Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » الحاج نجمی

الحاج نجمی

بے کسی اور بے بسی کا وہ زمانہ یاد ہے
دے کے لوری بھوکے بچوں کو سلانا یاد ہے
اک پھٹی بنیان تھی اور اک پجامہ پیراہن
ہمکو اپنی مفلسی کا وہ زمانہ یاد ہے
دشمنوں کے طنزیہ وہ قہقہے بھی یاد ہیں
دوستوں کا زیرِ لب وہ مسکرانا یاد ہے
دوپہر کی دھوپ میں وہ پانی لانے کے لیے
مجھ کو میلوں دور تک وہ آنا جانایاد ہے
یاد ہے اب تک مجھے روٹی پکانے کے لیے
لکڑیوں کو پھونک کر چولہا جلانا یاد ہے
سردیوں کی بارشوں میں کانپتے بچے میرے
اُن کو گیلے بستروں میں ہی لِٹا نا یاد ہے
ٹین کی چھت پر اُتر کر رقص کرتی بارشیں
آندھیوں کا کھڑکیوں سے گھر میں آنا یاد ہے
گھر جسے میں نے کہا اُس کے کرائے کے لیے
گھر کے مالک کا مجھے باتیں سنانا یاد ہے
اب خدا کا شکر ہے کہ نجمی اپنے گھر میں ہوں
اب بھی مجھ کو اپنا گزرا وہ زمانہ یاد ہے

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *