Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » اک منشور نما ۔۔۔ بیرم غوری

اک منشور نما ۔۔۔ بیرم غوری

ہمارے ہاں کیا، انفرادیت اسیر معاشروں میں گفتگو سنجیدہ نہیں، پسندیدہ ہوتی ہے۔ کیونکہ سنجیدہ مکالمہ اپنے معروض سے الگ رہ نہیں سکتا۔ اور معروض کا اطلاقی ہونا عقلِ سلیم کا تقاضا ہی نہیں ضرورت بھی ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت پسندی، انسانی حقوق کے بے موثر حربے کا حصہ ہے جو اجتماعی ضروریات کے تخلیقی جوہر کی دھار کند کردیتا ہے اور مجموعی فضا میں ذاتی اور نجی آزادیوں کو نمایاں کرکے سماجی حرکیات کے اصولوں کو قانون کی سائنس کے تابع رکھنے میں مزاحمت کا سبب بنتا ہے۔ سمندروں میں ابھرنے والے جزیرے موسم کے مزاج کے مرہونِ منت رہتے ہیں۔ سو تاریخ مرتے لمحوں کا قبرستان نہیں،آنے والے دنوں کے تعین کا اہم استعارہ ہے۔
1913 سے 1945 تک کے 32 برسوں کی اس تقدویم میں۔ ’’ ویٹو‘‘ کے بیج کاشت کیے گئے اور دوسری طرف1917 میں متبادل سماجی قانون کا اجرا ہوا ۔ دنیا کی نئی تفہیم کے اس موسم میں معیشت ، سیاست، ادب ، فلسفہ اور سائنس کے جتنے پھول کھلے انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی اور متنوع عہد اس کی مثال میں پیش کرسکے۔
بادشاہتوں ، راج واڑوں اور جاگیرداروں کا سردو گرم چشکندہ ہندوستان ایسٹ انڈیا کمپنی کی بحال پریز یڈنسیوں میں سیاست، آئین ،عدالت اور صحافت کے خواب دیکھ رہا تھا۔ برٹش انڈیا صوبائی خود مختاری کی لکنت میں1935 انڈیا ایکٹ کے وفاق اور وفاقی اکائیوں کے حاشیے سے سیاسی قدو قامت نکالنے اور جمہوریت کے عملی ترجموں سے اپنا مستقبل مرتب کررہاتھا۔
1919 جنگ کے خاتمہ کے بعد دنیا کی85 فیصد نو آبادیات نئے آئینی بندوبست، جمہوریت اور صحافت سے معاشرتی بُنت کا ری کے مراحل سے گزر رہی تھی کہ بلوچستان میں1920 کے اطراف ابتدائی تحریک نے اظہار پایا۔ جس پر انقلاب روس کے گہرے نقوش تھے جس کا ذادِ سفر عوامی خواہشات سے عبارت تھا۔1887 کے بلوچستان کے جغرافیائی ڈھانچے اور قبائلی نظمِ زندگی کی جمود زدہ، زنگ آلود فکر، عالمی دھاروں کے تناظر میں نئی ترتیب پارہی تھی۔ اس سیاسی لینڈ سکیپ میں جن سچے لوگوں نے بلوچستان میں فکرِ جدید کی بنیاد رکھی ماما عبداللہ جان جمالدینی1950 میں اس دھارے کا حصہ بنے۔ جدت کاری کی اس تحریک نے سہ جہتی جدوجہد کو اپنایا۔
-1 ادب
-2 سیاست
-3 صحافت
بلوچستان کی تمام زبانوں کے لوک ادب کا مزاحمتی آہنگ اس عوامی ادب کی تخلیق میں شامل تھا جسے تراجم نے اپنے عہد کے شعور سے آفاقی ہونے کی سند عطا کی۔ ماما نے شہرہ آفاق افسانہ نگار جو انقلاب کے بانیوں میں سے تھے یعنی میکسم گورکی کے افسانے ’’ تیل کے بادشاہ‘‘ کویہاں فکری دھارے سے ہم آہنگ کیا۔ ٹالسٹائی،چیخوف، صدر الدین عینی اسی تخلیقی ضروریات کے مختلف پہلوؤں کا علامتی حصہ تھے جو بلوچستان میں تخلیق ہونے والے ادب کا سرمایہ قرار پائے۔ یہ تراجم دو طرفہ لسانی احتیاج کے خاتمہ کا باعث بنے۔ تہذیبی کشادگی ، معاشرتی تحلیل، فکری ہم آہنگی اور مستقبل اساس سیاسی عمل کا اظہار یہ بنے اور بعد ازاں جامعہ بلوچستان میں بلوچی، براہوئی اور پشتو ادب کی تدریس کا انکھوا یہیں سے پھوٹا ۔ 6 اپریل1992 کے ایک نوٹیفیکیشن827 ایس اینڈ جی اے ڈی کے تحت مادری زبانوں میں تعلیم کو اختیاری حیثیت سے تسلیم کیا گیا ۔ جس میں ان کے رفقا اور ہم خیال دوستوں کی طویل فہرست شامل تھی۔ جس کا ماما حصہ تھے۔
1974 سے1988 تک لینن کے ’’دیہات کے غریب ‘‘سمیت متعدد تراجم کا فکری اور تخلیقی رزق پاکستان سٹڈیز کی سربراہی کے دوران انہوں نے ارزاں کیا۔
’’ لٹ خانہ‘‘ سماجی نا ہمواری طبقاتی جدوجہد اور استحصال مخالف مورچہ تھا۔ جو ان کی یادداشتوں سے مصحفِ زندگی پر تحریر ہوا۔ اصحا ب لٹ خانہ میں کمال خان شیرانی، ڈاکٹر خدائیداد ، انجم قزلباش، بہادر خان بنگلزئی کے مرکزے کے گرد، عبدالصمد خان اچکزئی، بابو شورس، میر گل خان نصیر، غلام محمد شاہوانی ، محمد حسین عنقا ، آزات جمالدینی ،نادر قمبرانی ، ملک عثمان کاسی ، میر عبدالرحمن کرد اور دیگر شامل ہوتے رہے۔ جو گزر ے دنوں کی دھوپ تاپتے ہوئے سست پڑتے شہر میں حرکت، تازگی اور جدت لے کر داخل ہوئے ۔ نظریہ یا فلسفہ کی تجسیم میں پہلا سوال ہی ہوتا ہے کہ کہاں سے شروع کیا جائے۔ ماما اور ان کے رفقا نے قرطاسِ عالم کو سمیٹ کر یہ بتایا کہ ’’ اس طرح‘‘ ۔تاریخ کے اس تسلسل میں تحریکیں اور کردار گڈ مڈ نہیں ہوتے الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہ ان کا نقشِ قدم نہیں دھڑکتا ہوا دل ہے جس کی آواز تائید کی منتظر نہیں، جست کا تقاضا کرتی ہے۔ تقاریب توصیفی تخصیص کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ شناخت کے لیے ہوتی ہیں ۔ راہ عمل کی شناخت ، منظر اور حوالے کی شناخت تاریخ اور آئندہ کی شناخت۔ وہ اپنے شعور عصر سے ہم آہنگ تھے جو مشرق ، مغرب ، شمال، جنوب ہر کہیں تھا۔ اگر کوئی پوچھے کہ جسم میں روح کہاں ہوتی ہے۔ تو کیا بتایا جائے۔ ٹراٹسکی نے ’’ میری زندگی‘‘ کے صفحہ132 پر جس ’’ کتاب گھر‘‘ کا ذکر کیا ہے ہمارے ہاں اس کی صورت پذیری ہر انقلابی تحریک کی طرح ماما کے ہاتھوں ہم تک پہنچی۔
1938 میں بلوچستان میں پریس ایکٹ کے نفاذ اور’’ استقلال ‘‘ کی اشاعت وہ ابتدائی نقش تھا۔ جو بعد ازاں بلوچستان کی صحافت کی بائبل قرار پایا۔ خصوصاً و ن یونٹ کے خلاف شدید مزاحمت کی تاریخ شاید کبھی فراموش نہ کی جاسکے۔1682 میں ہندوستان میں بمبئی پہلا صوبہ قرارپایا۔ جو تجارتی بندرگاہ اور ابتدائی بنگال پر یذیڈنسی بنا۔ 1832 کے ریفارم ایکٹ نے ہندوستان میں جمہوریت کی تخم ریزی کی۔1823 میں پریس ایکٹ کا نفاذ ہوا ور 1935 ایکٹ یکم اپریل1937 میں نفاذ ہوا۔ جس میں پہلے وفاق کا تجربہ کیا گیا ۔ 1970 میں صوبہ قرار پانے والے بلوچستان کے سارے صحافتی آثار تکریم کی نظر سے دیکھے جانے کے مستحق ہیں۔ کہ انہوں نے محرومی کی آگ کو کبھی سرد پڑنے نہیں دیا۔ 1949 میں نوائے بلوچستان سے ماما کی علیحدگی اسی روشن اصول کے تابع تھی۔
لٹ خانہ ان کی بوڑھی نہیں، بالغ ہوتی آنکھو ں کی گواہی ہے۔ جنہوں نے دنیا کو مینوئل سے ڈیجیٹل ،بلیک اینڈ وائٹ سے کلر، مقامی سے عالمی، فکری سے تکنیکی ،اور زمینی سے کائناتی ہوتے دیکھا۔94 برس تک دل میں سلگتا دھواں ۔۔۔۔۔۔ شعلہ نہیں بنا۔۔۔۔۔۔ گداز اور مسکراہٹ میں بدلتا رہا۔ انہوں نے تعلیم کو تہذیب میں تبدیل کیا۔ قانون جبر سے نافذ ہوتا ہے۔ تہذیب رضا کارانہ، شراکتی جمہوریت سے نمو پاتی ہے۔ تہذیب نافذ نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ رائج ہوتی ہے۔ سوماما اپنے عہد سے متصل رہے ۔انہوں نے سکھایا کہ تعلیم ذاتی مفاد کے لیے نہیں انسانی مفادات کے تابع ہوتی ہے۔ وہ گہوارہ دانش سے جڑے رہے۔ جواب ان کی یادوں سے آباد اور سرگرم ہے۔ ماما وہ منشور مثلثی سے تھے جس سے گزر کر روشنی اپنے اصل رنگوں میں اعتدال سے تقسیم ہوجاتی ہے۔ مگر اپنے مبدا میں سمٹ کر یک رتگ رہتی ہے۔ وہ رنگ جو آج ہم سب کا ہے۔ ایک ہی رنگ ۔۔۔۔۔۔!

Check Also

jan-17-front-small-title

شاہ لطیف،صوفی نہیں، یوٹوپیائی فلاسفر ۔۔۔ شاہ محمد مری

اچھے لوگ انہیں سمجھاتے رہے کہ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ کسی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *