیسویں صدی کے معاملات کے حل کے لےے بھی پندرھویں صدی کی حانی و مہناز و گوہر و سمو کی داستانوں کو کنگھالتا رہتا ہے۔ وہاں جہاں ایٹم، جنیٹکس، خلائی دنیا ، اور کمپوٹر سائنس موجود نہ تھا۔
عورتوں کے بارے میں بھی ہمارا روایتی معاشرہ انہی دو خصوصیات سے لیس ہے۔ مگرتماشایہ ہے کہ سماج جو مرضی سوچے ، مگردنیا بھرکی طرح بلوچ معاشرے میں بھی عورتوں کی تحریک کی بنیاد ہی اِس بات پر ہوتی ہے کہ عورت اپنی موجودہ حیثیت اور مقام سے غیر مطمئن رہتی ہے اور اُس کا دوبارہ تعین چاہتی ہے۔ اُس کے لےے وہ مروج سماج کو چیلنج کےے رکھتی ہے۔اس تحریک کا ارتقا اور صورت پذیری ہر سماج میں مختلف ہوسکتی ہے مگر روایت اور موجودسے عدم اطمینان اُس تحریک کا جوہر ہوتا ہے۔
بلو چ سماج ایک نیم قبائلی اور نیم فیوڈل سماج ہے۔ اور وہ جن بڑے مسائل کا مجموعی طور پر شکار ہے اس کے اسباب دو ہیں: ایک فیوڈل ریاست اور دوسرا یہاں کااپنا فیوڈل۔ بے روزگاری، ان پڑھی، پسماندگی اور قتل و غارت انہی دو مظاہر کی وجہ سے ہے۔یہ واضح کرنا بھی بہت ضروری ہے کہ یہ دونوں مسئلہ ہیں، حل نہیں ہیں۔ صحیح ہے کہ یہ دونوں ایک دوسر ے پر انحصار کرتے ہیں اور ایک لحاظ سے ایک ہی ہیں۔مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے جب بھی اِن میں سے کسی ایک کوبھی نظر انداز کیا، ہم خسارے میں رہے۔
مگر بقیہ پاکستان کے برخلاف بلوچستان میں ایک زبردست سیاسی جمہوری تحریک موجود رہی ہے۔ اُس تحریک کو ہمیشہ اپنے سماج میں موجود تضادات سے متعلق ایک پوزیشن لینی ہوتی ہے۔ گو کہ عورتوں سے متعلق اس کا موقف بہت مبہم اور مدہم ہوتا ہے مگرپھر بھی اتنا صاف کہ دوسری پڑوسی قوموں میں اس کاثانی نہیں ۔
آج گلوبل گاوں والی اس دنیا میں بھی ہمارا فیوڈل سماج ایک بند اور خفیہ سماج کی شکل میں موجود ہے اور زندگانی کے فطری سخت حالات اس کے اوپر کنکریٹ کی سخت تہیں جماتے رہتے ہیں۔ ان تہہ در تہہ رکھے جانے والے سخت شیل میں سوراخ کرکے انسانی آزادی کا راستہ بنا لینا بہت محنت کا کام ہے۔
ہر زندہ سماج کی طرح بلوچ سماج بھی بہت بڑی نعمتوں کے ساتھ ساتھ بہت بڑے مسائل بھی رکھتا ہے۔ اجتماعی مسائل بھی ہیں اور انفرادی، گروہی مسائل بھی۔معاشرے کے مجموعی مسائل و معاملات کے ساتھ ساتھ کچھ مسائل ایسے ہیں جو صرف عورت کو درپیش ہوتے ہیں۔ اسی لےے دنیا بھر میں عورتوں کی اپنی ایک الگ آزاد جمہوری تنظیم ہوتی ہے جو عمومی معاشرتی مسائل کو ساتھ لےے اپنے مخصوص حقوق کے لےے جدوجہد کرتی ہے۔
بلوچ عورت کی حالت ہمارے پورے معاشرے کی طرح ‘ کسی بہت بڑی صورت میں بہت بڑے عرصے سے تبدیل نہ ہوئی۔ہمارے ہاں فرد کی مانند عورت بھی تمام انسانی حقوق سے محروم ہے۔ یہ سماج عورت کی آزادی اوربرابری کی شاہراہ کی سب سے بڑی رکاو ٹ کو خود (اپنی ماتحتی والی عادت، اپنے جمود کی حالت اور پرانے سماج کے مردہ بوجھ کو اُٹھائے رکھنے کی وجہ سے) بلند کرتا چلا جاتا ہے۔عورتوں کی سماجی حالت میں تبدیلی کے لئے سیاسی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے ، صنعت اور صنعتکاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑے پیمانے پر تعلیم اور بحث و مباحث کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر یہ سب باتیں بھر پور انداز میں کبھی میسر نہ ہوئیں۔ چنانچہ سماجی ڈھانچہ نہ بدلا۔وہی ماقبل فیوڈل رشتے جاری و ساری رہے۔
بلوچستان میں عورتوں کی بڑی تعداد شہر کی بجائے یا تو دیہات میں رہتی ہے ،یا خانہ بدوش ہے ۔یعنی ہمارا ورک پلیس چراگاہیں اور کھیت ہیں جہاںشہری نعرے بازی کسی کام کی نہیں ۔یہاں سب سے بڑا مسئلہ نیم خانہ بدوشی کو ختم کرنے کا ہے۔ مستقل آبادکاری، چار دیواری اور بستی یا قصبہ کی زندگی سب سے فوری اور ضروری فریضہ ہے۔ اور کیا ایسا موجودہ فیوڈل ریاست میں ممکن ہے؟ اُ س کے لےے تو پیداواری رشتے بدل دینے ہوں گے۔ اندازہ کیجےے کہ یہ کتنی مشکل، مستقل اور ہول ٹائم جدوجہد ہے۔ اتنے بڑے بلوچستان میں خانہ بدوشی کو مستقل آبادی میں بسانا بذاتِ خود ایک انقلاب ہے۔
اگر عورت شہری علاقے کی ہے تو اُس کے لےے یکساں اور بور کرنے والی مشقت کو آسان بنانا ہی ضروری نہیں بلکہ اس بچائے ہوئے وقت کا اچھا استعمال بھی ضروری ہے۔ تفریحی مقامات کا بندوبست کرنا ‘کھیلوں کی سہولتیں دینا‘اورتہذیب و تمدن کی نعمتوںکے دروازے کھولنا بھی ضروری ہے۔ اس کے لےے تعلیم کے بعد ٹریننگ سنٹر قائم کرنا اور انہیںملازمتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔ کارخانے بنا کر ان کے اندر عورتوں کو بھرتی کرنا ضروری ہے ۔ یقین جانےے زمین کی پیداوار کا سرمایہ بننا، صنعتکاری کا وسیع ہونا، اور نئے طبقوں اور ان کے اندر نئے تضادات کی پیدائش سماج میںعورتو ں کی پوزیشن اور حصہ داری پر بڑے اثرات لاتی ہے۔ کثیر ازدواجی کی لعنت گم ہوجاتی ہے۔
عورتوں کا مسئلہ سماجی ہے۔ ایسے تمام لوگ جو عورت کا مسئلہ مکمل طور پر حل کرنا چاہتے ہیں انہیں تمام انسانوں کے مفاد کے لئے پورے سماجی مسئلے کو اپنا مقصد قرار دینا ہوگا۔ انسانی بہبود اور مساوی مواقع کی تحریک فرقہ بازی کی تحریک قطعاً نہیں ہے۔ چونکہ سماجی آزادی اور صنفی برابری کے بغیر انسانی آزادی نا ممکن ہے اس لئے انسانی آزادی کی جدوجہد کے قافلے میں عورتوںکی تحریک عام انسانوں یعنی مزدوروں ، ماہی گیروںاور کسانوں کی تحریک کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ان سب کی ایکتا پوری تحریک کی فتح مندی کی ضامن ہے…….. اور یہ تحریک سماجی انصاف کی تحریک ہے۔
عورتوں کی جدوجہد کے بھیس میں بہت سارے لوگ ہمیشہ ایک نظریاتی ملغوبہ، ایک مکسچر اور ایک کنفیوژن ڈالنے کی کوشش کرتے ہےں۔ وہ مردوں کے ساتھ موجود تضاد کو ایک ایسے طریقے سے پیش کرتے ہیںتا کہ استحصال شدہ مرد اوراستحصال شدہ عورت باہم بٹ جائیں اور وہ استحصال کرنے والے طبقے کا مقابلہ نہ کرسکیں۔ وہ یا تو عورتوں کی جدوجہد کو اس کے فطری اتحادی یعنی مزدوروں اور کسانوں کی جدوجہد کی تحریک سے کاٹ ڈالتے ہیں، یا پھر اس طرح کے دوسرے لیت پیت کرتے ہیں جن کے نتیجے میں ایسا ماحول بن جاتا ہے جہاں لوگ مرد وزن کے درمیان برابری کو میکانکی والی برابری سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ عورتوں کو ورغلانا ہے۔
عورتوںکی تحریک ان باتوں سے بہت بلند،بہت پاک و صاف تحریک ہوتی ہے ۔ اصل منزل موجود ہ ڈھانچہ میں مردوں اور عورتوں میں صرف مساوات حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے بہت زیادہ آگے بڑھنا ہے۔ اور ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جس کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان کے تابع ہوجاتا ہے اور جس میں ایک جنس کا دوسری جنس پر انحصار ہوجاتا ہے۔

Check Also

TO FIDEL CASTRO —  Pablo Neruda

Fidel, Fidel, the people thank you for your words in action and deeds that sing, ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *