Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » احمد ندیم قاسمی ۔۔۔ نظر ضمیر

احمد ندیم قاسمی ۔۔۔ نظر ضمیر

لا تعداد لوگ اس دنیا میںآئے اور اس دنیا سے چلے گئے مگرچند ہی لوگوں نے اس دنیا میںکارہائے نمایاں انجام دئےے جن کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لےے امر ہوگئے اور مرنے کے بعد بھی آج تک زندہ ہیں ان ہی میں سے ایک احمدندیم قاسمی ہیں جنہوں نے ہمیشہ معاشرے کی اصلاح کی اس کے باوجود کہ معاشرہ ان کو کچھ نہ دے سکا وہ آخری عمرمیں بھی فکرمعاش میں مبتلا رہے اورچیک کا انتظار کرتے رہے۔ یقینا آپ ادبی تاریخ کے ایک مینار ہیں اور ایک تحریک کی حیثیت رکھتے ہیں۔جب کہ اپنے طویل ادبی کیریئر میں کم سے کم تین نسلوں کے شعراءاور اادباءنے ان سے فیض پایا
آپ کی شخصیت منفرد رہی آپ اپنے کچھڑی بالوں کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ بزرگ نظر آتے رہے اس میں کوئی ابہام نہیں کہ انہوںنے کئی نسلوں کی رہنمائی کی جو کہ آج بڑے جید اور نامور شاعر و ادیب ، تنقید نگار اور نثر گو ہیں۔ آپ ہر حال میں ہمیشہ خوش رہے اور آپ کی خود داری کا یہ حال تھا کہ جب بھی کوئی آپ سے ملنے آتا آپ کی خیریت پوچھتا تو آپ فرماتے ”میں بالکل ٹھیک ہوں“۔ان کے بارے میں مزید کچھ لکھنے سے پہلے ان بارے میں کچھ تفصیل پیش کردوں۔ آپ 21نومبر1916کو ضلع خوشاب کے ایک گاو¿ں میں پیدا ہوئے آپ کا اصل نام احمد شاہ جب کہ تخلص ندیم تھا اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاو¿ں سے شروع کی گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل اسکول (اٹک) میں تعلیم پائی میٹرک شیخوپورہ اور بی اے بہاولپور سے کیا۔ ادب کی دنیا میں روزنامہ ”سیاست“ لاہور کے سرورق پر مولانا محمد علی جوہر کی وفات پر نظم لکھ کر وارد ہوئے اس وقت آپ 14یا پندرہ سال کے تھے اور 90سال کی عمر تک ادب کی خدمت کر تے رہے۔ آپ ادب کی ہر صنف میں مقبول رہے۔ آپ نے ادب کی خدمت ادیب، شاعر، کالم نگار، افسانہ نگار، مدیر ، نقاد او رمترجم بن کر کی اور ایسی شہرت پائی جو کہ کم لوگوں کو ہی نصیب ہوتی ہے ۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں کرنل محمد خان صاحب (اردو کے مزاح نگار) نے کہا” ندیم اردو ادب کا سب سے بڑا قومیا یا ہوا بینک ہے ہم سب اس کے مقروض ہیں۔وہ بہادر اور نڈر رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے تحریک ترقی پسند ادب میں نمایاں خدمات انجا م دیں اور دو دفعہ گرفتار بھی ہوئے ۔
ٓ    آپ نے اصولوں کی بنیاد پرزندگی گزاری ہمیشہ اصولوں کے پکے رہے۔ صاف گوئی کو اپنا یا مفادات اور غرض مندی جیسے تصورات نہیں پائے۔ اسی وجہ سے آپ نے اپنی زندگی تنگ دستی میں گزاری۔ کئی بار فاقہ کشی بھی کی۔ امتیاز علی تاج نے ”پھول “کی ادارت پیش کی آپ نے قبول فرمائی ۔ 20روپے ماہوار سے ملازمت اختیار کی پہلے محرر اور پھر ایکسائز انسپکٹر بنے۔ محکمہ آبکاری میںبھی ملازمت کی اس ملازمت سے مستعفی ہو کر تہذیب نسواں اور پھول کی ادارت سنبھالی 1943ءمیں ادب لطیف کے ایڈیٹر بھی رہے۔ 1941ءمیں ریڈیو پشاور میں سکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے کام کیا جو تقسیم کے بعد ڈیڑھ سال تک ریڈیو پشاور سے وابستہ رہے۔ آپ کی نظمیں انقلاب لاہور اور زمیندار لاہور میں بھی شائع ہوئیں۔ 1974ءمیں مجلس ترقی ادب کے ڈائریکٹر بنے۔ آپ کا دفترکلب روڈ مجلس ترقی ادب میں تھا۔ ڈاکٹر حسین رائے پوری آپ کے بارے میں فرماتے ہیں
”عہد حاضر کے اردو ادب میں احمد ندیم قاسمی صاحب کی شخصیت اس لحاظ سے منفرد ہے کہ وہ بیک وقت بلند پایہ شاعر اور صاحب طرز نثر نگار ہیں آزاد، پابند نظم ہو یا تخلیقی و تنقیدی نثر، ہر سمت ان کا قلم رواں ہے تقریباً 35سال سے انہوں نے ادب کی خدمت کو وظیفہ حیات بنا رکھا ہے“
بے شک آپ کی حیات ادب کے لےے ایک بیش بہا خزانہ ہے آپ کی ادبی زندگی احاطہ کرنا مشکل ہے لیکن مختصراً آپ سے وابستہ کچھ رسائل و اخبارات کا ذکر کرتا چلوں۔ آپ نے پھول ، تہذیب نسواں، ادب لطیف، سویرا، سحر، امروز، فنون ، جنگ، حریت، ہلال پاکستان ، نقوش میں مضامین ، کالم ، شاعری تحریر کی جو آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقوش ہے۔ مزاحیہ اور بچوں کے ادب کے لےے بھی کام بھی کیا۔آپ کی ادارت میں چلنے والے رسائل پھول، ادب لطیف، روزنامہ امروز، فنون، نقوش تھے ۔ آپ کے مشہور کالم ”حرف و حکایت“، ”پنج دریا“، موج در موج“، ”لاہوریات“، لاہورلاہور ہے“اردو ادب کے لےے ایک سرمایہ ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کے افسانوں کے 17مجموعے اور شاعری میں 8مجموعے آپ کی پہچان بنے۔آپ نے انگریزی ، روسی، چینی، جاپانی ، ہندی، پنجابی، بنگلہ، سندھی، گجراتی، مراٹھی، فارسی وغیرہ کی کہانیوں اور شاعری کے تراجم بھی کےے ۔ تحقیق و تنقید پر آپ کا کام لا جواب ہے آپ نے تہذیب و فن، ادب و تعلیم، علامہ محمد اقبال پر تحقیق و تنقید کی۔ اس کے علاوہ بچوں کے ادب اور ترتیب و تراجم پر بھی کام کیا۔
آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے آپ کئی بار اعزازات سے نوازے گئے۔ آپ نے 1979,1976,1936میں آدمی جی ایوارڈ حاصل کیا۔اس کے علاوہ حکومت نے بھی آپ کو 1968ءمیں پرائڈ آف پرفارمنس اور 1980ءمیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاو¿ں گا
میں تو دریا ہوں ، سمندر میں اتر جاو¿ں گا
موت برحق ہے ۔ جولائی کا مہینہ سن 2006ءہے ڈاکٹر خورشید رضوی ان سے ملنے گئے تو قاسمی صاحب بولے” محبت کے نشیب و فراز اب بہت غیر یقینی سے ہوگئے ہیں لیکن کسی وقت بھی اچانک اسپتال جانا پڑتا ہے ۔سانس کی آمد وشد بحال ہوجاتی ہے تو واپس آجاتا ہوں خیر آج بالکل ٹھیک ہوں“ آخر10جولائی 2006ءکا دن آیا ہمیشہ اپنے آپ کو بالکل ٹھیک کہنے والا اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ لوگوں کے دلوں کو اشکبار کرگیا۔ لیکن اس کا کام اس کی پہچان بن گیا مالک حقیقی کے پاس پہنچنے کے باوجود آج بھی وہ زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس دن کے لےے جوش صاحب نے کہا:
” 10جولائی2006ءکا دن بر صغیر کے لےے سوگوار دن ہے ہر طرف سے فون پر یہی خبر آرہی ہے کہ احمد ندیم قاسمی صاحب رخصت ہوگئے“۔

Check Also

jan-17-front-small-title

شاہ لطیف،صوفی نہیں، یوٹوپیائی فلاسفر ۔۔۔ شاہ محمد مری

اچھے لوگ انہیں سمجھاتے رہے کہ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ کسی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *