Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » اُٹھ چادر والے ۔۔۔۔ حنا جمشید۔ ساہیوال

اُٹھ چادر والے ۔۔۔۔ حنا جمشید۔ ساہیوال

مولوی کریم بخش نے ذرا سا گلے کو کھنکھارا اور پھر زور دار آواز مےں جمعے کی اذان کی تکبےر بلند کی۔۔۔سپیکر سے آواز کی تھرتھراہٹ اور گونج سن کر منبر پر بےٹھے کبوتر پھرتی سے ہوا مےں اڑ ے اور گول دائرے مےں مسجد کا چکر لگاتے ہوئے اسکی منڈےروں پر جا بیٹھے۔امامت اور خطبے سے فارغ ہو کر مولوی صا حب نے بڑے ہی خشوع وخضوع سے رو رو کر بارگاہِ الٰہی مےں دعا کروائی۔ ےہ مولوی کرےم بخش کی آواز کی خوش الحانی اور اسکا عمدہ اخلاق ہی تھا کہ اس چھوٹے سے شہر مےں نوواردہونے کے باوجودکئی لوگوں نے اپنے بچوں کو حفظ کرنے کے لئے اس کے پاس بھےجنا شروع کر دےا تھا۔

نماز سے فراغت ملتے ہی مولوی کرےم بخش نے گھر کا رُخ کےا۔جہاں وہ مسئلہ وےسے ہی موجود تھا جےسے وہ اسے چھوڑ کر گےا تھا۔ےہاں کے حالات بھی عجےب تھے ےہاں ظالم بھی وہی تھا اور مظلوم بھی وہی۔اس نے غضب بھری نگاہوں سے چھوٹی بہن کی طرف دےکھا وہ ابھی بھی منہ بنائے بیٹھی تھی۔نظرےں ملتے ہی اس نے بھی دوسری طرف منہ پھےر لےا جےسے وہ ےہ صورت خود بھی دےکھنا نہ چاہتی ہو۔بہن کی ےہ حرکت اُسے اور بھی تاﺅ دلا گئی۔اس نے آگے بڑھ کر اس کی چوٹی تھام لی۔

”نہ کرےم بخش نہ۔۔عورت ذات پہ ہاتھ اُٹھانامردانگی نہیں ہے۔“بوڑھی ماں اس کے مضبوط بازﺅں سے الجھنے اور پھر جھولنے لگی۔جن سے اُس نے ثرّےا کی سےاہ گتھی ہوئی چوٹی کو کلائی کے گرد مروڑ کر سانپ کی طرح لپیٹ کر تانا ہوا تھا۔اذےت سے ثرّےا کا سر کسی کٹنے والے سر کی طرح پےچھے کی طرف جھک کر کھنچ گےا تھا۔اسکے حلق سے نکلنے والی گھٹی گھٹی چےخوں کی آواز ماں کے کرب کو مزےد بڑھانے لگی۔

”مےں کہتی ہوں چھوڑ دے ظالم ۔۔اسے چھوڑ دے تجھے اﷲ کا واسطہ۔۔“ بوڑھی ماں منتوں سماجتوں پر اتر آئی۔

”کان کھول کر سُن لے ماں اگر آج کے بعد اس نے اختر علی کے لڑکے سے شادی کا کہا تو زبان کاٹ ڈالوں گا اس کی“۔اُس نے زور سے ثرّےا کو فرش پر پٹخ دےا۔

”اری کچھ اﷲ رسول سے ڈر۔۔شادی کرے گی اےسے بے حےا لوگوں مےںجونہ نماز کے نہ قرآن کے ۔کافر بنا دوں تجھے اُن نو دو لتےوں سے شادی کر کے۔۔۔تاکہ برہنہ چہرہ لئے پھرے سڑکوں بازاروں مےں ماری ماری،غےر مردوں سے ہنس ہنس کے باتےں کرے۔۔۔بے دےن ہو جائے گی بے دےن۔۔۔بے حےا۔خود بھی جہنم مےں جائے گی اور ہمیں بھی لے کر جائے گی۔©©“مارے غصّے کے اس کا جسم کانپ رہا تھا ۔شدّتِ غضب سے آنکھیں خوں فشاں ہو رہی تھیں۔منہ سے کف بھی اُڑنے لگا۔وہ زور زور سے بُڑ بُڑاتا ہوا پاﺅں کی ٹھوکر سے چےزےں اِدھر اُدھر ہوا مےں اُڑاتا ہوا باہر نکل گےا۔ثرّےا کے اندرونی زخموں سے پھوٹنے والا مواد آنکھوں سے خارج ہونے لگا۔ماں نے روتے ہوئے بیٹی کو بھی بازﺅں مےں سمےٹ لےا۔

”مولوی صاحب آگئے۔۔۔مولوی صاحب آگئے۔۔“ایک شور سا اُٹھا جس کے ساتھ ہی مدرسے کی صفوں پر آڑے ترچھے بےٹھے ہوئے بچے بجلی کی سی تےزی سے سےدھے ہو کر بےٹھ گئے۔ہر اےک نے تلاوت کی لے دوسرے سے اُونچی لے جانے کی کوشش کی۔مولوی صاحب آتے ہی اپنی نشست پر ڈھے سے گئے۔۔ابھی پرسوں ہی تو اس نے لتاڑ کر اخترعلی کے رشتے کو واپس پلٹاےاتھا۔اور اب بہن خود اپنے منہ سے اپنی شادی کا کہے ےہ تو اس کے خاندان مےں دےدم نہ شنیدم والی بات تھی۔غصّہ تھا کہ اعصاب پر مسلسل سوار۔

”رضا اوئے ۔۔مولوی صاحب کی آنکھےں دےکھ ۔۔کےسی سرخ ہیں۔۔“نو واردچھوٹے مزّمل نے رضا کو ٹہوکا دےا۔

”چپ کر۔۔وہ چھڑی دےکھ رہا ہے نا سامنے۔۔“رضا ہولے ہولے بولا۔

”مجھے مولوی صاحب کے غصّے سے بڑا ڈر لگتا ہے۔۔“وہ پھر نحیف سے سرگوشی مےں کسمساےا۔
”چُپ کر جا ےار۔۔مولوی صاحب نے دےکھ لےا تو بڑا مارےں گے۔“رضا نے پھر ہولے سے تنبےہہ کی۔مگر جب قسمت ہی نا مہربان ہو تو کےا۔مولوی کو بھی اپنا غصّہ نکالنے کا طرےقہ سوجھ ہی گےا۔۔فوراََ ہی دونوں کو دھر لےا۔

”پکڑ کان مےں کہتا ہوں پکڑ کان۔۔مرغا بن۔۔جلدی بن مرغا۔۔“مولوی کی گرج دار آواز نے دنوں کی ٹانگوں مےں لرزہ پیدا کر دےا تھا۔دونوں معصوم کانپتے ڈولتے ہوئے آئے اور مرغا بننے لگے۔حالت ےہ تھی کہ ننھے ننھے ہاتھوں سے جب کان تھامتے تو وہ چھوٹ جاتا۔۔مولوی صاحب کو اےسا مرغا بننا پسند نہ آےا۔بےد کی چھڑی طلب کی گئی ۔جس نے ننھے معصوموں کی کمر کے پے در پے کئی بوسے لئے ۔اذےت سے دونوں معصوم بلبلا اُٹھے۔بےد کی اس چھڑی کا اتنا کثرت سے استعمال تو شاےد حوالات مےں بھی نہ کےا جاتا ہو گا جتنا کہ ےہاں اس دارالعلوم مےں کےا جاتا،جس کے مالک نے ایک شادی سعودی عرب میں بھی کر رکھی تھی۔بچوں کو سبق رٹانا وہ بھی طوطے کی طرح ےہ کونسا مشکل کام تھا۔ وہ چھڑی جس کے بل بوتے پر جانور بھی انسانوں کی طرح سدھار لئے جاتے ہیں اِس طرح مولوی صاحب کا تزکےہ¿ نفس بھی ہو جاتا۔گوےا دےنی و اخلاقی دونوں فوائد کثرت سے حاصل ہوتے۔

ننھے مزمّل نے گھر پہنچتے ہی رو رو کر دہائےاں دےتے ہوئے ماں کو اپنی کمر دکھائی ۔ ماںبےچاری توکلےجہ ہی تھام کے رہ گئی۔

”ہائے مےرا بچہ،میرا لال۔۔مولوی،ٹٹ پینے کو ذرا بھی ترس نہ آےا بچے کو اتنی بے دردی سے مارتے ہوئے۔“بچے کی کمر پر ابھرے نےلے اور جامنی نشان انھیں اپنے دل پر رنگ چھوڑتے ہوئے محسوس ہوئے۔وہ اےک اےک داغ دےکھ کر رونے لگےں۔

”بس کر نےک بخت بس کر۔۔۔سبق ےاد نہ ہو گا اسے ورنہ مولوی کوئی بے سبب تو مارنے والا نہیں۔آخر اﷲ کی راہ مےں دےا ہے حفظ کر رہا ہے کوئی عام بات نہیں۔ہم نے بھی بڑی مار کھائی ہے اپنے بچپن مےں قاری صاحب سے۔“لمبی سےاہ خضاب شدہ داڑھی والے بصےر صاحب نے گھر مےں داخل ہوتے ہی صورتحال دےکھ کر بڑے فخر سے سےنہ تان کر بتاےا۔

”دےکھنا نےک بخت کےسے تجھے اور مجھے ہاتھ پکڑ کر جنّت مےں لے کر جائے گا مےرا حافظ بےٹا۔۔“انھوں نے آگے بڑھ کر مزمّل کے ماتھے کو اپنے لبوں سے اےسے لگاےا جےسے وہ کوئی مقدّس لوح ہو اور ےہ نشان اس لوح کو کندہ کرنے کے لئے داغے گئے ہوں۔زرےنہ بی بی نے اےک زور کی سرد آہ بھری اور ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے ہوئے ننھے معصوم کو کلےجے سے لگا کر بھینچ لےا۔زرےنہ بی بی کی ڈولی کو جب ماں باپ نے کاندھا دےا تبھی سے اس نے جہیز مےں جو خواب لگن کے دھاگوں سے سےنچ سےنچ کے پلکوں پہ ٹانکے تھے وہ اسے بھوکے پےٹ کی صورت مےں بصیر صاحب کی گھر سے عدم تو جہی کی صورت مےں کئی گنا ضرب کھا کر وصول ہوئے۔

دکھی ماں نے مجازی خداکے احکامات سے دو دن بعد ہی چمکار کے اپنے لاڈلے کوپھر امتحان گاہ بھےج دےا۔لڑکھڑاتے قدموں سے مدرسے مےں داخل ہو کر ننھا سا وجود پھر اپنی جگہ سمٹ کر بےٹھ گےا۔اذےت بھری دو راتےں جس مےں مولوی صاحب کا چہرہ آنکھےں بند کرنے پر بھی بار بار سامنے آتا کےسے گزرےں ےہ و ہی جانتا تھا۔سبق رٹنا آج اُسے بوجھ معلوم ہو رہا تھا۔پھر وہی معمول کا غُل بلند ہوا،پھر اسی طرح برق رفتاری سے صفےں درست ہوئےں ،پھر وہی بلند بانگ قرا¿ت کی لے،پھر مولوی صاحب کی قندھاری آنکھےں۔۔اب پھر وہی قےامت کا لمحہ سبق سنانے کا۔جس مےں اُسکی اُدھڑی ہوئی کھال جسم سے بڑی آسانی سے علےحدہ بھی کی جا سکتی تھی۔اُس نے بڑی مشکل سے تھوک نگلا۔۔حلق تو اےسے تھا جےسے خشک بنجر، زمےں۔اب وہ لمحہ آ گےا تھا جب اُسے اپنے حصّے کا اجردےن کے اس رکھوالے سے بانٹنا تھا۔

اُس نے کانپتے ہاتھوں سے انگشتِ شہادت سےپارے پر رکھی۔اےک نگاہِ دےدم وکشےدم مولوی صاحب کے ہاتھ مےں پکڑی چھڑی پر ڈالی جو کبھی دائیں سے بائےں جھک جاتی اور کبھی بائےں سے دائےں۔جےسے حکم کی غلام ہو۔

”اب بول بھی ۔۔۔سنا سبق۔۔“مولوی صاحب نے گرج کر اپنی خضاب شدہ داڑھی پر ہاتھ پھیرا۔اُس نے لرزتے ہوئے پھر سےپارہ تھاما۔آہستگی سے خشک ہونٹوں پر زبان پھےری۔غور سے لفظوں کو دےکھا دماغ پر بھی زور دےا لےکن نہ حافظہ ساتھ دے رہا تھا نہ وقت۔مولوی صاحب کی چھڑی آگے پیچھے جھولنے لگی ۔ساتھ ہی اُس کی زبان بھی اندر ہی اندر مڑنے لگی۔خوف زدہ ہو کر اُ س نے پھر چھڑی کو دےکھا بالکل اےسے جےسے قربانی کا جانور چھرےوں کو دےکھتا ہے۔ےکاےک اےک چھڑی اسکی پیٹھ پر پڑی۔”سنا ۔۔سناتا کےوں نہیں۔“مولوی کے چہرے کی کرختگی بڑھنے لگی۔سرخی مائل آنکھےں مزےد کُھل گئیں۔موٹی ناک اوپر کو چڑھ گئی۔کالے ہونٹ سکڑ گئے اور ماتھے کی تےورےاں اےک کے اندر جا بےٹھیں۔اےک سنسنی سی اسکے جسم مےں دوڑ گئی۔

”آج پھر سبق ےاد نہےں۔۔نالائق۔۔ملعون ۔۔شےطان کی اولاد۔۔آج تجھے نہیں چھوڑوں گا۔۔بس آج نہیں۔۔۔“مولوی نے چےل کی طرح جھپٹ کے اسے اُچک لےا ۔وہ پھڑ پھڑانے لگا۔منڈےر پہ بےٹھے دو کبوتر پر پھڑپھڑاتے ہوئے اڑے۔”ٹھہر جا آج مےں تےرا علاج کر کے ہی رہوں گا۔۔“بےد کی چھڑی دائےں بائےںزور زور سے لہرانے لگی ۔ننھی ننھی چےخوں سے مدرسہ گونجنے لگا۔مولوی نے بھی آج اُس مخلوق کو سدھارنے کی تھام ہی لی تھی۔

”اِس چھڑی کی طرح سےدھا نہ کےا نہ تو مےرا نام بدل دےنا۔۔“وہ زمےن پر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔مولو ی ا ٓج اپنے آپے مےںنہ تھا۔باقی تماشائےوں کو عبرت دےنے کا ےہ عمدہ طرےقہ تھا۔ےکا ےک مولوی نے اُسے بالوں سے کھےنچا اور لاتوں اور گھونسوں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے لعنتےں ملامتےں دےتا ہوا اُسے گھسےٹتا ہوا ایک تنگ و تارےک کو ٹھری کی جانب بڑھا ۔”آج تو اِس ِجنوں والی کوٹھری مےںرہ۔۔“مولوی نے ایک طائرانہ نگاہ باقی زرد ہوتے چہروں پہ ڈالی۔ ”جب تک سبق ےاد نہ ہو گا چھٹی نہیں ملے گی۔“مولوی نے دےوانہ وار اُسے گھسیٹا اور اندر دھکّا دے دےا۔۔”سُن لےا تو نے۔۔“مولوی نے کف اُڑاتے ہوئے کوٹھڑی کو آگے سے کُنڈی چڑھا دی۔مدرسے کے باقی بچوں کو بھی سانپ سونگھ گےا۔مزمّل کی ننھی خوفزدہ چےخےں ہوا مےں تحلےل ہونے لگےں۔تھوڑا وقت گزرا۔دھےرے دھےرے چےخنے چلّانے کی آوازےں کم ہونے لگےں ۔تنہائی اور اندھےرے کے جن نے اُس پر حاوی ہونا شروع کر دےا تھا۔

دکھی ماں کے دل کو کسی آن چےن نہ تھا اب تو پانچ بھی بج چلے تھے۔بچہ مدرسے سے نہ آےا۔مجازی خدا کے آنے مےں ابھی وقت تھا اُس نے دل کڑا کے خود مدرسے جانے کی ٹھانی۔مدرسے کی راہداری سے گزر کر اندر داخل ہوتے ہوئے اُس نے ججھکتے ہوئے مولوی صاحب سے اپنے بچے کا درےافت کےا۔

”بی بی اُس کو سبق ےاد نہ تھا ۔ تھوڑی سی سزا دی ہے۔۔“تم جاﺅ مےں بھےج دےتا ہوں۔تھوڑی سی سزا ۔اُس نے زےرِلب دہرایا۔

”نہیں آپ بلا ہی دےں تو مہر بانی ہوگی ۔۔“ماںڈٹ گئی۔مولوی کو کافی ناگوار گزرا۔اس نے پہلو بدلتے ہوئے آنکھوں ہی آنکھوں مےں مدرسے کے دو بڑے بچوں کو اشارہ کےا جھنوں نے آن کی آن مےں کوٹھری سے نڈھال اور پژمردہ مزمّل کو چٹائی پر سےدھا لا کرلٹا دےا۔

”کےا ہوا مےرے بچے کو۔۔۔“وہ تڑپ کے آگے بڑھی۔”کچھ نہیں ہوا بی بی۔۔۔کہا نا سبق ےاد نہیں تھا تھوڑی سی سزا دی ہے ۔لگتا ہے ڈر گےا ہے ذرا۔۔ابھی ٹھےک ہو جائے گا۔اتنی بھی پریشانی والی بات نہیں۔۔“مولوی نے منہ بناتے ہوئے جواب دےا۔مگر ماں کا بے چےن دل ہولنے لگا۔اُس نے ہولے ہولے اپنے بچے کو اٹھانا شروع کےا۔مگر ستے ہوئے جسم مےںکوئی حرکت نہ ہوئی۔

”مزمّل۔۔۔اُٹھ مےرا بچہ ۔۔۔دےکھ ناتےری ماں آئی ہے۔۔اُٹھ مےرا سو ہنا۔۔“اب اُس نے دےوانہ وار بچے کو جھنجھوڑ نا شروع کر دےا ۔مگر وہ پھر بھی نہ ہلا۔

اُس کا دل کسی نے مٹھی مےں بھےنچ لےا۔”مزمّل ۔۔۔اُٹھ نا۔۔اُٹھ مےرا بچہ۔۔۔“وہ اُس کے بے حس جسم کوکپکپاتے ہاتھوں سے خود سے بھینچنے لگی۔۔”مےرا بچہ۔۔مےرا لعل۔۔کوئی تو دےکھو اسے۔۔ارے کوئی تو دےکھو۔۔“وہ دُوھائےاں دےنے لگی ۔”ارے مولوی صاحب دےکھو نا اِسے ۔۔۔“زرےنہ بی بی نے بے بسی سے مُڑ کر ڈبڈبائی نظروں سے مولوی صاحب کو دےکھا۔۔مگر مولوی صاحب اشک بار آنکھوں سے سورة مزمل کا درس دے رہے تھے،اٹھ چادر والے اٹھ،خالقِ کائنات پیار سے اسے کہہ رہا تھا، جو دنیا بھر کے بچوں میں پیار بانٹنے آئے تھے۔

Check Also

March-17 sangat front small title

یہ دنیا والے ۔۔۔ بابوعبدالرحمن کرد

(معلم۔ فروری 1951) مہ ناز ایک غریب بلوچ کی لڑکی تھی۔ وہ اکثر سنا کرتی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *