Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » اجنبی ۔۔۔ قمرشہباز/ ننگرچنّا

اجنبی ۔۔۔ قمرشہباز/ ننگرچنّا

وہ پلیٹ فارم پر پہنچا ہی تھا کہ گاڑی نے چلنا شروع کردیا۔
اُس نے دوڑنا چاہا، لیکن بائیں ٹانگ کی کمزوری نے اسے ایسا کرنے نہیں دیا۔ وہ پورا زور عصا پر لگا، اپنے آپ کو دھکیل کر چلتی گاڑی کے قریب پہنچا تو سہی لیکن فرسٹ کلاس کے ڈبے کی فولادی سیخ میں ہاتھ نہ ڈال سکا۔ اسے ایک جھٹکا لگا اور عصا اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر سیمنٹ کے فرش پر گرگیا۔ اس نے ہمت کرکے عصا اُٹھا یا، کاندھے میں لٹکتے بیگ کو سنبھالتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا اور ہاتھ بڑھاکرقریب گذرتے ڈبے کے ہینڈل کو پکڑنے میں کامیاب ہوگیا۔
وہ درست پاؤں سیڑھی پر زور سے جماکر، کچھ دیرچلتی گاڑی کے باہر لٹکتا رہا۔ جب اُس نے اپنے آپ کو مضبوط سمجھا تب دروازے کو دھکا دے کر بڑی تکلیف کے ساتھ اپنے تئیں اندر کھینچ لیا اور لڑکھڑاتا ہوا، دو قدم اُٹھاتا، تھک ہار کردیوار سے ٹیک لگا کرکھڑاہوگیا۔
ٹرین آؤٹر سگنل پار کر چکی تھی اور ملیر کی بے شمار جھگیوں کے جنگل سے گذر رہی تھی۔ تب اُس نے ہاتھ کی پُشت سے چہرے کا پسینہ پونچھتے ہوئے ایک نظر ڈبے میں اکیلی بیٹھی عورت پر ڈالی، جو اس کی موجودگی سے بے خبر، بڑے غور کے ساتھ کوئی اخبار پڑھ رہی تھی۔
اسے فوراً احساس ہوا کہ وہ غلطی سے لیڈیز ڈبے میں سوار ہوگیا ہے ۔
اُس نے لوٹنے کی کوشش کی، لیکن ٹرین رفتار پکڑ چکی تھی۔ وہ پریشان ہو کر ٹھہرگیا اور کہنے کے لیے کچھ الفاظ ڈھونڈنے لگا۔
اچانک اُس عورت نے اخبار ایک طرف رکھ کر قریب پڑے تھرموس سے پانی نکالنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس کی نظر لاٹھی کے سہارے کھڑے اجنبی پر پڑی اور اس کا ہاتھ وہیں رک گیا۔ کچھ کہنا چاہا، لیکن مرد نے اس سے پہلے ہی بول پڑا،” معاف کیجیے گا، مجھ سے غلطی ہوئی ہے ۔ در اصل میں اپاہج ہوں، جلدبازی کے سبب۔۔۔۔۔”
عورت چونک اُٹھی۔ اس نے یہ آواز پہلے بھی کبھی سُنی تھی۔ اُس نے غور سے دیکھا تو بڑھی ہوئی داڑھی اور چہرے کی بے شمار جھریوں کے عقب میں پوشیدہ شبیہ کچھ جانی پہچانی سی لگی ۔
مرد نے کندھے سے بیگ کا وزن اُتارکر نیچے رکھتے ہوئے کہا،” اگلی سٹیشن پر اُتر جاؤں گا۔ آپ اجازت دیں تو کسی کونے میں بیٹھ جاؤں؟”
اور تب اُس کی نگاہیں سامنے بیٹھی ادھیڑ عمر کی اس عورت پر جم کر رہ گئیں ، جس کے بالوں میں چاندی چمک رہی تھی اور جس کا ہاتھ تھرموس تک پہنچنے سے قبل رک گیا تھا اور جو اسے حیرت زدہ ہوکر گھور رہی تھی۔
اسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا، اپنے الفاظ اجنبی سے لگے ۔ بڑی مشکل سے کہہ پایا:” فریدہ ! تم؟”
عورت نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کی آنکھوں میں پھیلی حیرت کی جگہ اب حقارت نے لے لی تھی۔ دکھ، درد اور نفرت ،ساون کی بدلی کی طرح آنکھوں میں چھاگئے تھے ۔
اُس نے منہ پھیر لیا۔ شاید لڑک اُبھر آئے تھے اُس کی پلکوں پر۔
وہ نڈھال ہوکرقریبی نشست پر، اپنی لاٹھی رکھ کر، سر جھکا کر بیٹھ گیا۔
وہ ٹرین کے فرش پرحرکت کرتی چیونٹی کو تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ باتھ روم کی پتلی دراڑ میں گم نہ ہوگئی۔
صدیوں کے بعد اُس نے کچلے ہوئے لہجے میں کہا،” میں تمہاری تلاش میں ہی تھا ، فریدہ !”
فریدہ نے گردن موڑے بغیر جواب دیا،” مرچکی وہ فریدہ جس کی تمہیں تلاش ہے ۔”
اس نے کہا،” ایسا مت کہو۔”
گہری سسکی تھی فریدہ کی آواز میں۔ اس نے کہا،” تم نے اسے بیس برس پہلے مار دیا تھا اپنے ہاتھوں سے ۔”
کوئی تلوار اسے سرتاپا دولخت کرگئی۔ وہ کچھ بھی نہ کہہ سکا، خاموش رہا۔
” تجھے شاید یاد بھی نہ ہو، میں نے ایک ایک پل سُولی پر لٹک کر گذارا ہے یہ عرصہ۔”
” تمہارا گنہگار ہوں۔” گلے میں پھنسے تھوہر نے کہا،” یہی تو بتانا چاہتا تھا تمہیں۔”
” کچھ اعمال الفاظ کے محتاج نہیں ہوا کرتے ۔” فریدہ نے کہا۔
” کچھ الفاظ باگھ بن کر جگر میں گھات لگا کر بیٹھ جاتے ہیں ہمیشہ کے لیے اور زبان تک پہنچنے کے لیے جنم یُگ لگا دیتے ہیں۔”
فریدہ کی آنکھوں سے ایک آنسونیچے جا گرا۔ اُس نے کہا،” اور کچھ الفاظ شعلہ بن کر راکھ کر دیتے ہیں دل کی دنیا۔ بے موت مار دیا کرتے ہیں انسانی رشتوں ناتوں کو۔”
وہ خلا میں گھُورتا رہا۔
جب بولا تب آہ و بکا بن چکا تھا اس کا وجود۔
اُس نے کہا،” وہی الفاظ لوٹانے آیا ہوں تمہارے پاس۔”
فریدہ نے دوسرا آنسو گرنے نہیں دیا۔ اس نے ہاتھ کی پشت سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا،” کیا کیا لوٹا سکوگے ؟ فاروق! گیا وقت ؟ ٹوٹا ہوا بھروسہ؟ میری جوانی ؟ میرا اعتماد ، عزت ، انا یا طلاق کا دائمی داغ ؟”
فاروق نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی، کہ جیسے برسوں گذرگئے ۔ کئی چاند، کئی سورج، کئی نکھشتر، کئی ستارے اُبھرے اور ڈوب گئے ۔
سورج سوا نیزے پر آگیا، تب اس نے کہا،” میں بھی اس آگ میں تمہارے ساتھ جلا ہوں۔گذشتہ بیس برس باربار سزا کاٹ چکا ہوں اپنی غلطی کی۔ اعتبار نہ آئے تو میرے معذور بدن کودیکھ ! زخمی روح کی طرف دیکھ ! گھور کر دیکھ میری آنکھوں میں۔ زندگی کی لاش نظر آئے گی تمہیں آنکھوں کے تاروں کے آنگن میں۔ دشت و صحرا پاؤگے روح کی وسعتوں میں۔”
پھیکی مسکان پھیل گئی فریدہ کے ہونٹوں پر۔
اُس نے کہا،” تم کیا جانوسکرات کی سختی کو؟۔ میں نے ہر پل، ہر گھڑی ، ہر لمحہ گذارا ہے اذیت کی کانٹے دار صلیب پر۔ مجھ سے پوچھو، پل صراط کی تیز دھار کس طرح چیرتی ہے وجود کو؟”
اسے کوئی جواب سوجھے تو وہ دے ، اس لیے خاموش بیٹھا ٹرین کی کھٹ کھٹ کو سُنتارہا۔
کوئی سٹیشن آیا اور تیزی سے گذرگیا، کہ جیسے جگنو اڑے اندھیری رات میں، لیکن وہ اپنے ہی خیالوں میں گم رہا۔
اُس نے پیار کی شادی کی تھی فریدہ کے ساتھ ۔ یونیورسٹی میں ملے تھے دونوں ون یونٹ کے خلاف منعقدہ جلسے میں۔ فریدہ نے اس کے لکھے ہوئے گیت گائے تھے سٹیج پر آکر۔ جذباتی تقریر کی تھی جبر و ظلم وتعدی کے خلاف۔ جلوس نکلا تو بینر ہاتھ میں لے کر نکلی تھی بے خوف، سب سے آگے تارکول کی سیاہ تپیدہ سڑک پر۔ بکھرے بالوں اور خوبصورت آنکھوں والی یہ لڑکی بہت پسند آئی تھی فاروق کو۔ لاٹھی چارج اور اشک آور گیس شروع ہوئے تو دونوں نے بھاگ کر ایک جھگی میں پناہ لی تھی۔ اس اندھیری جھگی میں بسر کردہ چند لمحات اس کی زندگی کا ماحصل بن گئے اور اس نے وہاں ہی اس کے ساتھ شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
شادی ہوئی تو دونوں کی دنیا ہی بدل گئی۔ وہ خوشیوں ، خوابوں اور خوشبوؤں کے جہان میں بادلوں پر سوار پیرتے رہے ۔ قہقہوں کی کِھلتی چنبیلی کی دنیا ہی عجیب تھی۔ ہونٹوں کے کونوں پر مسکراہٹوں کی ابدی آبادیاں بس گئیں۔ پیار دونوں کے لیے گھنگھور گھٹائیں بن کر اُمڈ آیا ان کے وجودوں پر برسنے کے لیے ۔ ایسی خوشی جو صرف تصور میں ہی جنم لے سکے ، وہ حقیقت کا روپ دھار کربڑی خاموشی کے ساتھ، زمین پر اُتر آئی تھی اپسرا کی شکل میں ۔
فاروق کی شاعری کو سُریلی آواز مل گئی فریدہ کے روپ میں اور فریدہ کے باغی جذبات کو تسکین ملی تھی فاروق کے وجود سے ۔ پھر جب ہمیر پیدا ہوا تھا تب دونوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا تھا۔ بڑے نازونعم سے پالا انہوں نے اپنی تخلیق کو۔ دنیا بھر کا پیار نچھاور کردیا چھوٹے ، معصوم بچے پر۔ پھر ایک دن فاروق کو انگلینڈ سے آفر موصول ہوئی ملازمت کی۔ بڑی تنخواہ، بڑا عہدہ اور بڑا گھر۔ خوشی کے مارے آپے سے باہر ہو رہا تھا وہ۔ اس نے فریدہ کو یہ خوشخبری سنائی تو وہ بجھ کر رہ گئی اور کہا،” اپنی جنت چھوڑ کر جارہے ہو غیروں کی دنیا میں ؟”
فاروق نے کہا،” جنت تو ہمارے دل میں ہے ، ساتھ لے چلیں گے اپنا پیار۔”
” اور یہ دھرتی؟ یہ لوگ؟ یہ سندھو؟ اُٹھاسکوگے یہ سب کچھ اپنے ساتھ؟”
فریدہ کا یہ کٹرروپ تو اس نے دیکھا ہی نہ تھا اس سے قبل۔
اس نے کہا،” یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ۔”
فریدہ تڑپ اُٹھی تھی،” کہنے کی باتیں ہیں ؟ تیری شاعری ، میری سوچ، ھمیر کا وجود؟ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں؟ ڈھونگ ہیں ؟ فریب ہیں؟”
اس نے کہا،” سندھ تو ہر سندھی کے وجود میں رچا بسا ہوا ہے ، کوئی کہیں بھی رہے ۔”
جواب ملا،” میں اس مشکل گھڑی میں اپنے وطن کوچھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ وطن کو ہماری ضرورت ہے ، میں اسے مایوس نہیں کروں گی۔”
اس نے کہا ، ” لیکن یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے ۔”
فریدہ نے کہا،” میرا مستقبل میری زمین سے وابستہ ہے ۔ تم جانا چاہوتو جاسکتے ہو۔”
فاروق کے دل کو چوٹ پہنچی۔اس نے کہا،” رہ سکوگی میرے بغیر؟”
وہ ہنس دی اور کہا،” صرف تم ؟۔ میں دنیا چھوڑ سکتی ہوں اپنے آدرشوں کے لیے ۔”
اُس نے پہلے سوچا کہ جذباتی ہے ، ٹھنڈے دل سے سوچے گی توہوش کے ناخن لے گی۔فریدہ نے سوچنے سے ہی انکار کردیا۔اختلافات ضد میں تبدیل ہوگئے ۔ضد انّا کاسبب بن گئی۔ پیا رپنکھ لگا کر اُڑگیا گھر سے ۔ بالآخر فیصلہ کن گھڑی آ پہنچی۔
فاروق نے کہا،” تمہیں دونوں میں سے ایک چیز کو چنناپڑے گا۔۔۔”
فریدہ کی آنکھوں میں پانی بھرآیا، گلوگیر آواز میں کہا،” میرا پیار تم سے ہے اور رہے گا، یہ یاد رکھنا، فیصلہ وہی ہے جو مجھے کرنا چاہیے ۔”
فاروق کے تن بدن میں انگارے بھرگئے ۔اس نے کہا،” اس کا انجام جانتی ہو؟”
”ہاں۔” فریدہ نے کہا،”میں فرد کی اختیاری دہشتگردی برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں۔”
وہ طلاق کا لفظ تین بار ادا تو کربیٹھا لیکن اسے اپنے کانوں پر اعتبار ہی نہیں آیا۔ اسے لگا کہ وہ آواز کسی اجنبی آدمی کی تھی جو اس نے سُنی تھی۔
وہ روئی، چیخی نہ شکوہ شکایت کی، مظلومیت کا لفظ تو اس کی سرشت میں ہی شامل نہ تھا۔بس خاموش بُت بنی اسے دیکھتی رہی اور پھر ھمیر کو سینے سے لگا کر ہمیشہ کے لیے نکل آئی اس کی دنیا سے ۔
ٹرین ایک بار پھر کسی چھوٹے سٹیشن سے گذر رہی تھی۔ ایک پل کے لیے دھیمی روشنی کی انگلی کسی شرارتی بچے کی طرح کھڑکی پر نشان لگاکر گم ہوگئی۔
اُس نے آنکھیں اُٹھاکر فریدہ کی طرف دیکھا اور پھر جیسے اپنے آپ سے مخاطب ہوا،” ایک ساعت بھی چین سے سونہ سکا ہوں یہ تمام عرصہ۔”
پھیکی ہنسی فریدہ کے ہونٹوں پر پھیل گئی،لیکن کہا کچھ بھی نہیں ۔
اسے جواب نہ ملا توخود ہی بول پڑا،” تم نے ایک معمولی بات کو انّا کا مسئلہ بنا دیا تھا۔”
اب فریدہ نے بات کی،” تم بھلا بیٹھے تھے کہ میں نے تم سے پہلے بھی کسی سے بھرپور محبت کی تھی۔”
وہ چونک اُٹھا۔گُھورکر اس کی طرف دیکھا کہ جیسے کان اُسے دھوکہ دے رہے ہوں۔
” ایسی ویسی محبت ،” فریدہ نے کہا،” جو صرف سرپھرے دیوانے ہی کرسکتے ہوں۔”
فاروق کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا، اُس نے غمگین لہجے میں کہا،” یہ سچ تم نے مجھ سے چھپائے رکھا؟”
” تم نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی آنکھیں بند کر رکھیں تھیں، تمہارے لیے سچ یہ تھا کہ میں تمہاری نکاح کی رسی سے بندھی بیوی تھی۔ تمہارے لیے سچ یہ تھا کہ تم مرد تھے ، میرے مجازی خدا اور تمہارے لیے سچ یہ تھا کہ تمہارے آگے میرے ذاتی اور انفرادی جذبات کی کوئی بھی اہمیت نہ تھی۔”
” کون تھا وہ ؟”
” ہے ۔”
” ہے ؟”
” ہاں، میرا وطن۔”
نجات کی سانس۔
” میں نے زندگی ضرور بدلی ہے لیکن آدرش آج بھی وہی ہیں۔”
وہ سوچ میں پڑگیا۔
فریدہ نے کہا،” تم بھول بیٹھے تھے کہ میرا اپنا بھی کوئی وجود ہے ، میری اپنی بھی کچھ محبتیں ہیں۔ میری بھی کوئی شخصیت ہے اور یہ سب کچھ میں اس انسانی رشتے پر قربان کر نہیں سکتی تھی، جو وقت، مصلحتوں اور انسانی تعلقات کے تقاضوں کے تحت تشکیل پایا تھا۔ تم سمجھ نہ پائے کہ مجھے اس مٹّی سے اتنا اُنس کیوں ہے ؟ تم تو صرف پیار کی حاکمیت جتاتے رہے ۔ تمہیں پتہ ہی نہ چلا کہ پیار چھوٹی چھوٹی چاہتوں کے مجموعے کا نام ہے ۔”
فاروق نے کہا، ” تم آج بھی مجھ سے اتنی دور ہو جتنی کہ کل ہوا کرتی تھیں۔”
” تم مجھے کل بھی سمجھ نہ پائے تھے ،” فریدہ نے کہا،” اور آج بھی نہ سمجھ پاؤگے ۔”
” میں صرف اتنا سمجھ پایا ہوں کہ مجھے کل بھی تم سے پیار تھا اور آج بھی ہے ۔”
” پیار؟” فریدہ کے چہرے پر نفرت کی ریکھائیں پھیل گئیں، ” پیار تو اگلے کی شخصیت کو توڑپھوڑکر، ریزہ ریزہ کرکے ذاتی ملکیت بنانے کا نام ہے ۔ کل تم نے مجھے پرزہ پرزہ کردیا تھا آج میں تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کروں گی۔”
دونوں خاموش ہوگئے ، صرف ٹرین کی آواز گونجتی رہی۔
کافی دیر کے بعد فاروق نے نحیف آواز میں کہا،” میں نے انگلینڈ میں ایما سے شادی کی تھی، وہ میرے ساتھ کام کرتی تھی۔ ذہین و فطین عورت تھی اور میرے دل کا حال جانتی تھی۔ وہ اکثر کہاکرتی۔’ تم نے فریدہ کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ درخت اگر اپنی جڑ سے اُکھڑ جائے تو دوبارہ ہرا نہیں ہوتا۔’ ہوا بھی کچھ اسی طرح۔ جب مجھ پر فالج کا حملہ ہوا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا، ‘ فاروق! برا مت ماننا، اب ہمارے رستے الگ ہونے چاہییں۔ میں اپنا بوجھ ہی بہ مشکل اُٹھا سکتی ہوں، تمہاری بیماری کا بوجھ اُٹھانا میرے بس سے باہر ہے ۔’ تب مجھے مشرق و مغرب کا فرق بری طرح سے محسوس ہوا۔ تم یاد آئیں، تمہاری باتیں یاد آئیں۔ سندھ یاد آیا، سندھ زادیاں یاد آئیں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ تمہارے قدموں میں بیٹھ کر پچھتاوے کے آنسو بہاؤں گا۔ تم جب کراچی میں نہ ملیں تو کسی نے حیدرآباد کا پتہ دیا۔ تم راہ میں مل گئیں تو میری تپسیا پوری ہوگئی شاید۔”
اُس نے سیٹ پر سر رکھ کراپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑدیا اور آنکھیں بند کردیں اور جب دوبارہ کھولیں تب دیکھا کہ فریدہ اسے گھور رہی تھی۔
اُس نے کہا، ” میں معافی کے قابل تو نہیں پھر بھی اگرمعاف کروگی تو دل کا بوجھ کم ہوجائے گا۔”
فریدہ کی انکھوں سے سمندر اُمڈ پڑا، اس نے لرزتے ہونٹوں سے کہا، ” میں بڑی مضبوط عورت ہوں، لیکن طلاق کے طعنے نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ تم اگر مجھے کاری قرار دے کر ہمیشہ کے لیے ختم کردیتے تومیں اُف تک نہ کرتی۔ تم نے تو مجھے پل پل کی موت دے دی ۔ میرا سارا اعتماد توڑپھوڑکر رکھ دیا۔”
فاروق نے کہا،” زندگی کی دوڑ نے تھکا دیا ہے ، مجھے کوئی کاندھا چاہیے کہ جس پر سر رکھ کر سو جاؤں۔”
وہ اپنی سیٹ سے اُٹھی اور اس کے سامنے بیٹھ گئی۔
اُس نے کہا،” سنو،فاروق! میں تمہیں بیس برس تک اپنے دل سے نہیں نکال سکی ہوں۔ مجھے تم سے آج بھی اتنا ہی پیارہے جتنا کہ کل تھا۔ تمہارے دکھ پر میرا دل بھی تمہاری طرح آنسو بہانا چاہتا ہے ، لیکن بے عزتی کے گھاؤ پیار کے سطحی احساس سے پُر نہ ہو سکیں گے ۔ تم اپنی دنیا میں لوٹ جاؤ۔ میں نے اپنے لیے نئی دنیا بنا لی ہے ۔”
اُس نے کچھ کہنا چاہا۔ لیکن اچانک ٹرین کی رفتار کم ہوئی اور کوٹری کی روشنیاں ہرطرف پھیل گئیں۔ وہ جیسے کسی دلکش خواب سی دفعتاً بیدار ہو گیا ہو۔
گاڑی ٹھہری تووہ بھی لاٹھی کے سہارے اُٹھا، گلے میں بیگ لٹکایا اور دروازے کی طرف ایک قدم بڑھاکر ٹھہرگیا کہ جیسے کچھ بھول گیا ہو گاڑی میں۔
اُ س نے مڑ کر دیکھا ۔ فریدہ چپ چاپ بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔
وہ کچھ سوچ کردوبارہ اسی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
اُس نے پوچھا،” ھمیر کیسا ہے ؟”
اُس نے پہلی مرتبہ ھمیر کا پوچھا تھا۔ کتنی اذیّت سے گذرا تھا وہ یہ نام لینے سے پہلے ، یہ فقط وہی جانتا تھا۔
اُسے جواب نہیں ملا تو اُس نے سوالیہ نگاہوں سے فریدہ کی طرف دیکھا۔
” اُسے یہ پتہ نہیں ہے کہ باپ کے سائے کی ٹھنڈی چھاؤں کیا ہوتی ہے ؟”
” بڑا ہوگیا ہوگا؟”
” ہاں، یونیورسٹی میں پڑھتا ہے ۔” فریدہ نے کہا۔
” کس پر گیا ہے ، ھمیر؟” اُس نے بے صبری سے پوچھا۔
” تم ایسا قدآوراور میرے جیسا ضدی۔”
ٹرین چلی تو وہ چہرہ بانہوں میں دے کر سسک اُٹھا، چھوٹے بچے کی طرح۔
کہا،” ایک مرتبہ اس سے ملنا چاہتا ہوں ، صرف ایک مرتبہ۔”
” یہ ممکن نہیں ہے ۔” فریدہ نے کہا۔
اُسے دھچکا پہنچا،” کیوں؟”
جواب ملا،” تم اس کے لیے مر چکے ہو۔ اس نے اپنے باپ کے لیے ایک خوشگوار تاثر قائم کر رکھا ہے کہ اس کا باپ بہادر تھا، راست گو تھا، وطن دوست تھا۔ میں نے اسے یہی بتایا ہے ۔”
اُس کا جگر پارہ پارہ ہو گیا۔
فریدہ نے کہا،” وہ تمہاری شاعری بڑے فخر کے ساتھ گایا کرتا ہے ۔ تم اس کے آئیڈیل ہو۔ وہ تم جو میں نے اسے بتایا ہے ، وہ تم نہیں جو کہ تم ہو۔”
وہ تڑپ اُٹھا۔ اس کے دل میں درد لہر اُٹھی اورجسم کے روم روم تک اُتر گئی۔ چشمے کے شیشے گہنا گئے ۔ اس نے دھندلی نظروں سے کہا،” ایک مرتبہ ملنے دے مجھے ، میں اس کے ہاتھوں میں اپنا منہ چھپاکر رونا چاہتا ہوں۔”
فریدہ کے بُت نے جواب دیا،” جو جہان میں نے اُسے اپنے ہاتھوں سے بنا کر دیا، اسے کسی کی آخری خواہش پر بھی قربان نہیں کرسکتی۔”
” ایک مرتبہ،” آنسوؤ ں نے کہا،”صرف ایک مرتبہ۔”
” وہ تمہارے فرضی تصور پر پلابڑھا ہے ۔”
ضد نے کہا،” اسے اسی دنیا میں ہی رہنے دے ۔ بڑا دلیر ہے میرا ھمیر، لیڈر ہے یونیورسٹی کا۔ جیل جا چکا ہے قوم پرستی کے جرم میں۔تمہیں دیکھ کر اس کے خوابوں کی دنیا پل بھرمیں مسمار ہوجائے گی اور میں یہ نہیں چاہتی۔ اُس کا بھرم قائم رکھنا میری زندگی کا مقصد ہے ۔”
ٹرین حیدرآباد کے قریب پنہچ چکی تھی۔ شہر کی روشنیاں نزدیک ہوتی چلی گئیں ۔
فاروق کی سسکیاں اب جاگ اُٹھی تھیں،اُس نے کہا،” مجھے میرے کیے کی سزا اتنی نہ دے ،فریدہ ! وہ میرا جسم ہے ، میری جان ہے ، دوسرا روپ ہے میرا۔ مجھے ایک مرتبہ گلے لگانے دے اُسے ۔میں وعدہ کرتا ہوں پھر میں ہمیشہ کے لیے تمہاری دنیا سے چلا جاؤں گا۔”
فریدہ نے اُٹھ کر اپنا سامان یکجا کیا، کہا،” وہ مجھے سٹیشن پر لینے آیا ہوگا۔ تم اُسے دور سے دیکھ سکتے ہو۔”
فاروق کے اندر ایک جنگ چھڑی ہوئی تھی۔ اُس نے تڑپ کر کہا،” اتنی کٹھور نہ بن۔ اتنا ظلم مت کر ۔ میں بہت دور سے چل کر صرف اسی ایک گھڑی کے لیے یہاں آیا ہوں ۔ یہ گھڑی مجھ سے مت چھین ۔ جینے دے مجھے ، صرف ایک لمحے کے لیے ۔”
ٹرین پلیٹ فارم پر پہنچی تو فریدہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا اور سینکڑوں لوگوں کے درمیان کھڑے ھمیر کو پہچان لیا۔ جوں ہی گاڑی ٹھہری تو وہ دوڑتا ہوادروازے تک آیا۔ فریدہ نے بیگ اور تھرموس اُٹھاکر فاروق کے قریب سے گذرتے ہوئے کہا،” وہ ہے میرا ھمیر، ہے نا تم ایسا قدآور؟”
فاروق کچھ بھی کہہ نہ سکا۔
سیڑھیاں اُترنے سے پہلے فریدہ نے کہا،” تمہاری تمام تر زیادتیوں کے باوجود، میں تمہیں بھلا نہ سکی ہوں، یہ یاد رکھنا۔”
وہ ابھی اُتری ہی تھی کہ ھمیر نے اُسے بانہوں میں بھر کر اس کا ماتھا چوم لیا۔اس کا بیگ اُٹھا کر چلنے لگا تو اچانک اس کی نظر دروازے میں کھڑے لاٹھی کا سہارا لیے فاروق پر پڑگئی۔
اُس نے پوچھا،” ماں ! وہ شخص کون ہے ؟”
فریدہ نے اس کی بانہیں پکڑکر،اسے گھسیٹتے ہوئے کہا،” کوئی اجنبی ہے ،غلط گاڑی میں سوار ہوگیا تھا۔”

Check Also

jan-17-front-small-title

کڈک و مشک ۔۔۔۔ گوہر ملک

کڈکا یک روچے وتی دلا گشت اے درستیں زند پہ تنہائی نہ گوزیت،ما س وپتئے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *