Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » بارش کے قطرے ۔۔۔ عابدہ رحمان

بارش کے قطرے ۔۔۔ عابدہ رحمان

دن کاتیسراپہر شروع ہو رہا تھا۔ سندر بائی ’ناشتے‘ سے فارغ ہوئی۔ وہ آج بڑی گم سم تھی۔ رہ رہ کر اسے رات کو آیا ہوا وہ خوبرو ڈاکٹر یاد آ رہا تھا۔ جانے کیوں وہ ساجد نامی اس ڈاکٹر کے آنے سے کچھ بے چین سی ہو جاتی تھی۔ آج تو سندر بائی نے کپڑے ہی نہیں بدلے۔ سادے سے سفید کرتے پاجامے میں ملبوس اپنی لمبی چٹیا کو بائیں ہاتھ میں پکڑے آگے پیچھے کرتے ہوئے سوچوں میں گم وہ چوبارے کے کبھی ایک ،کبھی دوسرے کونے میں جا کھڑی ہوتی۔
راتوں کو جاگنے والا چوبارہ دن کے سکوت میں ڈوبا ہوا تھا۔ یوں ،جیسے وہ بھی سندر بائی کی طرح سادہ لباس زیب تن کیے رت جگے کی نیند پوری کر رہا ہو۔
ڈاکٹر ساجد پچھلے ایک ماہ میں دو مرتبہ بازار کی رنگینیاں دیکھنے آیا تھا۔ پہلی مرتبہ تو کسی دوست کے ہم راہ تھا۔ عجیب سی بات تھی کہ گھنٹوں بیٹھ کر بھی اس نے کبھی کسی قسم کی فرمائش نہیں کی۔ نائیکہ امیرہ بائی نے کہا بھی کہ جو لڑکی پسند ہو، لے جاؤ۔ لیکن حیرت کی بات تھی کہ دونوں دفعہ اس نے طبیعت کی خرابی کا بہانہ کیا۔ جس پر دوسری مرتبہ تو امیرہ بائی کے ساتھ سندر بائی بھی خاصی بری طرح چونکی تھی۔ امیرہ بائی تو کہہ اٹھی تھی ،’’یا تو آپ مرد نہیں یا پھر فرشتہ ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘۔ کچھ خاص تھا کہ سندر بائی کو وہاں آنے والے ہر مرد کی آنکھوں میں نظر آنے والی بھوک ان آنکھوں میں نظر نہیں آئی اور تب سے ہی وہ اس کے زہن کے کینوس پر قس و قزاح کے عنگ بن کر بکھر رہا تھا اور وہ اس کی یاد سے بچ نہیں پا رہی تھی۔
دیر تلک، سوچوں میں گم سندر بائی چلتے چلتے لان میں پہنچی۔ اچانک صنوبر کے درخت میں چڑیا کے گھونسلے سے چڑیا کا ایک بچہ زمین پہ گر گیا ۔چڑا اور چڑیا بے چینی سے شور مچانے لگے اور سندر بائی کے گرد چکر لگانے لگے۔ سندر کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ اس نے مسکراتے ہوئے جھک کر چڑیا کا بچہ اٹھایا اور ایک اونچی سی شاخ پر رکھ دیا۔
اسی لمحے گیٹ کی گھنٹی بجی اور گیٹ کھلنے پر اسے ساجد آتا ہوا نظر آیا۔ وہ سیدھا سندر بائی کی جانب آیا۔ دونوں خاموشی سے آ کر کرسیوں پہ بیٹھ گئے۔
’’بڑا سندر سا موسم ہے سندر جی۔‘‘ ساجد نے کہا۔
’’ہوں۔۔۔۔۔۔بادل، بارش کا پتہ دے رہے ہیں۔‘‘ سندر بائی نے پلکیں اٹھاتے ہوئے کہا۔
’’بہت خاموش رہتی ہیں آپ۔‘‘
’’آپ کیسے جانئے گا۔ آپ تو دونوں دفعہ ایسے اوقات میں آئے جب پوری فضا بول رہی ہوتی ہے۔ ایسے میں میری خاموشی کسے نظر آتی ہے۔۔۔!‘‘
’’ہوں۔۔۔ لیکن اس وقت تو یہ چوبارہ بلکہ پوری فضا خاموش ہے، اب تو بولیے کچھ۔‘‘
’’پوچھیے۔۔۔کیا پوچھنا چاہتے ہیں۔۔۔!‘‘
’’کب سے ہو یہاں؟‘‘
’’ اپنی زندگی کی پہلی سانس ہی چوبارے کی ان فضاؤں میں لی۔۔۔ ازل سے ہوں ۔‘‘
’’کبھی سوچا یہ سب چھوڑنے کو؟‘‘
’’کیا فرق پڑتا ہے میرے سوچنے سے۔‘‘
’’میرا مطلب ہے آپ کو نہیں لگتا کہ یہ سب گناہ ہے؟‘‘
’’گناہ کیا ہوتا ہے۔۔۔؟‘‘ سندر بائی نے سوال کیا۔
’’ یہ مجرا، مردوں سے تعلقات، طوائف کی طرزِ زندگی، کیا یہ گناہ نہیں؟‘‘
سندر بائی نے ہنسنا شرو ع کر دیا۔
’’آپ چائے پیتے ہیں ساجد صاحب؟‘‘
’’ جی بالکل، بہت زیادہ۔‘‘
’’ اور سگریٹ؟‘‘
’’جی، وہ بھی۔‘‘ ساجد ،سندر بائی کے سوالوں میں حیران حیران اسے دیکھنے لگا۔
’’اچھا، یہ بتائیے، شراب کتنی پی لیتے ہیں؟‘‘
’’شراب کو تو کبھی ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘
’’تو بس یہی آپ کا گناہ ہے۔‘‘ سندر بائی نے پیچھے ہوتے ہوئے کرسی سے ٹیک لگائی۔
’’میں سمجھا نہیں۔‘‘
’’ساجد صاحب، گناہ وہ نہیں جو باری تعالیٰ نے بنایا۔ دراصل انسان نے اپنے لیے جو حد مقرر کر لی، اسے سے آگے بس گناہ ہے۔ آپ سگریٹ پیتے ہیں تو خیر ہے، لیکن شراب نہیں پیتے تو وہ آپ کے لیے گناہ۔ کہیں جو آپ شراب پیتے تو تب وہ گناہ کے زمرے میں نہ آتا۔ہاں ، جنسی تعلق اس وقت گناہ ضرور بن جاتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔کہاں کا گناہ اور کہاں کا ثواب ساجد صاحب۔ گناہ کے لیے تو ہم سب نے اپنی اپنی حدود مقرر کر دی ہیں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ سندر بائی آسمان کی طرف دیکھنے لگی۔ ہلکی ہلکی پھوار پڑنا شروع ہو گئی تھی۔ سندر بائی نے اٹھ کر اندر جانے کے لیے قدم بڑھائے۔ ساجد بھی اس کے قدم سے قدم ملاتے ہوئے اندر آ گیا۔
’’بڑی قسمت ہے ہمارے چوبارے کی، ساجد صاحب کہ آپ تشریف لائے ہیں۔ ‘‘ نائیکہ امیرہ بائی نے ساجد کے آتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔ساجد ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ سندر بائی ساتھ والے کمرے میں جا نماز ڈال کر نماز ادا کرنے لگی۔ ساجد ،طوائف کو نماز پڑھتے حیرت سے دیکھتا رہا۔ دوسری جانب طوائف ، رات کے مجرے کی تیاریاں کر رہی تھیں۔
حسن، خوب صورتی، حسین اندازِ گفت گو، دین ودنیا کے امتزاج میں ڈھلی یہ نازک طوائف ساجد کے دل و دماغ پہ چھائے جا رہی تھی۔
’’آپ کو انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی۔ ‘‘ جانے کب امیرہ بائی جا چکی تھی اور سندر بائی چائے کی ٹرے لیے کھڑے تھی۔
’’نہیں، نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ ساجد نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
’’بیٹھئے۔‘‘ سندر بائی نے بیٹھتے ہوئے کہا۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ساجد نے سوال کیا؛’’ آپ کو کبھی کسی سے محبت ہوئی؟‘‘
’’نہیں۔۔۔۔۔۔ساجد صاحب، مردمیرے لیے بارش کے ان قطروں کی مانند ہیں جنھیں میں اپنے لباس میں جذب ہونے سے پہلے ہی جھٹک دیتی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے کبھی یہاں سے جانے کا سوچا ہی نہیں۔‘‘
’’کیا وجہ پوچھ سکتا ہوں آپ کے اس رویے کی؟‘‘
’’ساجد صاحب، عورت اس بازار، ان چوباروں میں ہی نہیں لٹتی بلکہ نام نہاد شرفا کے ہاتھوں اپنے ہی گھر میں بھی عورت لٹتی ہے۔۔۔۔۔۔آپ کیا سمجھتے ہیں کہ لوٹ صرف جسمانی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔؟؟ نہیں۔۔۔۔۔۔ جذباتی، ذہنی لوٹ کھسوٹ بھی جسمانی لوٹ کی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ عورت چاہے طوائف ہو ، چاہے شریف،کہی جسمانی طور پر لٹتی ہے تو کہیں جذباتی طور پر۔۔۔پتہ نہیں اصل طوائف مرد ہے کہ عورت۔۔۔ہاہاہا۔‘‘ سندر بائی ہولے ہولے ہنسنے لگی۔ ’’ کیوں کہ تعلق تو ایک جیسا ہی ہوتا ہے دونوں میں۔۔۔۔۔۔ فرق صرف اتنا ہے کہ طوائف کا یہ پیشہ ہے ، وہ روزانہ ہزاروں مردوں سے ملتی ہے ،مجرا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔ہر ایک سے اسے محبت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ لیکن جس سے ہوجاتی ہے تو اپنا سب کچھ اس پہ وار دیتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ جب کہ مرد کو پر عورت، ہر طوائف سے محبت ہوجاتی ہے، پھر وہاں اپنی نشانیاں چھوڑ کر وہ بھاگ جاتا ہے اور پھر شرافت کے تخت پہ بیٹھ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ساجد صاحب، ہمارے ہاں عورت تو رنڈی ہو جاتی ہے لیکن جس بھڑوے کے ساتھ رنڈی بنتی ہے وہ ساری عمر شریف رہتا ہے۔۔۔۔۔۔ کتنا تضاد ہے ہماری سوچ، ہمارے رویوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ سندر بائی بولتی چلی گئی۔
’’بہت تلخی ہے آپ کے لہجے میں۔‘‘ ساجد نے جھرجھری لی۔
’’ایک عجیب سی بات ہے ساجد صاحب! مرد ہی عورت کو لوٹتا بھی ہے اور مرد ہی عورت کا محافظ بھی ٹھہرتا ہے۔۔۔۔۔۔ ایک مضبوط اور بہادر عورت کو بھی آخر کیوں ایک گدھے کی ضرورت رہتی ہے۔۔۔۔۔۔ کیوں مردوں کو عورت کا محافظ ٹھہرایا جاتا ہے؟۔۔۔۔۔۔ شاید۔۔۔شاید اس لیے کہ دنیا کے باقی کتوں سے بچنے کے لیے کسی ایک کتے کو اپنے پلے باندھ لینا ضروری ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ شاید چاروں طرف منہ کھولے کتوں کی لوٹ کھسوٹ سے بچنے کے لیے کسی ایک کتے کو اپنا محافظ ٹھہرانا مجبوری بن جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ چاہے ساری عمر وہ ایک کتا اس کی عزتِ نفس سے کھیلتا رہے۔۔۔۔۔۔ اسے لوٹا کھسوٹتا رہے۔۔۔۔۔۔!‘‘
سندر بائی ساجد کو سوچوں میں گم چھوڑ کر تیار ہونے لگی۔ آج اس کا مجرا تھا اور دھوم تو دُور دُور تک پہنچی تھی۔ چوبارہ جاگ گیا تھا۔ تماش بین جمع ہو نا شروع ہو گئے تھے۔ شہر کے بڑے بڑے نواب اور امرا آ رہے تھے۔ ساجد ان میں ایک ہارے ہوئے جواری کی مانند بیٹھا خلاؤں میں جانے کیا تلاش کر رہا تھا۔
سندر بائی لمبی سی فراق ،چوڑی دار پاجامے کے ساتھ زیب تن کیے آئی۔ لمبی سی چوٹی میں گجرے پروئے، ماتھے پہ ٹیکہ سجائے اور پاؤں میں گھنگرو باندھے بڑے ناز سے اٹھلاتی چلی آ رہی تھی۔ اس قدم تو جیسے ساجد کے دل پر پڑ رہے تھے۔ وہ سندر بائی کے حسن کو دیکھ کر مدہوش ہوئے جا رہا تھا۔ سندر بائی کی گفت گو ، اس کا حسن، اس کی پوری شخصیت ساجد کو اپنے حصار میں لیے جا رہے تھے۔ اس کے سامنے وہ خود کو بہت کم زور پا رہا تھا۔
سندر ، امیرہ بائی کی اجازت سے مجرہ شروع کر چکی تھی اور ساجد دل کی دھڑکن کو قابو کیے رقص سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ لیکن وہ رقص سے زیادہ سندر میں کھویا دیا۔
محفل اپنے عروج پہ پہنچ گئی۔
موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ ساجد کی بے چینی بڑھ گئی۔ دل کے تار تیزی سے بجنے لگے۔۔۔۔۔۔اور اس سے سُر کی جو آواز آ رہی تھی ،ساجد اس سے۔۔۔انجان بننے کی کوشش میں آگہی کے عذاب سے گزر رہا تھا۔۔۔۔۔۔اس کے اندر ایک نیا احساس جنم لے رہا تھا۔
وہ محبت کے جام کے جام پی چکا تھا لیکن ۔۔۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا ۔۔۔۔۔۔اور آج وہ خود سے چھپ نہیں پا رہا تھا۔
محبت کے احساس سے پوری فضا جھوم رہی تھی۔۔۔۔۔۔ ہوا، بارشم فضا، سانسیں سب۔۔۔۔۔۔سب کچھ اس جذبے کی گواہی دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔ کائنات کا ذرہ ذرہ باخبر تھا کہ محبت،ساجد کے دل میں وحی بن کر اتری۔۔۔۔۔۔!
محبت سے سرشار۔۔۔محبت کی شراب میں مدہوش، محفل سے بے پرواہ ہو کر وہ چوبارے کی سیڑھیاں اترتے ہوئے نکل گیا۔۔۔۔۔۔!!
بارش تیز، اور تیز ہوتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔ رقص کرتے کرتے سندر بائی ڈگمگا گئی۔۔۔۔۔۔خود کو سنبھالتی، گھنگھرو چھنکاتی باہر کو لپکتی۔۔۔۔۔۔بارش میں بھگتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔
بارش اس کے لباس تو کیا، اس کے اندر تک میں جذب ہوتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔
لیکن۔۔۔سندر بائی کو دامن جھٹکنے تک خیال تک نہیں آیا۔

Check Also

March-17 sangat front small title

یہ دنیا والے ۔۔۔ بابوعبدالرحمن کرد

(معلم۔ فروری 1951) مہ ناز ایک غریب بلوچ کی لڑکی تھی۔ وہ اکثر سنا کرتی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *