Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » بروری روڈ….آغا گل

بروری روڈ….آغا گل

بہت دنوں سے یہ خبر گشت کررہی تھی کہ شال کوٹ کے مغرب میں مٹی کے ویران بے آب و گیاہ ٹیلوں پہ انگریزوں نے شراب کی فیکٹری لگا لی ہے۔ خان قلات سے نوشکی کوئٹہ اور درہ بولان دراصل اجارہ داری پہ حاصل کیا تھا۔ مگر انہوں نے کوٹہ ( قلعہ) جسے وہ اپنے تلفظ میں کوئٹہ کہا کرتے ایک فوجی چھاﺅنی میں بدل ڈالا۔ 1883 میں اچانک ہی ابھرنے والی چھاﺅنی زلف یار کی طرح دامِ صیاد بنتی چلی گئی۔ حتیٰ کوئٹہ بروری(BREWERY) بھی قائم کرلی۔ خان قلات تک خبر پہنچی تو اس نے برہم ہوکر کیپٹن ڈیو ( ازاں بعد کرنل اور پولیٹیکل ایجنٹ ریاست قلات، کی سززنش کی ” بلوچ شراب ، جوا ءیا دیگرخرافات کو ناپسند کرتے ہیں، یہ آپ نے شراب کی فیکٹری کیوں لگالی ہے ۔ آپ تو کہتے ہیں کہ زارِ روس سے آپ کو خطرہ ہے۔ اور یہاں شراب پینے بیٹھ گئے۔ اب کیا جوا خانہ بنانے کا بھی ارادہ ہے۔ بند کریں یہ شراب خانہ ۔ سمیٹ لے جائیں یہ کوئٹہ بروری“۔
کیپٹن ڈیو بھی گرگ باراں دید تھا وہ جھوٹ بولا ” یوئرہائی نس ! کمانڈر اپنے سپاہیوں کے ہاتھوں بے بس ہوتا ہے، لڑتے تو سپاہی ہی ہیں ۔ دنیا کے کئی ایک ملکوں میں بھی شراب بطور راشن سپاہیوں کو دی جاتی ہے ۔ یہ نیٹو سپاہی تو یقین کریں دشمن کی گولیوں کی بجائے شراب نہ ملی تو سردی سے ہی فوت ہوںگے۔ اتنی Heavy Casuallty ہم برداشت نہیں کرسکتے شراب ہی انہیں گرم رکھتی ہے“۔
خان نے نا گواری سے کہا ” ہماری زمین پر شراب خانہ نہیں بن سکتا ۔ آپ سرکار برطانیہ کو آگاہ کریں بلوچ اگر بگڑ بیٹھے تو انہیں سنبھالنا مشکل ہوگا “۔ یہاں کی لوک شاعری میں ڈیہو کے نام سے یاد رکھا جانے والے کیپٹن ڈیو بھی ایک کائیاں تھا گھاٹ گھاٹ کا پانی پی رکھا تھا۔ زیرک انسان تھا زیر مونچھ مسکرا کر سوال کر ڈالا ” یورہانس کچھی میں بھی تو Crude طریقے سے شراب بنتی ہے ، صدیوں سے بن رہی ہے ۔” خان کی آنکھوں میں غصہ کوند گیا۔ مگر کسی مدّبر حکمران کی مانند اس نے خود کو سنبھالے رکھا۔ ” ہاں صدیوں سے بن رہی ہے ۔ میرمحراب خان کے خون بہا میں کچھی کا علاقہ ریاست قلات کو ملا ہے ، عادتیں سنوارنے میں کچھ وقت تو لگتا ہے ، وہاں چھپ چھپا کر بھٹی لگاتے ہیں۔ آپ کی طرح تو نہیںکہ اونٹ نما بروری خنجر کی طرح لوگوںکے سینوںمیں گاڑ دی ہے“۔
انگریز بڑے منجھے ہوئے افسروں کو ہی پولیٹیکل ذمہ داریاں سونپا کرتے تھے۔ کیپٹن ڈیو بھی چکنا گھڑا ثابت ہوا ۔” ہم نے علاقہ اجارہ داری پر لیا ہے۔ ہم آپ کے کرایہ دار ہیں۔ جیسے چاہیں رہیں۔ آپ کے یہ بڑے بڑے صحرا ہیں۔ کہتے ہیں کہ بلوچ سے دوستی کرو تو دروازہ بھی بڑا رکھو تاکہ اس کے اونٹ بھی اندر آسکیں۔بڑے دل کے لوگ ہیں آپ ! میرے نیٹو سپاہیوں کی خاطر آپ ان سے درگزر کریں“۔
سیاسی طور پر یہ ایک کھلم کھلا انکار تھا ۔ اب محض ایک شراب خانے کے لےے انگریزی فوج سے ٹکرانا بھی مناسب نہ تھا۔ انگریز آدھی دنیا کے مالک تھے۔ ان کے پاس دور مار توپیں بھی تھیں باغی سپاہی اور جنرل بخت خان رانی جھانسی بھی تو لڑی تھی!! شراب خانے کی خبر لخ پاس سے ہوتی ہوئی مستنگ پہنچی۔ ادھر کردگاپ درینگڑ سے نوشکی گئی۔ یہ خبر رکنے کی نہیں تھی۔ علماءسخت ناراض ہوئے ادھر میانوں میں تلواریں مچلنے لگیں۔ اگرچہ سردار تو انگریزوں کو قبول کرچکے تھے ۔ اور ان سے مراعات حاصل کررہے تھے۔ جیسا کہ اشرافیہ کا وطیرہ ہے کہ وہ ہمیشہ نئے حکمران کی وفا کا دم بھرنے لگتے ہیں ۔ تاکہ ان کی طاقت اور دولت میں اضافہ ہوتا رہے۔ جبکہ عوام ہی سر کٹانے کے لےے جدوجہد کرتے ہیں۔ اور ہر دورمیں معتوب ہی رہتے ہےں۔ انگریزوں کا جاسوسی نظام بھی سرداروں کے بل پہ چل رہا تھا۔ سرداروں کو گھر بیٹھے رقوم ملا کرتیں۔ انہیںلیویز کے سپاہی بھرتی کرنے کا بھی اختیار تھا۔ وہ اکثر و بیشتر ساری رقم خود ہی ہڑپ کرلیا کرتے۔ بصورت خیرا ت کبھی کبھار کچھ رقم ایسے لیویز والوں کو بھی یاد کرتے ۔جن کے باعث لیویز کو بے دلی سے کام کرنے کی عادت پڑگئی۔ انہیں یہ بھی علم نہ تھا کہ آیا تنخواہ چند ماہ بعد ہی سہی کیا مل ہی جائے گی ؟ اور سردار سے تنخوا ہ کا مطالبہ کرنا تو خزانے پہ بیٹھے ناگ کو چھیڑنے کے مترادف تھا ۔ جو سردار ان کے بھرّے میں نہ آتا اسے چلتا کرتے۔ اسی کی قوم میں سے کوئی اورمیر جعفر چن لیا کرتے انہوں نے شاہی جرگہ بھی بنا رکھا تھا جو ان کے کہنے پر آزادی پسند مجاہدین اور سرمچاروں کو طویل سزائیں سنا دیا کرتا۔ جس کی توثیق خان قلات کو کرنا ہوتی۔ بلوچستان میں سزائے موت کا قانون نہ تھا ۔ برٹش بلوچستان میں تو مجاہدوں کو پھانسی سے کم سزا نہ دیتے لیکن ریاستی بلوچستان میں عمر قید اور طویل سزا ئیں سنا کر بھی مطمئن نہ ہوتے ۔ ایسے حاکموں کی بروری پہ حملہ کرنا کارِ دشوار تھا۔ زیرِ زمین میٹنگوں میں فیصلے کےے گئے کہ مجاہد مختلف ٹکڑیوں میں غیر محسوس طور پر وسیع علاقے میں پیش قدمی کریں۔ اورپھر قریب پہنچ کر بروری پر دھاوا بول دیا جائے۔ حساس اداروں نے کوئٹہ بروری پر حملے کے امکانات کی رپورٹ پہنچا دی تھی۔ بروری کا منیجر نا تھورام کلکتہ سے تھا۔ شراب بنانے اور فروخت کرنے کے فن کا تو ماہر تھا۔ مگر جنگ و جدل سے اس کی جان جاتی ۔ وہ بہت ہراساں ہوا اور کمانڈر کے پاس آکر بازیابی کی اجازت چاہی۔ انگریز افسر اس کی بدحواسی سے خاصے محظوظ ہوئے۔ ” لڑنا مرنا تو مردوں کا کام ہے “۔
ناتھو نے ادب سے انکار میںسر ہلایا ” میری زندگی کا مقصد پینا پلانا اورخوش رہنا ہے۔ مجھے باز رکھیں“۔ اس نے ہاتھ جوڑ دےے۔ یوں تو نفری بڑھادی گئی تھی مگر وہ خوفزدہ سا التجا کےے گیاکہ چار سپاہی کچھ نہیں کرسکتے۔ پوری بٹالین دی جائے وہ بھی سکھ ، گورکھایا پھر راجپوت جو ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ اتفاقاًاس وقت ٹی بریک تھا۔ کمانڈر بھی ذہنی طورپر فارغ تھا اور خوشگوار موڈ میں بھی تھا۔ اس نے خوفزدہ سولین افسر چائے نوشی میں شامل کرلےے ۔ ان کا خوف دور کرنے کے لےے کمانڈر عسکری زبان میں تکنیکی رموز بیان کرنے لگا۔ وہ ان کا مورال بلند کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔
” فرض کیا بلوچ حملہ بھی کریں تو یہ ایک انفرادی فعل ہوگا۔ کچھ جذباتی لوگ ہوں گے۔ ان کے پاس محمودخانی۔ سیاہ مار ۔رخدار توڑے دار بندوقیں ہیں۔ باپور کو بارود ڈال کر بار بار پھرتے ہیں۔ اگر بارش ہو تو یہ بندوقیں بھیگ کر نا کارہ ہوجاتی ہیں۔ ان کی موثر مار 50 گز سے زیادہ نہیں ۔ ہاں لشکر سامنے ہو تو 72 گز تک زخمی کرسکتی ہے۔ ان کے پاس جو رخدارہیں یعنی Grooves والی بندوقیں ان کی مار 100 گز سے 120 گز تک ہے “۔
شراب خانے کا منیجرغم ناک آواز میں منمنایا۔
” مگر بندوق تو بندوق ہوتی ہے، مار ہی ڈالتی ہے چاہے دیسی ہو یا ولائیتی ان کے پاس تلواریں بھی تو ہوں گی“۔
کمیدان مسکرایا ” ہمارے سپاہیوں کے پاس آئین فیلڈ303 رائفلیں ہیں۔ ان کی موثر مار ہزار گز تک ہے ویسے لشکر یا اجتماع کے لےے دو ہزار گز تک بھی زخمی کرنے کی صلاحیت ہے ۔ہماری فائر پاور ان سے ہزاروں گنا زیادہ ہے“۔ کیپٹن جیمز نے ان کا حوصلہ بڑھایا ” ان کی رائفل کے Grooves اچھے نہیں ہوتے۔ گولی بجائے گول گھومتے ہوئے نکلنے کے کسی شرابی کی طرح لہراتی ہوئی نکلتی ہے ۔ عین ممکن ہے کہ جسے آپ مارنا چاہیں اس سے دو قدم ہٹ کر کھڑے ہونے والے کو وہ گولی لگ جائے “۔ نیٹیو) (Native سپاہی مے خانے بنا جی نہیں سکتے تھے۔ سکھ یوں تو گرونانک کی تعلیمات کے باعث تمباکو نوشی سے اجتناب کرتے۔ مگر گلاس میں تلچھٹ بھی نہ چھوڑتے ۔جن وہسکی یا برانڈی انہیں دو آبہ کے کھیتوں میں لے جاتی۔ جہاں کسی کھّوئی سے پانی بھرتی مٹیار ان کی یاد میں آنسو پئے جاتی۔ کھلے جھکے پہنے جانے کون کون سامنے چلی آتی اور اپنے لونگ کے لشکارے مارتی پہلو میں آبیٹھی ۔ کمانڈر بھی کوئٹہ بروری وقتی طور پر ہی سہی بند کرواکے اپنے سپاہیوں کو ناراض نہیںکرنا چاہتا تھا ۔ اسے میرٹھ کی بغاوت یاد تھی ۔ جسے بپا تو منگل پانڈے نے کیا تھا اور سنبھالنا پڑا تھا اس کے باپ کوجو وہیںتعینات تھا۔ اس نے ایک پلٹن بہ غرض حفاظت مدہوش کرنے والی بروری پہ لگادی ۔ ایک برجی بھی بنوادی تاکہ سپاہی دور بین سے دشت و صحرا کا جائزہ لیتے رہیں۔ خصوصاً میان غنڈی ( دو پہاڑوں کے مابین) اور گگڑی پہ نظر رکھےں اور کلی کرانی کے باغوں پہ بھی نگاہ رکھے۔ کسی غیر معمولی نقل و حرکت پر فوری ردّ عمل کا حکم بھی دیا گیاتھا۔
ان قابل قدر انتظامات کے باعث سپاہی مطمئن سے ہوگئے۔ اور ان کی بے کلی اور بے چینی ختم ہوگئی۔ لنگر کے جاسوسوںنے خبر دی کہ فضا خوشگوار ہوگئی ہے۔ کام ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ گیرژن کا ماحول حسب سابق ہے۔
ادھر بلوچ جنگجو مال مویشی لےے، اونٹ چراتے ، جلانے کے لےے جھاڑ جھنکار جمع کرتے دھیرے دھیرے بچتے بچاتے بروری کی جانب غیر محسوس طور پر بڑھتے ہی چلے گئے۔ چونکہ وہ ایک وسیع علاقے میں حرکت کررہے تھے۔ اور مقامی آبادی ان سے مکمل تعاون کررہی تھی ۔ حساس اداروں، بے حس اداروں اور لیویز کو بھی علم نہ ہوسکا کہ پیش قدمی کرنے والے خطرناک فاصلے تک آپہنچے ہیں۔
سوموار 6مارچ1899 کی ایک یخ بستہ شام کو انہوںنے اپنی پوزیشنوں میں نماز مغرب ادا کی ۔ بعض نے فرط جذبات میں نیام سے تلواریں کھینچ کر نیام توڑ ڈالے۔ جس کا مطلب تھا کہ ایک فتح حاصل ہوگی یا شہادت ۔ آگے آگے بندوقچی(musketeers) تھے ان کے عقب میں شمشیر زن ۔ التزام یہ رکھا کہ میمنہ میسرہ اور قلب ایک ساتھ ایک ہی فاصلے سے یک دم یک بارگی حملہ آور ہوں۔اس کے لےے سختCoordination کی ضرور ت تھی۔ کیونکہ زمین ناہموار تھی۔ جھاڑیاں بھی تھیں اور Terrain یک دم حملے کے لےے موافق نہ تھی۔ اچانک بروری پر تین اطراف سے حملہ ہوا۔ بندوقچیوں نے سب سے پہلے برجی کو کلیئر کیا۔ سرمچار دو سیڑھیاں ساتھ لیتے آئے تھے جن کی مدد سے بروری کے اندر کود پڑے۔ فائرنگ کے تبادلے سے کچھ ہی دیر میں بروری کا گیٹ بندوقچیوں نے چھلنی کرکے توڑ گرایا۔ وہ اس قدر قریب آچکے تھے کہ بندوقچی بھی تلوار سونت کر سپاہیوں پر ٹوٹ پڑے گھمسان کارن پڑا۔ رات کی تاریکی میں گولیوںکی تڑاتڑ بندوقوں کی دھنا دھن اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی گونج تھی ۔ یاعلی ؓ مدد کے نعرے تھے۔ نیٹو سپاہی اسلحہ اور تعداد کی برتری کے باوجود لشکر کو پیچھے نہ دھکیل سکے۔ بلکہ ان کے اپنے پاﺅں اکھڑگئے۔ گھوڑوں اور خچروں پہ بلازین سوار ہوکے سپاہی بھاگنے لگے۔ ایک ایک خچر پہ تین سپاہی سوار ہوئے اب انہیں فرار کا راستہ نہیں مل رہا تھا۔ چونکہ زمین نا ہموار تھی۔ رات کی تاریکی بھی تھی سپاہیوں کو رفو چکر ہونے میں دیر نہ لگی۔جعفر خان سرپرّہ نے ساتھیوں کو تعاقب سے روکا کہ بھگوڑے دشمن کا پیچھا نہ کیا جائے۔ کیونکہ مقصد پورا ہوچکا ہے ۔ بروری کے آلات کو فائرنگ سے سخت نقصان پہنچا تھا۔ شراب کشید کرنے والے خمیر کرنے والے بوتلیں بھرنے والے آلات سبھی چھلنی ہوچکے تھے ۔ برٹش آرمی کے گیاراں سپاہی ہلاک ہوئے تھے جبکہ نو زخمی تھے۔ ہلاک ہونے والوں کو انہوں نے باہر نکالا اور مصفّا زمین پہ احترام سے رکھ دیا۔ پھر زخمیوں کو بھی باہر نکالا جو کانپ رہے تھے کہ تلواروں سے ان کی گردنیں قلم کردی جائیں گی۔ جعفر خان سرپرہ نے انہیں تسلی دی کہ زخمیوں کو قتل کرنا شان مردانگی کے خلاف ہے وہ سبھی نہتے بھی ہوچکے ہیں۔ ان پہ ہاتھ نہیں اٹھایا جائے گا ۔ پھر انہوںنے بروری کوآگ لگادی ۔چونکہ الکوحل کا ذخیرہ تھابس دیا سلائی دکھانے کی ہی دیر تھی۔ آگ بھڑک اٹھی ۔ اور سب کچھ خس و خاشاک ہوگیا۔ چھاﺅنی میں بے بسی سے اس چتاکا نظارہ سب نے دیکھا۔ رات کے اندھیرے میں جوابی حملہ خطرناک ہوتا ۔ کیا عجب گھات لگائے بیٹھے ہوں۔ اگلے روز کمانڈر افسروں کو جھاڑ پلا رہا تھا ۔ سبھی ندامت سے آنکھیں چرائے جارہے تھے۔
” ہماری فائر پاور کہاں گئی؟ جن بندوقوں کی Muzzle Velocity سو ا دو ہزار فٹ فی سیکنڈ ہے انہیںوہ پھکنی نما بندوقوں والے مارکر چلے گئے ۔ تمہارے گھوڑے اور خچر بھی لے گئے اٹھاراں بندوقیں اورساڑھے چار سو روپے بھی لے گئے۔ یہ ہے تمہاری کارکرگی ۔ تمہارا کورٹ مارشل کروں یا استعفیٰ دے کر چلا جاﺅں ؟“ وہ کچھ دیر دانت پیستا ان پہ برستا رہا۔ افسر ایٹنشن کھڑے جھاڑ برداشت کرتے رہے۔ گرجنے برسنے کے بعد اس نے سوچا کہ افسروں کا مورال بھی بلند کیا جائے کافی بل شٹ کرچکا ہے۔
” اب کیا صورتحال ہے “ وہ نسبتاً نرم لہجے میںگویا ہوا ۔ کیپٹن جیمز نے پروگرس بتلائی ” کیولری کے جوان انہیں تلاش کرنے میں ناکام رہے ، تاہم اب تک تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ حملہ آور ریاست قلات کی حدو د میں داخل ہوگئے ہیں شائد ۔ ہم نے لیویز کے کھوجی بھی اس کام پہ لگادےے ہیں۔ وہ نعلوں کے نشان ڈھونڈھتے کافی دور نکل گئے۔ پتھریلی زمین پہ البتہ دشواری پیش آرہی ہے ۔ مگر ہم ان کے پیچھا نہیں چھوڑیں گے ۔ ہمارے وفادار سردار بھی کوشاں ہیں“۔
کمانڈر کو سپاہیوں کے جذبات کا بھی اندازہ تھا ۔ شراب بنا وہ بیکل ہوجاتے ” خیر! لوگ جعفر خان سرّپرہ کو تو بھول جائیں گے۔ مگر ہمارے بروری روڈ کو ہمیشہ یاد رکھیں گے ! ہاں سپاہیوں کے راشن کے لےے جس بھی قیمت پہ ملے شراب حاصل کرلو۔ ورنہ ہمارے افسر اسکاچ وہسکی کے کریٹ لنگریوں کے حوالے کردیں۔ اونٹوں کا بوجھ بھی کم ہوگا۔ سپاہی بھی خوش ہوجائیں گے“۔

Check Also

March-17 sangat front small title

یہ دنیا والے ۔۔۔ بابوعبدالرحمن کرد

(معلم۔ فروری 1951) مہ ناز ایک غریب بلوچ کی لڑکی تھی۔ وہ اکثر سنا کرتی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *