Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » بس سٹینڈ پر ۔۔۔ مجید امجد

بس سٹینڈ پر ۔۔۔ مجید امجد

مگر توبہ ، مری توبہ، یہ انسان بھی تو آخر اِک تماشا ہے
یہ جس نے پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہونا بڑے جتنوں سے سیکھا ہے
ابھی کل تک، جب اس کے ابروﺅں تک مُوئے پیچاں تھے
ابھی کل تک، جب اس کے ہونٹ محرومِ زنخداں تھے
ردائے صدزماں اوڑھے، لرزتا، کانپتا، بیٹھا
ضمیر سنگ سے بس ایک چنگاری کا طالب تھا!“
” مگر اب تو یہ اُونچی ممٹیوں والے جلو خانوں میں بستا ہے
ہمارے ہی لبوں سے مُسکراہٹ چھین کر اب ہم پہ ہنستا ہے
خدا اس کا ‘ خدائی اس کی ، ہر شے اس کی ، ہم کیا ہیں!
چمکتی موٹروں سے اڑنے والی دھول کا ناچیز ذرّہ ہیں“
” ہماری ہی طرح جو پائمال سطوتِ میری وشاہی ہیں
لکھو کھا، آبدیدہ، پا پیادہ، دل زدہ، واما ندہ راہی ہیں
جنہیں نظروں سے گم ہوتے ہوئے رستوں کی غم پیما لکیروں میں
دکھائی دے رہی ہیں آنے والی منزلوں کی دھندلی تصویریں“

” ضروراِک روز بدلے گا نظامِ قسمت آدم
بسے گی اک نئی دنیا ، سجے گا اِک نیا عالم
شبستاںمیں نئی شمعیں ، گلستاں میں نیا موسم“

” وہ رُت اے ہم نفس جانے کب آئے گی؟
وہ فصل دیر رس جانے کب آئے گی؟
یہ نو نمبر کی بس جانے کب آئے گی“؟

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *