Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » آنکھ آواز ہے ۔۔۔ علی زیرک

آنکھ آواز ہے ۔۔۔ علی زیرک

کوئی آواز ہے
آسمانوں سے آگے
سلگتے ہوئے ریگزاروں سے آتی ہوئی
ناشنیدہ , لپکتی ہوئی کوئی آواز ہے
خالی کمروں کے بھاری کواڑوں سے رِستی
دہکتے ہوئے صحن میں چارپائی سے لپٹی
دھڑکتے ہوئے گْنگ دالان میں
رینگتی , ہونکتی
کوئی آواز ہے!!!

خواب گاہوں سے چمٹی ہوئی چمنیاں
قْرب اور بْعد کا نقرئی سا دھواں
کوری سلوٹ میں سمٹا ہوا ذائقہ
کچھ حرارت گزیدہ چراغوں کا روغن
ادھڑتے ہوئے ہونٹ کی زرد ہوتی طراوت
بکھرتے ہوئے سبز لمحوں کی راحت
جہنم کی نعمت
کہاں سے اندھیری گلی , گھوم کر گھر میں داخل ہوئی
کون رخنہ ہے جس سے گلابوں کی باسی مہک
آنکھ میں آبسی

آنکھ۔۔۔۔۔۔ آواز ہے؟
یا مٹکتے ہوئے دن کا آغاز ہے؟

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *