Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » آبلُو ۔۔۔ نوشین کمبرانڑیں

آبلُو ۔۔۔ نوشین کمبرانڑیں

کوئی نو سال ہوتے ہیں
گوادر کے سحر ساحل پہ میں نے
سیپیاں چنتے ہوئے اک چیز دیکھی تھی
کسی آدینک کی مانند چمکیلی
کرسٹل کی طرح شفاف سی نازک
وہاں ساحل پہ میں نے کھیلتے بچوں سے یہ پوچھا

’’ منی دستاں اے چی اے ؟‘‘
’’ یہ کیا ہے ہاتھ میں میرے ؟‘‘
وہ بولے،
’’ اَرس ہے اَدّا
ایشا ما آبلُو گشان اِدا‘‘
یعنی۔ ’’ یہ آنسو ہے
اسے ہم آبلُو کہتے ہیں باجی‘‘

میر ی حیرت کو جانچا اور بولے
’’ دریا ہم کدی گریواں
ترا باور نہ بی زاناں
بچار دریا وتی ارساں
تیا با کئیت شَنزی رَوت‘‘

’’ سمندر رویا کرتا ہے
یقیں نہ آئے تو دیکھو
سمندر اپنے آنسو ساحلوں پہ چھوڑ جاتا ہے ‘‘

میں ساحل پر وہی آنسو لیے
بیٹھی رہی گھنٹوں
یقیں کا اور گماں کا پھر کوئی
امکاں نہ تھا باقی
سمندر اپنے بچوں کی
تباہ حالی پہ جب روئے
تو پھر طوفان آتے ہیں

کبھی آنسو بھی بکتے ہیں؟
سمندر بیچنے والے
یہ کوتاہ فہم تاجر ، حرص کے مارے
یہ بس طاقت کے متوالے
ہمیں اتنا بتادیں
آبلُو کے دام کتنے ہیں

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *