Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » انٹر نیشنل کاشاعر ۔۔۔ جاوید اختر

انٹر نیشنل کاشاعر ۔۔۔ جاوید اختر

تاریخ بے رحم ، ظالم اور بے نیا ز ہے۔ اس کے لیے عربی زبان میں ایک کہاوت مشہور ہے، ’’ الو قت و سیف ‘‘ تاریخ ستم ظریف ہے۔ وہ بعض اوقات گمنام اور غیر معر وف لوگوں کو فو راََ عالمی شہرت کی بلند یوں پر پہنچا دیتی ہے تو کبھی کبھا ر مشہور عالم ہستیوں کو گمنامی کے اتھاہ ظلمتوں میں دھکیل کر گمنام کر دیتی ہے۔ تاریخ نے ایسا ظالمانہ کھیل یو گینی پوتی اے کے ساتھ بھی کھیلا ، جس نے اپنا مشہور زمانہ ترانہ ’’ انٹر نیشنل ‘‘ لکھ کر دنیا بھر کے گنگ محنت کشوں کے خیالات و جذبات کی تر جمانی کی اور انہیں ظالم طبقات کے خلاف صدا ئے احتجاج عطا کی۔
یو گینی پوتی اے 4 اکتو بر 1816 ء میں پیر س میں ایک مز دور کے گھر پید ا ہوا ۔ اس کا بچپن اور جوانی انتہائی عسرت میں بسر ہوئے۔ اس نے ایک ٹرانسپورٹ ورکر اور ٹیکسٹائل ڈیزائنر کے طور پر اپنی روزی کمائی ۔ اس کی دوستی مشہور فرانسیسی مصور گسٹاؤ کو رئیے کے ساتھ ہوگئی ، جس نے اُسے جو زف پر و دھون سے متعا رف کرایا۔ جو زف پرو دھون اُسے سیا ست میں لے آیا۔ پو گینی پو تئے نے اس دور میں شاعری کے ساتھ ساتھ سیا ست میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شر وع کیا۔ وہ پہلی انٹر نیشنل کا رکن ہوا۔ جس کے رہنما کارل مارکس اور فریڈر ک اینگلز تھے۔ اس نے 1848ء کے انقلاب میں بھی بھر پور حصہ لیا اور انقلابیوں کے مورچے میں ایک انقلابی سپاہی کے طور پر جنگ لڑی ۔ وہ نپولین سوم کا سخت مخالف تھا۔ اور 2 دسمبر 1851ء کی بغاوت میں عملی طور پر شریک ہوا۔ وہ عوام میں اس قدر مقبول ہوا کہ پیرس کمیون کے انتخاب میں 3600 میں 3352 ووٹ حاصل کر کے اس کا رکن منتخب ہوا۔ اس نے پیرس کمیون کی سر گرمیوں میں بہت اہم قائد انہ کردار سرا نجام دیا۔پیر س کمیون محنت کشوں کی پہلی ریا ست تھی جو 26 مارچ سے لے کر 30 مئی 1871 تک کی کم مدت تک قائم رہی اور بالآخر حکومت نے پیرس میں خون کی ہولی کھیل کر اسے ختم کر دیا۔ یو گینی پوتی اے اس کے دفاع میں آخری لمحات تک لڑ تا رہا۔ حکومت نے اس کے لیے سز ائے موت کے احکام جاری کیے مگر وہ اپنی جان بچا کر لندن فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ جہاں سے وہ امریکہ چلاگیا۔ امریکہ میں اس نے اپنی جلا و طنی کا زمانہ انتہائی غر بت کے عالم میں بسر کیا۔ 1887ء میں وہ فرانس واپس لوٹا اور محنت کشوں کی پارٹی کا رکن ہو گیا۔ اسی سال 6 نو مبر1887 ء کو اس کا انتقال پیرس میں ہوا۔ محنت کشوں کے ایک جم غفیر نے اس کے جنازے میں شر کت کی۔ محنت کش جب اس کا جنازہ قبر ستا ن ( جہاں پیرس کمیون کے شہدا دفن تھے) کی طرف لے جا رہے تھے تو پولیس نے ان کے جلوس پر وحشیا نہ طو رپر حملہ کیا اور ان کے ہاتھوں سے سرخ پر چم چھیننے کی کو شش کی ۔ مگر محنت کشوں نے اپنے سر خ پر چم کو سر نگوں نہیں ہونے دیا۔
یو گینی پوتی اے نے ہر مو قع پر نظمیں تحریر کیں ۔ اس نے امر یکہ میں اپنی جلا وطنی کے دوران ایک نظم ’’ امریکہ کے محنت کشوں کا پیغام فرانس کے محنت کشوں کے نام‘‘ تحر یر کی۔ جس میں اس نے سر مایہ داری میں محنت کشوں کے استحصال ، ظلم و جبر ،محنت کشوں کی کمر توڑ مشقت ، غر بت ، بے بسی او ر حالت زار کا تذ کرہ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ حتمی مقصد میں کامیابی و کامرانی میں ان کے پختہ یقین کو ظاہر کیا۔ اس کی نظموں کا اولیں مجموعہ ’’ انقلابی نغمے‘‘ 1887ء میں شائع ہوا، جو محنت کشوں میں بہت مقبول ہوا۔ علاوہ ازیں اس کی و فات کے بعد اس کی کئی نظمیں اور نغمے بھی شائع ہوئے۔یو گینی پو تئے نے جو ن 1871 میں اپنا مشہورِ زمانہ انقلابی ترانہ ’’انڑنیشنل‘‘ تحریر کیا۔ اسی سال فرانسیسی ورکر ز پارٹی نے مو سیقاروں کا ایک گروہ لا لا ئر ڈی ٹر یولر ز کے نام سے تشکیل دیا، جس کے ایک رکن پئر ڈیگیر ے نے ’’ انٹر نیشنل ‘‘ ترانے کے لیے ایک دھن تیا ر کی، جسے اس نے آلات مو سیقی پر گایا۔ 1888 ء تک یہ تر انہ محنت کشوں کے انقلابی ترانے کے طور پر گایا جانے لگا۔ فرانسیسی ور کرز پارٹی نے اس کی چھ ہزار کاپیاں شائع کیں۔ اس ترانے کا عنوان پہلی انٹر نیشنل کے نام پر رکھا گیا، جو انٹر نیشنل ورکنگ مین ایسوسی ایشن کے نام سے 1864 ء میں لندن میں قائم ہوئی تھی ۔ فرانسیسی سو شلسٹ پارٹی نے پہلی بار ’’انٹر نیشنل‘‘ تر انے کو 1900 ء میں اختیا ر کیا ۔ اس کے بعد یہ پوری دنیا میں محنت کشوں کے اجلاسوں، ہڑتالوں ، احتجاجی مظاہروں ، کانفر نسوں، کنو نشنوں کا حصہ بن گیا۔ 1898 ء میں اس ترانے نے لینن کی تو جہ کو بھی جیت لیا۔ اس کا بھائی دیمتری اولیا نوف لینن سے متعلق اپنی یادداشتوں کے سلسلے میں ایک مضمون میں اس کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ لینن بچپن میں’’ انٹر نیشنل ‘‘تر انے کو فرانسیسی میں اپنی چھو ٹی بہن اولگا کے ساتھ گانے کی مشق کیا کرتا تھا، جب سامارا میں اس ترانے سے کوئی بھی واقف نہیں تھا۔
علاوہ ازیں لینن نے 1913ء میں ’’ یو گینی پوتئے ‘‘ کی 25 ویں برسی‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا، جس میں اس نے ’’ انٹر نیشنل ‘‘ ترانے کوسراہتے ہوئے کہا۔’’طبقاتی شعو ر کا حامل مزدور خواہ وہ کسی بھی ملک میں ہو، جہاں بھی قسمت اسے لے جائے، وہ خود کو اپنے وطن سے دور افتادہ اور غیر زبان بو لنے والوں کے مابین احبا ب کے بغیر کتنا ہی اجنبی کیوں نہ محسوس کرتا ہو، لیکن جب وہ ’’انٹرنیشنل ‘‘ کی دھن سنتا ہے تو اسے احباب مل جاتے ہیں۔‘‘
’’ تمام ملکوں کے محنت کشوں نے پرو لتاری شاعر کے اس ترانے کو عظیم رزمیہ کی حیثیت سے اختیار کیا ہے اور اسے عالمی پر و لتاریہ کا ترانہ بنا لیاہے۔‘‘
’’ انٹر نیشنل ‘‘دنیا بھر کے محنت کشوں کا عالمی انقلابی ترانہ بنتاگیا۔ اس ترانے کو 1910 ء میں کو پن ہیگن میں منعقد ہونے والی انٹر نیشنل سو شلسٹ کانگریس میں محنت کشوں کے عالمی انقلابی ترانے کے طور پر اختیار کیا گیا۔ 1905ء کے نا کام روسی انقلاب کے مو قع پر یہ ترا نہ مزدوروں ، کسانوں کی ہڑ تالوں ، مظاہروں اور اجلاسوں میں انقلابی ترانے کے طو ر پر گو نجتا رہا۔ 1917 ء کے با لشویک انقلاب کے مو قع پر بھی یہ ترانہ محنت کشوں ، کسانوں ، سپاہیوں اور انقلابی عورتوں کے لبوں پر تھا۔ جان ریڈ نے اپنی کتا ب ’’ دنیا کو جھنجو ڑ دینے والے دس دن ‘‘ میں با لشو یک انقلابیوں کے جوش و جذ بہ پر اس ترانے کے گہر ے اور دور رس اثرات کا ذکر کیا ہے۔
1922 ء میں سوویت یونین نے اسے اپنے قو می ترانے کی حیثیت دی۔ یہ ترانہ دنیا بھر کی انقلابی پارٹیوں ، مزدور ٹریڈ یو نینو ں ، کسان سبھا ؤ ں ، طلبا یو نینوں اور انقلابی عورتوں کا انقلابی ترانہ ہے۔ امریکہ میں 1912 میں مزدوروں کی ہڑ تال، سپن کی خانہ جنگی (1930 )اور مئی 1968 میں فرانس میں محنت کشوں اور طلبا کی مشتر کہ ہڑ تالوں میں اس تر انے کی انقلابی گونج سر مایہ داروں کی نیند یں حرام کرتی رہی ہے۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *