Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » سموراج » اک بھرپور سفر….کراچی سے گوادر تک ۔۔۔ سعدیہ بلوچ

اک بھرپور سفر….کراچی سے گوادر تک ۔۔۔ سعدیہ بلوچ

نیلے پانیوں تک کا سفر خوب صورت ہی ہو سکتا تھا، سو تھا ۔ اےک ساحلی شہر سے دوسرے ساحلی شہر تک، ےعنی اگر آپ کو سٹل ہائی وے سے جائےں توکراچی سے کوئی ۸۳۲۶ کلو مےٹر ےعنی ۸ گھنٹے کی مسافت پرآپ کو حب، ڈام ، سونمےانی ،گڈانی ، وندر، اوتھل، زےرو پوائنٹ، ہنگول نےشنل پارک سے ہوتے ہوئے اورماڑہ ، پسنی اور پھر گوادر آن ملتا ہے۔ زےرو پوائنٹ کہ جس سے بلوچستان کے آباد علاقوں کی طرف مختلف سڑکیں نکلتی ہیں، ان ہی میں سے اےک موڑ مجھے نےلے پانےوں تک لے گےا۔ اس موڑ پر جیسے سڑک نہیں مڑتی ،وقت الٹے پاﺅںچل کے ٹھہرا ہوا سا لگتا ہے ۔ پتہ نہیں ٹھہرا ہوا ےاٹھہرایا گےا؟؟ لگتا ہے رےاست
کے نزدیک ےہ خطہ وہ شجرہِ ممنوعہ ہے ،جس کے بارے میں سوچنے سے بھی جنت کے زےاں کا خدشہ رہتا ہے۔ راستے بھر میںچند ہی چےزیں ہیں اورساری خدا ساختہ ۔ماسوائے کالے منہ والی ڈامر کی سڑکوں کے۔
’مہردر ‘کے دوست عابد مےر نے آرسی ڈی سی کی جانب سے دعوت دی کہ وہ گوادرمیں دوسرا سالانہ کتب مےلہ لگا رہے ہیں، سو آپ بہ طور شاعرہ شرکت فرمائےے۔ معصوم …. کےا کہتی ان سے کہ جناب ابھی تو کوئی کتاب نہیں چھپی، دوستوں کے سوا جانتا کون ہے او ر ان میں سے چند کے سوا شاعر مانتا کون ہے…. پر جانے کےوں اس درجے کا شاعر سمجھ بیٹھے کہ دعوت دے ڈالی۔ دفتری مصروفےات کی بنا پر اےک دن بعد پہنچے پر پہنچ کے اندازہ ہوا کہ ہم کہاں پہنچے ۔
آپ جب پرانی آر سی ڈی شاہراہ اور موجودہ حب رےور روڈ کراچی سے نکلیں تو زےرو پوائنٹ تک آبادےاں ، نےم شہری علاقے، کارخانے اور دکانیں نظر آتی ہیں پر زےرو پوائنٹ کے بعد راہ میں زےادہ تر مناظر ےک سو ہیں ؛ پہاڑ، خشک جھاڑےاں اور چکنی مٹی کے ڈھےر۔ پہاڑ در پہاڑ لیکن مختلف النوع کے پہاڑاےک ہی جگہ جڑے ہوئے ہیں،شاید ایسے ویرانے میں تنہائی کے خوف سے اک دوسرے کو سمیٹ بیٹھے ہیں ۔ آسمان جےسے سر پر اک نیلا شامےانہ کسی بہت بڑی تقریب کے لےے تنا ہو اورجہاں ابھی بہت سی رسمیں ہونا باقی ہوں۔ مسلسل روشنی کے لےے دن بھر بھرپور سورج اور رات کو سرچ لائٹ چاند کی، جس کے گرداگرد ستاروں کے قمقمے جھالر سا پھیلے ہوئے ہوں۔
مجھے ان پہاڑوں کو دیکھ کے ےقیں ہو چلا کے دیوتاﺅں نے اپنے بچپن کا بڑا حصہ یہیں گزارا ہوگا؛ وہ حصہ جس میں بچہ مٹی سے جڑتا، سےکھتا اور مٹی کردےنے کا فن سےکھتا ہے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں کا تسلسل اس کھیل کوسمجھنے میں معاون ہے۔ ےقینا دیوتاﺅںکو گھر بنانے کا خیال بھی ےہیں آےا اسی لےے تو جا بجا پتھر کی سلیں ذخےرہ کر رکھی ہیں ےہاں تک کہ نرم مٹی سے کئی محلوں اور قلعوں کے نمونے بھی بنا چھوڑے ہیں۔ البتہ اس پر ابھی غور جاری ہے کی ©امید کی شہزادی کےوں ایستادہ کی؟امید کی شہزادی (Princess of Hope)کاوہ مجسمہ جسے ہو انے برسوں میں آزر کےا ،اپنی شان و شوکت سے پہاڑوں کو ہیچ کر رہا تھا ۔ دیوتاﺅںنے بچپن کے کھیل میں جانے کس امید کو شہ زادی کےا ؟
ہنگلاج، خدا گَر جگہ ہے۔ انسان کو نروان پانے کو اےسی ہی جگہیںراس آسکتی ہیں کہ اےسی جگہوں پر فطرت سے بلاواسطہ، بلافصل ملاقات ہوتی ہے اور روح ےکسوئی پا کر نروان حاصل کر لیتی ہے ۔ عین وہ جگہ جہاںدےوی کا استھان ہے، ٹھنڈے موسم میںپہاڑی کی اوٹ میں گہری گاڑھی چھاﺅں اور میٹھی دبےز خاموشی تھی، جس کے سارے گُرمحسوس کےے جا سکتے ہیں۔ اےسے ہی ہوںگے وہ سارے مقام جہاں انسان رومان پروری کو جلا دے سکے، کسی سنگت سے تکمیل پاسکے اورا گر سنگت کو کوئی اور نہ ملے تو فطری لباس میں آزاد ہو کرفطرت کو خراج دے سکتا ہے کہ فطرت سے لطف اندوز ہونے اور اس کا حصہ بننے سے آپ اس کو خراج دےتے ہیں اورنتےجے میں خوشی کشید کر سکتے ہیں ۔
آر سی ڈی سی کے منعقد کردہ اس کتب میلے میں شرکت کے لےے گوادر کا سفر بھرپور تھاخود مےلے جےسا…. اس خوب صورت سفر میں کچھ پرانے دوستوں سے پھر ملاقات کا موقع ملا تو کچھ نئے لوگوں کو دوست بنانے کا موقع بھی۔ عابدمیر اور عمران ثاقب جو قدرے پرانے دوست ہیںان ہی اکسانے پر گئی تھی اور اب ممنون ہوں۔
بہرام سمندر کنارے پےدا ہوا ،پر اس پر اثر پہاڑوں کاہے جو بازگشت تو دےتے ہیں ،پر اپنے مزاج کا پتہ نہیں چلنے دےتے۔بہت شانت آدمی دکھائی پڑتا ہے۔ دوستوں کو اس کے آتش فشانوں سے سنبھل کے رہنا چاہیے ۔ اس نے اےک خوبصورت مکان تعمیر کےاہے اور اس کی سجاوٹ بہرام کے ذوق کا پتہ دےتی ہے۔ البتہ مےرے لےے سب سے دلچسپ وہ دو ظروف تھے جو اس کے مطابق کسی قریبی جاہ سے کھدائی میں درےافت ہوئے ۔مقامی مزدوروں نے وہاں سے درےافت شدہ قبروں سے ملنے والے سامان کو اونے پونے فروخت کردےا اور باقی نشان ضاےع کردےے ۔ےہ دو ظروف اس تک پہنچ پائے ہیں ۔ مٹی کے دوسبز ظروف جن پر ےک شاخہ کسی پودے کا ڈیزائن بنا ہے۔ اب ہم کو ےہ دےکھنا ہے کہ ےہ کس دور کے ہیں۔ ساخت میں چینی ظروف جےسے ہیں جب کہ سبز روغن کی چمک ابھی ماند نہیں ہوئی۔ اس کے قرےنے سے سجے گھر میں مہمان داری کے بہت ناز اٹھائے ۔اسے پتہ ہے بلوچ مہمان داری کےسے کرتے ہیں اور اگر مہمان عورتیں ہوں تو۔
اےک محبوب بھی تھا، مست توکلی کے عشق سے سرشار….شاہ محمد۔ محبوبِ مست توکلی،مکالمے کا آدمی ہے وہ، آپ اپنی ہی بات ےاتخیل کا تانابانابڑھاتے رہنا چاہتے ہوںتو ان سے گفتگو کیجیے۔اُسے گفتگو کا فن آتا ہے کہ اُس کی گفتگو میں ہزارہا کتابوں کے لفظ، اور خےال شامل ہوتے ہیں اور اس کے مری لہجے کی کرختگی جو حلق سے نیچے اترنے کے بعدکسی شےرینی کا گمان دے۔ اس کی گفتگو سےکھنے کو بہت کچھ دےتی ہے۔ ماہنامہ’ سنگت ‘ بلوچستان سے چھپنے والا رسالہ جس کے روحِ رواں ہیں اور بہت سی اعلیٰ معےار کی کتابوں کے مصنف ،جن میں تحقیق اور مشاہدے کا بڑا حصہ ہے۔ جےسے؛’ عشاق کے قافلے ‘، ےہ نام اےک عاشق صفت ہی دے سکتا تھا اور اس میں کےا خوب عشاق کا ذکر ہے؛ پڑھےے اور جانےے ۔ چلتا پھرتاادب ہے وہ اور مکمل بلوچ جو کسی کے عشق میں ڈوباہو۔ پھر کےا کہےے کہ عشق بھی مست توکلی کا۔ مست توکلی جس کا عشق خو د    عاشق کواپنے تک محدود نہیں کرتا سو عاشق، جہاں ملے جب ملے عشق سے نہیںچوکتا ۔یہی ادا شاہ محمد کی ٹھہری، کتابوں سے عشق، جگہوں سے عشق، خوابوں سے عشق، لوگوں سے عشق، کام سے عشق، سنگت سے عشق، سفر سے عشق، ہم سفر سے عشق……..
دیوتاﺅں نے اپنا بچپن مٹی کی ڈھیرےوں اور پتھریلی سِلیں جمع کرنے میں بِتاےاتو نیلگوں سمندر اس کو جذب کے اشنان میںمدد دےتا رہا۔وشال سمندر جو کراچی میں مےرے گھر سے لے کر گوادر کی گودی تک ہم سفر رہا۔کبھی پہلو میں ہمکا، تو کبھی سامنے آن برا جمان ہوا، کبھی صدا دےتا تو کبھی چپ بن کے اعصاب پرسوار ہوتا رہا۔غربت اور پسماندگی صرف اس شہر نما کی گلی کوچوں میں بسی تھی پورے عروج پر…….. جب کہ شہرےار اس کے برعکس ؛امیر کبےر، امارت ان کے دلوں ذہنوں اور سےنے میں اتنا شور کرتی ہے کہ نےلے پانےوں کے شور کو سننا ہوتوباقاعدہ کان دھرنے پڑتے ہیں ،وگرنہ گوادری شہرےاروں کی امارت کا شور بہت بلند ہے۔
آر سی ڈی سی کے لوگ جےسے کتب میلہ نہیںمنا رہے تھے ،وہ تو آشنائی کر وا رہے تھے؛ زبان کی زبانوں سے۔ انھوں نے مصور بھی روشناس کروائے اور دیوتاﺅںکے پسندےدہ شوق مٹی سے اجسام بنانے والے بھی جنھوں نے ساحلی مٹی سے خوب شاہکار بنائے۔ اس جےسے شہر میں جہاں کوئی ےونیورسٹی بھی نہیں، کتب بینی کاشوق اےسا کہ اےک محتاط اندازے کے مطابق کوئی دوہزار سے زائد کتابیں محض چار دن میں بک گئیں۔ اب وہاں اتنی استطاعت کسی کی نہیں کہ شےلف کی سجاوٹ کو ،کتابوں کی لاشیں ممی کر کے رکھے۔ سو ےقیناً پڑھی جاتی ہوں گی۔ بہت سے اسٹالز پر 30 سےے50 فیصد تک رعاےت تھی ۔ لےاری سے گئے بچوں نے سٹیج پلے بھی کےے اور خوب داد سمیٹی ۔ میڈےا کے چند مقامی کارندوں کے سوا کسی کو اتنی توفیق بھی نہ ہوئی کہ بلوچستان کا ےہ علمی و ادبی چہرہ دکھا سکیں۔
اک بازار ہے، جس کا نام ہے جنت بازار…. ےہاں اکثر دکان دار عورتیں ہیں جو کپڑا، مصالحے اور جڑی بوٹےاںفروخت کرتی ہیں ۔ نام جنت کےوں ہے؟ سمجھ نہیں آےا۔ اگر عورتوں کی وجہ سے ہے تو ان عورتوں پہ لازم ہے کہ اس جنت میں سے ڈھونڈ کر کوئی ممنوعہ پھل کھالیں، چاہے اےرانی ہی سہی اور دےس نکالا لے لیں، کہ اب تک کی بتائی گئی جنت کا کوئی نشان وہاں نہ تھابہ جز اس کے کہ عورتیں کاروبار کرنے میں آزاد ہیں؛ بہ عزت و شرف بہ مقابلہ باقی پاکستان۔ دوسرا بازار جو پرانا بھی ہے؛ شاہی بازار کہلاتا ہے۔ طویل تنگ گلی ہے، جس کے اےک حصے میں چلتی دکانیں تو دوسرے حصے میں بارشوں کی زد میں آئی تباہ شدہ دکانیں ہیں۔ ان دکانوںکی تعمیر اور دروازے بتاتے ہیں کہ ےہ انتہائی پرانی ہیں۔ لکڑی کا استعمال جا بجا ہے اور ستونوں پر نقش کاری بھی ہے۔ ےہاں مقامی لوگوں کے ہاتھ سے بنا اےک حلوہ ہے جوگوادری بناتے ہیں۔ اراروٹ سے تےار کردہ سبز رنگ کا حلوہ نہاےت لذیز۔ ورنہ انڈے سے لے کر پٹرول اور بجلی تک اےران سے آتی ہے ۔باقی مال کراچی ےا دوسرے شہروں سے لاےا جاتا ہے۔مجھے اےک بات نے بڑا ہی سکون عناےت کےا کہ اےران سے سب کچھ آرہا ہے ، عرب رےاستو ں سے پانی کی سرحدیں ملتی ہیں پر ابھی مذہبی کٹر پن کو ےہاں آنے اور پنپنے کی ہمت نہیں ہوئی ( خدا ےہ قائم رکھے )۔
جب گوادر سلطنتِ عمان کا حصہ تھا لگتا ہے تب سے ہی اےسا ہے۔ کہتے ہیں کہ ےہاںہندوو¿ںکی بڑی آبادی تھی جو کسی بلوے کے نہیں بلکہ دوربینی کی بنا پر اس خطے کو چھوڑ گئے۔ ان کو پتہ تھا کہ اس رےاست سے الحاق کے بعد ےہاں وقت روک دےا جائے گا۔ ےہ ہندو کاروباری تھے، جن کی بڑی تعدادہندوستان نہیں بلکہ دبئی ےا عمان جاآباد ہوئی۔ شاہی محلے سے گزرتے دو اہم مقام اور ہیں؛ آغا خانےوں کا جماعت خانہ جو بہت ہی اچھی حالت میں ہے اور اس کے گرد آباد آغا خانےوں کی آبادی جو اب بہت کم رہ گئی ہے کہ سمندر ان کی بھوک تو مٹا دےتاتھا، پرعلم و ترقی کے لےے کوچ ان کے پےروں سے باندھ دےتا ہے ۔دوسری اےک عمارت ہے جو لکڑی کی ہے اس کی بالکونےوں پر سفےد رنگ دار لکڑی سا جال بنائے گئے ہیں اس کا نام بڑا دلچسپ ہے © ” چار پادوو ” جس کا مطلب ہے چار پےروں والا©، کہتے ہیں چار ستونوں پر پہلی بار اس جگہ کسی عمارت کے بننے پر اسے ےہ نام دےا گےا وےسے چار پےروں کے حساب سے اسے چوپاےا کہا جا سکتا ہے لےکن ےہ عمارت سلطان سے منسوب ہے تو پھر چوپاےا کہنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔کہاجاتاہے اس وقت کہ سلطانِ عمان ےہاں آکر ٹھہرتے تھے۔ لوگ ےہ بھی کہتے ہیں کہ ہاشوانی گروپ کے مالک کا جائے پےدائش بھی ےہی شہر ہے ۔اور شائد اسی لےے پی سی ہوٹل کی اےک برانچ ےہاں بھی ہے ۔ جو ےقیناپورٹ سے ہونے وا لی آئندہ کی ترقی کے پےشِ نظر بنائی گئی ہے، ورنہ ابھی تو اس میں الو بولتے ہیں ےا سمندر کا شور اس کی وےرانی کو دورکرنے میں لگا رہتا ہے۔
شہر کے گلی کوچوں اور درودےوار پر کےا خوب شاعری پڑھنے کو ملتی ہے۔ کےسا خوش کن ہوتا ہے وہ منظر جہاں کسی حجام اور سبزی فروش کی دکان کے چاروں جانب کی دےواروں پر مبارک قاضی، عطا شاد اورجالب و فےض کے اشعار پڑھنے کو ملیں۔ دوسری خاص بات کہ ےہاں بلوچی وفارسی ہی کاا ستعمال ہے۔ دکانوں کے نام بہت دلچسپ ہیں ؛جےسے حجام کی دکان کا نام ہے؛ سر ٹاپ جاہ(جہاں گنجا ہوا جا سکے)۔ چےزک جاہ(کھلونے کی دکان) جبکہ اےک دکان کے باہر انگرےزی کے لفظ Proprietor کے لےے جو لفظ لکھا بہت دلچسپ لگا ےعنیٰ حدابند(ےہ لفظ اردو میں بنا خداوند ، ےعنی مالک، ےہ بات زہن میں رہے کہ ےہاں کی مقامی زبان میں حرفِ تہجی ‘خ ‘ کی جگہ ‘ح ‘ استعمال کےا جاتا ہے اور ‘ و ©’ کی جگہ ب)۔
ہر شہر سے کچھ کردار جڑے ہوتے ہیں۔ سو گوادر کا ذکر بخشی صاحب کے بغےر نامکمل ہے۔ شہرےار آدمی تھے۔ انھوں نے اےک ہوٹل بناےا ہوا تھا ۔ہوٹل کےا تھا کہنے والے کہتے ہیں دروےش کی کٹےا تھی جس کو آنا ہے آئے، کھائے پےے، ناچے گائے …….. ہر شخص سے اس کاذکر سنا ۔ ان کے بچوں نے اسے موٹل کا درجہ دے دےا ہے، جہاں رہائش کا بھی انتظام ہے اور درمےانے درجے کی محافل کے انعقاد کا بھی ۔ جہاں اےک محفلِ موسیقی کا انتظام بھی کےا گےا تھا ۔جنوری کی ٹھنڈ میں ساحل کنارے اس محفل نے نشہ سا کردےا تھا۔ سب تسلیم کرتے ہیں کہ دروےش کے ساتھ اس کی کٹےا بھی گئی۔ اب صرف کاروبار ہے، لیکن بچے اپنی حد تک اسے بخشی بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ ےہاںپڑے بلکہ سجے ان کے ساز، موسیقی سے ان کے لگاﺅ کا پتہ دےتے ہیں ۔اس موٹل کے احاطے میں اےک دےو ہےکل مچھلی کا استخوان پڑا ہے جوکہیں اور سے لاےا گےا ہے …. مجھے لگا لوگ اس سے بخشی صاحب سے تعلق کا مزہ لےتے ہیں۔ کےا ہی اچھا ہوتا کہ انھیں دفنانے کے بجائے سمندر میں ڈال دےا جاتا ۔پانی سے ان کی روح کو آنے جانے میں زےادہ آسانی رہتی کہ مٹی روحوں پر بڑا بوجھ ڈال دیتی ہے۔
پورٹ کے نام پر جو تعمیرات کی گئی ہےں جانے ان کا ثمر کب حاصل ہوگا۔پر ےقین ہے کہ اس پورٹ کے علاوہ بھی اس ساحل پر صرف سےاحت سے ہی خوب زرِ مبادلہ کماےا جاسکتا ہے ۔ میں دےکھ سکتی ہوںکہ اس ساحل پر جب مختلف ملکوں سے سےاح آئیںگے، تو اس نیلی پری کی رفاقت میں کےسا کےسا ادب تخلیق ہوگا ۔آفاقی ادب ،غیر ملکی زہنوں سے اٹھتا گوادری خمیر میں گندھا ادب ۔
اردو کو ہر اس شخص کا احسان ماننا چاہیے جس کی وہ ‘ماں ‘ نہیں ہے۔ بلوچی زبان اور اردو سے زےادہ قدےم لب و لہجے کو سنبھالے گوادری،اردو زبان میں شاعری کے وہ گل بکھیر رہے تھے جس پر خود اس کے بولنے والے فخر کرتے آئے ہیں ۔ میں نے پنجابی، ہندکو، سرائیکی، جاپانی، چینی، پشتو، سندھی، فرانسیسی، انگرےزی، بنگالی اور ہندی ماں بولی رکھنے والوں کی اردو شاعری پڑھی اور سنی ہے پر اس بار اس زبان پر بلوچی کا احسان دےکھا تو فخر کی لہریںمےرے اندر جوش مارنے لگیں کہ مےرے ماجائے کےسے اس زبان کی آبےاری کر رہے ہےں ۔
کوہِ بتیل جس کے سر بیٹھ کے سورج کو پانی سے ہم آغوشی کرتے دےکھا ۔پےاروں کے ساتھ فطرت کے مظاہر کو ملاپ کرتا دےکھنا سنہرا لمحہ کہلاتا ہے۔ ملاپ جس کے ظہور سے رنگ پےدا ہو رہے تھے۔ نارنجی گلابی اودے، پےلے سنہرے رنگ ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملاپ رکا نہیں شکلیں بدلتا گےا ۔سمندر اورسورج کے ملاپ سے رنگ پےدا ہوئے، پےدا شدہ رنگوں کے ملاپ سے چاند نمودار ہوا، پھر اس دمکتے چاند کی ہم نوائی کو ستارے نکل آئے۔
کےا دن بےتے نےلگوں سمندر، شاعری، موسیقی، نغمے، بے تکلف دوست، پُر تکلف کھانے بلوچ مہمان نوازی ۔آہا! کےسا سفر تھا…….. نیلا، بھیگا نمکین سفر۔ مجھے ساری نظروں کا حساب ےاد ہے جو مجھے احاطہ کےے رہیں، جن کو میں نے از خود مہمیز دی کہ اس ماحول میں رومان نہ کرتے تو کافر ہوتے…. کالے کافر۔ میں بھری پُری لدی پھندی لوٹی ہوں۔ ساحل گوادر کی رفاقت سے سرشار و نہال۔ ےہاں کے دوستوں نے پوچھا سفر کےسا تھا ؟؟ میرا جواب ہے؛ “ےار سے وصال جےسا….”۔
چند دوستوں کا تذکرہ
ضےا شفیع، اسکا کمال ےہ ہے کہ اس خدو خال میں جتنا حسن ہے وہ اس نے خود پےدا کےا ہے مزاح، اس کے چہرے پر طمانےت کے نتےجے میں نمو پاتا اور سامنے والے پر اپنے حسن کی چھاپ چھوڑ دےتا ہے، جیئند خان تہذےب مزاح اور بھرپور قہقہہ نہ ہو تو سمجھ لیں جےئند خان ہے ہی نہیں ۔’ڈان‘ کے فوٹو گرافرفہےم صدےقی جسے کےمرے میں اپنی آ نکھ کو محدود کر کے ،نظاروں کو لا محدودیت عطا کر تے ہوئے ،ہزارہا آنکھوں کو اپنے زاوےوں سے متعارف کروانے کا فن آتا ہے۔۔’ڈان‘ ہی کی نوجوان رپورٹر سَحَرکے سِحِر میں آنا اور نکلنا آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے ۔وہ جتنا اپنی ذات میں سمٹی ہوئی ہے ،سامنے والے کو اتنی ہی آزادی دیتی ہے۔ اس سفر میں نوشین کو میںنے اسے بطور ماں ، بےوی ،دوست،شاعرہ اور پُر خواب عورت کے روپ میں دےکھا ۔سو کل مل ملا کے وہ خوب صورت قرار پائی ۔البتہ عظمی ٰ کے ساتھ زےادہ وقت نہ بتا سکے۔ بجار اتنا پےارا انسان ہے کہ اسے دےکھ کر دل کو خوش ہونا ہی پڑتا ہے۔ اسے جتنے اشعار ، نظمیں ، غزلیں ےا فوک شاعری ےاد ہے، اتنا تو کسی کو اپنا شجرہ بھی ےاد نہیںہوتا اور اس کی سنگت کو گلزار، گلزار کرتا ہے بلکہ ہر محفل کو گل و گلزار کرسکتا ہے۔ کھانے کی اک ڈش بنانے کے چکر میں بے چارہ مجھے اور عابد کو لے کرگوادر بھر میں ہر دکان پر سوال کرتا رہا؛ مےتی آآ، مےتی آ ٓآ۔ ( مےتھی ہے) جواُن مقامی لوگوں کے لےے کوئی نئی سبزی تھی ۔سبزی تو نہ ملی البتہ گلزار کی آواز دوسرے دن تک کان کو مصروف رکھے رہی۔ پروین ان لوگوں میںسے ہے جو مامتا کے خمےر سے گُندھ کے بنے ہیں، اور بلوچ مزاج اس کا ہالا ہے، جس میں وہ دمکتی رہتی ہے۔ روفی ، شفےع جےسا ہے جو لوگ اپنی ذات حتیٰ کہ خد وخال کے معاملے میں بھی قدرت پر نربندھ نہیں ۔ جی ہاں کراچی کی مےمن کمےونٹی سے تعلق رکھنے والا ےہ نوجواں اےسا ہی ہے کہ اس نے بلوچی محبت سے اپنے خدوخال کو بھی بلوچ کر لےا ہے۔ جب تک وہ خود نہ بتائے آپ نہیں جان سکتے کہ وہ بلوچ ہے کہ میمن (چُم ملامت چائی ہے )۔وحید نور،اس کی طبےعت کے بشاشت اس کے چہرے پہ ہے سو آپ طے کرےں کہ آپ نے اس سے کےا لےنا ہے ۔عمران ثاقب، ظہےر، سےف کےسے پےارے پےارے لوگ تھے ۔

Check Also

april-16-small title

کنا داغستان  ۔۔۔ رسول حمزہ توف؍غمخوارحیات

سرلوزنا بدل سر لوزاتا بارواٹ گڑاس لس و ہیت ! تغ آن بش مننگ تون ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *