Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » ایک عہد ساز شخصیت جی آر ملاّ ۔۔۔۔غنی حسرت

ایک عہد ساز شخصیت جی آر ملاّ ۔۔۔۔غنی حسرت

سرزمین بلوچستان جس طرح وسیع و عریض ریگزاروں ، کوہساروں اور کھیت کھلیانوں کا حامل ہے۔ اسی طرح یہ دھرتی مردم خیر علمی و ادبی اعتبار سے بھی اپنی جداگانہ حیثیت رکھتی ہے ۔ یہاں کا ادب نہایت فکر انگیز اور تاریخی و تبدیلی ہم آہنگ کی آمیزش سے مزین ہے۔ یہاں کے شعراءو ادبا کے فکر و فلسفہ اور موضوعات میں قومی شعور کے ساتھ ہی اپنی زبا ن و ادب سرزمین سے مہرومحبت اور انسانیت دوستی کا عناصر جا بجا ملتا ہے۔ اپنے فکر و فلسفہ کے باعث وہ دنیا سے رحلت کرنے کے بعد بھی لوگوں کے دل و دماغ میں زندہ رہتے ہیں صدیوں بھی بھی انہیں نہیں بھول سکتے۔ وہ اپنے کفن میں نہیں بلکہ اپنے فکروفن میں پوشیدہ ہوتے ہیں ۔ ایسے ہی شعرا میں معتبر نام بلوچی زبان کے نامور شاعر ادیب نگدکار و واجہ جی آر ملاّ کا ہے۔ ان کی ادبی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے گذشتہ روز نصیر کبدانی لبزانکی دیوان خاران کے زیر اہتمام ایک یادگار سیمینار جی آر شاری کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ جس میں ٹیچرز ، صحافی حضرات طلبا ءسمیت ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی ۔ سیمینار تین سیشن پر مشتمل تھا۔ پہلے سیشن میں جی آر ملا کے فکر و شخصیت اور ادبی کارناموں کے حوالے سے مقررین نے سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے انہیںخراج تحسین پیش کی۔ اس پر وقار تقریب کے اسٹیج پر نصیر کبدانی لبزانکی دیوان کے چیئرمین جی آر شاری نامور صحافی طارق رفیق اور بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل زبیر بلوچ جلوہ افروز تھے جبکہ توقیر زرمبش نے نظامت کے فرائض سرانجام دےے۔ سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے جی آر شاری نے کہا کہ جی آر ملاّ اجتماعی سوچ کے حامل کے شاعر تھے۔ اقبال اور فیض کی طرح ان کی شاعری میں بھی اکثر نوجوانوں کو ہمت حوصلہ اور بیداری کا درس ملتا ہے جی آر ملا عام فہم مگر پختہ فکر خیال شاعر تھے ۔ انہوں نے سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کے قیام سے لے کر بلوچی زبان کی پہلی لغت سید گنج کی اشاعت تک بلوچی زبان کے ہر پہلو اور ہر میدان میں صف اول کے لوگوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کو فراموش کرنا اپنے قومی تشخص سے انحراف کے مترادف سمجھا۔
نامور صحافی واجہ طارق رفیق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج میں بہت خوشی محسوس کررہا ہوں کہ میں شعراءو ادبا کی اس پر رونق محفل میں شریک ہوں۔ ایسے ہی محفلوں سے جذبہ انسانیت فروغ پاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم ایسے بدقسمت معاشرے میں رہ رہے ہےں کہ یہاںلوگوں کی سوچ اپنی انفرادی مفادات کی حد تک محدودہے۔ ایسے معاشرے میں جی آر ملا جیسے عظیم ہستی کے علمی و ادبی خدمات پر اظہارخیال کرنا اندھوں کو آئینہ دکھانے کے مترادف ہوگا۔ ایسے معاشرے میں لکھاری کے لےے اپنی پہچان بنانا نہایت مشکل عمل ہے۔ ایسے ماحول میں کوئی شاعر ادیب اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ٹھہرتا ہے تو ادبی میدان میں یہ اس کی بڑی فتح ہوگی۔بی ایس او کے جنرل سیکرٹری زبیر بلوچ نے کہا کہ جی آر ملا بلوچی زبان و ادب کا محمود درویش ہے انہوں نے اپنے شاعرانہ فکر و فلسفہ کے ذریعے قوم کے نوجوانوں کے وقت و حالات کے تقاضوں سے آگاہ کرتے ہوئے وطن سے محبت کی تلقین کی جس کے باعث ایک دور میں ان کی کتاب ” بژن “ پر باقاعدہ پابندی لگائی گئی۔ وہ ایک ملنسار اورخوش فہم انسان تھے۔ پروفیسر شکور زاہد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شاعرمعاشرے کا نبض شناس ہوتا ہے۔ پروفیسر امداد مدی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خاران میں ایسے پروگرام منعقد کرنا شعور و آگاہی کے بیچ بونے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے جی آر ملا کو ان کی علمی و ادبی خدمات پر خراج تحسین کرتے ہوئے کہا کہ جی آر ملا بلوچی زبان و ادب کے محسن تھے۔جی آر ملاّ محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک عظیم فکر و فلسفہ کا نام ہے ۔ بی این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری جنرل ندیم بلوچ نے کہا کہ جی آر ملا کی تمام تر شاعری میں اس کا اپنا جداگانہ رنگ، لب و لہجہ اور یک رنگی میںد ل کثی اور ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے ایک اچھے شاعر کا یہی کمال ہے کہ وہ مختلف شعبدہ بازوں کے نرغے میں ہونے کے باوجود مختلف رنگوںمیں بکھرتے نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ جی آر ملا کے علمی و ادبی اثاثوں کو محفوظ کرکے نسل نو کو شعوری طور ان کی فکر و فلسفہ سے آگاہ کیا جائے۔ طیب گچکی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ زبان و ادب اور ثقافت قوموں کی یکجہتی میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلوچ قومی تاریخ سینہ درسینہ شعرا ءو ادبا ءکی زبانی ہم تک پہنچی ہے۔ جی آر ملا جیسے شاعر ہمارے قومی اثاثہ اور سرمایہ ہیں۔ تقریب کے دوسرے سیشن میں مشاعرہ ہوا ۔ جس میں توقیر زرمبش ، شکور زاہد ، جی آر شاعری ، ضیا شفیع، امداد مدی ، داد شاہ، انزی بلوچی ، مسعود پنڈگ، نور احمد صابر، اصغر صفی، اسلم شاہ، ارمان آزگ ، کلیم ارمان ، شاہین ہارانی، عزیز آزگ و دیگر نے اپنے کلام سے دیوان کے رونق کودوبالا کیا۔ بعدا زاں جی آر ملا کاکلام خاران و بلوچستان کے نامور موسیقار استاد سید انور نے اپنے جادو بھری آواز سے حاضرین محفل کو سنایا۔

 

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *