Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » اسلم راحیل میرزا ۔۔۔۔ عاصم شجاعی

اسلم راحیل میرزا ۔۔۔۔ عاصم شجاعی

اسلم راحیل میرزا ؔ دو آبہ بستی جالندھر کے مشہور شہر ہوشیار پور کے ایک مزدور گھرانے میں 16جون 1927کو پیدا ہوئے۔ آپ مغل برادری سے تعلق رکھتے تھے اور آپ کے والد مستری عطا محمد 1917میں کراچی منتقل ہو کر ریلوے میں بھرتی ہو گئے تھے۔ پھر ایک عرصہ تک سکھر کیرج شاپ میں کام کرنے کے بعد 1940میں مغل پورہ ریلوے پاور ہاؤس کی ٹرین لائٹنگ شاپ میں آگئے جہاں سے 1952 میں وہ بطور مستری ریٹائر ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلم میرزا ؔ نے اپنی ابتدائی تعلیم سکھر اور ہوشیار پور میں حاصل کی اور پھر ڈی۔اے ۔وی ہائی اسکول ہوشیار پور سے 1946 میں میٹرک کرنے کے بعد پہلے انبالہ اور پھر دہلی میں بھی چند ماہ ملازمت کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ اپنے زمانہ طالب علمی میں ہی ادب سے انہیں گہرا شغف پیدا ہو چکا تھا اور انہوں نے اس دور کے ادب عالیہ کا مطالعہ کرلیاتھا۔ 1947 کے فسادات کے دوران آپ مہاجروں کے قافلوں کے ساتھ لاہور پہنچ گئے اور گڑھی شاہو کے برگنذا کوارٹروں میں سکونت اختیار کی۔ پھر تلاش معاش کے لئے سندھ اور بلوچستان کی طرف نکل گئے، جہاں سکھر اور لاڑکانہ کے دو سرکاری محکموں میں چند ماہ ملازمت تو کی مگر اسے چھوڑ کر لاہور واپس آگئے۔تعلیم جاری رکھنے کے لئے دیال سنگھ کالج میں داخلہ لیا مگر تعلیمی مصارف برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے تعلیم چھوڑ کر 1948 میں لاہور کے ایک پرانے اشاعتی ادارے ’’عالمگیر پریس اور ڈپو‘‘ میں ملازمت کرلی۔اسی ادارے کے دو مشہور علمی و ادبی جریدوں’’عالمگیر‘‘ اور ’’خیام‘‘ میں بھی کام کیا۔ اسی ادارے میں علمی و ادبی کتب کی اشاعت و ترسیل کے سلسلے میں عبدالرحیم شبلی بی کام اور سید قاسم محمود کے ساتھ بھی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ بعدازاں آپ ’’نیا ادارہ اور سویرا‘‘ اور ’’فیروزسنز ‘‘ جیسے اشاعتی اداروں کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔1952 میں انہوں نے ’’مکتبہ جاوید‘‘ کے نام سے ایک چھوٹا سا اشاعتی ادارہ قائم کیا جس کے ذریعے پہلے انہوں نے بچوں کے لئے اصلاحی کہانیوں پر مشتمل ایک درجن کتب شائع کیں، اور پھر اپنے ہم عصر ترقی پسند ادیب سلیم چوہدری کا نظریاتی ناول ’’سوز شبِ غم‘‘ اور بشیر رحمانی کاناولٹ’’غمِ عشق گر نہ ہوتا‘‘بھی شائع کئے۔ 1949 سے1960 کے دوران انہوں نے پاکستان کے مشہور علمی و ادبی جرائد ادب لطیف، نیرنگ خیال، ہمایوں، عالمگیر اور شاہکار وغیرہ میں افسانے اور مضامین شائع کروائے۔1960 کے بعد آپ اردو صحافت کے شعبہ میں آگئے اور دو سال تک ’’روزنامہ ہلال پاکستان‘‘لاہور میں کام کرتے رہے۔
اسلم راحیل میرزاؔ نے ادبی و فکری محاذوں کے ساتھ ساتھ سیاست کے میدانِ کارزار میں بھی بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ اپنی عملی زندگی کے آغاز سے ہی آپ محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لئے مزدور تنظیموں اور تحریکوں میں برابر دلچسپی لیتے رہے۔ 1954 میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی عائد ہو جانے کے بعد آپ ٹریڈ یونین محاذ پر معروف مزدور راہنما مرزا ابراہیم کے ساتھ ریلوے مزدوروں میں زور شور سے کام کرتے رہے۔ اسی طرح مزدور راہنما فضل الہٰی قربان اور سندھی خان کے ساتھ بھی آپ کافی متحرک رہے۔ 1962 سے 1972 تک ’’نیشنل عوامی پارٹی‘‘ کی تنظیمی و تحریکی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے رہے۔
اسلم راحیل میرزاؔ عوام کو ہی طاقت کا سرچشمہ سمجھتے تھے اس لئے اپنے ملک کی عوام سے آپ کبھی بھی مایوس نہ ہوتے۔ چونکہ آپ محنت کشوں کے فلسفہء حیات پر یقین رکھتے تھے، اس لئے ہمیشہ ملک کی ٹریڈ یونین تنظیم و تحریک کے ساتھ نہ صرف تعاون کرتے رہے بلکہ ماضی کی ان تحریکوں میں بھرپور حصّہ بھی لیتے رہے۔ 1967 میں ریلوے مزدوروں نے ایک ملک گیر ہڑتال کردی تو آپ نے اپنے ساتھیوں سمیت اس تحریک کو کامیاب کروانے میں بڑی سرگرمی سے حصّہ لیا۔ چنانچہ پولیس نے آدھی رات کے وقت آپ کے گھر پر چھاپہ مار کر آپ کو گرفتار کرلیا، اور آپ بے شمار دوسرے ساتھیوں اور سینکڑوں مزدوروں کے ساتھ اڑھائی ماہ کی جیل کاٹ کر باہر آئے۔
1968 کے آخر میں میرزاؔ صاحب نے ٹریڈ یونین محاذ کے کئی مختلف الخیال مزدور راہنماؤں کے ساتھ مل کر ایک ’’ایکشن کمیٹی‘‘ بنائی۔ اس کمیٹی کا مقصد ایوب خان کی فوجی آمریت کے خلاف ملک کی مزدور تحریک کو ایک قومی جمہوری تحریک کے ساتھ جوڑنا تھا۔اس کے اجلاس کئی ماہ تک مال روڈ کے ایک ریسٹورنٹ اور چائینز لنچ ہوم کے عقب میں سید معین شاہ ایڈووکیٹ کے دفتر میں ہوتے رہے۔ آخر ایک اجلاس میں مزدور تحریک پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے لئے مزدوروں کا ایک جلوس نکالنے کا بھی فیصلہ کیا گیا مگر لاہور شہر میں دفعہ 144نافذ تھی۔ لہٰذا جلوس کے مقررہ وقت سے پہلے ہی اس دفتر کی ناکہ بندی کردی گئی۔جب مزدور اس ناکہ بندی کو توڑ کر باہر نکلے تو پولیس نے انہیں ان کے راہنماؤں سمیت گرفتار کرکے تھانہ پرانی انارکلی سے کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا۔
’’نیشنل عوامی پارٹی‘‘ میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ میرزاؔ صاحب 1972 کے بعد ٹریڈ یونین محاذ پر بھی کام کرتے رہے۔ پھر جب آپ روزنامہ ’’مساوات‘‘ میں بحیثیت سینئر پروف ریڈر ملازم تھے تو وہاں اپنے کارکن ساتھی عبدالحفیظ راقب کے ساتھ مل کر ’’مساوات ورکرز یونین‘‘ کی بنیاد بھی رکھی۔ اسلم میرزا ؔ اس یونین کی ورکنگ کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے جبکہ حفیظ راقب اس کے صدر تھے۔ اس سے قبل آپ نے ’’شو میکر یونین‘‘ ، ’’ٹرنک ساز یونین‘‘ اور پھر ’’ورکرز فیڈریشن‘‘ کی تنظیم میں کام کرتے ہوئے ملک کے دور دراز علاقوں کے بھی دورے کئے تھے۔
اسلم راحیل میرزا ؔ ایک اچھے شاعر اور نثر نگار ہونے کے علاوہ اپنے مخصوص سائنسی نقطہ نظر کی وجہ سے ایک صائب الرائی ناقد بھی تھے۔ اگرچہ آپ انجمن ترقی پسند مصنفین کے پہلے دور میں بھی اس کی ادبی و تنقیدی سرگرمیوں میں حصّہ لیتے رہے تھے مگر 1974 کے عوامی ابھار کے دور میں آپ نے ایک بار پھر انجمن کا احیا بھی کیا۔ تنقید کے میدان میں آپ ایک ایسے ناقدبن کر ابھرے جو معمولی غلطی پر بھی فوراً اپنے ردِّ عمل کا اظہار کرتا ہے۔ چنانچہ آپ زندگی کے ہر شعبے کے ایک بے رحم ناقد تھے اور آپ کے مخصوص انداز تنقید کو فنِ تنقیدکا معیار بھی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ آپ کی تنقید مزید غورو فکر پر ابھارتی تھی۔
اسلم راحیل میرزاؔ نے تاحیات شادی اور گھر بار کی ذمہ داریوں سے احتراز برتابلکہ اس کے برعکس علم و ادب ، سامراج دشمن عوامی سیاست اور ملک کے محنت کشوں کی تنظیمی و تحریکی اور نظریاتی و تعلیمی سرگرمیوں میں اپنی بساط بھر حصّہ لیتے ہوئے صرف انہیں ہمیشہ اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔بالآخر علم و ادب اور پرولتاری سیاست کا یہ درخشاں چراغ 13مارچ 2015کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بجھ گیا۔ آپ کو 14مارچ کو بدھو کا آوا کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔میرزاؔ صاحب خود تو اس دنیا سے رحلت فرما گئے مگر آپ کا کام ہمیشہ مزدور تحریک میں زندہ و جاوید رہے گا۔
اسلم راحیل میرزاؔ کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آپ نے آخری دم تک لکھنے کا کام جاری رکھا۔ ’’منشور‘‘، ’’سنگت‘‘، ’’ماہِ نو‘‘جیسے سیاسی و ادبی جرائد میں برابر مضامین بھیجتے رہے۔ آخری عمر میں حادثے کی بنا پر چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے تھے، مگر پھر بھی علمی ادبی سفر جاری رکھا۔ آخر میں معذوری کی وجہ سے بے سروسامانی کے عالم میں رہے مگر پھر بھی زبان پر حرفِ شکایت نہ لائے۔ آپ کے قریبی دوستوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ آپ کے غیر مطبوعہ مواد کی اشاعت کا اہتمام کریں۔
اسلم راحیل میرزاؔ کی تصنیفات درج ذیل ہیں۔
1۔ پنجاب کے انقلابی راہنما
2۔ جو تاریک راہوں میں مارے گئے
3۔ سوبھوگیان چندانی کے سیاسی و تنقیدی مضامین (تاریخ بولتی ہے)
سندھی سے اردو ترجمہ
4۔ انقلابی کی موت
سوبھوگیان چندانی کے افسانوں کا اردو ترجمہ
5۔ سندھ کے چند انقلابی دانشور اور عوامی راہنما
یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے پہلے حصہ میں سوبھوگیان کے مضامین اور دوسرے حصہ میں میرزاؔ صاحب کے اپنے مضامین ہیں۔
6۔ سندھ کے مشہور ہاری اور سیاسی راہنما
کامریڈ غلام محمد لغاری کی آپ بیتی کاسندھی سے اردو میں ترجمہ
7۔ انقلاب کی شاہراہ پر
ہندی کے مشہور ناول نگار آنچل کے مشہور ناول کا اردو ترجمہ
8۔ انقلاب کے ساتھی
بھگت سنگھ کے ساتھی ہندی کے مشہور ناول نگار یش پال کے ہندی ناول کا اردو ترجمہ
9۔ جہازیوں کی بغاوت
1946 کی بحری جہازیوں کی بغاوت پر ایک تاریخی دستاویز
10۔ ذلتوں کی ماری عورتیں
جواہر لال نہرو کی چھوٹی بہن کرشناہتھی سنگھ کی انگریزی کہانیوں کا اردو ترجمہ
11۔ ساری دنیا خواب
شیخ آیاز کی آپ بیتی کا ترجمہ
12۔ میری یادوں کے چنار
سوبھوگیان چندانی کی یاد داشتوں کا ترجمہ
13۔ پمفلٹس
i)۔یومِ مئی اور عالمی مزدور تحریک
ii)۔چٹاگانگ کے انقلابی
iii)۔غدر پارٹی کے انقلابی
بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی۔ جلیانوالہ باغ
iv)۔عورتوں کا عالمی دن
14۔ بچوں کے ادب پر کتابچے
i)۔تاشقند کا جوہری
ii)۔بہادر لڑکا
iii)۔شبو درزی
15 ۔ غیر مطبوعہ کتابیں
i)۔داستان تحریک ہجرت
ii)۔سفید وحشی
شیخ ایاز کے افسانوی مجموعے کا ترجمہ
iii)۔روٹی کا شہر
ایک روسی ناول کا ترجمہ

Check Also

jan-17-front-small-title

شاہ لطیف،صوفی نہیں، یوٹوپیائی فلاسفر ۔۔۔ شاہ محمد مری

اچھے لوگ انہیں سمجھاتے رہے کہ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ کسی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *