Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » بلوچستان میں تعلیمی معیا ر کی پستی  ۔۔۔ اثیر عبدالقادر شاہوانی

بلوچستان میں تعلیمی معیا ر کی پستی  ۔۔۔ اثیر عبدالقادر شاہوانی

بلوچستان میں تعلیمی معیار کے گرتے ہوئے صورتحال کی بہتری کیلئے سرکاری اور نجی شعبے کے تحت مختلف منصوبے تشکیل دینے اور قومی دولت سے خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود شعبہ تعلیم ترقی کی بجائے تنزلی کی راہ پر گامزن دکھائی دے رہی ہے ۔ موجود حکومت نے سال 2014-15ء کے بجٹ میں شعبہ تعلیم کے لئے 24فیصد کثیر رقم مختص کی تھی جب کہ اس سال 2015-16میں سالانہ بجٹ کے دو کھرب 48ارب کے تخمینہ میں تعلیم کے لئے 38369.228ملین روپ مختص کئے گئے ہیں جس میں سکولز کے لئے ترقیاتی مد میں دو ارب اکاون کروڑ ستر لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔جو گزشتہ سال کے مقابلے میں سترہ(17)فیصد زیادہ ہے ۔
لیکن صوبے کے ہر باشعور فرد کی زبان پر یہی شکوہ ہے کہ ہمارا تعلیمی معیار روز بہ روز گرتا جارہا ہے ، ارباب فکر و دانش اور ماہرین تعلیم کی طرف سے اس زوال اور انحطاط کے مختلف اسباب و محرکات بیان کئے جاتے ہیں ۔
کوئی اس پستی اور زبوں حالی کی ذمہ داری مروجہ نصاب اور موجودہ طریق تدریس پر عائد کرتاہے اور کوئی اس تمام خرابی اور فساد کی جڑ امتحانات کے نظام کو قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ بورڈوں اور یونیورسٹیوں کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے امتحانات میں اس کثرت سے ناجائز ذرائع استعمال کئے جارہے ہیں کہ شعبہ تعلیم تدریس سے وابستہ افراد کا ان پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔
معاشرتی اور سیاسی حالات
کچھ اہل نظر اس پستی کوموجودہ اقتصادی معاشرتی اور سیاسی حالات کا نتیجہ تصور کرتا ہے۔ جنہو ں نے ہمارے اخلاقی قدریں ہلاکر رکھ دی ہیں۔ اور طلبہ اپنے تعلیمی مشاغل میں گہری دلچسپی لیتے ہیں، نہ والدین اپنے جگر گوشوں کی نگرانی اور تربیت پر توجہ دیتے ہیں ۔ اور نہ ہی اساتذہ کرام درس و تدریس کے اہم اور مقدس فرائض ذمے داری جانفشانی اور تندہی سے بجالاتے ہیں۔
تدریسی عمل میں تسلسل کا فقدان
ماہرین تعلیم کے نزدیک اس پستی کی سب سے اہم اور بڑی وجہ تدریسی اور تعلیمی عمل میں تسلسل کا فقدان ہے ۔آئیے اس معاملے پر غور کریں اور دیکھیں کہ ایک طالب علم جو باقاعدگی سے حصول علم کے لیے سکول جاتاہے وہ ہر سال کتنا عرصہ اپنے سرچشمہ علم سے سیراب و فیض یاب ہوتاہے۔ ہمارے معزز قدیم ماہرتعلیم اس امر پر متفق ہیں کہ مؤثر اور سودمند تدریس کے لئے تسلسل کا ہونا ضروری ہے ایک دن کا ناغہ بھی طالب علم کی علم حاصل کرنے والی صلاحیتیں بری طرح متاثر کردیتا ہے ۔
ایک طالب علم کا ذہن جب تسلسل و تواتر کے ساتھ مضامین کی تدریس پر متوجہ رہتا ہے تو آسانی سے اسے قبول کرتا جاتا ہے۔ لیکن جونہی ناغے کی بریک لگتی ہے تو پھر دقت پیدا ہوتی ہے اور الجھن بھی۔ ہم اگر اپنے تعلیمی اداروں، جن میں پرائمری مڈل اور ہائی سکول شامل ہیں، کے تعلیمی اور تدریسی کام کا تسلسل اور تواتر کے نقطہ ء نظر سے جائزہ لیں تو انتہائی دردناک اور تشویش ناک صورت حال سامنے آتی ہے۔ اس کی موجودگی میں کسی اصلاح اور ترقی کی امید عبث ہے ۔ آئے دن محکمہ تعلیم کے ارباب بست وکشادیہ اعلان کرتے ہیں کہ معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے مؤثر اور ہمہ گیر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ مگر نتیجہ ڈھاک کے تین پات کی صورت میں سامنے ہے ۔ صاف ظاہر ہے کہ جب تک بیماری کی اصل وجہ دور نہیں کی جاتی صحت کیسے حاصل ہوسکتی ہے ۔
بنیادی کردار ٹیچر کا
بقول اخترحسین لانگو ہماری سیاسی پارٹیوں کی یہی خامی ہے کہ وہ اپنے سیاسی کارکنوں کو ٹیچر بھرتی کرتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ ماسٹروں کی بھرتیوں، ٹرانسفر ،پوسٹنگ پر سیاسی اور قبائلی دباؤ اور اثر ہے ۔ محض سیاسی ورکروں اور ووٹرز کو سرکاری ملازمت دلانے کے لئے تعلیمی ادارو ں کے قیام سے قبل پوسٹ کریئٹ کئے جاتے ہیں اور بھرتیاں بھی ہوتی ہیں ،لیکن تعلیمی اداروں کا وجود نہیں ہوتا۔یوں بعض سکول بااثر افراد کے مہمان خانے بنے ہوئے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے تعلیمی شعبے میں سیاسی و قبائلی مداخلت کا سد باب کیا جائے ۔
سزا و جزا کا فقدان
کچھ واقفان حال اس طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ جز او سزا کے نظام کے تعطل سے اس محکمے میں کام کرنے والوں کے دل محنت اور دیانت سے خالی ہوتے جارہے ہیں ۔ کیونکہ یہاں عرقریزی کرنے والوں کے لئے کوئی جگہ ہے اور نہ انعام جب کہ مسلسل غفلت شعاری اور ہیرا پھیر ی سے کام لینے والوں کے لئے نہ کوئی سزا ہے نہ احتساب ۔ہونا یہ چائیے کہ پرائمری ، مڈل یا میٹرک کے نتائج کی اچھائی یا برائی کا متعلقہ مضمون کے استاد کوذمہ دار ٹہرانا چاہیے ۔جس استاد کے مضمون کا رزلٹ Poor یا Best آجائے تو اس کی سالانہ انکریمنٹ پر اس کا اثر یا اطلاق ہونا چائیے جیسے کہ پرانے ادوار میں ہوتا تھا سزا اور جزا کے اطلاق سے ہر استاد کو اپنے مضمون کو بہتر اور مسلسل پڑھا کر سلیبس کو وقت پر ختم کرانے کا احساس ہوتا ۔
سکول کے لیے مخصوص جگہ
بلوچستان کے دیہات میں چار ہزار سے زائد ایسے پرائمری سکول ہیں جن کی عمارت نہیں ۔ عمارت تو درکنار سکول نام کی کوئی جگہ مخصوص نہیں ۔اگر خوش قسمتی سے جگہ موجود ہے تو اکثر حالات میں وہ ایسی خطرناک اور خوفناک ہوگی کہ اس کی چھت اور دیواریں منہ پھاڑ کر ہر وقت بچوں کو ڈراتی رہیں گیں۔
اکثر پرائمری سکولوں میں پینے کے پانی کا نظام نہیں اکثر پرائمری سکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کے لئے ٹاٹ تک میسر نہیں ۔ وہ سارے دن زمین کے ننگے فرش پر خاک دھول میں رل رُلا کر گھر واپس جاتے ہیں۔ 70فیصدسکول عمارت ،پانی ،بجلی چار دیواری بیت الخلاء اور کھیل کے میدان کی سہولیات سے محروم ہیں۔ عمارت کی کمی کا مسئلہ تو چھوڑیے ،یہاں بھی سکول کے اکثر طالب علم ننگی زمین پہ پر درس و تدریس کے عمل میں مصروف ملیں گے ۔
دیہاتی ہائی اسکولوں کامعاملہ بھی بڑا دلخراش ہے۔ یہاں کے طالب علم بڑی عمر کے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی قسمت میں بھی وہی خاک نشینی ہے ۔ ہم نے اپنے طالب علموں کی اکثریت کو جس بیدردی اور بے رحمی سے اس ذلت و خواری، مسکینی اور خاک نشینی کے عالم میں رکھا ہے تو ذرا سوچیے اور غور کیجئے کہ ان کے احساس و شعور میں اپنے بڑوں کے متعلق کس قسم کے جذبات پر ورش پائیں گے اور اپنے مادر علمی کی آغوش میں ان کی عزت نفس خاک میں ملتی ہے۔ اس سے وفاداری، محبت اور قلبی تعلق کے لئے اپنے دلوں میں کہاں سے جگہ پائیں گے ۔کیا اپنے خلاف ہونے والی ان بے انصافیوں اور زیادتیوں کی بنا پر وہ سراپا احتجاج نہ بن جائیں گے ؟
ناقص فرنیچر اور دیگر سامان
سرکاری بجٹ اور ارباب اختیار کے دعوؤں کے مطابق حکومت ہر سال کروڑوں روپے کی رقم تعلیمی اداروں کو فرنیچر اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کے لئے فراہم کرتی ہے۔ مگر یہ گران قدر رقوم نااہلی ، بددیانتی ،کرپشن،لوٹ کھسوٹ اور عدم منصوبہ بندی کی نذر ہوکر اپنی افادیت کھو دیتی ہیں۔ فرنیچر کا وہ سامان جس کی مدت کار ضابطے کے مطابق دس برس ہے۔ وہ اپنے ناقص ہونے کی وجہ سے پہلے سال ہی شکست و ریخت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ وہ ٹاٹ جنہیں چار سال چلنا چاہیے چند مہینوں میں تار تار ہوکر کوڑ اکرکٹ بن جاتے ہیں ۔ اور بچے پھر اسی زمین کی خاک پر رلنے کیلئے مجبور نظر آتے ہیں ۔
سکولز اساتذہ سے محروم
35فیصد سکولوں میں اساتذہ نہیں ۔ 25فیصد سکول تعلیمی سربراہوں اور ہیڈ ماسٹرز کے بغیر چل رہے ہیں اسی طرح کئی اسکولوں میں ایس ایس ٹی جنرل اور ایس ایس ٹی سائنس کی پوسٹیں خالی ہیں ۔ گرلز مڈل اور ہائی اسکولوں کو جے وی ٹیچرز چلارہی ہیں جو صرف میٹرک پاس استانیاں ہیں۔ آٹھویں سے دسویں تک کے طلباء و طالبات فزکس ، کیمسٹری اور بائیو لوجی کے اسا تذہ سے محروم ہیں ۔
پرائمری سکولوں میں سنگل ٹیچر
بلوچستان کے تمام بوائز اور گرلز پرائمری اسکولوں میں 50 فیصدسکول ایسے ہیں جن میں صرف ایک مدرس تمام کلاسز کے تمام مضامین پڑھاتا ہے۔ کلاس ٹیچر، مولوی اور پی ٹی آئی سب کچھ وہی ہے اگر وہ ہفتہ یا مہینہ بھر بیمار ہو توسکول اتنی مدت بند رہتاہے۔
سکولوں کی کمی
صوبہ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے تقریبًا ملک کا نصف ہے۔ لیکن یہاں صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ تقریبًا 10ہزار سے زائد چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں ۔جن میں سرے سے سکول ہی نہیں ہیں ۔ مڈل و پرائمری پاس کرنے کے بعد اکثر طلبا و طالبات مڈل او ر ہائی سکولوں سے محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اول میں تین لاکھ ساٹھ ہزار طلبا داخل ہیں۔جبکہ جماعت دہم تک صرف35,000ہزار بچے رہ گئے ہیں ۔ تعلیمی میعار کو بہتر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بلوچستان میں موجودہ مڈل و ہائی سکولوں کی تعداد کو دگنی کردی جائے ۔
گھوسٹ سکول گھوسٹ اساتذہ
بلوچستان میں نو سو گھوسٹ سکولوں سمیت آٹھ سو گھوسٹ اساتذہ اور تین لاکھ بچوں کا بوگس اندراج ہے ۔یوں کروڑوں روپے تنخواہوں کی مد میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ زیادہ تر گھوسٹ ملازمین کوئٹہ،پشین،قلعہ عبداللہ،قلات،مستونگ میں تعینات تھے۔ گھوسٹ اساتذہ اور سکول کے بعد ایسے گھوسٹ طلبا ء بھی سامنے آئے ہیں جو کہ دیہاتوں اور شہروں میں نقل مکانی کے بعد اساتذہ ان کے نام پر مراعات لیتے تھے ۔ان 8سو سے زائد بوگس اساتذہ کے نام ویب سائٹ پر بھی جاری کر دیئے گئے ہیں ۔ نیب بلوچستان اور انٹی کرپشن نے بھی بوگس اساتذہ اور ان کی معاونت کرنے والے افسران کے خلاف بھی سخت کاروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ٹیچرز یونین
ظاہر میں یہ یونین اساتذہ اور طلباء کے حقوق اور فرائض کی عدائیگی کیلئے بنائی گئی ہے ، تاکہ متعلقہ آفیسروں تک رسائی حاصل کرکے ان کے حقوق حاصل کرسکے مگر ان پر عائد فرائض کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی کہ اساتذہ کے حقوق کے ساتھ ساتھ ان کے فرائض کیا ہیں ، کیوں یہ اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں غفلت کے مرتکب ہوتے ہیں ۔سکول ٹائم میں اپنا پیریڈ چھوڑ کر آفیسروں کے دفاتر جاتے ہیں جس کی وجہ سے طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہوجاتاہے ۔ وہ آفیسروں کے پاس اپنے ذاتی کام مثلاََ پوسٹنگ ٹرانسفر کے پیچھے لگے رہتے ہیں یوں اسکی غیر حاضری کے متعلق کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی کیونکہ یہ یونین بہت مضبوط اور طاقت ور ہوتی ہیں ۔
آفیسروں کا سالانہ معائنہ
سکولوں میں افیسروں کا اچانک معائنہ تو دور کی بات ہے سالانہ معائنہ تک نہیں ہوتا ہے ۔
عوضی ٹیچرز
بعض سکولوں کے اساتذہ متعلقہ دیہات کے کسی نیم خواندہ شخص کو اپنی تنخواہ سے کچھ حصہ دے کر ان سے سکول کو سنبھالنے اور درس و تدریس کا کام لیتے ہیں۔ کرائے کے یہ ٹیچر بہ زبان ٹھیکیداران ،پیٹی ٹیچر اپنی مرضی سے کبھی سکول کھولتاہے کبھی ہفتوں سکول بند رہتاہے۔محکمہ تعلیم کے افسران کا فرض ہے کہ ہر ماہ سکولوں کا معائنہ کریں اور اس قسم کی واقعات کا نوٹس لیں اور متعلقہ ٹیچر کو ڈیوٹی پر پابند کریں۔
ناموزوں نصاب
صوبہ میں نصابی کتب غیر جمہوری اور مقامی ثقافتوں سے غیر ہم آھنگ ہیں۔ تعلیمی نصاب میں بلوچستان کے کسی بھی اہل قلم کی تخلیقات شامل نہیں ہیں ۔ اگر صوبہ کے مقامی ادب و ثقافت تاریخ ، تہذیب اور اسی صوبہ کے ادیبوں اور دانشوروں کے نظریات نصاب میں شامل کئے جائیں ۔ تو وہ انہیں شوق سے پڑھیں گے ۔ مطالعہ پاکستان کی نصابی کتاب میں مقامی اہل قلم کے مضامین شامل کئے جائیں ۔
نصاب سازی اورصوبائی حکومت
18ویں ترمیم کے بعد نصاب سازی حکومت بلوچستانی کی ذمہ داری ہے۔ لیکن تقریبًا 5سال گزرنے کے باوجود ابھی تک نصاب سازی کے عمل پر توجہ نہیں دے رہی ۔ فوری طور پر صوبائی سطح پر نصاب سازی کے لئے اقدامات اٹھانے اور نصاب میں بلوچستان کی تاریخ ثقافت،شخصیات اور جغرافیائی تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب مرتب کروانی چاہیے۔
درسی کتب میں بلوچ اساتذہ کی کمی
بلوچستان میں درسی کتب پر نظر دہرائی جائے تو اس بات کی شدت سے کمی محسوس ہوتی ہے کہ بلوچ اساتذہ ماہرین تعلیم جو سکولوں ،کالجوں اور یونیوسٹیوں میں درس اور تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ درسی کتب لکھنے کی جانب راغب نظر نہیں آرہے ۔ انہیں بھی چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق اس صوبائی ذمہ داری میں شامل ہوجائیں۔
چھٹیاں
تعلیمی اداروں میں چھٹیوں اور تعطیلات کی کثرت نے تعلیمی عملی کو جس طرح غیر موثر بنادیا ہے اور طلبہ کے ذہن کوباربار بریک لگا کر جس طرح ماؤف کر دیئے گئے ہیں۔ وہ بہت بڑ اقومی نقصان ہے ۔معاملے کی حقیقت سمجھنے کے لئے بہتر ہوگا کہ ذرا ان تعطیلات یا ناغوں پر ایک طاہرانہ نظر ڈادی جائے ۔ جو ہمارے تعلیمی اداروں کا ایک معمول بن گئے ہیں

1۔تعطیلات موسم بہار، 10یوم
-2تعطیلات موسم سرما؍ گرما موسم سرما 16دسمبرتا28فروری ، گرما جون تا اگست 75 یوم
-3 تعطیلات موسم گرما، 22جولائی تا31جولائی ،10یوم
-4کتابوں کی خرید ، 1مارچ تا 15مارچ ،14یوم
-5 منظور شدہ چھٹیاں ،20یوم
-6 مقامی چھٹیاں،5یوم
-7ہفتہ وار چھٹیاں ،39یوم
)تعطیلات سرما؍گرما میں شامل ہفتہ وار چھٹیاں نکال کر(
-8ہفتہ وار نصف چھٹیاں ،26یوم
-9استاد کی اتفاقیہ چھٹیاں ،25یوم
میزان ،224یوم
چھٹیوں کے اس تفصیل سے عیاں ہے کہ حاضر باش طالب علم اپنے سکول میں سال کے 365دنوں میں صرف 141دن عمل تدریس میں سے گزارتاہے۔ باقی 224 ایام ناغوں اور چھٹیوں کی بھینٹ چڑھنے سے اس کی ارتقا پذیر اور نشوونما پانے والی صلاحیتیں افسردہ اور پژ مردہ ہوکر رہ جاتی ہے۔
استاد کی اتفاقیہ چھٹیاں
دوسرے سرکاری ملازمین کی طرح ایک سرکاری اسکول کااستاد بھی سال میں 25رخصت اتفاقیہ حاصل کرسکتا ہے ۔ جسے پوری کرنے کی ہر شخص کوشش کرتا ہے ۔عام طور پر یہ خیال کیا جا تا ہے کہ دوسرے سرکاری اہل کار اور ایک استادکی رخصت اتفاقیہ پر جانے میں کوئی فرق نہیں لیکن اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو ان میں بڑا نمایاں فرق ہے ۔ہمارے دیہات میں ابھی تک بہت سے ایسے پرائمری سکول ہیں، جہاں صرف ایک ہی استاد تعلیم و تدریس کے فرائض سر انجام دیتا ہے ۔ جن اداروں میں اساتذہ کی تعداد زیادہ ہے وہاں رخصت اتفاقیہ پر جانے والے استاد کی جماعتیں دوسرے اساتذہ کی جماعتوں کے ساتھ ملادی جاتی ہیں۔ دونوں جماعتوں کے ٹائم ٹیبل کے لحاظ سے مضامین میں اختلاف اور دو جماعتوں کو اکھٹا کرنے اورطلبہ کی تعداد بڑھ جانے سے وہ کسی جماعت کو کچھ پڑھانے کے قابل نہیں رہتا ۔ اس طرح ایک استاد کی رخصت پر جانے سے اس کی جماعت کی طلبہ کا بھی نقصان ہوتا ہے اور دوسری جماعتوں کے طلبہ کا بھی ۔
استاد کی استحقاقیہ چھٹی
سرکاری ملازمین کے موجودہ قواعد کے تحت ایک مدرس پوری تنخواہ پر چھ ماہ کی رخصت استحقاقیہ پر جاسکتا ہے ۔استاد تو اپنا قانونی حق حاصل کرکے چلا جاتا ہے مگر عام طو ر پر اس کے زیر تربیت طلبہ اس پورے عرصہ میں بے یارو مددگار ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ کوئی بھی ان پر توجہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی اس عرصے کی کسمپرسی اور بے چارگی ان کی ساری عمر کے تعلیمی کیریئر پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ دردناک صورتحال اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ موجودہ قواعد کے مطابق تین ماہ تک خالی رہنے والی اسامی پر کوئی تقرری نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر خالی رہنے والی اسامی کا عرصہ تین ماہ سے زیادہ ہو تو اس پر نیا آدمی تعینات کیا جاسکتا ہے ۔ مگر عملی طور پر شاذو نادر ہی تقرر عمل میں آتا ہے ۔ کیونکہ موجودہ طریقہ کار اس قدر پیچیدہ کھٹن ،طویل او ر صبر آزما ہے کہ اس کے مراحل طے کرتے کرتے ہی پوری مدت گزر جاتی ہے۔اس ضمن میں ماہرین تعلیم کی تجویز یہ ہے کہ رخصت کے قواعد اس طرح مرتب کئے جائیں کہ استاد کی رخصت کے ساتھ ہی متبادل استا دکا تقرر کے احکام بھی جاری کردیئے جائیں۔ اساتذہ کے سلسلے میں تین ماہ کی شرط ختم ہونی چاہیے۔
میٹرک کا امتحان
ہائی اسکولوں کی دسویں جماعت امتحان فروری کے مہینے میں ہوتا ہے، لیکن اس کا نتیجہ تین ماہ بعد عام طور پر 30جو ن کو شائع ہوتا ہے اس مہینے میں تعلیمی ادارے موسم گرما کی چھٹیوں کی وجہ سے بند ہوچکے ہوتے ہیں ۔ طلبہ ماہ ستمبر تک داخلے کا انتظار کرتے ہیں ۔ کالج کھلنے پر جب داخلہ کے لئے وہ کالجوں میں آتے ہیں تو چھ سات ماہ درس تدریس کے عمل سے بے تعلق رہنے کی وجہ سے بالکل صاف اور کورے ہوکر آتے ہیں ۔ان کی تعلیمی استعداد اتنی کمزور ہوچکی ہوتی ہے کہ بالائی جماعت کے ساتھ خود اعتمادی کے ساتھ چلنا دشوار ہوجاتاہے۔
ماہرین تعلیم کے نزدیک مذکورہ بالا امتحان کا انعقاد و انصرام کی موجودہ کیفیت بھی معیار تعلیم کو پستی کی طرف دھکیلنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ اس میں شامل ہونے والے طلبہ کو ایک طویل عرصے تک تعطل اور بے کاری کا نشانہ بننا پڑتا ہے ۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اس امتحان کے انتظامات کو بہتر بنانے پر ارباب محکمہ تعلیم خصوصی توجہ دیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ اس امتحان کا نتیجہ اپریل کے پہلے ہفتے میں ضرور شائع ہوگا ۔ اس امتحان سے پید اہونے والی الجھنوں اور پریشانیوں کا احساس شاید شہری حلقے نہ کرسکیں کیونکہ وہ کم ہی اس کی زد میں آتے ہیں البتہ دیہاتی حلقے جو پہلے ہی تعلیمی سہولتوں سے بڑی حد تک محروم ہیں بری طرح متاثر ہورہے ہیں ۔

نقل پر پابندی ناممکن ہے ؟
ہم نے اپنے بچوں پر سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ انہیں نقل کرنے اور امتحان میں ناجائز ذرائع استعمال کرنے کی باقاعدہ تربیت دی۔ وہ اس فن میں اتنے ماہر اور مشاق ہوگئے ہیں کہ اب ان کے استاد بھی ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرسکتے ہیں ۔
ہمارے سبی کے ایک محترم سیاستدان ، معزز علم دوست اور لائق وفائق وکیل عبدالصمد خان مرغزانی ایڈوکیٹ کا نقل کے بارے میں کہنا ہے کہ
نقل میں نرمی ہوتے ہوتے اس حد تک پہنچ گئی کہ اصل طلباء کی جگہ دوسرے امیدوار امتحان دینے لگے ۔کیونکہ اصل امیدوار نقل سے ناواقف تھے۔ اب وہی جونقل کرسکے ،دنوں میں استاد اور پروفیسر بن گئے وہ اب اعلیٰ پوسٹوں پر پہنچ چکے ہیں ۔ اگر ہوگی تو زیرو رزلٹ نکلے گا۔ ڈگری کالج بند کرنے پڑیں گے ۔ بہتر ہے کہ پہلے پرائمری پھر مڈل ،پھر میٹرک اور پھر ایف اے، اس کے بعد بی اے کے امتحان میں نقل پر سختی کی جائے۔ یہ سختی اگر چند برس سلسلہ وار چلتی رہے تب نقل میں کمی آسکتی ہے۔
حرف آخر
بلوچستان میں شرح خواندگی بہت کم ہے۔ 22ہزار پانچ سو دیہات میں 12ہزار گاؤں ایسے ہیں جہاں سکول نہیں ہیں۔ اس طرح بچوں اورجوانوں کی بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہے جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ مجموعی ترقی اور خوشحالی کے اثرات اور ثمرات سے محروم ہے۔ اور یوں پسماندگی ،ناخواندگی اور جہالت کا دور دورہ ہے۔اقوام متحدہ نے 2015ء تک تمام ممالک کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی مفت اور لازمی تعلیم کے لئے ریاستی سطح پر قانون سازی کرکے اقدامات اٹھائیں۔ہمیں دل کی گہرائیوں سے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہماری نئی نسل ہمارا سب سے قیمتی متاع اور سرمایہ ہے ،اس لئے ان کی صحیح تعلیم اور تربیت اور نشو نما کے عمل میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ رکاوٹیں وسائل کی صورت میں ہوں یا ضوابط و قواعد کی صورت میں ۔ہمارے تعلیمی معیار کی پستی کی اصل جڑ تدریسی عمل کے تسلسل میں بار بار رکاوٹ ہے چنانچہ لمبی لمبی تعطیلات کی موجودہ روایت یکسر ختم کرنا بہت ضروری ہے ۔یہ اقدام مجاہدانہ عزم و ہمت اور قائدانہ فہم و فراست کا تقاضا کرتا ہے۔ہر بچہ سکول میں ،ہر استاد کلاس میں اور ہر گاؤں سکول،کیلئے مہم چلائی جائے ۔
تعلیمی اداروں میں اس امر کو یقینی بنانے کیلئے خصوصی اقدامات وانتظامات کئے جائیں کہ ہر جماعت کے ہر پیریڈ میں تدریسی کام باقائدگی سے ہو ۔ اس معاملے میں کوئی عذر ،کوئی مجبوری قابل قبول نہیں ۔ زیر تعلیم بچوں کا وقت نہایت قیمتی ہے اسے بے دردی سے ضائع کرتے رہنا اور اس کے اصلاح کی طرف سے بے اعتنائی اور بے پروائی برتنا قوم و ملک کی قسمت کو نحوست اور بربادی کے حوالے کردینے کے مترادف ہے۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *