Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » بلا عنوان ۔۔۔ عابدہ رحمن

بلا عنوان ۔۔۔ عابدہ رحمن

میں ایک عورت ہوں
شاعر کے تخیّل کا استعارہ
میری آنکھوں میں جھیل کی گہرائی
میری نظر، تیر نظر
ہاں مگر! میری شفقت بے مثال
اور محبت میری لازوال
میری آنکھوں کو جھیل کہنے والے
ان آنکھوں کی نمی کو سمجھے ، کون؟
میں جو غیرت کی یرغمال ہوں!
میری قیمت لگائی جاتی ہے
مجھے دشمنی میں بانٹا جاتا ہے
میں گلا کروں تو کس سے بول؟
لیکن!میں اب چپ نہیں رہونگی
میں کیوں چپ رہوں؟
میں شاعر کے تخیّل کا استعارہ اب
تبدیلی کا استعارہ بنوں گی!
میں مالِ غنیمت نہیں ہوں
کہ جس نے جہاں چاہا لٹا دیا!
میں خود اپنی شناخت ہوں!
میں خود اپنی شناخت رہوں گی!!
کہ یہ کہکشاں جو چمکتی ہے
میں اس کہکشاں کا ستارہ بنوں گی!!

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *