Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » آہ ڈاکٹر فیض ہاشمی ، کچھ یادیں کچھ باتیں ۔۔۔ فاروق کُبدانی

آہ ڈاکٹر فیض ہاشمی ، کچھ یادیں کچھ باتیں ۔۔۔ فاروق کُبدانی

افراتفری ‘ تاریکی اور جہالت سے دوچار ایک ایسے معاشرے میں جہاں انسانیت کے مسیحا ڈاکٹر کا مقصد انسانیت کی خدمت کی بجائے دولت کا ڈھیر جمع کرنا ہو ۔ انسانی حقوق کے دعویداروں اور علمبرداروں کا کام حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنا ہو سول سوسائٹی کے نما ئندوں اور سیاسی دانشوروں کی ترجیح محض فوٹو سیشن اور پبلسٹی ہو وہاں ڈاکٹر فیض ہاشمی جیسے انسانیت کے خدمت گار معالج ‘ انسانی حقوق کی تحریک کے سچے اور دلیر سپاہی ،ہمہ وقت فعال اور عملی کردار کے حامل سیاسی دانشور اور سول سوسائٹی کا معتبر نمائندہ کا داعی اجل کو لبیک کہنا بڑا بے محل لگتا ہے ۔
ڈاکٹر فیض ہاشمی صاحب کا انتقال ہمارے معاشرے کے لیے نا قابل تلافی نقصان اور بد قسمتی ہے۔
ڈاکٹر فیض ہاشمی بلاشبہ ایک عملی جہد کار ‘ ایماندار اور خوبصورت انسان تھا جس نے معاشرے کے کُچلے اور پسےِ طبقات کی آواز بننے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی ۔
ڈاکٹر فیض ہاشمی کے ساتھ میرا رشتہ ایک اُستاد اور شاگرد اور باپ بیٹا جیسا تھا اور ہمارا یہ مقدس رشتہ 13 برسوں پر محیط تھا ۔
2002 میں ڈاکٹر صاحب کیساتھ شنا سائی ہوئی جب ڈاکٹر صاحب انسانی حقوق کمیشن کے ماہانہ اجلاس میں باقاعدگی سے شریک ہوتے۔ کئی بار فیکٹ فائنڈنگ مشن میں اور دیگر سرگرمیوں میں ایک ساتھ کام کیا ۔
2002 میں دوران جب ملک پر جنرل مشرف کے سیاہ دور نے ہر طرف اپنے بال و پر پھیلا دینے تھے اور معاشرے کے بیشتر طبقوں پر آمریت نے خوف اور وحشت طاری کر دی تھی ڈاکٹر فیض ہاشمی کا شماران لوگوں میں ہوتا تھا جنہوں نے ہر فورم پر ڈنکے کی چوٹ پر پرویزی آمریت کو للکارا۔ وہ پرویزمشرف کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے اور بنیادی جمہوری اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بڑی ایمانداری اور جرات سے آواز بلند کرتے رہے ، مجھے لا غر بدن اور دبلے پتلے ڈاکٹر فیض ہاشمی کے باطن میں ایک انتہائی توانا ، پر عزم اور باہمت انسان نظر آیا اور تب سے مجھے ڈاکٹر فیض ہاشمی کیساتھ بڑی عقیدت ہو گئی اور مجھے فخر ہے کہ ایک کمیٹیڈ ، نظریاتی اور انسانی حقوق کے سچے سپاہی کے ساتھ میرے عقیدے میں آخر تک کوئی ذرا برابر بھی لغزش نہیں آیا۔
بلوچستان میں مبینہ گمشدگیوں اور بے شمار مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی پر سخت برہم تھے اور ڈاکٹر فیض نے اس عمل کو بربریت اور بد ترین انسانیت دشمنی قرار دیا تھا۔
2008 کے بعد جب صوبے میں ہزارہ برادری ، آبادکاروں ، پر مبینہ حملوں میں شدت لائی گئی اور صوبہ بھر میں ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے سیاسی کارکنوں ، ڈاکٹروں ، وکلا اور نہتے شہریوں کا قتل عام شروع ہوا تو انسانی حقوق کے بہت سارے ساتھی حفظ ما تقدم کے طور پر تحریک میں متحرک کردار ادا کرنے سے قاصر رہے لیکن جوان ہمت ڈاکٹر فیض آخری دم تک انسانی حقوق کی تحریک میں فعال کردار ادا کر کے انتقال کے وقت سول سوسائٹی کا ایک روشن چہرہ اور انسان حقوق کا معتبر حوالہ بن چکا تھا ۔
اللہ تبارک تعالیٰ ڈاکٹر فیض ہاشمی کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *