Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » ایک پل اور یہ صدی ۔۔۔۔۔۔۔ علی بابا/ننگر چنا

ایک پل اور یہ صدی ۔۔۔۔۔۔۔ علی بابا/ننگر چنا

رات ہے اور سنگم ہے ایک لڑکے اور لڑکی کا۔
جس طرح ہر پل کا اپنا سحر ہوتا ہے،اس طرح رات کا بھی اپنا فسوں ہے، اپنے تارے ، تجلیاں ہوتی ہیں۔ اور وہ دونوں بھی قسمت سے ملے ہیں۔ تین چار مہینوں کے بعد ، دونوں کے پاس روٹھنے کے اپنے اپنے جواز ہیں اور اپنے اپنے دل کے بہانے۔
” بتاﺅ …….. کیا دیکھا ہے مجھ میں ؟ …….. کیا ……..اس طرح راستہ پکڑ کر کھڑے ہوجانے سے تمہیں کیا ملے گا ؟…….. ہاں ! …….. بتاﺅ نا …….. کیا ملے گا ……..؟“۔
” راستہ؟ میں تو اپنے راستے پہ جارہا تھا ! بھلا مجھے کیا پتہ تھا کہ تم بھی ٹہلتی ہوئی اسی طرف سے آﺅ گی ! …….. کیا پتہ کہ یوں ہی اچانک مدبھیڑ ہوجائے گی……..! سچ اگر پتہ ہوتا کہ تم ہو تو میں راستہ بدل لیتا …….. “۔
” کیوں ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم concious ہو۔Gilt ہے تمہارے اندر۔ ایسا ہی ہے نا ……..؟“۔
” نہیں۔ ایک وقت تھا کہ مجھ میں سونا بھرا ہوتا تھا او ر اب ……..! اب تو سیسہ بھی نہیں ہے۔ میں نے تو تمہاری طرف دیکھا بھی نہیں ہے“۔
” نہیں ۔ میرے قریب سے گذرتے ہوئے تم تردد میں پڑ کر رک گئے تھے “۔
” میں انکار تو نہیں کررہا ۔ یہی ہوا ہوگا ۔ بھلا تیری ایسی عورت کو دیکھ کر اگر آدمی ایک لمحہ کے لےے حسن و جمال کے سحر میں جکڑ کر ہوش و حواس گم کر بیٹھے تو یہ جرم ہوا کہ فریب ؟ …….. میں …….. میں تو نیم وا کلّی دیکھ کر بھی اس کے سحر میں کھو جایا کرتا ہوں“۔
”دیکھو…….. اچھی طرح سمجھ لو کہ میں نا ، آک کی کلی ہوں، گلاب کی نہیں“۔
” ہاں ۔ وہ تو تم ہو“۔ وہ گہری سانس لے کر اس کے زلفوں کو تکنے لگتا ہے ۔ آوارہ جٹائیں کہ جیسے کالی گھٹائیں اڑتی جارہی ہوں اور رات ……..رات شام کے وقت مہکتے ہوئے درخت کی چھایا کی طرح بڑھتی ، ٹھنڈی ہوتی جارہی ہے۔
” سُنو ! دن میں سپنے دیکھنا چھوڑ دو، کچھ نہیں ہاتھ آنے والا“۔
لڑکی غصے بھری نظروں سے اُسے دیکھتی ہے اور وہ چوٹ کھا کر بھی مسکرا دیتا ہے ۔ دونوں بچھڑ جانا چاہتے ہیں لیکن بچھڑتے نہیں۔ وہی راستہ ہے اور دونوں کے ٹہلنے کی رفتاربھی وہی ہے اور دونوںڈرنا بھی نہیں جانتے۔ پریشانی نہ ڈر، بات چیت نہ کوئی آواز ۔ دونوں ایک پَل کے لےے نزدیک آکر پھر الگ ہوکر تارکول کی سڑک کے متوازن کناروں پر چلنے لگتے ہیں۔ وہ سڑک کے اُس پار اور یہ سڑک کے اس طرف، درمیان میں ہیں تارکول کی سیاہ پٹیاں، دھبے دھبے بنی سڑک اور چاندنی رات میں سڑک کے اطراف ایستادہ شرینہہ کے درختوں میں ہلکورے کھاتی، مہکتی ہوئی ہوا کے جھونکے۔ وہ لڑکی کو نظر انداز کےے دور پہاڑی پر بنی اونچی عمارت کی روشنیوں کو دیکھنے لگتا ہے ۔ یہ عمارت اسے بہت اچھی لگتی ہے ، پتہ نہیں کیوں؟ شاید اس لےے کہ اس میں رہتا ہے اس پورے علاقے کا انچارج اور اس کا پرانا ساتھی، دوست۔ وہ پھر لڑکی کو تکنے لگتا ہے ۔ لڑکی سادہ لباس میں مونا لینزا ، وینس، قلو پطرہ ، کرائیسیا اور مومل جیسی لگتی ہے ۔ نہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ سندر ۔وہ چلتے چلتے کھو جاتا ہے اور اپنے آپ بھنبھناتا ہے:
” تو بہ۔ سمئے ہے یا وید کال سے بھی کسی پرانے کال کی چمکتی ہوئی اُجلی چودھویں کی رات!“۔
اور فرلانگ بھر کھڑی عمارت کی روشنیوں میں کچھ ڈھونڈتے ہوئے اچانک ٹھٹھک جاتا ہے اور پھر لڑکی کو دیکھنے لگتا ہے ۔ درد انگیز آواز کوئل کی کوک ایسی، زخمی کرتی، تڑپاتی ہوئی۔
” کہیں تم جان بوجھ کر تو فاصلہ نہیں بڑھا رہے ہو؟ تم تو ہمیشہ اس موڑ سے walk کرتے ہوئے مڑجایا کرتے ہو۔اگر ایسا ہے بھی تو مجھے پتہ ہے کہ کیوں ہے“۔
” تم جو چاہو سمجھو ۔ میری راہوں کا تو مجھے بھی پتہ نہیں ہوتا۔ میں نے انسانی سوسائٹی سے اپنے آپ کو بہت دور کرلیا ہے ۔ میرا راستہ صرف میرا ہے ، کہیں ختم نہ ہونے والا راستہ ۔” وہ درشت آواز میں جواب دیتا ہے اور اس کی گردن جھکی ہوئی ہے اور پھر وہ اچانک بھڑک اٹھتا ہے ، کچھ کرختگی اور ملائمت کے ملے جلے انداز میں کہتا ہے :” اچھا بھئی ! تم نے جیسا بھی سمجھا ہے ، اگر اسی طرح ہی ہے تو تمہیں اس سے نقصان کیا ہے ؟ یوں سمجھو کہ تیرے قدموں کی آہٹ سے میں ایک طرح کا سکون پا رہا ہوں ۔ایک وارفتگی کی کیفیت ہے جو مجھے جکڑتی جارہی ہے ، کوئی خواب ہے کہ میں دیکھے جارہا ہوں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر میں نے اپنا ہاتھ بلند کیا تو چندا میری ہتھیلی پر آجائے گا۔ بتاﺅنا…….. تمہیں اس سے کیا گزند پہنچ رہی ہے۔ تمہیں کیا پتہ کہ آدمی تمہیں کیسے کیسے اور کس کس انداز سے دیکھتے ہوں گے !؟ کل تمہارا چپڑاسی بتارہا تھا، سائیں! قسم قرآن کی ،بڑے شان مان والی، راجیشوری عورت ہے “۔
” اچھا…….. تو تم اب میرے چپڑاسی تک بھی پہنچ گئے ہو “۔ وہ ایک دہکتا الاﺅ بنتی جارہی ہے ۔
” ارے بھئی! تم تو یونہی بکے جارہی ہو ۔ وہ چپڑاسی میرا پرانا یار ہے ۔ اُس زمانہ کا ، جب تم نے حیدر آباد دیکھا بھی نہیں ہوگا۔ ہمارا بہت اچھا یارانہ ہے، سگریٹ کا یارانہ“۔
” چرس والا سگریٹ نا؟“۔
” نہیں…….. قسم سے ۔ مجھے تو بالکل پتہ نہیں کہ وہ چرس پیتا بھی ہے یا نہیں۔ میں بھی نرااحمق ہوں ، میں تو اپنے ساتھیوں کی کوئی خبر تک نہیں رکھتا“۔
” ہاں نا۔ بچارے چپڑاسیوں کے حال سے کیوں کر واقف رہا جائے گا۔ خبر رکھی جاتی ہے اپنے سٹینڈرڈ والوں کی۔ سچ بتاﺅ ، کتنی مرتبہ چرس پیاہے ؟“۔
” میرے خیال میں موجود ہ امریکن پریذیڈنٹ سے بھی دو چار مرتبہ زیادہ پیا ہوگا ۔ ایک ٹکیہ میں تو یوکلپٹس کے پتوں کی ملاوٹ تھی، مجھے تو ذرہ بھی مزا نہیں آیا ، میں نے بہت کوشش کی ۔ اس سے تو گولڈ فلیک سگریٹ اچھا ہوتا ہے۔ واہ! کیا شاندار پیکٹ ہوتا ہے ۔ بوسکی کی جیبوں سے نظر آنے والا پیلا زرد پیکٹ ۔ میں نے ہزاروں کے حساب سے پئے ہوں گے ۔ گولڈ فلیک! …….. ہاں، وہ مجھے میرے بچپن کی گرل فرینڈ سپلائی کیا کرتی تھی، گُروس کے حساب سے۔ پتہ ہے کیا کہتی تھی؟“
” کیا !؟“۔
” آ سگریٹ منہ میں لائے تھو، منی،’جدی‘ فلم رو دیو آنند لاگے ہے“۔ اس کی آواز بھراجاتی ہے ۔
” لیکن تم تو مجھے ہیپی لگتے ہو“۔ وہ کچھ روٹھنے والے انداز میں کہتی ہے۔
”Really۔ میں تمہیں ہپیوں جیسا لگتا ہوں۔ ہِپی تو بہت شاندار لوگ ہوتے ہیں۔ شاہ کی طرح بستی بستی گھومنے والے، پھِرنے والے“۔
” کیا تم ہِپی نہیں ہو؟“۔
” نہیں…….. لیکن تم آج ایسے سوال کیوں کررہی ہو؟ تم تو ایسے پوچھ گچھ کررہی ہو جس طرح لڑکیاں شادی کرنے سے پہلے اپنے بوائے فرینڈ کے ہرراز کو ڈھونڈ نکالتی ہیں ، گڈ(Good) ، اور بیڈ(Bad) دونوں“۔
” مِسٹر! زبان سنبھال کر بات کرو۔ میری شادی ہوچکی ہے“۔
” میں بھی کوئی کنوارہ تو ہوں نہیں ۔ گھر میں جوان یا بوڑھی لیکن بچوں کے ریوڑ کے ساتھ مدھو بالا جیسی بیوی بیٹھی ہے ۔ اب ٹھنڈی ہوا کے مزے لیتی سورہی ہوگی“۔
” اور تم یہاں کیا کرنے آتے ہو؟“۔
” میں اپنی مرضی کا مالک ہوں، بچپن سے ہی زور آور ۔ کیوں کہ میں سندھو میں نہا نہا کر بڑا ہوا ہوں۔ آج شام اگر کہیں سے سو روپے مل جاتے تو میں اس وقت سندھو میں چپُّو سے کھیل رہا ہوتا۔ مجھے چپُّو چلانے میں بڑا لطف آتا ہے “۔
اچانک دونوں کے کندھے ایک دوسرے سے چُھو جاتے ہیں اور وہ بجلی کا جھٹکا سا محسوس کرکے تھوڑا سا دورہوجاتے ہیں۔
” تم نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے “۔
” نہیں ۔ ہم باتیں کرتے ہوئے خود بخود ایک دوسرے کے قریب آگئے تھے ۔ باتیں کرتے یا جھگڑے ہوئے، ایسا ہی ہوتا ہے “۔
” ہوتا ہوگا“۔ وہ پھر سڑک کے الگ الگ کناروں پر خاموش، سَرنیہوڑائے چلنے لگے۔ وہ اُترے ہوئے چہرے اور کلائی سے پسینہ پونچھتی ہے اور لڑکا…….. لڑکا بڑی انگڑائی لیتے ہوئے گہری سانس لیتا ہے۔
اور ایک پَل کے لےے چھا جاتی ہے دونوں کے درمیان ایک تڑپانے والی، دم کشیدہ خاموشی۔
” تم کب تک walkکرو گے؟“۔
” تم کہو تو میںwalkکرنے کے بجائے اس بستی سےwalk outکر جاﺅں ، ہمیشہ کے لےے …….. کہونا“۔
” میں کیوں کہوں؟“۔ پھر ایک لمحے کے لےے دونوں خاموش ہوکر چلتے رہتے ہیں۔ دونوں کے بڑے بڑے پائنچے ہوا میں پھڑکتے رہتے ہیں۔ کچھ دیر کے بعد لڑکی بے رُخی سے کہنے لگتی ہے:
” میں سب سمجھتی ہوں۔ میں جا دو گرنیوں کی طرح لوگوں کے دل میں چھپا ہر لفظ پڑھ لیتی ہوں۔ میں بولڈ(Bold) عورت ہوں۔ تجھے جو کچھ کہنا ہے ، کہہ دے ۔ یا تو پھر تم نے صرف مجھے بدنام کرنے کے لےے اتنے کشٹ کاٹے ہیں۔یہ تو سستی شہرت ہوئی ہے نا؟“۔
لڑکی کی بات پر لڑکا کھلکھلا کر ہنس دیتاہے۔
” ایک طرف بولڈ ار دوسری طرف بدنامی کا خوف ۔ میں نے تو تمہیں اتنا کمزور کبھی نہیںجانا تھا ۔ قسم قرآن کی ……..تم تو یونہی اول فول بک رہی ہو ۔ تم رولڈ گولڈ نہیں بلکہ گوشت پوست کی زندہ، جیتی جاگتی عورت ہو۔ جس طرح پرانے ےُگوں کی دیویاں ہوتی تھیں۔ اگر تجھے کرشن مہاراج بھی دیکھے تو پتھر کی مورت ہوجائے۔ تم نے کبھی کرشن مہاراج کی مورتی پر غور کیا ہے “۔
” نو …….. نو ، جینٹلمین ! زیادہ تعریف کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ سب کچھ مایا ہے ۔ تم بھلے اپنے آپ کو کرشن سمجھتے رہو “۔
” نہیں ۔ سب کچھ ایک مقصد رکھتا ہے ، حقیقت ہے۔ صرف خود آدمی کو بے مقصد نہیں ہونا چاہےے“۔
” ہوں…….. ہاں ۔ یہ بات تم نے بہت شاندار کہی“۔
”Thanks…. سُنو ! ایک عرض کروں“۔
” کھل کر بات کرو۔ Say Openly۔ مجھ میں سننے کی سکت ہے “۔
” تم اُس طرف ، میرا مطلب ہے کہ چاند اس طرف ہے ، اس لےے تم اس طرف چلونا …….. پلیز……..!“۔
” چاند والی سائیڈ کیوں؟…….. میں نہیں سمجھی……..“۔
” دیکھو نا ، اس طرف چاند ہے۔ تم سڑک کے بائیں کنارے چلو اور میں دائیں۔ اب بس دو فرلانگ ہی رہ گئے ہیں“۔
” لیکن کیوں؟…….. عجیب قسم کا پاگل پن ہے ……..!“۔
” ہوشیاری ہے ، عقلمندی ہے ۔ آج تم نے پرفیوم بہت اچھی لگائی ہے ۔ چاند کی دھیمی روشنی، جھومتے ہوئے درخت اور خوشبو ۔ قسم قرآن کی ، میں کچھ بھی نہیں بولوں گا، کوئی حد پار نہیں کروں گا۔ بس صرف محسوس کروں گا کہ چودھویں کی رات میں کوئی سایہ خوشبوئیں بکھیرتا جارہا ہے ۔ ہوسکتا ہے آج کی رات میرا موڈ کوئی پینٹنگ بنانے کا ہوجائے اور مجھے کہیں سے سو روپے مل جائیں۔ سو روپے میں بکتی ہے ایک پینٹنگ “۔
” مجھے کیا پڑی ہے ؟“۔
” لیکن یہ ایٹی کیٹز(etiquetts) اور مینرز(Manners) کا بھوک کیوں؟ ہِپی لڑکے اور لڑکیاں تو چلتے ہی ہواﺅں کے الٹ رُخ پر ہیں بغیر کسی کے کہنے کے تاکہ آتے جاتے تھکے ماندہ لوگ ان کے جسم کی خوشبو میں اپنے ارمان پورے کرتے جائیں۔ دنیا میں رہ جانی بھی تو بس یہی خوشبو ہے “۔
Okay” “ وہ ناراض ہوکر سڑک کے مطلوبہ کنارے چلی جاتی ہے اور لڑکا چاند کو تکتے ہوئے اس کے الٹ کنارے، خوشبو کے کسی جھونکے میں کھویا ہوا ، مگن ہوکر چلتا رہتا ہے۔
اور دو سائے چاندنی میں چلتے آرہے ہےں ایک دوسرے سے کچھ فاصلہ رکھ کر ۔ روٹھے، کھوئے ، بے چین، بُجھے بُجھے سے اور ستارےTwinklingکرتے رہتے ہیں اور جدا ہونے کا موڑ قریب آتا جارہا ہے ۔ اچھا خاصہ دور چلنے کے بعد لڑکی اچانک Turnلیتی ہے۔
” تم مجھے روگی لگ رہے ہو۔Psychic۔ تم نے میرےNight Walkمیں رکاوٹ ڈالی ہے۔ مجھے سَر میں درد ہونے لگا ہے“۔
” ہم سب مریض ہیں۔ میں دل پر بوجھ محسوس کررہا ہوں۔ پوری انسانی سوسائٹی بیمار اور حواس باختہ ہے ۔ نیچ ہے ۔ نفر ت کے لائق “۔
” کیسے …………؟ کچھ سوچا بھی ہے کہ تم پوری انسانی سوسائٹی پر کیچڑ اُچھال رہے ہو!“۔
” ہاں ۔ میں سوچ سمجھ کر بولتا ہوں۔ اگر سوسائٹی کو ازل سے اسی طرح ہی چلنا تھا تو پھر میں ایسی سوسائٹی پر تھوکتا ہو ں۔ اگر کبھی میرے ہاتھ میں کوئی کچرہ دان آگیا تو میں سماج کو بہ بانگِ دہل اس میں پھینک دوں گا ۔ میں بہترین سُپر لیڈر ہوں۔ تم نے کبھی خاکروبوں کے لمبے لمبے نوکیلے تنکوں والے جھاڑﺅں پر سوچا ہے ، جن سے وہ ہماری سڑکیں ، گھر اور کچرہ صاف کرتے ہیں؟ اس جھاڑو کی مدد سے آدمی، آدمی سے تو کیا افریقہ کے شیر سے بھی لڑسکتا ہے ، اسے نچا سکتا ہے“۔
” درمیان میں یہ جھاڑو پھر کہاں سے آگیا ؟“۔
” اس لےے کہ Good Human Society کو اسی جھاڑو نے جنم دیا ہے “۔
” تمہارے خیال میںGood Human Society ہے کیا ؟ اگر ہے تو کہاں ہے ؟“۔
” ہر جگہ ہے ۔ ہم دونوں ساتھ چل رہے ہےں۔ کیا ہم آپس میں اچھی باتیں نہیں کررہے ہیں؟ کیا یہ کچھ کم ہے کہ تم نے میرے لےے خوشبو کے سارے دریچے وا کردےے ہیں۔ مجھے پتہ تھا کہ تم ایک شاندار عورت ہو ، تبھی تو تجھ سے عرض کیا تھا۔ سچی بات ہے ، آج مجھے سپنوں بھری نیندآئے گی ۔ پتہ نہیں کتنے برسوںسے میں نے کوئی سپنا ہی نہیں دیکھا ……..!“ وہ گلو گیر لہجے میں بات کرکے گہری سانس لیتا ہے اور اس سے پہلے کہ رو پڑے، ٹھہر جاتا ہے اور جاتی ہو ئی لڑکی کو دیکھتا رہے ہے۔ لڑکی مڑ کر بھی نہیں دیکھتی ، جیسا کہ وہ ہمیشہ دیکھا نہیں کرتی ۔ وہ لوٹ جاتا ہے اور جھنجھلا کر اچانکU Turn لیتا ہے ، دو چار قدم دوڑ کر چلاتا ہے۔
” سنو تو …….. مجھے تمہاری ضرورت ہے ، شدید ضرورت ہے ۔ زمین کے گولے سے بھی بڑی ضرورت ہے “۔
خاموشی …….. تن کر پتھر ہوچکی دو مورتیں ۔ برف کی طرح جَم چکے نَین۔
( دونوں بڑی تکلیف میں ہیں اور پھر آہستہ آہستہ لڑکی کا چہرہ تانبے کی دہکتی درانتی کی طرح سوالیہ نشان بن جاتا ہے )۔
” تم ہی میری ضرورت ہو ۔ اس پر تھوی پر تم میری سب سے بڑی ضرورت ہو ۔ کیا تم ہمارے کسی کام نہیں آسکتی ؟“۔
” کیسا کام ؟“۔ کچھ قدم آگے بڑھ چکی لڑکی بھی اب خاموش کھڑی ہے ۔
” دیکھو نا …….. پرتھوی اچھے اور بُرے ہر طرح کے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ صدیوں سے کچھ آدمی دھرتی پر جنگیں اور دنگا فساد کرتے اور کچھ دوسرے آدمی اسے سُور گ بنانے کے لےے زہر کے کٹورے پیتے آئے ہیں۔ اس دھرتی کو جنت بنانا تو اب بچوں کے کھیل جیسا ہے ۔ یہ صدی سائنس کی سب سے بڑی صدی ہے ۔ اسی صدی میں ہمیں پتہ چلا ہے کہ موت پر فتح پانا ممکن ہے ، بہر صورت ممکن ہے۔It’s not an impossible mission اور ایسی سوچ رکھنے والوں میں سے مَیں بھی ایک حقیر آدمی شامل ہوں“۔
“You mean … control on death is possible?”
” Yes very very possible mission, very very easy and possible. I need you because you are genious. You can’t imagine which kind of a lady you are?”
وہ بڑی امید کے ساتھ، بڑی حلیمی کے ساتھ اس کی منت کرتا ہے ۔
” کیا تمہیں اعتبار نہیں آرہا ؟ سچ کہہ رہا ہوں …….. موت پر قبضہ میرے لےےHundred Percent Sure ہے ۔ لیکن …….. لیکن میرا اور تمہارا یوں پھر یوں اتفاق سے ملنا بھی بہت مشکل ہے …….. میں…….. میں تو اس بات کے لےے خواب میں بھی امید نہیں رکھ سکتا، اور خواب …….. خواب نجات یافتہ آدمی ہی پسند کرتے ہیں۔ مجھے تو ہر گھڑی یوں لگتا ہے کہ جیسے میرے بنواس کا انت موت پر قبضہ کے بعد بھی نہیں ہونے والا “۔
“Okay, Good night, My love to your little kids, Bye”
اور وہ اسے دیکھے بغیر درخت سے ایک پتہ توڑ کر منہ میں ڈالتا ہے ، تیزی سے U Turn لیتا اور سُبک فرام ، سیٹیاں بجاتا ہوا جارہا ہے ، دبی مسکراہٹ ہے اس کے ہونٹو ں پر اور نینوں میں ہے ایک میٹھے درد کا عکس۔ اور چاندنی رات میں خوشبو میں بسی عورت اوردرخت ٹھنڈی سانسیں بھرتے رہتے ہیں۔

Check Also

April-17 front small title

اوورٹائم ۔۔۔ س۔ م ۔ساجد

آج سویرے ہی شیفالی کی آنکھ کھل گئی اور اس کے کانوں میں جب چاروں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *