Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » آئیے ملیر چلتے ہیں ۔۔۔ شبیر رخشانی

آئیے ملیر چلتے ہیں ۔۔۔ شبیر رخشانی

یہاں کی خوبصورتی، یہاں کے لوگ اور یہاں کا آب و ہوا سب کچھ تو بلوچ کو بھاتا ہے۔ یہاں سے گزرو تو بلوچستان کو پاؤ۔ یہی ملیر کی خوبصورتی ہے۔ ویسے لیاری تو کسی سے پیچھے نہیں لیکن ملیر نے علم و زانت کے میدان میں اپنے آپ کو پیچھے نہیں رکھا۔ علم و زانت کے آثار سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کی صورت میں آپکے سامنے بخوبی نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ نام سے پتہ چل جائے گا کہ علم و دانش کا کام جاری و ساری ہے۔ صبا دشتیاری نے یہ کارنامہ انجام دے کر یقیناًایک گراں بہا کام کیاہے۔ سدا آباد رہے یہ علاقہ اور خوشحال رہے یہ گلستان اور گلستان کی خوبصورتیاں۔
لائبریری کے اندر داخل ہونے پر ایک نوجوان محو گفتگو تھا۔ تو عین اسی وقت ایک شخص سے میرا واسطہ پڑا میرا تعارف پوچھنے کے بعد اپنا نام ملا غلام رسول بتایا۔ ملا غلام رسول لائبریری کے انچارج ہیں۔ ابھی میں نے لائبریری کے صحن کے اندر ایک درخت کے نیچے سکھ کا سانس لیا تھا کہ حنیف دلمراد آن پہنچا۔ ہم گلے ملے تھے کہ چندن ساچ بھی لائبریری سے نکل کر ہمارے پاس آگئے۔ چندن ساچ کے دلچسپ مکالمے و تحاریر جو کہ بلوچی میں ہوتے ہیں سوشل میڈیا پر کافی دیکھ چکا تھا لیکن ان سے ملاقات پہلی مرتبہ ہو رہا تھا۔
میرے دوست حنیف دلمراد مجھے ہاتھ سے پکڑ کر وہاں سے نکل گئے اب اگلا پڑاؤ کہاں ہوگا یہ خدا جانتا تھا۔ لیکن موسم کی اس گرمی نے ملیر کی چہل پہل کو قطعاً متاثر نہیں کیا تھا۔ چلتے ہوئے ہمیں ایک ہوٹل نظر آیا ہاں تو یہ ہے ملوک ہوٹل؟؟ میں نے استفسار کے انداز میں اپنی گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھا۔ نہیں بھئی ملوک ہوٹل اس پورے ایریا کانام ہے۔ حنیف دلمراد کا ہر ایک کے ساتھ سلام و دعا کے بعد مجھ پر صورتحال واضح ہو گئی کہ بلوچوں نے حال حوال پوچھنے کا رسم کراچی میں بھی برقرار رکھا ہے یعنی ملیر کو بلوچستان کا دل کہیے تو بے جا نہ ہوگا۔ بلوچوں کی ایک بڑی تعداد یہاں آباد ہے۔ ہوٹل سے نکل کر چند قدم آگے جانے پر بس کی ہارن نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کر لیا اور ہم وہاں سے بس میں سوار ہوئے۔ ملیر کا چھوٹا سا بازار اور اس سورج کی تپتی دھوپ اور یہ گرمی پریشان کن۔ جوں جوں بس شہر سے نکل کر دیہاتوں کی طرف بڑھ رہا تھا تو موسم اور زیادہ خوشگوار محسوس ہونے لگتا تھا۔ بس کی کھڑکی سے ہم باہر کا نظارہ کر رہے تھے۔ جن جن علاقوں سے بس کا گزر ہوتا تھا تو اس علاقے کا ہلکا سا تعارف حنیف دلمراد کے زبان سے سن لیتے تھے۔ تو میں اسی پر کہتا۔ ارے حنیف بھائی اتنا سارا جانتے ہو تو اس پرکتاب لکھتے کیوں نہیں۔ کچھ ایسے علاقے بھی آگئے جنکے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ علاقے پہلے بلوچوں کے ہوا کرتے تھے جو انہوں نے بیچ ڈالے۔ یہ سنتے ہوئے ایک افسردگی سی چھا جاتی تھی۔
اب بس شہر کا ایریا ختم کرکے دیہاتی علاقوں سے گزررہا تھا ساتھ میں اس بڑے بس میں چلنے والا گانا اس مختصر سے سفر کو مزید دوبالا کر رہا تھا۔ دائیں بائیں درخت، کھیت و کھلیانیں اور باغات۔۔ کیا خوبصورتی عنایت فرمائی ہے قدرت نے۔ یہ سارے کرشمے دن بھر کی گرمی کو بھلانے کے لئے کافی تھے۔ اب کی بار میں حقیقت میں بے غم تھا کہ وہ مقام آجائے تو مجھے اسکو پانے کا تگ و دو نہیں کرنا پڑے گا۔ جیسے ہی کنڈیکٹر نے کہا کہ ’’ پاکستان ہوٹل‘‘ ارے بھائی پہلے ملوک ہوٹل تو اب پاکستان ہوٹل۔۔۔ حنیف نے کہہ دیا کہ یہ بھی اس ایریا کا نام ہے۔۔ بس بھئی سارے علاقے ہوٹلوں کے نام پر۔۔۔ وہاں دیکھو تو شیرشاہ کا پنکھا ہوٹل۔۔ کیا کیا نام سوجھ کر رکھتے ہیں لوگ۔ شہر سے نکل کر دیہاتی علاقوں میں مجھے بلوچ ہی بلوچ ملے۔ شکر ہے کہ یہ علاقے بکنے سے محفوظ رہ گئے۔ اسے یہاں کے لوگوں کا شعور کہیے یا کچھ اور۔ غالباً اب یہ وقت دوپہر دو بجے کا تھا کہ حنیف دلمراد نے کہا کہ یہاں کے سموسے اور پکوڑے کافی مشہور ہیں تو مجھے حنیف دلمراد کی نیت پر شک پڑ گیا کہ دوپہر کا کھانا اب یہاں کی مشہور پکوڑے اور سموسے سے کرنا پڑے گا۔۔ اور ہوا بھی یہی ۔
اسکے بعد ہم نے یہیں سے کھیتوں کا راستہ اختیار کیا۔ ہم وہاں سے گزر رہے تھے تو چند مزدور کھیتوں پر کام کرتے نظر آئے۔ جہاں یہ لوگ سبزی اگانے میں مصروف تھے۔ حنیف دلمراد نے میرے پوچھے بنا کہا کہ یہ جو فصلیں آپ دیکھ رہے ہو انہیں گٹر کے پانی سے سیراب کیا جارہا ہے کیونکہ یہاں کا پانی حد سے زیادہ کھارا ہے۔اسی پر ان کام کرنے والوں پر حنیف نے ایک جملہ کس دیا (ہاں ڈے بلوچاناں بوارینے ہمے گٹرے سبزیاں) اس جملے پر ہم مزید ہنسے اورآگے بڑھے تو مشین تیزی سے پانی نکال رہا تھا جبکہ مالک درخت کے نیچے چارپائی لگایا ہوا سو رہا تھا۔ صاف پانی دیکھ کر میرا دل للچایا کیوں نہ اس کا پانی پیا جائے جیسے ہی میں نے ایک گھونٹ لی تو پانی جہاں سے لیا تھا وہیں تھوک دیا۔
ملیر کے اس کڑوے پانی کے حوالے سے وہاں کا مقامی باشندہ ناکو شاہ مراد نے ہمیں یہ بتا دیا کہ یہاں کا پانی پہلے کافی میٹھا ہوا کرتا تھا۔ جب کراچی کی ضرورت کوپورا کرنے کے لئے یہیں سے ریتی سپلائی کیا جانے لگا۔ تو سمندر کے پانی کو اوپر آنے میں مدد ملنے لگی۔ جسکی دیکھا دیکھی میں ملیر کی زمینیں غیرآباد ہونے لگیں۔ ناکو شاہ مراد نے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں بتا دیا ’’یہ جو علاقہ آپ یہاں سے دیکھ رہے ہیں یہ علاقہ اورنگی یا کورنگی ٹاؤن کا علاقہ ہے جو کہ صاف صاف دکھائی دے رہا ہے۔ یہ جو درمیانہ علاقہ آپ دیکھ رہے ہیں پہلے پہل یہاں جام، انار، چیکو، ناریل کے باغات ہواکرتے تھے جبکہ یہاں سبزیاں بھی کثرت سے اگائی جاتی تھیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ریتی اور بجری کی ایک خاصیت ہوتی ہے کہ سمندر کے پانی کو زمینی سطح پر آنے نہیں دیتی۔ لیکن جیسے ریتی اور بجری یہاں سے نکالا جانے لگا تو یہ درخت ایک ایک کرکے خود بخود ختم ہوگئے اور اب یہ زمینیں سوائے مال مویشی کا چارا پیداکرنے کے ، ان زمینوں پر سیم و تھور آگئی ہے اب یہ سبزی، فروٹ پیداکرنے کے قابل نہیں رہے جس سے یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش بھی کافی متاثر ہوا۔ شاہ مراد کا مزید کہنا تھا کہ آگے چل کر یہاں کے لوگ یا توزمینوں کو بیچ دیں گے یا بڑی بڑی بلڈنگیں تعمیر کریں گی۔ جو ملیر کا ایک حسن ہوا کرتا ہے وہ بھی آہستہ آہستہ بے حسی کا شکار ہوکر منوں مٹی تلے دب جائے گی۔
ناکو مراد بخش سے اجازت لیکر ہم ٹہلتے ٹہلتے اس جگہ پہنچے جہاں ناکو مراد بخش کا بیٹا خلیل ایک بڑے پیڑ کے سائے میں آرام کر رہے تھے ہماری آمد کا سن کر وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ یہاں کے مکین اس درخت کے نیچے جمع ہونا شروع ہوگئے۔ وہ تو سب ایک دوسرے کے ساتھ پہلے سے متعارف شدہ تھے البتہ واحد آدمی میں ہی تھا جسکا تعارف حنیف دلمراد کی زمہ داری تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے اس وقت بلدیاتی الیکشن شور و غوغا چل رہا تھا تو درخت کے نیچے بیٹھے یہ افراد اپنے تبصروں میں مصروف تھا اور میں ملیر کی اس حسین منظر کا جائزہ لینے کے لئے اپنی دھن میں مصروف تھا۔درخت کے آس پاس عجیب و غریب قسم کا سماں تھا درمیان میں سڑک جا رہی تھی جہاں ٹریفک کی آمد و رفت جاری و ساری تھا۔ جبکہ داہنے طرف بڑی بڑی عمارتیں تو دوسری جانب نظر پھیرنے پر ناکو شاہ مراد کے کھیت پر لہلہاتے فصل۔۔
اسی اثناء ہم نے اس محفل سے اجازت لی تھی۔ اور میں نے لیمارکیٹ واپسی کے لئے بس کا انتخاب کیا تھا۔ آیا تھا خالی ہاتھ۔۔۔۔ لیکن ملیر کی حسین یادوں کو سمیٹ کر واپس جارہا تھا۔ ملیر تو بہت بڑا علاقہ پر میں اس مختصر سے دورانیے میں ملیر کا مکمل طور پر مشاہدہ کر چکا تھا کہ آنے والے وقتوں میں ملیر کی اس خوبصورتی پر بڑا آفت آنے والا ہے جسے شاید روکنے والا کوئی نہ ہو۔۔۔ بس ملیر سے نکل چکی تھی اور ملیر کو الوداع کر چکا تھا۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *