Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » اعتماد کی سیڑھی ۔۔۔ آدم شیر

اعتماد کی سیڑھی ۔۔۔ آدم شیر

شام کے سات بجنے کو تھے۔ ٹریفک سگنل پر موٹرسائیکل روکی تو نیلی وردی پہنے ایک شخص میرے پاس آیا اور لجاجت سے پوچھنے لگا کہ پل پار کرنا ہے، بیٹھ جاؤں؟ ۔میں نے ایک عرصہ ہوا لفٹ دینا چھوڑ دیا ہے۔ پھر بھی لوگ لفٹ مانگنا نہیں چھوڑتے، پتا نہیں میرے چہرے پر کیا لکھا ہے۔ بڈھا بابا ہو یا بوڑھی عورت، تب لفٹ دینے کے متعلق سوچتا ہوں۔ اس ادھیڑ عمر آدمی کے اشارے پر رکی کئی موٹرسائیکلیں چھوڑ کر مجھ سے لفٹ مانگنے پر میں نے اسے سر کے کھچڑی بالوں سے پیوند لگی جوتی تک دیکھا ۔وہ میری نظریں بھانپ گیا اور اس نے شرمندگی کے ساتھ مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بتایا کہ وہ قریب ہی ایک مشہور ادارے کا چوکیدار ہے۔ ادارے کا نام سنتے ہی میں نے بیٹھنے کا اشارہ کیااور سبز بتی روشن ہونے پر موٹرسائیکل آگے بڑھا دی۔
’’وہ جی دفتر سے میری سائیکل چوری ہو گئی تھی، اب روز لفٹ مانگنا پڑتی ہے۔‘‘ میں نے گردن ہلکی سی گھما کر ایک نظر اس پر ڈالنے کی کوشش کی اور دوبارہ سامنے دیکھتے ہوئے سوچا کہ دفتر سے چوری ہوئی تو دفتر والوں نے نئی کیوں نہیں لے کر دی؟
میرے لئے صبح اور شام کے وقت موٹرسائیکل چلانا ہمیشہ سے مشکل رہا ہے۔ عجب افراتفری ہوتی ہے کہ دل کے مریض کو ہر وقت دورے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ ہر کوئی دوسرے کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکلنے کے چکر میں رہتا ہے اور اسی دوڑ میں گر پڑتا ہے یا سیدھی راہ چلنے والے کو بھی گرا دیتا ہے۔ جن لوگوں کو پیدل چلنے کا سلیقہ نہیں، وہ موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں چلا رہے ہیں تو ٹکریں کیوں نہ ہوں؟ اور ٹکر مارنے والے کو اپنی غلطی کا پتا نہیں ہوتا، دوسرے پر چڑھائی کر دیتا ہے۔ اس وقت بھی میں ڈرتے ڈرتے موٹرسائیکل چلا رہا تھا کہ میرے دائیں بائیں سے موٹرسائیکلیں ، کاریں اور رکشے شور مچاتے گزر رہے تھے اور میں ان میں سے وہ سائیکل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا جو میرے پیچھے بیٹھے چوکیدار کی چوری ہو گئی تھی۔ میری تلاش پتا نہیں کب تک جاری رہتی کہ اس کی آواز سنائی دی۔
’’وہ جی !جس طرح آپ نے دیکھا ، میں سمجھ گیا تھا کہ آپ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں۔‘‘
’’حالات بڑے خراب ہیں۔ میں کسی کو لفٹ نہیں دیتا۔ اعتماد کرنا مشکل ہے۔‘‘
’’ہاں جی۔ پَر اعتماد تو کرنا پڑتا ہے۔‘‘میں نے موٹرسائیکل روک دی اور حیرانی سے چوکیدار کو دیکھاجس کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور آنکھیں اچانک رکنے کا سبب پوچھ رہی تھیں لیکن میرے پاس جواب نہ تھا بلکہ سوال ہی سوال تھے ۔ کیا واقعی میں اعتماد کئے بغیر گزار ممکن نہیں؟ ۔اعتماد کی سیڑھی نہ ہوتی تو انسان کی پیڑھی آگے کیسے بڑھتی اور ہزاروں سال کا سفر کسی لفٹ کے بغیر کیسے طے ہوپاتا ؟ ۔میں چوکیدار کو چند کلومیٹر کی لفٹ دینے کے لئے مخمصہ کا شکار تھا تو کیوں؟ میں ذمہ دار ہوں یا حالات اتنے خراب کر دیئے گئے ہیں کہ اپنے جیسوں پر اعتماد کرنا مشکل ہو چکا ہے ۔ خوف آتا ہے کہ نیکی کر دریا میں پھینک کی بجائے خود دریا میں نہ گر جاؤں۔
چوکیدار نے مجھے یوں سڑک کے کنارے موٹرسائیکل روکے سوچتا دیکھ کر میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پوچھا، ’’سر جی! آگے نہیں جانا؟‘‘ تو میں نے موٹرسائیکل دوبارہ آگے بڑھا دی۔ پتا نہیں آگے جا رہا تھا کہ پیچھے۔۔۔ کہیں جا بھی رہا تھا یا وہیں اگلے چوک میں جامد تھا جہاں چوکیدار اپنی راہ ہولیا تھا۔

Check Also

March-17 sangat front small title

یہ دنیا والے ۔۔۔ بابوعبدالرحمن کرد

(معلم۔ فروری 1951) مہ ناز ایک غریب بلوچ کی لڑکی تھی۔ وہ اکثر سنا کرتی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *