Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » بلوچی رسم الخط  ۔۔۔ ساجد حسین ؍ لطیف بلیدی

بلوچی رسم الخط  ۔۔۔ ساجد حسین ؍ لطیف بلیدی

فیس بک پر بہت سارے بلوچ صارفین اپنے نام کا طرز تحریر تبدیل کر رہے ہیں۔ Taj Baloch اب Bal243c T225j بن گیا ہے۔
وہ سب سے پہلے شخص تھے جنہوں نے 2012ء میں ایسا کیا۔ وہ ایک ماہر لسانیات اور شاعر ہیں جو کئی سالوں سے اس رسم الخط کو تبدیل کرنے کی ایک مہم کی قیادت کر رہے ہیں جس میں بلوچی، ایک انڈو ایرانی زبان جوکہ دنیا بھر میں پھیلے تقریباً 20 ملین بے ریاست لوگوں کی بولی ہے، لکھی جارہی ہے جسے وہ اردو سے لاطینی کی ایک ترمیم شدہ طرز تحریر میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
ابتدائی طور پر انہیں دوستوں اور ساتھیوں نے کہا تھا کہ وہ ایک سراب کا پیچھا کر رہے ہیں۔ لیکن اب سوشل میڈیا کے سینکڑوں نوجوان صارفین، بااثر ادیب اور بلوچی پر کام کرنے والی اکیڈمیاں ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔
میں نے ان سے پوچھا کہ ایک نیا رسم الخط اپنانے کی زحمت کیونکر کی جائے جبکہ آٹھ عشروں سے بلوچی اردو رسم الخط میں لکھی جا رہی ہے۔
’’موجودہ رسم الخط بلوچی زبان کے پسماندگی میں ایک اہم عنصر ہے۔ بلوچی بولنے والے مقامی لوگ بہ آسانی اردو، یہ بھی عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے، پڑھ سکتے ہیں لیکن اسی رسم الخط میں انہیں اپنی ہی زبان پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ آپ کو پتہ ہے کیوں؟ بلوچی ایک حرف علت؍اعراب کے حوالے سے حساس زبان ہے اور اردو رسم الخط صرف حرف صحیح؍صامت کے حوالے سے حساس زبانوں کیلئے معاون ہے۔‘‘
انہوں نے درجنوں مثالوں کا حوالہ دیا کہ کس طرح سے اردو رسم الخط نے بلوچی کو تحریری شکل دینے میں الجھن کا شکار کیا ہے۔ بلوچی میں تین منفرد حروف علت؍ اعراب کی آوازوں کیساتھ تین مختلف چیزوں، شیر [شِ228ے228ر236شیر]، دودھ [شِ228ی228ر236 شیر]، شعر [شَ228ے228ر236 شیر] کیلئے تین مختلف الفاظ ہیں۔ لیکن جب آپ انہیں اردو رسم الخط لکھیں تو وہ ایک ہی نظر آتے ہیں۔
اردو رسم الخط میں عام طور پر حروف علت؍ اعراب نہیں لگائے جاتے۔ صرف مذہبی مطبوعات میں حروف صحیح؍صامت کیساتھ باقاعدگی سے اعراب لگائے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی طرح کی الجھن سے بچا جاسکے۔
انہوں نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس کے علاوہ اردو میں صرف چھ حروف علت ہیں۔ بلوچی کے دس ہیں۔ آپ اس رسم الخط میں ان اضافی حروف علت؍ اعراب کو بلوچی میں کس طرح لکھ سکتے ہیں؟‘‘
لاطینی رسم الخط کو اپنانے کی کوشش کرنے والوں میں وہ سب سے پہلے شخص نہیں ہیں۔ تحریری شکل میں بلوچی کے سب پہلے مسودے، جو برطانوی نوآبادیاتی دور حکومت کے افسران سے ملتے ہیں، بھی لاطینی رسم الخط میں لکھے گئے تھے۔ لیکن بعد میں اردو رسم الخط کا انتخاب کیا گیا۔
سید ہاشمی، وہ شخص جنہوں نے 50 کی دہائی میں بلوچی کیلئے موجودہ اردو رسم الخط کے معیار متعین کیے تھے، خود اس بات کے قائل تھے کہ لاطینی رسم الخط بلوچی کیلئے بہتر ہوگی۔ انہوں نے لکھا تھا کہ اگرچہ لاطینی رسم الخط بلوچی کیلئے بہتر ہے لیکن کئی وجوہات کی بناء پر انہیں کچھ وقت کیلئے اردورسم الخط کی پیروی کرنے پر مجبور کیا گیا۔
سن 1970ء کی دہائی میں بااثر بلوچ لکھاریوں کے ایک گروہ، جسکی قیادت گل خان نصیر کررہے تھے، جو اس وقت بلوچستان کے وزیر تعلیم کے طور پر کام کررہے تھے، نے اسے لاطینی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے اس معاملے پر فیصلہ کرنے کیلئے ایک کانفرنس بلائی۔ آخر میں انہیں دوسرے گروہ کے حق میں دستبردار ہونا پڑا جو اردو رسم الخط کی حامی تھی۔
نصیر، بطور وزیر تعلیم اور ایک اہم مصنف کے، اپنی سرکاری اور ادبی ساکھ کے باوجود ناکام رہے۔ اس کے بعد کیا بدلا ہے؟
’’بہت سی چیزیں بدلی ہیں،‘‘ یہ کہنا ہے احمد یعقوب ہوتی، متحدہ عرب امارات کے ایک 27 سالہ شہری، کا جو تاج بلوچ کے ہمراہ نئے رسم الخط کی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ ’’سید ہاشمی نے کہا تھا کہ وہ اس وقت بے بس تھے۔ لیکن انٹرنیٹ تک رسائی نے لوگوں کو ایک عملی پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔‘‘
وہ کہتے ہیں کہ ان کی اور تاج بلوچ کی منظم مہم سے قبل لوگ پہلے ہی سے ٹیکسٹ پیغامات اور سوشل میڈیا کے مراسلوں میں لاطینی حروف استعمال کر رہے تھے۔ ’’لیکن وہ کسی بھی تحریری معیار یا ہجے کی پابندی نہیں کر رہے تھے۔ ہمیں صرف لاطینی حروف کا استعمال کرتے ہوئے بلوچی کیلئے ایک نئے رسم الخط کے معیار کا تعین کرنے میں چیزیں بہتر کرنی پڑیں۔‘‘

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *