Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » ایک تھی شہزادی ۔۔۔۔۔۔۔ صبوبر سبا

ایک تھی شہزادی ۔۔۔۔۔۔۔ صبوبر سبا

تم میرے دل پہ دستک کیوں دے رہے ہو میں نے تو اسکا دروازہ کھلا ہی رکھا ہے۔ بس ایک شرط ہے جو اس میں آئے وہ تین اطراف تو جا سکتا ہے مگر چوتھی سمت سب کے لئے ممنوع ہے۔ اس طرف جانے کی اجازت نہیں۔پھر تم کیوں اتنے سوال کرتے ہو ؟ ۔کیوں خلاف ورزی کرنے کی کوشش کرتے ہو ؟ وہاں کیا ہے تمہاری ضد سے لگتا ہے تم جان کر رہوگے۔ مگر رکو!
تم نے بچپن میں اگر اس باغ کی کہانی سنی ہے جس میں سیر کرنے کی شرط یہی ہے کہ چوتھی سمت جانا منع ہے تو شاید تم سمجھ جاو گے کہ اس چوتھے کونے میں کیا ہو سکتا ہے۔کیونکہ کہانی کے اختتام تک تو یہ بتا ہی دیا گیا ہے۔
جب بھی میں تنہا ہوتی ہوں میرے اردگرد چار درویش اکھٹے ہو جاتے ہیں اور مجھے اپنی کہانی سنانے لگتے ہیں ۔حیرت کی بات یہ ہے ہر ایک کی کہانی میں میں موجود ہوتی ہوں ہر ایک کی کہانی میرے گرد گھومتی ہے ہر کہانی کی زبان الگ ہے ہر ایک کا انداز جدا ہے مگر ہر ایک نے مجھے بہت اذیت اور کرب سے تخلیق کیا ہے ، مگر میرا وجود ایک بے ثمر شجر کی طرح ہے،یا ایک بے فیض دوست کی طرح۔ میں کوہ قاف کے ان شہزادوں کو کیسے سمجھاوں کہ ایسا ہی ہے۔انکی تخلیق ان کے ساتھ چلتی ہے مگر کتنی بے روح ہے کتنی بے فیض ہے۔
اسکی سیاہ آنکھیں چمکتی تو ہیں مگر اسکے خواب سچے نہیں ان آنکھوں کو خواب دیکھنے کا جنون ہے مگر  جاگتی رہتی ہیں۔رس بھرے ہونٹوں پر لالہ کا رنگ جھلکتا ہے مگر انہیں چھونے والا لہو لہو ہو جاتا ہے۔
اسکی آواز میں سرد ہواوں کی سنسناہٹ ہے جو چھو جائے تو بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔ اس پر محبتوں کی بارش برستی ہے مگر وہ پیاسی رہتی ہے وہ دوسروں کی آنکھوں سے نیند مانگتی ہے تاکہ خواب دیکھے۔وہ خود سے یوں باتیں کرتی ہے جیسے خود سے ہر راز اگلوا لے گی۔
سنو !پلیز ذرا میری مدد کرنا میرے خیالات بکھرنے لگے ہیں مجھے بتاو میں انہیں کیسے سمجھاوں کہ یہ اپنی اپنی کہانیوں میں جسے پانے کہ لئے طلسموں میں بھٹکتے پھرتے ہیں وہ خود ایک طلسم ہے۔ہر ایک کے ساتھ ساتھ چلتی ہے ہر ایک کے غم اٹھاتی ہے کبھی اپنے ساتھ سفر کرنے والے کو ڈسنے والے سانپ کا زہر بھی چوس لیتی ہے اور کبھی اندھیرے راستے پر انکی شمع گل کر دیتی ہے کبھی پر خار راستوں پرساتھ دیتی ہے تو کبھی انہیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیتی ہے۔
سنو! اس لمحے اسے کیسا لگتا ہوگا جب وہ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے چاروں درویشوں کی کہانیوں میں خود کو ٹکڑوں میں بٹتے ہوئے دیکھتی ہوگی۔ ایک مکمل وجود کی تقسیم در تقسیم کا عمل کیسے روح کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے تم شاید سمجھ ہی نہیں سکتے ؟۔ تم نے ایک شجر کی بہت سی شاخیں دیکھی ہیں نا ان میں فاصلہ ہوتا ہے مگر بنیاد انکی ایک ہی ہوتی ہے ۔تو بتاو ! ایک شجر اپنے وجود سے پھوٹتی ان شاخوں کو کیسے جدا کر سکتا ہے۔
اچھا ! اب تمہیں اس باغ والی کہانی کا راز بتاتی ہوں شاید تم نے بچپن میں وہ کہانی نہیں سنی۔ اس باغ کے چوتھے کونے میں ایک شہزادی کی لاش پھولوں سے سجی مسہری پر رکھی ہوتی ہے ۔وہ ہر رات زندہ ہو جاتی ہے اور چاندنی میں اپنے باغ کی سیر کرتی ہے۔ اسکے پھل کھاتی ہے، اسکے پھولوں سے باتیں کرتی ہے ،اسکی ہواﺅں میں سانس لیتی ہے اور صبح ہوتے ہی مر جاتی ہے۔
مرنے اور زندہ ہونے کے اس کھیل کا اختتام اس شہزادے کے آنے پر ہوگا جس کا شہزادی کو انتظار ہے۔ کیا تم بتا سکتے ہو وہ شہزادہ کون ہوگا؟
نہیں نا !اس طرح اس شہزادی کو بھی نہیں پتہ۔ چلو اس شہزادے کو شہزادی سے ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔پلیز صرف ایک کوشش۔۔اتنا انکار کیوں کر رہے ہو کیا تمہیں لگتا ہے یہ سچ نہیں۔
اچھا سنو! ہم ایسا کیوں سمجھتے ہیں؟ ہمیں اس جسم میں دھڑکتے دل کے ٹوٹنے پر شک کیوں ہے ؟مگر یہی سچ ہے۔ یہ ٹوٹتا ہے۔ اور جب کوئی پھر بھی جینا چاہے تو اسے روز مرنا پڑتا ہے۔ وجود قطرہ قطرہ پگھلتا ہے مگر فنا نہیں ہوتا ، ہے نا عجیب بات ؟۔ تمہیں پتہ ہے شہزادی کو یہ سزا کس نے دی ہے ؟
اس بے تاج بادشاہ نے جس نے اسے اس دھرتی پر بھیجنے کے لئے اس پر ورغلانے کا الزام لگایا تھا ۔اسکی سزا کب پوری ہوگی پتہ نہیں ۔ شاید اب وہ بھی اپنی کہانی کا انجام بھول گیا ہے۔
شہزادی کو جانے کب تک جینا اور مرنا پڑے گا ؟ اور شہزادہ جانے کہاں عیش کرتا پھرتا ہوگا ؟اسے شہزادی بھلا کب یاد ہوگی ؟ اچھا یہ بتاو! تمہیں میری کہانی کی شہزادی سے ہمدردی ہے یا نہیں ؟اگر ہے تو چلو شہزادی کو شہزادے سے ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سنو! تم سچ کہتے تھے وہ شہزادہ کبھی نہیں آئے گا۔
صدیاں گزر گیں رات کو جیتی صبح کو مرتی شہزادی انتظار کرتے ہوئے تھک گئی پھر اس نے پھل کھانے چھوڑ دیئے اور پھولوں سے باتیں کرنا بھول گئی۔ اسکے بالوں کا سنہرا رنگ دھےرے دھےرے اترنے لگا ،اسکی آنکھوں میں جلتے دیئے مدہم ہونے لگے۔ اسکے ہونٹوں کے لالہ مرجھانے لگے اور پھر یوں ہوا کہ ایک چودھویں کی رات کو جب چاند اس باغ کے درختوں کی اوٹ سے اپنا چہرا لئے نمودار ہوا تو اسے شہزادی کہیں نظر نہیں آئی اسے ڈھونڈتے ہوئے اسکی کرنیں جب باغ کے چوتھے کونے پر پڑیں تو رونے لگیں۔ شہزادی کا دل جو ان کرنوں کے ساتھ دھڑکتا تھا آج بالکل خاموش تھا ۔شہزادی نے اس رات جینے سے انکار کر دیا تھا ۔ چاند آہستہ آہستہ روتا ہوا باغ سے نکل گیا۔

Check Also

jan-17-front-small-title

کڈک و مشک ۔۔۔۔ گوہر ملک

کڈکا یک روچے وتی دلا گشت اے درستیں زند پہ تنہائی نہ گوزیت،ما س وپتئے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *